نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

مطلقہ ‏جوان ‏عورت ‏کا ‏حیض ‏بند ‏تو ‏عدت؟

دارالافتا۶ فیضان مدینہ:
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے ہندہ کو تین طلاقیں دی تھی ہندہ نے عدت گزرنے کے بعد بکر سے حلالہ کیا  (نکاح کیا ) مگر بکر سے طلاق حاصل کرنے کے بعد ہندہ کو ابھی تک حیض نہیں آیا حالانکہ وہ حاملہ بھی نہیں ہے وقت 6 ماہ ہو چکے ہیں دریافت طلب امر یہ ہے کہ ہندہ کی عدت کیسے ختم ہوگی اور کب ہندہ پھر سے زید سے نکاح کر سکتی ہے جواب عنایت فرمائیں
سائل محمد علی بوڈارمورا انجار کچھ گجرات
نوٹ ہندہ کی عمر 30 سال کی ہے اور حیض کسی بیماری کی وجہ سے بند ہو گیا ہے ۔۔۔۔۔
*الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق*
مطلقہ  مدخولہ  کی عدت تین حیض ہے اللہ تعالی فرماتا ہے، اور طلاق والی عورتیں اپنی جانوں کو تین حیض تک روکے رکھے اور انھیں حلال نہیں کہ اس کو چھپائیں جو اللہ نے ان کے پیٹ میں پیدا کیا ہے الخ
( *سورتہ البقرہ آیت 228 )*
اس آیت مبارکہ سے معلوم ہوا کہ تین حیض کی حکمت یہ ہے کہ عورت اگر حاملہ ہے تو اتنے وقت میں معلوم ہو جائے  اور  غیر مدخولہ کی کوئی عدت نہیں جیسا کہ اللہ سبحان و تعالٰی فرماتا ہے اے ایمان والو *!* جب تم مسلمان عورتوں سے نکاح کرو پھر انھیں بغیر ہاتھ لگائے طلاق دے دو تو ان پر تمھاری وجہ سے کوئی عدت نہیں  الخ  ( *سورتہ 33 آیت 49 )*  مگر خلوت صحیحہ قربت کے حکم میں ہے اگر خلوت صحیحہ کے بعد طلاق واقع ہو تو عدت واجب ہوگی اگرچہ ہمبستری نہ کی ہو  *(تفسیر صراط الجنان   33 آیت 49  )* 
اور جو حیض سے ناامید ہو گئی ہو یا ابھی تک حیض نہیں آیا ان کی عدت تین مہینے ہیں اور حاملہ کی عدت وضع حمل ہے اللہ تعالی فرماتا ہے اور تمھاری عورتوں میں حیض سے ناامید ہو چکی اگر تمھیں کچھ شک ہو تو ان کی اور جنھیں حیض نہیں آیا ان کی عدت تین مہینے ہے اور حمل والیوں کی عدت کی مدت یہ ہے کہ وہ اپنا حمل جن لیں الخ
( *سورتہ 65 آیت 4 )*  مفتی امجد علی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں کہ عورت کو حیض آچکا ہے مگر اب نہیں آتا اور ابھی سن ایاس کو بھی نہیں پہنچی ہے تو اس کی عدت بھی تین حیض ہے جب تک تین حیض نہ آلے یا سن ایاس کو نہ پہنچے اس کی عدت ختم نہیں ہو سکتی
