کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مسئلہ ھذا میں کہ ایک عورت ہے جس کا یہ دھندہ بن چکا ہے کسی مرد سے نکاح کرتی ہے کچھ دنوں کے بعد اپنے شوہر کو کہتی ہے کہ میں اپنے میکے جاتی ہوں پھر نہیں آتی پھر دوسرے مرد سے شادی کرلیتی ہے چند دن اس کے گھر رہتی ہے اس کو لوٹ کر چلی جاتی ہے پھر تیسرے مرد سے شادی کرلیتی ہے اس نے بہت سارے نکاح کیے ہیں سوال یہ ہے کہ اگر کوئی امام نکاح پڑھاے لیکن اس کو اس کے بارے میں معلومات نہیں ہے بعد میں معلوم ہوا کہ یہ عورت نہ جانے کتنے نکاح کرچکی ہے تو امام اور سامعین کے نکاح کے بارے میں کیا حکم ہوگا
...سائل..
علی محمد اکبری خطیب و امام مدینہ مسجد نانی چیرئی بھچاو واگڑ کچھ
*الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق*
صورت مسوئلہ میں اس عورت کا دوسرے سے نکاح جب تک نہیں ہو سکتا جب تک پہلے والا شوہر اسے طلاق دے دی ہو تو دوسرے سے نکاح ہو سکتا ہے ورنہ بغیر طلاق کے دوسرے سے نکاح ہرگز جائز نہیں بلکہ حرام ہے ،قال اللہ تعالٰی، *شوہر والی عورتیں تم پر حرام ہیں الخ* قرآن مجید سورتہ 4 آیت 24 اور سوال سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ عورت مطلقہ نہیں تھی بلکہ لوگوں سے دھوکہ کرتی رہی جو سخت گنہگار مستحق عذاب نار ہے اب نکاح پڑھانے والے مولانا اور گواہ کو اس عورت کی کرتوتوں سے جانکاری نہیں تھی جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا ہے بعد معلوم ہونے کے مولانا اور گواہوں کو یہ حکم ہے کہ وہ لوگوں میں اعلان کر دیں کہ یہ نکاح نہیں ہوا اور مولانا نکاح پڑھانے کا پیسا واپس کر دیں
*واللہ اعلم و رسولہ*
*دارالافتاء فیضان مدینہ*
*فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری*
تاریخ 14 دسمبر 2020 بروز پیر ✍
نسبندی کا شرعی حکم روشن تحقیق السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ نس بندی کرانا کیسا ہے جبکہ ڈاکٹر یہ کہے کہ اب یہ عورت مزید بچے پیدا کرے گی، جس سے اسے سخت بیماری پیدا ہونے یا جان کا خطرہ ہے، اور باقی ضبط تولید کے ذرائع سے بھی کبھی خطرہ رہتا ہے، وہ ذرائع فیل ہو جاتے ہیں، اور عورت حاملہ ہو جاتی ہے، اس صورت میں عورت کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔ *سائل: محمد علی باڑمیر* . وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ الجواب وباللہ توفیق نسبندی کی جائز اور ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدی، شرح مسلم جلد سوم میں فرماتے ہیں 1۔ کوئی شخص تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی (نسبندی کرواتا ہے) اصلًا جائز نہیں ہے، یہ اس لیے کہ حرمت کی علت تنگی رزق کا ہونا قرآن مجید میں مذموم ہے: "لا تقتلوا اولادکم من املاق (سورہ نمبر 6آیت 151" 2۔ اور کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے، کیونکہ ان کی پرورش میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین ...
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com