نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

ظالم ‏شوہر ‏سے ‏خلاصہ ‏؟


کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے میں کہ زید اپنی بیوی ہندہ پر ظلم کرتا ہے اور نہ تو اسے نان نفقہ دیتا ہے اور نہ اس کو اپناتا ہے اور نہ ہی اسے طلاق دیتا ہے اب ہندہ کا گزر بسر کرنا مشکل ہو گیا ہے اور اپنے آپ پر کابو رکھنا بھی مشکل ہے کہ ہندہ جوان لڑکی ہے لہٰذا ہندہ کے لیے کوئی خلاصہ کی تدبیر بیان فرمائے کیا ہندہ کورٹ سے طلاق لے سکتی ہے جبکہ اس کا شوہر کسی حال میں طلاق نہ دے اور ظلم بھی کرے تو اب ہندہ کیا کرے جواب عنایت فرمائیں سائل مولانا محمد حسین پالنپور گجرات 

الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق 

زید اللہ تَعَالٰی سے ڈرے اور اپنی بیوی کے ساتھ حسن سلوک کرے یا پھر طلاق دے کر خلاصہ کر دیں اللہ تَعَالٰی فرماتا ہے! بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْحٌۢ بِاِحْسَانٍؕ

ترجمہ، دستور کے مطابق یا رخصت کرنا حسن سلوک سے! یعنی یا تو اس کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے زندگی بسر کرے یا پھر رخصت کر دیں مگر اس اللہ کی بندی پر ظلم نہ کرے مسلمانوں کو چاہے کہ وہ زید کو سمجھائے یا تو وہ اپنی بیوی کو اپنائے یا پھر طلاق دے کر خلاصہ کر دیں اگر زید پھر بھی نہ سمجھے تو تمام مسلمانوں پر لازم ہے کہ اس کا بائیکاٹ کیا جائے یا پھر خلع کر دیا جائے یعنی مہر کی رقم زید کو ہندہ واپس کر دیں پھر زید اس کے عوض خلع قبول کر لیں مہر سے زیادہ مال لینا مکروہ ہے مظلوم کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے زیادہ مال لے کر خلع کرنا خلع تو ہو جائے گا مگر ایسے ظالم لوگوں کو مظلوم کی بدعا سے ڈرنا چاہئے اور اگر وہ خلع بھی نہیں کرتا تو زبردستی بھی طلاق لیا جا سکتا ہے مگر کورٹ کی طلاق معتبر نہیں فتاوی برکاتہ صفحہ 154 میں کسی کی بیوی کے لئے کچہری کے حکام کی طلاق ہرگز قابل قبول نہیں! کورٹ نوٹس جاری کرتی ہے پھر جواب نہ دینے کی صورت میں کورٹ طلاق واقع کر دیتی ہے جو شرعاً جائز نہیں ہے ایسے لوگوں سے مسلمان خود دباؤ بنائے نہ مانے تو سختی کے ساتھ اس کا بائیکاٹ کیا جائے تو ان لوگوں کی عقل درست ہو جائے گی بالفرض کوئی تدبیر کامیاب نہیں ہوتی ہے تو ہندہ قاضی شرع کی بارگاہ میں استغاثہ پیش کرے قاضی صاحب کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ ایسی سخت مجبوری کی حالات میں حکم مذہب شافعی پر جاری کر کے نکاح فسخ کر دے جہاں قاضی شرعی نہیں ہے وہاں ضلع کے سب سے بڑے مفتی کے پاس اپیل دائر کر سکتے مفتی صاحب ضروری کارروائی کے بعد نکاح فسخ کر دیں گے واللہ اعلم و رسولہ فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

