نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

قبر ‏پر ‏درخت

قبر پر درخت؟ 

السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام مسئلہ ذیل میں 

1قبر پر جو درخت لگاتے ہیں اس کا حکم کیا 

2 اور قبروں پر پانی ڈالتے ہیں اس کا حکم کیا ہے 

3 اور لوگوں کو یہ اعلان کر کے اطلاع دی جاتی ہے کہ میت کا منہ دیکھ لو میت مرد ہو یا عورت اس کا حکم کیا ہے 

4 نابالغ بچے کا جنازہ ہو تو صرف ہاتھوں پر لے کر جا سکتے ہیں 

5 اور زید کا یہ کہنا کہ جنازہ کو صرف چار آدمی اٹھا کر لے جائے  سب کو کاندھا دینا ضروری نہیں ہے اس کا کیا حکم ہے 

6اور زید کا یہ کہنا کیسا کہ جنازہ کے ساتھ کلمہ پڑھے تاکہ  مرحوم کو پتہ چلے کہ قبر میں تین سوال ہوگے اس کلمہ پڑھنے سے اس کو جواب یاد ہو جائے گا 

7 اور نابالغ کے جنازہ پر کلمہ نہ پڑھیں 

سائل محمد یوسف اکبری

وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ 

الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق 

1 قبر پر درخت سے مراد اگر گھگوار کا درخت ہے تو لگانا جائز ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ درخت بغیر پانی کے بھی تر و تازہ رہتا ہے تر رہنے کی وجہ سے اس کی تسبیح سے میت کے عذاب میں تخفیف ہوتی ہے جیسا کہ حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک کھجور کی ٹہنی منگوائی اور  دو قبروں پر ایک ایک رکھ دیا اور فرمایا کہ جب تک یہ خشک نہ اس وقت تک عذاب کم ہو جائے ( صحیح البخاری رقم الحدیث 216  ) 👈اس موضوع پر مزارات پر پھول ڈالنا کیسا  مکمل بحث ہمارا فتوی فتاوی فیضان صمدانی میں ملاحظہ فرمائیں 

2 قبر پر بعد دفن پانی چھڑکنا سنت ہے امام بہیقی نے دلائل النبوۃ میں اور مشکوتہ میں بھی یہ حدیث ہے 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر پر پانی چھڑکا گیا چھڑانے والے حضرت بلال رضی اللہ عنہ تھے جنہوں نے نے مشکیزہ سے سے آپ کی قبر پر پانی چھڑکا سر ہانے سے شروع کیا حتّٰی کہ پائتی تک پہنچ گئے مفتی احمد یار خان رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں معلوم ہوا کہ بعد دفن قبر پر  (پانی ) کا چھڑکاؤ کرنا سنت ہے اگرچہ مٹی بارش کی وجہ سے گیلی ہی کیوں نہ ہو بعض نے فرمایا خشک مٹی پر چھڑکے (مراتہ المناجیح جلد دوم صفحہ 293  )

3 میت منہ دیکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے مگر میت عورت کی ہو تو غیر محرم مرد کو اس کا دیکھنا جائز نہیں اسی طرح مرد کی میت کو غیر محرم عورت کو دیکھنا جائز نہیں 

4

 چھوٹا بچّہ شیرخوار یا ابھی دُودھ چھوڑا ہو یا اس سے کچھ بڑا، اس کو اگر ایک شخص ہاتھ پر اٹھا کر لے چلے تو حرج نہیں  اور یکے بعد دیگرے لوگ ہاتھوں ہاتھ لیتے رہیں اور اگر کوئی شخص سواری پر ہو اور اتنے چھوٹے جنازہ کو ہاتھ پر لیے ہو، جب بھی حرج نہیں  اور اس سے بڑا مردہ ہو تو چارپائی پر لے جائیں ۔ (غنیہ، عالمگیری وغیرہما)

5 زید کا یہ کہنا بالکل غلط ہے جنازہ کو کاندھا دینا بھی عبادت اور ثواب ہے اور زید جاہل ہے  لوگوں کو اتنے بڑے ثواب سے محروم ہونے کا حکم دیتا ہے اور بھلائی سے روکتا ہے 

اللّٰہ تَعَالٰی فرماتا  مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍۙ(سورتہ القلم آیت 12 ) بھلائی سے بڑا روکنے والا حد سے بڑھنے والا بڑا گناہگار، 

جنازہ کو کاندھا لگانے کے بارے میں مفتی امجد علی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں ۔ جنازہ کو کندھا دینا عبادت ہے، ہر شخص کو چاہیے کہ عبادت میں  کوتاہی نہ کرے اور حضور سید المرسلین صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے سعد بن معاذ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا جنازہ اٹھایا۔ (جوہرہ)


