کیا اللہ پاک کو أستاذ کہ سکتے ہے؟
الجواب باسمہ تعالی وبفضلہ
اللہ پاک کو أستاذ کہنا جائز ہے
استاذ کا لغوی معنی سیکھانے والاہے
اور اللہ پاک نے قرآن پاک میں سیکھانے کی نسبت اپنی طرف کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُؕ-وَ كَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ عَظِیْمًا(۱۱۳) ( ترجَمۂ کنزالایمان: اورتمہیں سکھا دیا جو کچھ تم نہ جانتے تھے اور اللہ کا تم پر بڑا فضل ہے۔(پ5، النساء:113)
ایک اور جگہ ارشاد خداوندی ہے :
اَلرَّحْمٰنُۙ(۱) عَلَّمَ الْقُرْاٰنَؕ(۲)
ترجمۂ کنزالایمان: رحمٰن نے اپنے محبوب کو قرآن سکھایا۔سورہ رحمن آیت ١-٢)
ظاہرا اللہ پاک کو أستاذ کہنے میں حرج نہیں لیکن استاد کی جگہ معلم کاینات کہنا بہتر ہے کے چس کو جو ملا سب اللہ کی عطا اور اللہ کے سیکھانے سے ملا
واللہ تعالیٰ اعلم
مفتی ادارہ ایم جے اکبری قادری حنفی
دارالافتاء فیضان مدینہ

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com