کس گناہ سے بندہ کافر ہو جاتا ہے؟
السلامُ علیکم ورحمۃ اللّه وبرکاتہ 🤝
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں.
سوال : کونسے گناہ کرنے سے مسلمان کفر میں چلا جاتا ہے.؟
عبد المصطفیٰ پنجاب پاکستان
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق
یسا گناہ جو نص قطعی سے ثابت ہو، اس کا ارتکاب کوئی حلال سمجھتے ہوئے کرے کہ ایسا کرنا حرام نہیں بلکہ حلال ہے تو وہ کافر ہوجاتا ہے، اگر دل میں یہ خیال ہو کہ بہت بڑا جرم ہے گناہ کا کام ہے، مگر پھر بھی شیطان کے بہکاوے میں آکر وہ گناہ کا کام کرلیتا ہے، تو اس سے ایمان باقی رہتا ہے البتہ گناہ کا مرتکب ہوا۔ ایسے ہی اگر استہزاء یا استخفافاً اس کو کرتا ہے تو بھی اس کے ایمان کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے: إن استحلال المعصیة إذا ثبت کونہا معصیةً بدلالة قطعیة وکذا الاستہانة بہا کفر بأن یعدہا ہنیئةً سہلةً ویرتکبہا من غیر مبالاة بہا ویجریہا مجری المباحات في ارتکابہا، وکذا الاستہزاء علی الشریعة الغراء کفر؛ لأن ذلک من إمارات تکذیب الأنبیاء علیہم الصلاة والسلام (شرح فقہ أکبر لملا علي قاري:۲۵۴، ط: دارالإیمان، سہارنپور)
دوسروں کے کفر پر راضی ہونے کی دو صورت ہے: پہلی یہ کہ کفر پر راضی ہو تاکہ وہ ہمیشہ ہمیشہ عذاب میں مبتلا رہے، اس صورت میں کفر پر راضی ہونے والا آدمی کافر نہیں ہوتا، دوسری صورت یہ ہے کہ: کفر پر راضی ہو، اور اس بنیاد پر اللہ کی شانِ کریمی میں گستاخی کا مرتکب ہو، یعنی خود بھی وہ کلمہ قصدا جان بوجھ کر کہتا ہو تو اس صورت میں اس کے ایمان کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ ومن یرضی بکفر غیرہ فقد اختلف فیہ المشائخ رحمہم اللہ في کتاب التخییر في کلمات الکفر إن رضي بکفر غیرہ لیعذب علی الخلود لا یکفر، وإن رضي بکفرہ؛ لیقول في اللہ ما لا یلیق بصفاتہ یکفر، وعلیہ الفتویٰ کذا فيالتتارخانیة (ہندیة: ۲/۲۵۷، کتاب الحدود، فصل فی أحکام المرتدین، بلو)
اس طرح کے مسائل جاننے کے لیے کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب کا مطالعہ فرمائیں ۔۔آنلائن مطالعہ فرمائیں دارالافتاء فیضان مدینہ کے فتاوی کا
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com