          سنّت یہ ہے کہ چار شخص جنازہ اٹھائیں ، ایک ایک پایہ ایک شخص لے اور اگر صرف دوشخصوں  نے جنازہ اٹھایا، ایک سرہانے اور ایک پائنتی تو بلا ضرورت مکروہ ہے اور ضرورت سے ہو مثلاً جگہ تنگ ہے تو حرج نہیں ۔ (عالمگیری)


         سنت یہ ہے کہ یکے بعد دیگرے چاروں  پایوں کو کندھا دے اور ہر بار دس دس قدم چلے اور پوری سنت یہ کہ پہلے دہنے سرہانے کندھا دے پھر دہنی پائنتی پھر بائیں  سرہانے پھر بائیں پائنتی اور دس دس قدم چلے تو کُل چالیس قدم ہوئے کہ

 حدیث میں  ہے، ’’جو چالیس قدم جنازہ لے چلے اس کے چالیس کبیرہ گناہ مٹا دیے جائیں  گے۔‘‘ نیز حدیث میں ہے، ’’جو جنازہ کے چاروں پایوں کو کندھا دے، اﷲ تعالیٰ اس کی حتمی مغفرت فرما دے گا۔‘‘  (1) (جوہرہ، عالمگیری، درمختار) بہارشریعت کتاب الجنائز، 

6 زید کو علم ہی نہیں ہے کہ جنازہ کے ساتھ کلمہ کیوں پڑھتے ہیں اور اس کی وجہ کیا ہے سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمتہ فرماتے ہیں 

اب کہ زمانہ منقلب ہوا، لوگ جنازہ کے ساتھ اور دفن کے وقت اور قبروں پر بیٹھ کر لغویات وفضولیات اور دنیوی تذکروں بلکہ خندہ ولہو میں مشغول ہوتے ہیں توانہیں ذکرخدا و رسول جل وعلا وصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی طرف مشغول کرنا عین صواب وکار ثواب ہے لہٰذا  جنازہ کے ساتھ ذکر جہر کی کراہت میں اختلاف ہے کہ تحریمی ہے یا تنزیہی ہے، اور ترجیح بھی مختلف آئی۔قنیہ میں کراہت تنزیہ کو ترجیح دی اور اسی پر فتاوی تتمہ میں جزم فرمایا اور یہی تجرید و مجتبی و حاوی و بحرالرائق وغیرہا کے لفظ ینبغی کامفاد ہے اور ترک ادنی اصلا گناہ نہیںکما نصو اعلیہ وحققناہ فی جمل مجلیۃ(جیسا کہ علماء نے اس کی صراحت فرمائی اور ہم نے رسالےجمل مجلیۃ ان المکروہ تنزیھا لیس بمعصیۃ ۱۳۰۴ھ


میں اس کی تحقیق کی ہے۔ت) اور عوام کواﷲ عزوجل کے ایسے ذکر سے منع کرنا جو شرعا گناہ نہ ہو محض بدخواہی عام مسلمین ہے اور اس کا مرتکب نہ ہوگا مگر متقشف کہ مقاصد شرع سے جاہل وناواقف ہو یا متصلف کہ مسلمانوں میں اختلاف ڈال کر اپنی رفعت وشہرت چاہتا ہو،بلکہ ائمہ ناصحین تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ منع کرنا اس منکر سے ضرور ہے جو بالاجماع حرام ہو، بلکہ تصریحیں فرمائیں کہ عوام اگر کسی طرح یادخدا میں مشغول ہوں ہرگز منع نہ کئے جائیں اگرچہ وہ طریقہ اپنے مذہب میں حرام ہو، مثلا سورج نکلتے وقت نماز حرام ہے اور عوام پڑھتے ہوں تو نہ روکے جائیں کہ کسی طرح وہ خدا کا نام تو لیں اسے سجدہ تو کریں اگر چہ کسی دوسرے مذہب پر اس کی صحت ہوسکے ۔۔۔

