نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

طلاق ‏تفویض ‏؟

اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب آپ کی بارگاہ میں سوال ہے کہ میری دو طلاق پہلے ہو چکی ہے ایک طلاق باقی تھی وہ میں نے کسی دوست کو تفویض کردی تھی، اب اگر میں تیسری طلاق بھی بول دیا بغیر اپنے دوست سے واپس لیے ہوئے، تو کیا طلاق ہو جائے گی،

اسلام علیکم مفتی صاحب میں آپ کی بارگاہ میں سوال ہے میں نے میرے بچوں کی امی کو یہ کہا کہ وہ اگر دو دن کے اندر اندر میرے گھر نہیں آتی تو طلاق، اور پھر میں ان کے آنے سے پہلے ہی، میں اگر اکیلے میں کہہ دوں کی اگر وہ سوموار تک یا یہ وقت ختم ہونے تک بھی نہیں آتی تب بھی اس کو طلاق نہیں، تو کیا طلاق واقع ہو جائے گی،
زید گجرات
*وعلیکم السلام و رحمۃاللہ و برکاتہ*
*الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق*
طلاق تفویض کرنے سے آپ کا اختیار ختم نہیں ہوتا طلاق کا حق اب بھی آپ کے پاس تھا قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم *انما الطلاق لمن اخذ بالساق*  *ابن ماجہ رقم الحدیث 2081*  سوال 2  آپ نے کہا کہ  دو دن کے اندر اندر میرے گھر نہیں آتی تو طلاق ،اب آپ اس الفاظ سے رجوع نہیں کر سکتے جیسا کہ مفتی امجد علی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ کہا کہ اگر میں گھر میں جا وں تو میری عورت کو طلاق ہے پھر قسم کھائی کہ عورت کو طلاق نہیں دے گا اس کے بعد گھر میں گیا تو عورت کو طلاق ہو گئی الخ *بہار شریعت حصہ نہم صفحہ 351* لہٰذا صورت مسوئلہ میں آپ پہلے دو طلاقیں دے چکے تھے پھر تیسری کو معلق کیا وہ بھی واقع ہوگئی  ،اللہ تعالٰی آپ کو نئم بدل عطا فرمائیں آپ خوف خدا والے ہے اسی لیے آپ نے صاف صاف سوال کو ظاہر کیا جب انسان سے غلطی ہو جائے تو اس کو چاہیے کہ حکم شرعی کو خوش دلی سے قبول کرے تاکہ عذاب آخرت سے محفوظ ہو آپ پر عورت کی عدت کا خرچہ اور مہر لازم ہے اسے فوراً ادا کرے اب یہ عورت آپ کے لیے حلال نہیں ،قال اللہ تعالٰی، دو بار طلاق دینے کے بعد یا تو دستور کے مطابق روک لینا ہے، یا  اس کو حسن سلوک کے ساتھ چھوڑ دینا ہے اور تمھارے لیے اس  (مہر یا ہبہ ) سے کچھ بھی لینا جائز نہیں ہے تو تم ان کو دے چکے ہو الخ *قرآن مجید سورتہ 2 آیت 229*
واللہ اعلم و رسولہ
*دارالافتاء فیضان مدینہ*
*فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی*
تاریخ 21 ستمبر 2020 بروز پیر

تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں

Gulzaretaibah284@gmail.com

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

نسبندی کا شرعی حکم

نسبندی کا شرعی حکم روشن تحقیق السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ نس بندی کرانا کیسا ہے جبکہ ڈاکٹر یہ کہے کہ اب یہ عورت مزید بچے پیدا کرے گی، جس سے اسے سخت بیماری پیدا ہونے یا جان کا خطرہ ہے، اور باقی ضبط تولید کے ذرائع سے بھی کبھی خطرہ رہتا ہے، وہ ذرائع فیل ہو جاتے ہیں، اور عورت حاملہ ہو جاتی ہے، اس صورت میں عورت کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔  *سائل: محمد علی باڑمیر*  . وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ  الجواب وباللہ توفیق  نسبندی کی جائز اور ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدی، شرح مسلم جلد سوم میں فرماتے ہیں  1۔ کوئی شخص تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی (نسبندی کرواتا ہے) اصلًا جائز نہیں ہے، یہ اس لیے کہ حرمت کی علت تنگی رزق کا ہونا قرآن مجید میں مذموم ہے: "لا تقتلوا اولادکم من املاق   (سورہ نمبر 6آیت 151" 2۔ اور کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے، کیونکہ ان کی پرورش میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین ...

