نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

مندر کا بھنڑارا کھانا ؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

دارالافتاء گلزارِ طیبہ، گجرات
الجواب بعون الملک الوہاب

مسئلہ:
کیا مسلمانوں کے لئے مندروں میں دیوتاؤں پر چڑھائی گئی مٹھائی (بھندارہ / پرساد) کا لینا یا کھانا جائز ہے؟


الجواب:
فقہائے اہلِ سنّت کے نزدیک دیوتاؤں پر چڑھائی گئی مٹھائی وغیرہ فی نفسہٖ حرام نہیں ہو جاتی، البتہ چونکہ ہندو حضرات اس کو بطورِ تبرک تقسیم کرتے ہیں، اس لئے مسلمانوں کے لئے اس سے اجتناب (بچنا) اولیٰ و بہتر ہے۔

چنانچہ صدر الشریعہ
مفتی امجد علی اعظمی
فرماتے ہیں:

"جو مٹھائی وغیرہ بتوں پر چڑھاتے ہیں اگرچہ وہ حرام نہیں ہو جاتی، تاہم اس سے اجتناب اولیٰ ہے کہ وہ اسے تبرک سمجھ کر تقسیم کرتے ہیں، اور بت پر چڑھنے کے بعد کوئی چیز تبرک نہیں ہو سکتی۔"
(فتاویٰ امجدیہ، ج 4، ص 59)

اسی طرح
امام احمد رضا خان
تحریر فرماتے ہیں:

"حلال ہے مگر احتراز چاہئے نسبتِ خباثت کی وجہ سے۔"
(فتاویٰ رضویہ، ج 21، ص 606)

لہٰذا ایسی مٹھائی کا لینا جائز ہے، مگر بچنا بہتر و مستحسن ہے۔


خلاصۂ کلام:
موجودہ زمانہ میں مسلمان اکثر دیہات میں کم آبادی کے ساتھ رہتے ہیں، ایسی صورت میں اگر غیر مسلم حضرات کچھ پیش کریں اور انکار کرنے میں باہمی تعلقات کی خرابی یا کسی قسم کے ضرر کا اندیشہ ہو، تو لے لینا جائز ہے؛ بعد میں خود نہ کھا کر کسی اور کو دے دیں، یا اگر خود کھا بھی لیا تو موجبِ گناہ نہیں۔
تاہم بلا ضرورت احتراز کرنا ہی افضل ہے۔


واللہ اعلم بالصواب
ورسولہ اعلم عزوجل ﷺ

کتبہ:
مفتی ابو احمد ایم جے اکبری
قادری حنفی
دارالافتاء گلزارِ طیبہ، گجرات
بتاریخ: 21/02/2026



تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

حربی سے سود لینے کا حکم روشن تحقیق

حربی سے سود لینے کا حکم ؟ دارالافتاء گلزارِ طیبہ کی یہ علمی تحقیق نہایت دقیق، جامع اور بصیرت افروز ہے۔ اس میں جہاں امام ابو حنیفہؒ کے قول کا صحیح مفہوم واضح کیا گیا ہے، وہیں اس کے غلط استعمالات اور اس کے دینی، سماجی و بین الاقوامی مضمرات پر بھی مدلل کلام کیا گیا ہے۔ علمی و ادبی تاثرات: 1. محققانہ اسلوب: تحقیق کی بنیاد قرآنی آیات، صحیح احادیث اور فقہاء کی معتبر تشریحات پر رکھی گئی ہے۔ علامہ ابن قدامہ، علامہ سعیدی، امام ابن ہمام، امام شافعی، سرخسی وغیرہ جیسے جلیل القدر علماء کے اقوال سے مزین یہ رسالہ اسلوبِ تحقیق کا عمدہ نمونہ ہے۔ 2. فقہی توازن و اعتدال: تحقیق میں نہ صرف مختلف اقوال کا ذکر کیا گیا بلکہ ان کا تجزیہ بھی علمی انداز میں کیا گیا ہے، جو قاری کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا اصل مدعا کیا تھا، اور بعد کے علماء نے ان کے قول کو کس حد تک محدود کیا ہے۔ 3. دورِ حاضر کے تقاضے: یہ تحقیق صرف نصوص کی بحث نہیں، بلکہ موجودہ حالات کے تناظر میں ایک عملی رہنمائی بھی ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا کے دور میں فتاویٰ کے غلط استعمال، اسلام کے بارے میں پھیلنے والی بدگمانیوں اور ہندوست...

نسبندی کا شرعی حکم

نسبندی کا شرعی حکم روشن تحقیق السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ نس بندی کرانا کیسا ہے جبکہ ڈاکٹر یہ کہے کہ اب یہ عورت مزید بچے پیدا کرے گی، جس سے اسے سخت بیماری پیدا ہونے یا جان کا خطرہ ہے، اور باقی ضبط تولید کے ذرائع سے بھی کبھی خطرہ رہتا ہے، وہ ذرائع فیل ہو جاتے ہیں، اور عورت حاملہ ہو جاتی ہے، اس صورت میں عورت کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔  *سائل: محمد علی باڑمیر*  . وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ  الجواب وباللہ توفیق  نسبندی کی جائز اور ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدی، شرح مسلم جلد سوم میں فرماتے ہیں  1۔ کوئی شخص تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی (نسبندی کرواتا ہے) اصلًا جائز نہیں ہے، یہ اس لیے کہ حرمت کی علت تنگی رزق کا ہونا قرآن مجید میں مذموم ہے: "لا تقتلوا اولادکم من املاق   (سورہ نمبر 6آیت 151" 2۔ اور کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے، کیونکہ ان کی پرورش میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین ...

کیا حضور پر جادو کا اثر ہوا تھا

کیا حضور پر جادو کا اثر ہوا تھا حنفی دارالافتا۶ - 01/03/2025  کیا فرماتے ہے مفیان کرام کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کا اثر ہوا تھا اور ہوا تھا تو اس پر صحیح حدیث موجود ہے اور دوسرا سوال یہ ہے کہ صحیح بخاری کی اس حدیث کا کیا جواب ہے جس میں ہے کہ وحی رک گئی تو آپ نے اپنے آپ کو پہاڈ سے گرانا چاہا جواب عنائت فرمائے سائل محمد علی کچھ گجرات  الجواب و باللہ توفیق کسی بھی مسئلے میں قائدہ یہ ہے کہ اس کو قرآن کے سامنے پیش کریں گے اگر قرآن کے خلاف ہے تو اگرچہ حدیث صحیح ہو اس کو قبول نہیں کیا جائے گا آپ پر جادو کا اثر ہوا تھا اس پر جمہور مفسرین نے یہ ہی لکھا ہے تبیان القرآن جلد۔ اول صفہ ۱۰۴۸میں ہے  امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی 606  ھ لکھتے ہیں :- جمہور مفسرین نے یہ کہا ہے کہ لبیدبن اعصم یہودی نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر گایرہ گرہوں میں جادو کیا تھا اور اس دھاگے کو ذروان نامی کنوئیں کی تہہ میں ایک پتھر کے نیچے دبا دیا تھا، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیمار ہوگئے اور تین دن آپ پر سخت گزرے، پھر اس وجہ سے معوذتین نازل ہوئیں اور حضرت جبریل نے آ کر آپ کو ...