نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

سیرت ‏حضرت ‏صدیق ‏اکبر ‏

الحمدللہ رب العالمین والصلوتہ والسلام علی سید المرسلین اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم 

سیرت حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ 


عنوان: حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ


رسول اللہ ﷺ کے اولین جانشین اورخلیفۂ اول کو تاریخ میں ’’ابوبکرصدیق‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، ابوبکر ان کی کنیت تھی، جبکہ ’’صدیق‘‘ لقب تھا، اصل نام ’’عبداللہ‘‘ تھا، اسلام سے قبل ان کا نام ’’عبدالکعبہ‘‘ تھا، قبولِ اسلام کے بعدخود رسول اللہ ﷺ نے ان کا نام عبدالکعبہ سے تبدیل کر کے ’’عبداللہ‘‘ رکھ دیا تھا۔

بچپن سے ہی ’’عتیق‘‘ کے لقب سے بھی مشہور تھے، جبکہ قبولِ اسلام کے بعد مزید یہ کہ ایک موقع پر رسول اللہ ﷺ نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے یہ خوشخبری سنائی تھی : أنتَ عَتِیْقُ اللّہِ مِنَ النَّارِ (۱) یعنی ’’آپ اللہ کی طرف سے جہنم کی آگ سے آزادکردہ ہیں ‘‘۔

البتہ بعد میں ’’عتیق‘‘ کی بجائے ہمیشہ کیلئے ’’صدیق‘‘ کے لقب سے مشہور ہو گئے۔

حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ مکی تھے، قُرَشی تھے، مہاجر تھے، قبیلۂ قریش کے معزز خاندان ’’بنو تَیم‘‘ سے ان کا تعلق تھا، جو کہ مکہ کے مشہور محلہ ’’مسفلہ‘‘ میں آباد تھا۔

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ’’عشرہ مبشرہ‘‘ یعنی ان دس خوش نصیب ترین افرادمیں سے تھے جنہیں رسول اللہ ﷺ نے جنت کی خوشخبری سے شادکام فرمایا تھا۔

حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے والد کا نام ’’ابوقحافہ‘‘ جبکہ والدہ کا نام ’’سلمیٰ‘‘ تھا، یہ دونوں باہم چچازاد تھے، لہٰذا والد اور والدہ دونوں ہی کی طرف سے آپؓ  کا سلسلۂ نسب ساتویں پشت (مُرّہ بن کعب) پر رسول اللہ ﷺ کے سلسلۂ نسب سے جا ملتا ہے۔

حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ ﷺ کے انتہائی مقرب اورخاص ترین ساتھی ہونے کے علاوہ مزید یہ شرف بھی حاصل تھا کہ آپؓ رسول اللہ ﷺ کے سسربھی تھے، اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا آپؓ ہی کی صاحبزادی تھیں۔

حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کو یہ خاص شرف اور اعزاز بھی حاصل تھا کہ ان کے خاندان میں مسلسل چار نسلوں کورسول اللہ ﷺ کی صحبت و معیت کا شرف نصیب ہوا، چنانچہ ان کے والدین بھی صحابی تھے، یہ خودبھی صحابی تھے، ان کے صاحبزادے عبداللہ اور عبدالرحمن ٗ نیز صاحبزادیاں عائشہ اوراسماء … اور پھر نواسے عبداللہ بن زبیر (رضی اللہ عنہم اجمعین) سبھی رسول اللہ ﷺ کے صحابی تھے۔

حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی ولادت مکہ میں رسول اللہ ﷺ کی ولادت باسعادت کے تقریباً ڈھائی سال بعد ٗاور پھر وفات مدینہ میں آپ ﷺ کی وفات کے تقریباً ڈھائی سال بعد ہوئی۔

حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ جاہلیت اور پھر اسلام دونوں ہی زمانوں میں نہایت باوقار اوروضع دار رہے، تمدنی ومعاشرتی زندگی میں انہیں ہمیشہ ممتاز مقام حاصل رہا، ظہورِ اسلام سے قبل بھی اُس معاشرے میں انہیں ہمیشہ انتہائی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا، سب اہلِ مکہ اپنے اختلافات اورخاندانی جھگڑوں میں انہیں اپنا ’’ثالث‘‘ مقرر کرتے ، اورپھر ان کے ہرفیصلے کو بلا چون وچرا تسلیم کیا کرتے تھے۔