) *بہارشریعت باب عدت صفحہ 237 )*  اب یہاں یہ خدشہ ظاہر ہے کہ اتنی طویل مدت تک عورت جو جوان بھی ہو اور کسی بیماری کی وجہ سے حیض بند ہو گیا ایسی عورت اپنے نفس کو کنٹرول نہ رکھ سکے یا ایسی عورت کو نان و نفقہ کی تکلیف برداشت نہیں کر سکے اور معاذ اللہ گناہ میں مبتلا ہو جائے تو ایسے حالات کے مدنظر مفتی کو چاہیے کہ کوئی آسان تدبیر کرے، اللہ تعالٰی فرماتا ہے، اللہ چاہتا ہے کہ تم پر آسانی کرے اور آدمی کمزور بنایا گیا ہے  *(سورتہ 4 آیت 28)* لہٰذا اس طرح کے ایک سوال کے جواب میں حضرت مفتی اعظم پاکستان پروفیسر مفتی منیب الرحمٰن صاحب فرماتے ہیں حیض اور طہر کا دورانیہ ہر عورت کا اپنا اپنا ہوتا ہے اور اگر عورت کو حیض نہیں آتا خواہ کسی طبعی یا طبی سبب سے( ایسی عورت کے لیے فقہاء احناف کے نزدیک تین حیض ہی ہے خواہ کتنے ہی سال میں آئے )  امام مالک رحمۃاللہ علیہ کے نزدیک ایسی عورت کی عدت نو ماہ ہے اور ضرورت کے تحت امام مالک کے قول پر فتوی دیا جا سکتا ہے  (تفہیم المسائل جلد 6 صفحہ 386 ) علامہ علاو الدین حصکفی لکھتے ہیں ہاں فقہ مالکی کے قاضی نے  (نو ماہ کی عدت کا ) فیصلہ دیا تو نافذ ہو جائے گا  لیکن یہ اس صورت میں ممکن ہوگا کہ  کسی مالکی مفتی یا قاضی سے فیصلہ کرنا ممکن( ہو لیکن جہاں کوئی مالکی مفتی نہیں پایا جاتا جس سے فیصلہ کرایا جائے پس ضرورت موجود ہے اور ضرورت متحقق ہونے کی بنا پر ہے لہٰذا زاہدی نے کہا ہمارے بعض اصحاب اس مسئلے میں ضرورت کی بنا پر امام مالک کے قول پر فتوی دیتے تھے  ( *تفہیم المسائل بحوالہ الدرالمختار جلد 5 صفحہ 149 )*   فقیہ العصر مفتی نور اللہ بصرپوری رحمۃاللہ علیہ لکھتے ہیں بہر حال مذہب وہی ہے اور ضرورت شدید کے وقت یہ بھی فرمایا گیا ہے جو اوپر مذکور ہوا یہ فتوی نہیں دیا جا رہا ہے مگر ضرورت شدید کے وقت اس پر کوئی عمل کرے تو امید ہے کہ گنہگار نہ ہوگا
( *تفہیم المسائل )*
اس پوری بحث سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ ہمارے ملک میں مفتی مالکی نہیں مل سکتا لہٰذا اب مفتی حنفی اگر امام مالک کے قول پر فتوی دے تو نافذ ہو جائے گا   اور ایک اور صورت میرے ذہن میں ہے وہ یہ کہ آج کل سائنس بہت ترقی پر ہے لہٰذا ہمارے مفتیان کرام کو قوم کی بھلائی اور آسانی کی خاطر سائنس سے کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے حیض بند ہونے کی وجہ کوئی نہ کوئی بیماری ہوتی ہے اور یہ بیماری علاج سے ٹھیک ہو سکتی ہے ابھی ایک ماہ پہلے کی بات ہے میرے پاس پالنپور گجرات سے اسی طرح کا ایک سوال آیا تھا تو پہلے میں نے انھیں مشورہ دیا کہ  آپ ڈاکٹر سے چیک کروا  لیں تو اس کو ڈاکٹر نے کہا کہ بچادانی پر سوجن کی وجہ سے حیض بند ہو گیا ہے آپریشن سے ٹھیک ہو جائے گا اور حیض شروع ہو جائے گا لہذا