کمیشن لینا कमिशन लेना हिंदी अनुवाद आखिर में

हिंदी अनुवाद आखिर में है  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع کے ایک عالم صاحب جو کہ امامت کرتے ہیں ساتھ میں ان کا کاروبار گاڑیوں کے لین دین کا جس میں دو پارٹیوں سے سودا کرواتے ہیں جس میں ان کی ذمہ داری رہتی ہے گاڑیوں کے کاغذ وغیرہ کسی میں فولڈ ہوگا تو گارنٹی ان کی رہتی ہے جس کی وجہ سے کبھی نقصان بھی ہوتا ہے کبھی فائدہ مہینہ دو مہینہ کے بعد جب کاغذ وغیرہ نام پر ہو جاتے ہیں تب 5000/10000 جو کمیشن طے ہوتا ہے وہ ملتا ہے ابھی کوئی شخص بولتا ہے کے کمیشن کا دھندا کرنے والے کے پیچھے نماز نہیں ہوتی قرآن و حدیث کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں سائل قاری غلام رسول ضیائی   کوشل کوٹ ضلع بانسواڑہ راجستھان ُ الجواب و بللہ توفیق    شرعی ضابطے پورے کرتے ہوئے کمیشن کے  ذریعے روزی کمانے میں شرعاً کوئی ممانعت نہیں  ہے، کہ کمیشن یا بروکری وہ ذریعۂ آمدنی ہے جس میں اپنی محنت کے ذریعے ایک سروس دی جاتی ہے اور یہ طریقۂ آمدنی آج کا نہیں بلکہ  صدیوں سے رائج ہے جس کو ہر دور کے علماء نے جائز ہی کہا ۔  بروکر کی اجرت (کمیشن): بروکر کو "اجیر خاص" یا "وکیل" سمجھا جات...

حربی سے سود لینے کا حکم روشن تحقیق

حربی سے سود لینے کا حکم ؟ دارالافتاء گلزارِ طیبہ کی یہ علمی تحقیق نہایت دقیق، جامع اور بصیرت افروز ہے۔ اس میں جہاں امام ابو حنیفہؒ کے قول کا صحیح مفہوم واضح کیا گیا ہے، وہیں اس کے غلط استعمالات اور اس کے دینی، سماجی و بین الاقوامی مضمرات پر بھی مدلل کلام کیا گیا ہے۔ علمی و ادبی تاثرات: 1. محققانہ اسلوب: تحقیق کی بنیاد قرآنی آیات، صحیح احادیث اور فقہاء کی معتبر تشریحات پر رکھی گئی ہے۔ علامہ ابن قدامہ، علامہ سعیدی، امام ابن ہمام، امام شافعی، سرخسی وغیرہ جیسے جلیل القدر علماء کے اقوال سے مزین یہ رسالہ اسلوبِ تحقیق کا عمدہ نمونہ ہے۔ 2. فقہی توازن و اعتدال: تحقیق میں نہ صرف مختلف اقوال کا ذکر کیا گیا بلکہ ان کا تجزیہ بھی علمی انداز میں کیا گیا ہے، جو قاری کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا اصل مدعا کیا تھا، اور بعد کے علماء نے ان کے قول کو کس حد تک محدود کیا ہے۔ 3. دورِ حاضر کے تقاضے: یہ تحقیق صرف نصوص کی بحث نہیں، بلکہ موجودہ حالات کے تناظر میں ایک عملی رہنمائی بھی ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا کے دور میں فتاویٰ کے غلط استعمال، اسلام کے بارے میں پھیلنے والی بدگمانیوں اور ہندوست...