رسول اللہ ﷺ کو جب اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف سے نبوت عطاء کی گئی اورآپؐ نے اعلانِ نبوت فرمایا…تب آپؐ کی اہلیہ محترمہ ام المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہاٗ و دیگر افرادِ خانہ کے بعد سب سے پہلے حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے دینِ اسلام قبول کیا، آپ ؐ کی مکمل تصدیق کی، اوراس موقع پر کوئی دلیل یامعجزہ نہیں مانگا۔

حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کا ظہورِ اسلام سے قبل ہی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بہت گہرا تعلق تھا، دونوں میں بہت قربتیں تھیں ، اور ایک دوسرے کے گھر آمدورفت کا سلسلہ رہتا تھا۔

حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی ذاتی ملکیت میں قبولِ اسلام کے وقت نقد چالیس ہزار درہم تھے ،قبولِ اسلام کے بعد انہوں نے اپنی یہ کل پونجی رسول اللہ ﷺ کی خدمت  اوردینِ اسلام کی نشرواشاعت میں صرف کر دی۔

دینِ اسلام کے ابتدائی دور میں متعدد ایسے افراد جو کہ غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے ،اور دینِ اسلام قبول کر لینے کی وجہ سے اپنے مشرک آقاؤں کے ہاتھوں بدترین عذاب اور سختیاں جھیلنے پرمجبور تھے ،انہیں حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے اپنی جیبِ خاص سے نقد رقم ادا کر کے ان کے مشرک آقاؤں سے خرید لیا،اورپھر اللہ کی خوشنودی کی خاطر انہیں آزاد کر دیا…قرآن کریم کی درجِ ذیل آیت میں اسی بات کی طرف اشارہ کیا گیاہے:

{وَسَیُجَنَّبُھَا الأَتْقَیٰ الَّذِي یُؤتِي مَالَہٗ یَتَزَکَّیٰ وَمَا لِأَحَدٍ عِندَہٗ مِنْ نِعمَۃٍ تُجْزَیٰ اِلَّاابْتِغٓائَ وَجْہِ رَبِّہٖ الأَعلَیٰ وَلَسَوفَ یَرْضَیٰ}

(۱) ترجمہ:(اور ایساشخص اُس [جہنم] سے دور رکھا جائے گا  جوبڑا پرہیزگار ہو گا، جو پاکی حاصل کرنے کیلئے اپنا مال دیتا ہے،کسی کا اُس پر کوئی احسان نہیں کہ جس کا بدلہ دیا جا رہا ہو، بلکہ صرف اپنے پروردگار بزرگ وبلند کی رضا چاہنے کیلئے، یقینا وہ [اللہ] عنقریب راضی ہوجائے گا) ۔

مفسرین کے بقول اس آیت کامفہوم اگرچہ عام ہے ،یعنی جوکوئی بھی محض اللہ کی رضامندی وخوشنودی کی خاطر اپنا مال خرچ کرے گا وہ جہنم کی آگ سے محفوظ رہے گا…البتہ بطور خاص اس سے حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ بھی مقصود ہے۔(۱)

حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کا اُس معاشرے میں کافی اثرورسوخ تھا اورحلقۂ احباب بھی کافی وسیع تھا، لہٰذا انہیں اللہ کی طرف سے ’’ہدایت ‘ ‘کی شکل میں جو خیر نصیب ہوئی تھی اسے انہوں نے خود اپنی ذات تک محدود رکھنے کی بجائے اس اثرورسوخ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دوسروں تک پہنچانے کی کوشش بھی نہایت سرگرمی اور جذبے کے ساتھ شروع کر دی ، چنانچہ ان کی ان دعوتی وتبلیغی کوششوں کے نتیجے میں اُس معاشرے کے متعدد ایسے بڑے بڑے اوربااثر افرادمشرف باسلام ہو گئے جو آگے چل کردینِ اسلام کے بڑے علمبردار اور اس قافلۂ توحیدکے سپہ سالار ثابت ہوئے… دینِ اسلام کی نشرواشاعت اورسربلندی کی خاطر جنہوں نے تاریخی خدمات اورناقابلِ فراموش کارنامے انجام دئیے ، ’’عشرہ مبشرہ ‘‘ یعنی وہ دس خوش نصیب ترین حضرات جنہیں اس دنیا کی زندگی میں ہی رسول اللہ ﷺ نے جنت کی خوشخبری سے شادکام فرمایا تھا ان میں سے پانچ حضرات نے آپؓ  کی دعوت اور تبلیغی کوششوں کے نتیجے میں ہی دینِ برحق قبول کیا تھا (۲) آپ کا مکی دور 

حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ


عنوان: ’’صدیق‘‘


مکی دورمیں جب نبوت کا بارہواں سال چل رہاتھا،تب ماہِ رجب میں وہ انتہائی عجیب و غریب واقعہ پیش آیاجوکہ’’ اسراء ومعراج‘ ‘ کے نام سے معروف ہے۔یہ واقعہ اپنی ابتداء سے انتہاء تک عجیب وغریب اورانتہائی محیرالعقول قسم کے امورپرمشتمل تھا…اس موقع پر رسول اللہ ﷺ کواللہ کے حکم سے بیت المقدس اورپھرملأاعلیٰ یعنی آسمانوں کی سیرکرائی گئی، جہاں آپؐ نے بہت کچھ دیکھا،جنت اوروہاں کی نعمتوں کا ٗنیز جہنم اوروہاں کے عذاب کا مشاہدہ کیا۔مختلف آسمانوں پرمتعدد انبیائے کرام علیہم السلام سے ملاقات بھی ہوئی۔ یہ تمامتر مسافت رات کے ایک مختصرسے حصے میں طے کرلی گئی اورآپؐ راتوں رات واپس مکہ مکرمہ بھی پہنچ گئے… بیشک اللہ ہرچیزپرقادرہے…!!

رسول اللہ ﷺ راتوں رات جب اللہ کی قدرت سے بیت المقدس اورپھرآسمانوں کے اس سفرکے بعدواپس مکہ مکرمہ پہنچے اورمکہ والوں کواس عجیب وغریب سفرکے بارے میں مطلع فرمایاتو مشرکینِ مکہ نے آپؐ کی زبانی اس سفرکی رودادسننے کے بعدآپؐ کاخوب مذاق اڑایا، تماشابنایا، اورتمسخرواستہزاء کابازارگرم کردیا۔

جبکہ اہلِ ایمان نے اس واقعہ کی ’’تصدیق‘‘ کی،بالخصوص اس موقع پرحضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کاموقف بہت زیادہ نمایاں اورجرأت مندانہ تھا…لہٰذااسی نسبت کی وجہ سے آپؓ ہمیشہ کیلئے تاریخ میں ’’صدیق‘‘کے لقب سے معروف ہوگئے۔(۱)ہجرت مدینہ 

حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ


عنوان: ہجرتِ مدینہ


نبوت کے تیرہویں سال کے آخری ایام میں جب ہجرت کاحکم نازل ہواتومسلمان بڑی تعدادمیں مکہ سے مدینہ کی جانب ہجرت کرگئے،مختلف گروہوں اورٹولیوں کی شکل میں بھی …نیزاِکادُکا بھی …جس کانتیجہ یہ ہواکہ رفتہ رفتہ مکہ مسلمانوں سے خالی ہوگیا،اب محض مجبوراورمحبوس قسم کے لوگ ہی مکہ میں رہ گئے تھے ، یعنی وہ لوگ جوکسی کی قیدمیں تھے ، یاجوغلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے ۔ البتہ تین افرادایسے تھے کہ جونہ تومحبوس تھے اورنہ ہی مجبور…لیکن اس کے باوجودوہ تاہنوزمکہ میں ہی مقیم تھے،یعنی خودرسول اللہ ﷺ ، حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ ،نیزحضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ، اوراس کی وجہ یہ تھی کہ رسول اللہ ﷺ تواب تک اپنے اللہ کی طرف سے ’’اجازت‘‘کے منتظرتھے،جبکہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کواب تک آپ ﷺ نے خودروک رکھا تھا۔ 

البتہ حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ اس دوران متعددبارآپؐ سے ’’ہجرت‘‘کی اجازت طلب کرچکے تھے، لیکن ہربارآپؐ انہیں یہی جواب دیتے کہ : لَا تَعْجَل یَا أبَا بَکر! لَعَلَّ اللّہَ یَجْعَلُ لَکَ صَاحِباً یعنی ’’اے ابوبکر! جلدی نہ کرو، شایداللہ تمہارے لئے کسی ہمسفرکاانتظام فرمادے…‘‘ اورتب حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے دل میں یہ حسرت پیدا ہوتی کہ شایدوہ ’’ہمسفر‘‘خودرسول اللہ ﷺ ہی ہوں …