آپریشن کے بعد ابھی خبر ملی کہ پہلا حیض آچکا ہے لہٰذا آپ بھی ہندہ کا  ڈاکٹر سے علاج کروائے اور جیسے ہی حیض شروع ہو جائے تو عدت شمار کر کے بعد عدت زید سے نکاح کر سکتی ہے  اور اگر  پھر بھی  حیض نہ آئے  تو آپ ہم سے دوبارہ رابطہ فرمائیں     *واللہ اعلم و رسولہ*
*دارالافتاء فیضان مدینہ*
*فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری*
تاریخ 31 جولائی 2021 بروز ہفتہ

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

نسبندی کا شرعی حکم

نسبندی کا شرعی حکم روشن تحقیق السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ نس بندی کرانا کیسا ہے جبکہ ڈاکٹر یہ کہے کہ اب یہ عورت مزید بچے پیدا کرے گی، جس سے اسے سخت بیماری پیدا ہونے یا جان کا خطرہ ہے، اور باقی ضبط تولید کے ذرائع سے بھی کبھی خطرہ رہتا ہے، وہ ذرائع فیل ہو جاتے ہیں، اور عورت حاملہ ہو جاتی ہے، اس صورت میں عورت کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔  *سائل: محمد علی باڑمیر*  . وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ  الجواب وباللہ توفیق  نسبندی کی جائز اور ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدی، شرح مسلم جلد سوم میں فرماتے ہیں  1۔ کوئی شخص تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی (نسبندی کرواتا ہے) اصلًا جائز نہیں ہے، یہ اس لیے کہ حرمت کی علت تنگی رزق کا ہونا قرآن مجید میں مذموم ہے: "لا تقتلوا اولادکم من املاق   (سورہ نمبر 6آیت 151" 2۔ اور کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے، کیونکہ ان کی پرورش میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین ...

کمیشن لینا कमिशन लेना हिंदी अनुवाद आखिर में

हिंदी अनुवाद आखिर में है  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع کے ایک عالم صاحب جو کہ امامت کرتے ہیں ساتھ میں ان کا کاروبار گاڑیوں کے لین دین کا جس میں دو پارٹیوں سے سودا کرواتے ہیں جس میں ان کی ذمہ داری رہتی ہے گاڑیوں کے کاغذ وغیرہ کسی میں فولڈ ہوگا تو گارنٹی ان کی رہتی ہے جس کی وجہ سے کبھی نقصان بھی ہوتا ہے کبھی فائدہ مہینہ دو مہینہ کے بعد جب کاغذ وغیرہ نام پر ہو جاتے ہیں تب 5000/10000 جو کمیشن طے ہوتا ہے وہ ملتا ہے ابھی کوئی شخص بولتا ہے کے کمیشن کا دھندا کرنے والے کے پیچھے نماز نہیں ہوتی قرآن و حدیث کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں سائل قاری غلام رسول ضیائی   کوشل کوٹ ضلع بانسواڑہ راجستھان ُ الجواب و بللہ توفیق    شرعی ضابطے پورے کرتے ہوئے کمیشن کے  ذریعے روزی کمانے میں شرعاً کوئی ممانعت نہیں  ہے، کہ کمیشن یا بروکری وہ ذریعۂ آمدنی ہے جس میں اپنی محنت کے ذریعے ایک سروس دی جاتی ہے اور یہ طریقۂ آمدنی آج کا نہیں بلکہ  صدیوں سے رائج ہے جس کو ہر دور کے علماء نے جائز ہی کہا ۔  بروکر کی اجرت (کمیشن): بروکر کو "اجیر خاص" یا "وکیل" سمجھا جات...

حربی سے سود لینے کا حکم روشن تحقیق

حربی سے سود لینے کا حکم ؟ دارالافتاء گلزارِ طیبہ کی یہ علمی تحقیق نہایت دقیق، جامع اور بصیرت افروز ہے۔ اس میں جہاں امام ابو حنیفہؒ کے قول کا صحیح مفہوم واضح کیا گیا ہے، وہیں اس کے غلط استعمالات اور اس کے دینی، سماجی و بین الاقوامی مضمرات پر بھی مدلل کلام کیا گیا ہے۔ علمی و ادبی تاثرات: 1. محققانہ اسلوب: تحقیق کی بنیاد قرآنی آیات، صحیح احادیث اور فقہاء کی معتبر تشریحات پر رکھی گئی ہے۔ علامہ ابن قدامہ، علامہ سعیدی، امام ابن ہمام، امام شافعی، سرخسی وغیرہ جیسے جلیل القدر علماء کے اقوال سے مزین یہ رسالہ اسلوبِ تحقیق کا عمدہ نمونہ ہے۔ 2. فقہی توازن و اعتدال: تحقیق میں نہ صرف مختلف اقوال کا ذکر کیا گیا بلکہ ان کا تجزیہ بھی علمی انداز میں کیا گیا ہے، جو قاری کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا اصل مدعا کیا تھا، اور بعد کے علماء نے ان کے قول کو کس حد تک محدود کیا ہے۔ 3. دورِ حاضر کے تقاضے: یہ تحقیق صرف نصوص کی بحث نہیں، بلکہ موجودہ حالات کے تناظر میں ایک عملی رہنمائی بھی ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا کے دور میں فتاویٰ کے غلط استعمال، اسلام کے بارے میں پھیلنے والی بدگمانیوں اور ہندوست...