السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
مفتی صاحب کی بارگاہ میں عرض ہے کیا مسجد میں ستونوں کے بیچ میں صف بنانا جائز ہے ؟
الجواب و باللہ توفیق سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے فتاوی رضویہ جلد 6 میں فرمائی ۔چنانچہ فرماتے ہیں :”عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری میں قبیل باب الصلاۃ الی الراحلۃ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ہے کہ انہوں نے فرمایا :” لا تصفوا بین الاساطین و اتموا الصفوف “۔ ستونوں کے بیچ میں صف نہ باندھو اور صفیں پوری کرو۔ اور اس کی وجہ قطع صف ہے اگر تینوں دروں میں لوگ کھڑے ہوئے تو ایک صف کے تین ٹکڑے ہوئے اور یہ ناجائز ہے اور اگر بعض دروں میں کھڑے ہوئے بعض خالی چھوڑ دے جب بھی قطع صف ہے کہ صف ناقص چھوڑ دی ، کاٹ دی پوری نہ کی ، اور اس کا پورا کرنا لازم ہے۔ اور اگر اس وقت اور زائد لوگ نہ ہوں تو آنے سے کون مانع ہے تو یہ ممنوع کا سامان مہیا کرنا ہے اور وہ بھی ممنوع ہے اور دروں میں مقتدیوں کے کھڑے ہونے کو قطع صف نہ سمجھنا محض خطا ہے۔ علمائے کرام نے صاف تصریح فرمائی کہ اس میں قطع صف ہے۔ (ملخصا ۔فتاوی رضویہ،ج6، ص134،لاہور)
خلاصہ کلام ستون کے درمیان بغیر ضرورت کے صف نہ کرے
ضرورت سے مراد کہ اب جگہ نہ ہو تو صفیں ستونوں کےدرمیان کر سکتے ہے
واللہ اعالم ورسولہ
ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی
دارالافتاء فیضان مدینہ

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com