السلام عليكم و رحمتہ اللہ برکاتہ مفتی صاحب میرا یہ سوال ہے کہ عورت کے خلع لینے سے کتنی طلاق واقع ہوگی اور یہ رجوع کرنا چاہیے تو اس کی صورت کیاہے جواب عنایت فرمائیں، ¿¿¿ *وعلیکم السلام و رحمۃاللہ و برکاتہ* اس سوال کے جواب میں دارالافتاء فیضان مدینہ کے ناظم حضرت مولانا ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری صاحب فرماتے ہیں 👇🏻
*الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق*
خلع سے طلاق بائن واقع ہو جاتی ہے *بہار شریعت حصہ ہشتم صفحہ 196* 📙اور حدیث پاک میں ہے
حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ آلہ وسلم سے بیان کیا ہے کہ خلع سے طلاق بائن ہو جاتی ہے۔
*دار قطني، السنن، 4: 45، رقم: 134*، 📗
بائن وہ طلاق ہے جس میں شوہر بغیر نکاح کے عورت سے ازداجی تعلقات قائم نہیں کرسکتا۔ طلاق بائن کے ہوتے ہی عورت فوراً اس کے نکاح سے نکل جاتی ہے۔ خلع کی صورت میں چونکہ طلاق بائن ہوتی ہے، لہذا رجوع نہیں، بلکہ تجدید نکاح ہو سکتا۔ اگر فریقین باہمی رضامندی سے از سر نو دوبارہ نکاح کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں۔ تجدید نکاح کی صورت میں عدت گزرنے کی قید نہیں۔ اگر عورت کسی اور شخص سے نکاح کرنا چاہے تو عدت گزرنے کے بعد ہی کر سکتی ہے۔
خلع کے بعد عورت کی عدت تین حیض تک ہے۔ تین حیض گزرنے کے بعد وہ آزاد ہے، جس کے ساتھ بھی شادی کرنا چاہے، کر سکتی ہے۔
*واللہ عالم رسولہ*
*دارالافتاء فیضان مدینہ*
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com