۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مطلقہ ثلاثہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زید نے اپنی بیوی کو تین طلاق دینے کے بعد بغیر حلالہ کے پھر اسی عورت کو اپنے گھر میں بیوی بنا کر رکھا ہے اور اس طرح کی اصلاح کروانے والوں پر اور زید پر اور اہل علم کے لیے کیا حکم شرع ہے
سائل حاجی خان و آرائی گجرات
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق صورت مسئولہ میں تین طلاق دینے کے بعد عورت زید پر حرام ہو گئی اللہ تَعَالٰی فرماتا ہے! فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَیْرَهٗؕ-فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَاۤ اَنْ یَّتَرَاجَعَاۤ اِنْ ظَنَّاۤ اَنْ یُّقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِؕ-وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ یُبَیِّنُهَا لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ(۲۳۰)
ترجمۂ کنز العرفان
پھر اگر شوہر بیوی کو (تیسری) طلاق دیدے تو اب وہ عورت اس کیلئے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرے، پھر وہ دوسرا شوہراگر اسے طلاق دیدے تو ان دونوں پر ایک دوسرے کی طرف لوٹ آنے میں کچھ گناہ نہیں اگر وہ یہ سمجھیں کہ (اب) اللہ کی حدوں کو قائم رکھ لیں گے اور یہ اللہ کی حدیں ہیں جنہیں وہ دانش مندوں کے لئے بیان کرتا ہے۔
تفسیر صراط الجنان میں ہے
{فَاِنْ طَلَّقَهَا: پھر اگر شوہر بیوی کو (تیسری) طلاق دیدے۔ }تین طلاقوں کے بعد عورت شوہر پر حرمت ِ غلیظہ کے ساتھ حرام ہوجاتی ہے، اب نہ اس سے رجوع ہوسکتا ہے اورنہ دوبارہ نکاح جب تک یہ نہ ہو کہ عورت عدت گزار کر کسی دوسرے مرد سے نکاح کرے اور وہ دوسرا شوہر صحبت کے بعد طلاق دے یا وہ فوت ہوجائے اورعورت پھر اس دوسرے شوہر کی عدت گزارے۔ مسلمانوں پر لازم ہے کہ زید کو اس عورت سے جدا کرے اگر نہ مانے تو اس کا بائیکاٹ کرے اس طرح کی صلح کرانے والے سخت گنہگار مستحق نار ہے یہ لوگ اور زید علانیہ توبہ کرے اور زید اس عورت سے فوراً الگ ہو جائے کہ تین طلاق بعد عورت حرام ہو جاتی ہے جب تک دوسرے سے نکاح نہ کرے پھر وہ بعد ہمبستری کے طلاق دے یا فوت ہو جائے تو بعد عدت وہ عورت نئے مہر کے ساتھ زید سے نکاح کرے واللہ اعلم و رسولہ فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com