نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

دارالافتاء گلزار طیبہ کا تعارف

दारुलइफ्ता गुलज़ार-ए-तैय्यबा का तार्रुफ़ 🌺 "जहाँ इल्म, तहक़ीक़ और अदब का मरकज़ हो" बिस्मिल्लाहिर्रहमानिर्रहीम दारुलइफ्ता गुलज़ार-ए-तैय्यबा एक ऐसा रौशन मरकज़ है जहाँ से उम्मत-ए-मुसलिमा को शरई रहनुमाई, इफ्ता का मज़बूत निज़ाम और इल्मी रौशनी हासिल होती है। इसकी बुनियाद तौहीद, सुन्नत और इल्म की बुलंदी पर रखी गई है। इस दारुलइफ्ता की ख़ुसूसियात: 1. इल्मी तहक़ीक़: हर जवाब कुरआन, हदीस और फिक्ह-ए-हनाफी की रौशनी में तहक़ीक़ और दलाइल के साथ पेश किया जाता है। 2. अदबी लहजा: फतवे सिर्फ हुक्म नहीं बताते, बल्के अंदाज़ इतना दिलनशीं होता है कि पढ़ने वाला उसे समझ भी ले और अपनाने को जी चाहे। 3. हर सवाल को एहमियत: चाहे सवाल आम हो या ख़ास — पूछने वाले की नीयत, ज़रूरत और समझ का पूरा ख़याल रखा जाता है। 4. किताबों की दौलत: दारुलइफ्ता की लाइब्रेरी में एक हज़ार से ज़्यादा मुस्तनद किताबें मौजूद हैं — ये सब मुफ़्ती साहब की मेहनत, सब्र और इल्मी लगन का नतीजा है। 5. मुफ़्ती अबू अहमद एम.जे. अकबरी साहब: जिन्होंने चंद किताबों से शुरुआत की। हसद करने वालों ने रुकावटें पैदा कीं, मगर उन्होंने ना थकना सीखा, न...

دیوبندی سے نکاح ہر دیوبندی کافر نہیں

فتویٰ نمبر: 057/1446 تاریخ: 05 شوال 1446ھ / 05 مئی 2025ء سوال: کیا دیوبندی لڑکا یا لڑکی کا سنی (اہلِ سنت و جماعت) لڑکی یا لڑکے کے ساتھ نکاح جائز ہے؟ نیز اگر دیوبندی کا نکاح سنی امام نے پڑھا دیا ہو تو اس کا شرعی حکم کیا ہے؟ براہِ کرم قرآن و حدیث کی روشنی میں واضح و مدلل جواب مرحمت فرمائیں۔ سائل: مولانا شاداب صاحب، مقیم: ٹاکودی چانڑسماں، ضلع پاٹن، گجرات (بھارت) الجواب وباللّٰہ التوفیق دیوبندی اکابر کی بعض تحریروں میں ایسے کفریہ اور گستاخانہ عبارات موجود ہیں جن کی بنا پر فتویٰ حسام الحرمین میں ان پر حکمِ کفر و ارتداد لگایا گیا ہے، مثلاً: تحذیر الناس صفحہ 3، 14، 28 براہینِ قاطعہ صفحہ 51 حفیظ الایمان صفحہ 8 ان عبارات کے قائلین اور ان کے عقائد کو حق سمجھ کر ماننے والے کافر و مرتد ہیں، اور مرتد کا نکاح نہ کسی مسلمان سے جائز ہے، نہ کسی کافر سے۔ چنانچہ: فتاویٰ برکاتیہ صفحہ 324 میں ہے: "مرتد کا نکاح مرتدہ، مسلمہ اور کافرہ سے جائز نہیں۔" البتہ واضح رہے کہ: ہر دیوبندی مردت نہیں ہوتا اور جب تک کسی فردِ معین سے کفریہ عقائد کا اقرار ثابت نہ ہو، تب تک اس پر حکمِ کفر نہیں لگایا جا سکتا۔ لیکن ...

حق گوہ عالم کے ساتھ اللہ

القرآن - سورۃ نمبر 40 غافر آیت نمبر 51 أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اِنَّا لَنَـنۡصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا فِى الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَيَوۡمَ يَقُوۡمُ الۡاَشۡهَادُ ۞ ترجمہ: ہم اپنے پیغمبروں کی اور جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کی دنیا کی زندگی میں بھی مدد کرتے ہیں اور جس دن گواہ کھڑے ہوں گے (یعنی قیامت کو بھی)

آپ سے پہلے بھی تکذیب کیے گۓ

القرآن - سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 34 أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ وَلَقَدۡ كُذِّبَتۡ رُسُلٌ مِّنۡ قَبۡلِكَ فَصَبَرُوۡا عَلٰى مَا كُذِّبُوۡا وَاُوۡذُوۡا حَتّٰٓى اَتٰٮهُمۡ نَصۡرُنَا‌ ۚ وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ‌ ۚ وَلَقَدۡ جَآءَكَ مِنۡ نَّبَاِى الۡمُرۡسَلِيۡنَ ۞ ترجمہ: اور تم سے پہلے کبھی پیغمبر جھٹلائے جاتے رہے تو وہ تکذیب اور ایذا پر صبر کرتے رہے یہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد پہنچتی رہی اور خدا کی باتوں کو کوئی بھی بدلنے والا نہیں۔ اور تم کو پیغمبروں (کے احوال) کی خبریں پہنچ چکی ہیں (تو تم بھی صبر سے کام لو)

