السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
مفتی صاحب کی بارگاہ میں ایک سوال عرض ہے
الر کسی عورت کو ایک ماہ کا حمل ساقط ہو جائے تو اس عورت کے لیے پاکی اور نماز کا کیا حکم ہوگا ؟
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب باسمہ تعالی وبفضلہ
مفتی امجد علی اعظمی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں:
حمل ساقط ہونے سے پہلے کچھ خون آیا کچھ بعد کو ،تو پہلے والا استحاضہ ہے اور بعد والا نفاس ،یہ اس صورت میں ہے جب کہ عضو بن چکا ہو (بہار شریعت -جلد:١ ص-٣٧٨)
لیکن چونکہ عضو ٤ ماہ میں بنتا ہے اور یہ تو ١ ماہ کا تھا اس لیے اس میں حکم یہ ہے'کہ اسقاط حمل کے بعد اگر خون جاری ہوگیا تو جو دن حیض کی عادت کے تھے اس کے پورا ہونے کے بعد غسل کرکے نماز پڑھیگی
جیسا کے بہار شریعت ہی میں ہے-:(٤ ماہ سےکم کے حمل میں) بعد اسقاط کے خون ہمیشہ کو جاری ہوگیا تو اسے حیض کے حکم میں سمجھے کہ حیض کی جو عادت تھی اس کے گزرنے کے بعد نہاکر نماز شروع کردے اور عادت نہ تھی تو دس دن کے بعد باقی وہی احکام ہے جو حیض کے ہیں (ج-1 ص-378)
لھذا صورت مسؤلہ میں حیض کی عادت کے دن نکال کر اگر خون جاری رہے تو وہ استحاضہ ہے اور وضو کرکے نماز پڑھیگی
واللہ تعالیٰ اعلم ورسولہ
مفتی ادارہ ایم جے اکبری قادری حنفی
دارالافتاء فیضان مدینہ گجرات

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com