دفن کے وقت قبر دھنس جائے؟
السلام علیکم و رحمت اللہ بر کا تہ علماء اکرام کی بارگاہ میں عرض ہے کہ اگر میت دفنانے کے بعد قبر دھنس جائے اور سب لوگ موجود ہیں اب کیا حکم ہے
میر محمد صدیقی باڑمیر راجستھان
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق
مردے کو دفن کرنے کے بعد قبر کھولنا جائز نہیں اور نہ دوسری جگہ منتقل کرنےکی اجازت علماء فرماتے ہیں
اگر گمان ہو کہ میت کا کوئی ہڈی (یا کوئی بھی عضو) باقی ہے تو اس کی قبر کھولنا حرام ہے۔ اس حرمت سے چند باتیں مستثنیٰ ہیں: ان میں سے ایک یہ ہے کہ میت کو ہتھیائی ہوئی زمین پر دفن کیا جائے اور مالک زمین کی قیمت لینے سے انکار کر دے یا جس زمین کو غصب کر کے میت دفنائی گئی ہے اس زمین کا مالک وہاں دفنانے پر راضی نہ ہو(تو قبر کھول کر میت کو منتقل کیا جائے گا)، اور اگر جان بوجھ کر یا بےخبری میں میت کے ساتھ کچھ مال دفن ہو گیا ہے (تو ایسی صورت میں بھی قبر کو کھولنا جائز ہے) قطع نظر اس کے کہ مال میت کا تھا یا کسی دوسرے کا، زیادہ تھا یا کم‘ بھلے ایک درہم ہی کیوں نہ ہو، لاش سلامت ہو یا خراب ہو (بہرحال قبر کھول کر مال نکالا جائے گا)۔
الجزيری، عبدالرحمان، الفقه علیٰ مذاهب الاربعة، 1: 537، دار احياء التراث العربي، بيروت، لبنان
صورتِ مسؤلہ اگر قبر بیٹھ جائے تو بہتر یہی ہے کہ قبر کھولے بغیر اس کو درست کرنے کا اہتمام کیا جائے۔ اگر قبر کھولنا ناگزیر ہو تو کوئی ایسا انتظام کیا جائے اس سے میت کا ستر باقی رہے۔ کیونکہ میت کا ستر رکھنا بھی اسی طرح واجب ہے جس طرح زندہ کا ہے۔
بہرحال اصول یہی ہے کہ بلاعذرِ شرعی قبر کھولنا یا میت کو نکالنا جائز نہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ میت کو باہر نہ نکلیں اور کوئی ترکیب سے قبر کو درست کر لیں جیسے بڑا پتھر یا پلائی وغیرہ کو جو قبر سے لمبائی و چوڑائی میں زیادہ ہو اس کو قبر پر رکھ کر اس کے اوپر مٹی ڈال دیں مٹی زیادہ نہ ڈالیں ورنہ یہ بھی دھنس جائے گی واللہ اعلم و رسولہ
دارالافتاء فیضان مدینہ
فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com