عالم کو پینٹ شرٹ پہننا کیسا

हिंदी अनुवाद आखिर में है  کیا فرماتے ہیں علمائے دین اور مفتیان شرع متین حسب ذیل مسئلے میں   صورتحال یہ ہے کہ ایک مسجد کا امام ہے پاںچ وقت  امامت کے فرائض انجام دے رہا ہے اور نماز کے علاوہ کسی مجبوری کے تحت دن میں کسی محدود وقت کے لیے پینٹ  شرٹ  یا کوٹ , کیپ  پہن سکتا ہے یا نہیں وقت مذکورہ کے بعد باقی وقت میں  اسلامی لباس زیب تن کر لیتا ہے اس کے بارے میں کیا  شریعت کا کیا حکم ہے ؟ الجواب و باللہ توفیق پیمٹ شرٹ پہننا فی زمانہ لوگوں میں عام ہو گیا ہے یہ اب کسی کی مشاہبت نہیں رہا لہاذا جائز ہے مگر ایک عالم کو اس سے بچنا چاہے کہ لوگوں میں عالم کو اس طرح کا لباس پہننا عجیب لگتا ہے اور لوگ تعجب کریں گے لباس مستحب کے متعلق قرآن مجید میں لباس کو زینت کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں سورۃ الاعراف کی آیت نمبر 26 واضح رہنمائی کرتی ہے:یٰبَنِیْٓ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَیْکُمْ لِبَاسًا یُّوَارِیْ سَوْاٰتِکُمْ وَرِیْشًا ۚ وَلِبَاسُ التَّقْوٰی ذٰلِکَ خَیْرٌ ۚ ذٰلِکَ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰہِ لَعَلَّھُمْ یَذَّکَّرُوْنَترجمہ: اے آدم کے بیٹو! ہم نے تم پر لبا...

نابالغ کا نکاح اور طلاق

हिंदी अनुवाद आखिर में है  السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ علماء کرام کی بارگاہ میں ایک سوال ہے کہ نابالغ بچے یا بچی کا نکاح کروا دیتے ہیں اس بچے یا بچی کاایجاب و قبول اس کے والدین کرتے ہیں اس سبب پر کہ وہ منگنی دوسری جگہ نہ دے دیں اب وہ بالغ ہو گئے تو وہ آپس میں راضی نہیں ہوتے ہیں یا بچے اور بچی دونوں یا اس کے ماں باپ اب اس کا نکاح جو ہوا تھا وہ ایجاب و قبول نابالغ تھے تو ان کے ماں باپ نے قبول کیا تھا اب وہ دونوں بالغ ہو گئے تو اب طلاق اس کے والدین دیں گے یا وہ بچہ جو بالغ ہو گیا وہ  دے گا اس کا جواب دینے کی کوشش کریں  ناچیز شفیع محمد باڑمیر وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ  الجواب وباللہ توفیق صورت مسولہ میں نابالغ کا نکاح باپ دادا کا کیا ہوا نکاح نافذ ہو جاتا ہے اور طلاق کا اختیار ان کے والدین کو نہیں ہے بالغ ہونے کے بعد طلاق کا اختیار مرد کو ہے'  قرآن مجید کی روشنی میں طلاق کا اختیار بنیادی طور پر مرد کو دیا گیا ہے۔ اس کی اصل دلیل سورۃ البقرہ کی آیت 229 ہے: > "الطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان" ترجمہ: "طلاق (رجعی) دو بار ہے، پھر یا تو معروف طریقے سے ر...

نسبندی کا شرعی حکم

نسبندی کا شرعی حکم روشن تحقیق السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ نس بندی کرانا کیسا ہے جبکہ ڈاکٹر یہ کہے کہ اب یہ عورت مزید بچے پیدا کرے گی، جس سے اسے سخت بیماری پیدا ہونے یا جان کا خطرہ ہے، اور باقی ضبط تولید کے ذرائع سے بھی کبھی خطرہ رہتا ہے، وہ ذرائع فیل ہو جاتے ہیں، اور عورت حاملہ ہو جاتی ہے، اس صورت میں عورت کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔  *سائل: محمد علی باڑمیر*  . وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ  الجواب وباللہ توفیق  نسبندی کی جائز اور ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدی، شرح مسلم جلد سوم میں فرماتے ہیں  1۔ کوئی شخص تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی (نسبندی کرواتا ہے) اصلًا جائز نہیں ہے، یہ اس لیے کہ حرمت کی علت تنگی رزق کا ہونا قرآن مجید میں مذموم ہے: "لا تقتلوا اولادکم من املاق   (سورہ نمبر 6آیت 151" 2۔ اور کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے، کیونکہ ان کی پرورش میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین ...