نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

میت ‏کے ‏گھر ‏دعوت ‏کھانا ‏؟


السلام وعلیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ علماء کرام کی بارگاہ میں سوال عرض ہے کہ کیا میت کا کھانا تیجہ پانچواں داسواں بیسواں چالیسواں وغیرہ کا کھانا جو ملک نساب ہے اس کے لیے جائز ہے یا نہیں قرآن وحدیث کی روشنی میں تفصیل سے جواب عنایت فرمائیں شکریہ جزاک اللہ خیرا کثیرا۔۔ 

نوید احمد رضا حیدر آباد پاکستان سندھ

وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ 

الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق 

میت کے گھر دعوت ممنوع ہے بلکہ میت کے گھر والوں کو محلہ والے کھانے بھیجیں یہ سنت ہے حدیث میں ہے سیدنا جعفر طیار ؓ شہید ہوئے اور رسول اللہ ﷺ کو ان کی شہادت کی خبر ملی تو آپ ﷺ نے سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے گھر والوں کے بارے میں نبیﷺ نے فرمایا :

جعفر کے گھر والوں کے لیے کھانا تیار کرو، کیونکہ ان پر (غم وحزن کی ایسی ) حالت آپڑی ہے جس نے انہیں مشغول کردیا ہے ( یعنی غم میں ہونے کے سبب یہ اپنے کھانا نہیں بنا سکتے )"

( سنن ابی داود: 3132، وسندہ حسن )“۔

سنن ابی داود 3132، سنن الترمذی/الجنائز ۲۱ (۹۹۸)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ۵۹ (۱۶۱۰)، مسند احمد (۱/۲۰۵)


اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ میت کے گھر والے دوسرے لوگوں کے لیے کھانا تیار نہیں کریں گے بلکہ لوگ ان کے لیے کھانا پکا کر بھیجیں گے تاکہ وہ ان ایام غم میں کھانا پکانے کی طرف سے بے فکر رہیں ۔

اس حدیث کی شرح میں عون المعبود شرح سنن ابوداود میں لکھا ہے :

قال بن الهمام في فتح القدير شرح الهداية يستحب لجيران أهل الميت والأقرباء الأباعد تهيئة طعام لهم يشبعهم ليلتهم ويومهم ويكره اتخاذ الضيافة من أهل الميت لأنه شرع في السرور لا في الشرور وهي بدعة مستقبحة انتهى

یعنی مشہور حنفی فقیہ علامہ ابن الہمام (كمال الدين محمد بن عبد الواحد (المتوفى: 861هـ)ھدایہ کی شرح فتح القدیر میں فرماتے ہیں کہ : اہل میت کے ہمسایوں اور دور کے رشتہ داروں کیلئے شرعاً مستحب یہ ہے کہ وہ اہل میت کو کم از کم ایک دن رات کا کھانا بناکر کھلائیں ،

اور شریعت میں اہل میت کے ہاں دوسرے لوگوں کا کھانے کی دعوت کھانا مکروہ ہے ،کیونکہ ضیافت (یعنی کھانے کی دعوت ) خوشی کے مواقع پر ہوتی ہے نہ کہ دکھ کے موقع پر ،یہ (اہل میت کے ہاں کھانا ) بہت بری بدعت ہے ۔ (دیکھئے فتح القدیر باب الجنائز )

اس کے بعد علامہ سندھی حنفی (نور الدين السندي (المتوفى: 1138هـ) کا تشریحی نوٹ نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے اس حدیث کی تعلیق میں لکھا ہے کہ :

وبالجملة فهذا عكس الوارد إذ الوارد أن يصنع الناس الطعام لأهل الميت فاجتماع الناس في بيتهم حتى يتكلفوا لأجلهم الطعام قلب لذلك "

یعنی معاملہ الٹ ہورہا ہے ،کیونکہ حدیث رسول ﷺ میں حکم وارد یہ تھا کہ دوسرے لوگ اہل میت کو کھانا کھلائیں ،لیکن اب لوگ اہل میت کے ہاں کھانے کیلئے جمع ہوتے ہیں ،اور اہل میت بے چارےبڑے اہتمام اور تکلف سے ان ندیدوں کیلئے کھانے کا انتظام کرتے ہیں ،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اہل میت کو کھانے کا انتظام کرنے کی تکلیف دے کر مقروض اور زیرِ بار کرنا ویسے بھی نامناسب اور اخلاقی جرم ہے۔ کیونکہ وہ تو پہلے ہی غمزدہ اور مصیبت زدہ ہوتے ہیں، انہیں اتنی فرصت اور ہوش کہاں کہ اتنی بڑی بڑی جماعتوں کے لیے کھانوں کا انتظام کر سکیں، اسی لیے اصل شرعی صورت یہ ہے کہ متعلقین، دوست احباب وغیرہ انہیں کھانا بہم پہنچائیں؛

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​

ایک مخصوص صورت :

جو لوگ دور دراز سے جنازہ میں شرکت کے لیے آتے ہیں اورکسی وجہ سے وہ واپس نہیں ہوسکتے ، یا کہیں اور سے کھانے کا انتظام نہیں کرسکتے ، اور اہل میت کےمتعلقین یا ہمسائے وغیرہ بھی اہل میت اور ان کے مہمانوں کیلئے کھانے کا انتظام نہ کریں تو ان کے لیے کھانے کا انتظام کرنا اضطراری صورت ہے ،یعنی اہل میت کیلئے ایسے مہمانوں کیلئے کھانا بنانا مجبوری ہے ،اور ایسے مہمانوں کا میت کے گھر کھانے میں حرج نہیں، جو بات مکروہ اور بدعت ہے وہ یہ کہ غم کے اس موقع پر خوشی و مسرت کی طرح باضابطہ کھانے کا دستر خوان سجانا منع ہے اسی طرح تیجہ، دسواں، چالیسواں وغیرہ کرنا یہ سب درست نہیں،

نیز اگر جنازہ اٹھنے کے بعد آنے والے سبھی مہمانوں کو جو کھانا کھلایا جاتا ہے اگر اس میں قریب و بعید ہر طرح کے لوگ شریک ہوتے ہیں اور اس کا رواج بنا ہوا ہے تو اس کو ترک کرنا واجب ہے ۔

واللہ تعالیٰ اعلم​ فتاوی رضویہ جلد 9 صفحہ 536 میں میت کا کھانا صرف فقراء کے لیے ہے مالک نصاب کے لیے منع ہے اور فرماتے ہیں کہ میت کی دعوت برادری کے منع ہے 

خلاصہ یہ ہے کہ اس دور میں جو میت کے گھر والے دعوت کرتے ہیں یہ جائز نہیں کہ دعوت خوشی میں ہوتی ہے نہ کہ غمی میں یہ صرف ایک رسم ہے جس کو مسلمان کرتے ہیں جس کی وجہ سے کھی گھر برباد ہو گئے کہ قرض لے کر یہ کھانا کھلایا جاتا ہے صرف شرم کی وجہ سے اور قوم کے تانے کی وجہ سے لہٰذا ایسی دعوت ہرگز قبول نہیں کرنی چاہیے مسلمانوں واقع تم ایصال ثواب کی نیت سے کرتے ہو تو یہ کھانا برادری کے بجائے مسکین فقیر لوگوں کو کھلائے اور سب سے افضل یہ ہے یہ کھانا مدرسہ کے بچوں کو کھلائے جو کھانا کھا کر میت کے لیے دعا کرتے ہیں اور برادری کا تو تجربہ ہے کہ یہ لوگ قرآن پڑھتے  تو نظر نہیں آتے ہیں اور کھانے وقت حاضر ہوتے ہیں اس لیے ان کے بجائے مدرسہ کے بچوں کو کھلایا جائے واللہ اعلم و رسولہ 

فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

نسبندی کا شرعی حکم

نسبندی کا شرعی حکم روشن تحقیق السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ نس بندی کرانا کیسا ہے جبکہ ڈاکٹر یہ کہے کہ اب یہ عورت مزید بچے پیدا کرے گی، جس سے اسے سخت بیماری پیدا ہونے یا جان کا خطرہ ہے، اور باقی ضبط تولید کے ذرائع سے بھی کبھی خطرہ رہتا ہے، وہ ذرائع فیل ہو جاتے ہیں، اور عورت حاملہ ہو جاتی ہے، اس صورت میں عورت کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔  *سائل: محمد علی باڑمیر*  . وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ  الجواب وباللہ توفیق  نسبندی کی جائز اور ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدی، شرح مسلم جلد سوم میں فرماتے ہیں  1۔ کوئی شخص تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی (نسبندی کرواتا ہے) اصلًا جائز نہیں ہے، یہ اس لیے کہ حرمت کی علت تنگی رزق کا ہونا قرآن مجید میں مذموم ہے: "لا تقتلوا اولادکم من املاق   (سورہ نمبر 6آیت 151" 2۔ اور کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے، کیونکہ ان کی پرورش میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین ...

کمیشن لینا कमिशन लेना हिंदी अनुवाद आखिर में

हिंदी अनुवाद आखिर में है  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع کے ایک عالم صاحب جو کہ امامت کرتے ہیں ساتھ میں ان کا کاروبار گاڑیوں کے لین دین کا جس میں دو پارٹیوں سے سودا کرواتے ہیں جس میں ان کی ذمہ داری رہتی ہے گاڑیوں کے کاغذ وغیرہ کسی میں فولڈ ہوگا تو گارنٹی ان کی رہتی ہے جس کی وجہ سے کبھی نقصان بھی ہوتا ہے کبھی فائدہ مہینہ دو مہینہ کے بعد جب کاغذ وغیرہ نام پر ہو جاتے ہیں تب 5000/10000 جو کمیشن طے ہوتا ہے وہ ملتا ہے ابھی کوئی شخص بولتا ہے کے کمیشن کا دھندا کرنے والے کے پیچھے نماز نہیں ہوتی قرآن و حدیث کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں سائل قاری غلام رسول ضیائی   کوشل کوٹ ضلع بانسواڑہ راجستھان ُ الجواب و بللہ توفیق    شرعی ضابطے پورے کرتے ہوئے کمیشن کے  ذریعے روزی کمانے میں شرعاً کوئی ممانعت نہیں  ہے، کہ کمیشن یا بروکری وہ ذریعۂ آمدنی ہے جس میں اپنی محنت کے ذریعے ایک سروس دی جاتی ہے اور یہ طریقۂ آمدنی آج کا نہیں بلکہ  صدیوں سے رائج ہے جس کو ہر دور کے علماء نے جائز ہی کہا ۔  بروکر کی اجرت (کمیشن): بروکر کو "اجیر خاص" یا "وکیل" سمجھا جات...

حربی سے سود لینے کا حکم روشن تحقیق

حربی سے سود لینے کا حکم ؟ دارالافتاء گلزارِ طیبہ کی یہ علمی تحقیق نہایت دقیق، جامع اور بصیرت افروز ہے۔ اس میں جہاں امام ابو حنیفہؒ کے قول کا صحیح مفہوم واضح کیا گیا ہے، وہیں اس کے غلط استعمالات اور اس کے دینی، سماجی و بین الاقوامی مضمرات پر بھی مدلل کلام کیا گیا ہے۔ علمی و ادبی تاثرات: 1. محققانہ اسلوب: تحقیق کی بنیاد قرآنی آیات، صحیح احادیث اور فقہاء کی معتبر تشریحات پر رکھی گئی ہے۔ علامہ ابن قدامہ، علامہ سعیدی، امام ابن ہمام، امام شافعی، سرخسی وغیرہ جیسے جلیل القدر علماء کے اقوال سے مزین یہ رسالہ اسلوبِ تحقیق کا عمدہ نمونہ ہے۔ 2. فقہی توازن و اعتدال: تحقیق میں نہ صرف مختلف اقوال کا ذکر کیا گیا بلکہ ان کا تجزیہ بھی علمی انداز میں کیا گیا ہے، جو قاری کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا اصل مدعا کیا تھا، اور بعد کے علماء نے ان کے قول کو کس حد تک محدود کیا ہے۔ 3. دورِ حاضر کے تقاضے: یہ تحقیق صرف نصوص کی بحث نہیں، بلکہ موجودہ حالات کے تناظر میں ایک عملی رہنمائی بھی ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا کے دور میں فتاویٰ کے غلط استعمال، اسلام کے بارے میں پھیلنے والی بدگمانیوں اور ہندوست...