السلامُ علیکم ورحمۃ اللّه وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ انڈیا کے گورنمنٹ سے لون بیاض لینا کیا جائز ھے یا نہیں ؟؟
جیسے LIC میں 15 سال میں 270000 زما کرو تو وہ ہمیں جادا پیسے دیتی ھے تو کیا وہ جائز ھے لینا پیسے؟؟
عبد المصطفیٰ پنجاب پاکستان
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق سود کسی سے بھی نہیں لے سکتے مسلمان ہو یا کافر یا حکومت کفار سود حرام ہے البتہ ہندوستان کے کفار حربی ہے اور حربی اور مسلمان کے درمیان سود نہیں لہٰذا ہندوستان کی بینکوں سے جو زیادتی ملتی ہے وہ سود نہیں ہے اس لیے جائز ہے (فتاوی دارالافتاء فیضان مدینہ صفحہ 63 ) واللہ اعلم و رسولہ! فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری
واضح دارالافتاء فیضان مدینہ دعوت اسلامی کے ماتحت نہیں ہے
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com