نسبندی کا شرعی حکم

نسبندی کا شرعی حکم روشن تحقیق السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ نس بندی کرانا کیسا ہے جبکہ ڈاکٹر یہ کہے کہ اب یہ عورت مزید بچے پیدا کرے گی، جس سے اسے سخت بیماری پیدا ہونے یا جان کا خطرہ ہے، اور باقی ضبط تولید کے ذرائع سے بھی کبھی خطرہ رہتا ہے، وہ ذرائع فیل ہو جاتے ہیں، اور عورت حاملہ ہو جاتی ہے، اس صورت میں عورت کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔  *سائل: محمد علی باڑمیر*  . وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ  الجواب وباللہ توفیق  نسبندی کی جائز اور ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدی، شرح مسلم جلد سوم میں فرماتے ہیں  1۔ کوئی شخص تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی (نسبندی کرواتا ہے) اصلًا جائز نہیں ہے، یہ اس لیے کہ حرمت کی علت تنگی رزق کا ہونا قرآن مجید میں مذموم ہے: "لا تقتلوا اولادکم من املاق   (سورہ نمبر 6آیت 151" 2۔ اور کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے، کیونکہ ان کی پرورش میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین ...

حربی سے سود لینے کا حکم روشن تحقیق

حربی سے سود لینے کا حکم ؟ دارالافتاء گلزارِ طیبہ کی یہ علمی تحقیق نہایت دقیق، جامع اور بصیرت افروز ہے۔ اس میں جہاں امام ابو حنیفہؒ کے قول کا صحیح مفہوم واضح کیا گیا ہے، وہیں اس کے غلط استعمالات اور اس کے دینی، سماجی و بین الاقوامی مضمرات پر بھی مدلل کلام کیا گیا ہے۔ علمی و ادبی تاثرات: 1. محققانہ اسلوب: تحقیق کی بنیاد قرآنی آیات، صحیح احادیث اور فقہاء کی معتبر تشریحات پر رکھی گئی ہے۔ علامہ ابن قدامہ، علامہ سعیدی، امام ابن ہمام، امام شافعی، سرخسی وغیرہ جیسے جلیل القدر علماء کے اقوال سے مزین یہ رسالہ اسلوبِ تحقیق کا عمدہ نمونہ ہے۔ 2. فقہی توازن و اعتدال: تحقیق میں نہ صرف مختلف اقوال کا ذکر کیا گیا بلکہ ان کا تجزیہ بھی علمی انداز میں کیا گیا ہے، جو قاری کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا اصل مدعا کیا تھا، اور بعد کے علماء نے ان کے قول کو کس حد تک محدود کیا ہے۔ 3. دورِ حاضر کے تقاضے: یہ تحقیق صرف نصوص کی بحث نہیں، بلکہ موجودہ حالات کے تناظر میں ایک عملی رہنمائی بھی ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا کے دور میں فتاویٰ کے غلط استعمال، اسلام کے بارے میں پھیلنے والی بدگمانیوں اور ہندوست...

کیا حضور پر جادو کا اثر ہوا تھا

کیا حضور پر جادو کا اثر ہوا تھا حنفی دارالافتا۶ - 01/03/2025  کیا فرماتے ہے مفیان کرام کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کا اثر ہوا تھا اور ہوا تھا تو اس پر صحیح حدیث موجود ہے اور دوسرا سوال یہ ہے کہ صحیح بخاری کی اس حدیث کا کیا جواب ہے جس میں ہے کہ وحی رک گئی تو آپ نے اپنے آپ کو پہاڈ سے گرانا چاہا جواب عنائت فرمائے سائل محمد علی کچھ گجرات  الجواب و باللہ توفیق کسی بھی مسئلے میں قائدہ یہ ہے کہ اس کو قرآن کے سامنے پیش کریں گے اگر قرآن کے خلاف ہے تو اگرچہ حدیث صحیح ہو اس کو قبول نہیں کیا جائے گا آپ پر جادو کا اثر ہوا تھا اس پر جمہور مفسرین نے یہ ہی لکھا ہے تبیان القرآن جلد۔ اول صفہ ۱۰۴۸میں ہے  امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی 606  ھ لکھتے ہیں :- جمہور مفسرین نے یہ کہا ہے کہ لبیدبن اعصم یہودی نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر گایرہ گرہوں میں جادو کیا تھا اور اس دھاگے کو ذروان نامی کنوئیں کی تہہ میں ایک پتھر کے نیچے دبا دیا تھا، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیمار ہوگئے اور تین دن آپ پر سخت گزرے، پھر اس وجہ سے معوذتین نازل ہوئیں اور حضرت جبریل نے آ کر آپ کو ...