داڑھی کی حد کہا تک؟
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے میں کہ داڑھی کی جو مقدار ایک مشت بتائیں گءی ہے' وہ تھوڑی کے نیچے کی ہی شمار ہوگی یا دونوں ختصار کی طرف بھی ایک مشت رکھنی واجب ہے
ساءل: عارف عطاری
از:کاریلا، سریندر نگر
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں حضرت مفتی محمد قاسم صاحب فرماتے ہیں
داڑھی کی حد کو آسان سے آسان الفاظ میں یوں سمجھ لیں کہ داڑھی قلموں کے نیچے سے کنپٹیوں ، جبڑوں ، ٹھوڑی پر جمتی ہے اور عرضا اس کا بالائی حصہ کانوں اور گالوں کے بیچ میں ہوتا ہے ۔ اب اگر کوئی شخص اپنے کانوں کے برابر والے بالوں میں سے وہ بال چھوٹے کرواتا ہے کہ جو قلموں سے نیچے ، داڑھی کا حصہ ہیں تو وہ گنہگار ہو گا کیونکہ داڑھی کے بالوں کو لمبائی اور چوڑائی دونوں طرح سے ایک مشت پوری ہونے سے پہلے تھوڑا یا زیادہ کاٹنا ناجائز ہے دارالافتاء اہلسنت )
واللہ اعلم و رسولہ
فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری دارالافتاء فیضان مدینہ دارالافتاء فیضان مدینہ کے فتاوی کا آنلائن مطالعہ 👉 کرنے کے لیے
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com