شرح طحطاوی میں ہے: جنازہ کے ساتھ چلنے والے پر خاموشی لازم ہے--مجتبی ، تجرید اور حاوی کے الفاظ یہ ہیں کہ: اسے طول سکونت اختیار کرنا چاہئے حضرت رسل علیہم السلام کی سنت یہی ہے کہ جنازہ کے ساتھ خاموش رہیں۔ اسی طرح منیۃ المفتی میں ہے--لوگوں کا آواز بلند کرنا مکروہ تحریمی ہے اور کہا گیا کہ تنزیہی ہے،مبتغی--کراہت تنزیہ ہے اور کہا گیا کہ کراہت تحریم ہے، قنیہ --آواز بلند کرنا مکروہ ہے یعنی ترک اولی ہے، جیسا کہ تتمہ میں اسے اپنے والد کے حوالے سے ذکر کیا۔ اورشرعۃ الاسلام کی جامع الشروح نامی شرح میں یہ ہے کہ: جنازہ کے پیچھے سری طور پر زیادہ سے زیادہ تسبیح وتہلیل کرے، کوئی دنیاوی بات نہ بولے، لیکن بعض مشائخ نے جہری ذکر کو بھی جائز کہا ہے اس طرح کہ درمیان میں کوئی بات ڈالے بغیر جنازہ کے آگے اور پیچے تعظیم کے ساتھ بآواز بلند ذکر کریں تاکہ میت اور دوسرے زنداں کو تلقین ہو، غافلوں ظالموں کو تنبیہ ہو، دنیا کی محبت وریاست سے دلوں میں جو زنگ اور درشتی ہے وہ دور ہو--علامہ شعرانی قدس سرہ، کی کتاب العہود المحمدیہ میں ہے کہ عالم محلہ کو چاہئے کہ جولوگ جنازہ کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں انہیں تعلیم دے کر لغو سے پرہیز کریں اس طرح کی باتوں میں نہ پڑیں کہ فلاں حکمران بنا، فلاں والی معزول ہوا، فلاں تاجر سفر میں گیا، فلاں واپس آیا۔ سلف صالحین کی روش یہ تھی کہ جنازہ میں کچھ نہ بولتے مگر وہ جو حدیث میں وارد ہے۔ سارے حاضرین پر حزن وغم کا ایک ایساغلبہ رہتا کہ اجنبی اور پردیسی شخص کو جب تک بتایا نہ جائے یہ معلوم ہی نہ ہوتا کہ میت کا قریبی کون ہے--سیدی علی خواص رضی اﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ جب جنازہ کے ساتھ چلنے والوں کے بارے میں یہ معلوم ہو کہ وہ لغو سے باز نہ آئیں گے اوردنیا کی باتوں میں مشغول رہیں گے تو انہیں لاالہ الااﷲ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پڑھنے کا حکم دینا چاہئے کیونکہ ایسی حالت میں اسے پڑھنا نہ پڑھنے سے افضل ہے۔ اور کسی فقیہ کو بغیرنص اجماع کے اس سے انکار مناسب نہیں-- اس لئے کہ مسلمانوں کے لئے شارع کی جانب سے وہ جب بھی چاہیں لا الہ الااﷲ محمدرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پڑھنے کو باطل کہہ کے حکام کے یہاں مال حاصل کرنا چاہتاہو، دوسری طرف یہ حال ہوکہ بھنگ بکتی دیکھے تو بھنگ فروش سے یہ کہنے کی زحمت گوارا نہ ہو یہ تجھ پر حرام ہے-- بلکہ اس طبقے کے فقیہ کو میں نے دیکھا کہ وہ بھنگ فروش کے مال سے اپنی امامت کی تنخواہ وصول کرتا --تو خداہی سے عافیت کا سوال ہے۔

(فتاوی رضویہ جلد 9 صفحہ 141 تا 144 )  7 فتاوی رضویہ کی عبارت سے صاف ظاہر ہو گیا کہ ذکر لوگوں کو فالتو کی باتیں نہ کرے اس لیے ذکر کرنے کی فقہاء نے اجازت دی ہے تو یہ نابالغ کے جنازہ میں بھی پڑھنا چاہے قبر کے اندر مردے کو سوال کے جواب یاد دلانے کے متعلق امام جلال الدین سیوطی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں، ،’’سعید بن منصور نے راشد بن سعد، ضمرہ بن حبیب اور حکیم بن عمیر سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا : جب میت کو قبر میں دفن کر دیا جائے اور لوگ واپس جانے لگیں تو مستحب ہے کہ ان میں سے ایک شخص میت کی قبر پر کھڑا ہوکر کہے : اے فلاں! کہہ دو کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ تین بار کہے۔ پھر کہے : اے فلاں! کہہ دو کہ میرا رب اﷲ ہے اور میرا دین اسلام ہے اور میرے نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ اس کے بعد وہ شخص بھی واپس چلا جائے

فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری 




 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

نسبندی کا شرعی حکم

نسبندی کا شرعی حکم روشن تحقیق السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ نس بندی کرانا کیسا ہے جبکہ ڈاکٹر یہ کہے کہ اب یہ عورت مزید بچے پیدا کرے گی، جس سے اسے سخت بیماری پیدا ہونے یا جان کا خطرہ ہے، اور باقی ضبط تولید کے ذرائع سے بھی کبھی خطرہ رہتا ہے، وہ ذرائع فیل ہو جاتے ہیں، اور عورت حاملہ ہو جاتی ہے، اس صورت میں عورت کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔  *سائل: محمد علی باڑمیر*  . وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ  الجواب وباللہ توفیق  نسبندی کی جائز اور ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدی، شرح مسلم جلد سوم میں فرماتے ہیں  1۔ کوئی شخص تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی (نسبندی کرواتا ہے) اصلًا جائز نہیں ہے، یہ اس لیے کہ حرمت کی علت تنگی رزق کا ہونا قرآن مجید میں مذموم ہے: "لا تقتلوا اولادکم من املاق   (سورہ نمبر 6آیت 151" 2۔ اور کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے، کیونکہ ان کی پرورش میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین ...

کمیشن لینا कमिशन लेना हिंदी अनुवाद आखिर में

हिंदी अनुवाद आखिर में है  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع کے ایک عالم صاحب جو کہ امامت کرتے ہیں ساتھ میں ان کا کاروبار گاڑیوں کے لین دین کا جس میں دو پارٹیوں سے سودا کرواتے ہیں جس میں ان کی ذمہ داری رہتی ہے گاڑیوں کے کاغذ وغیرہ کسی میں فولڈ ہوگا تو گارنٹی ان کی رہتی ہے جس کی وجہ سے کبھی نقصان بھی ہوتا ہے کبھی فائدہ مہینہ دو مہینہ کے بعد جب کاغذ وغیرہ نام پر ہو جاتے ہیں تب 5000/10000 جو کمیشن طے ہوتا ہے وہ ملتا ہے ابھی کوئی شخص بولتا ہے کے کمیشن کا دھندا کرنے والے کے پیچھے نماز نہیں ہوتی قرآن و حدیث کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں سائل قاری غلام رسول ضیائی   کوشل کوٹ ضلع بانسواڑہ راجستھان ُ الجواب و بللہ توفیق    شرعی ضابطے پورے کرتے ہوئے کمیشن کے  ذریعے روزی کمانے میں شرعاً کوئی ممانعت نہیں  ہے، کہ کمیشن یا بروکری وہ ذریعۂ آمدنی ہے جس میں اپنی محنت کے ذریعے ایک سروس دی جاتی ہے اور یہ طریقۂ آمدنی آج کا نہیں بلکہ  صدیوں سے رائج ہے جس کو ہر دور کے علماء نے جائز ہی کہا ۔  بروکر کی اجرت (کمیشن): بروکر کو "اجیر خاص" یا "وکیل" سمجھا جات...

حربی سے سود لینے کا حکم روشن تحقیق

حربی سے سود لینے کا حکم ؟ دارالافتاء گلزارِ طیبہ کی یہ علمی تحقیق نہایت دقیق، جامع اور بصیرت افروز ہے۔ اس میں جہاں امام ابو حنیفہؒ کے قول کا صحیح مفہوم واضح کیا گیا ہے، وہیں اس کے غلط استعمالات اور اس کے دینی، سماجی و بین الاقوامی مضمرات پر بھی مدلل کلام کیا گیا ہے۔ علمی و ادبی تاثرات: 1. محققانہ اسلوب: تحقیق کی بنیاد قرآنی آیات، صحیح احادیث اور فقہاء کی معتبر تشریحات پر رکھی گئی ہے۔ علامہ ابن قدامہ، علامہ سعیدی، امام ابن ہمام، امام شافعی، سرخسی وغیرہ جیسے جلیل القدر علماء کے اقوال سے مزین یہ رسالہ اسلوبِ تحقیق کا عمدہ نمونہ ہے۔ 2. فقہی توازن و اعتدال: تحقیق میں نہ صرف مختلف اقوال کا ذکر کیا گیا بلکہ ان کا تجزیہ بھی علمی انداز میں کیا گیا ہے، جو قاری کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا اصل مدعا کیا تھا، اور بعد کے علماء نے ان کے قول کو کس حد تک محدود کیا ہے۔ 3. دورِ حاضر کے تقاضے: یہ تحقیق صرف نصوص کی بحث نہیں، بلکہ موجودہ حالات کے تناظر میں ایک عملی رہنمائی بھی ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا کے دور میں فتاویٰ کے غلط استعمال، اسلام کے بارے میں پھیلنے والی بدگمانیوں اور ہندوست...