اورپھرایک روزجب آپؐ اچانک اور خلافِ معمول تپتی ہوئی دوپہرمیں حضرت ابوبکر صدیقؓ کے گھرتشریف لائے اورانہیں مطلع فرمایا کہ آج سفرِہجرت پرروانگی ہوگی… تب حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا: الصُحْبَۃ یا رسُولَ اللّہ؟ یعنی ’’اے اللہ کے رسول! اس سفرمیں کیامیں آپ کے ہمراہ چلوں ؟‘‘ آپ ﷺ نے جواب میں ارشادفرمایا: نَعَم ، الصُحْبَۃ یا أبَا بَکر۔ یعنی ؛’’ہاں اے ابوبکر!اس سفرمیں تم میرے ’’ہمسفر‘‘ ہوگے‘‘۔ اورتب فرطِ مسرت کی وجہ سے ابوبکرؓ اپنے جذبات پرقابونہ رکھ سکے… ضبط کے تمام بندھن ٹوٹ گئے ،اورابوبکرؓکی آنکھوں سے آنسوبہنے لگے…!! 

حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہااُس وقت یہ تمام منظردیکھ رہی تھیں … وہ فرماتی ہیں کہ اُس روزجب میں نے اپنے والد (ابوبکرؓ) کوفرطِ مسرت سے روتے ہوئے دیکھا… تواُس وقت زندگی میں پہلی بارمجھ پریہ حقیقت منکشف ہوئی کہ انسان جس طرح بہت زیادہ غم اورصدمے کے وقت روتاہے ، اسی طرح بہت زیادہ خوشی کے وقت بھی روتاہے… انسان کی آنکھوں سے بہنے والے یہ آنسوکبھی ’’غم کے آنسو‘‘ ہواکرتے ہیں ، اورکبھی ’’خوشی کے آنسو‘‘،اس سے قبل مجھے اس بات کاعلم نہیں تھا‘‘۔

اورپھرآپ ﷺ اپنے ’’رفیقِ سفر‘‘کوچندضروری ہدایات دینے کے بعد اپنے گھرواپس تشریف لے آئے۔

اورجب رات ہوئی ، ہرطرف اندھیراچھاگیا،تب رؤسائے قریش کی طرف سے مقررکردہ مسلح نوجوانوں کاایک چاق وچوبنددستہ وہاں آپہنچا،اورآتے ہی انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے گھرکامحاصرہ کرلیا،تاکہ آپؐ حسبِ معمول جب رات کے آخری پہرعبادت کی غرض سے بیت اللہ کی جانب روانگی کیلئے گھرسے نکلیں گے تب یہ سب یکبارگی آپؐ پرٹوٹ پڑیں گے…!

اُس رات رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کوحکم دیاکہ’’ اے علی! آج رات تم میرے بسترپرسوجاؤ اورمیری چادراوڑھ لو‘‘۔

اورپھررات کے آخری پہررسول اللہ ﷺ قرآن کریم کی آیت : {وَجَعَلْنَا مِن بَینِ أیْدِیْھِم سَدّاً وَّ مِن خَلْفِھِم سَدّاً فَأغشَینَاھُم فَھُم لَا یُبْصِرُونَ} (۱) پڑھتے ہوئے اپنے گھرسے باہرتشریف لائے ، اپنی مٹھی میں کچھ خاک لی ، اورپھونک مارکراسے ان مسلح نوجوانوں کی جانب اُڑادیا،اورنہایت اطمینان کے ساتھ ان کی نگاہوں کے سامنے سے گذرگئے… لیکن نہ توانہیں کچھ نظرآیا،اورنہ ہی انہیں کچھ علم ہوسکا، اوروہ رات بھراس اطمینان کے ساتھ وہاں پہرہ دیتے رہے کہ آپ ﷺ اندراپنے گھرمیں موجود ہیں ۔

رسول اللہ ﷺ اُس رات اپنے گھرسے روانگی کے بعدسیدھے اس شخص کے گھرپہنچے کہ جس پراُس وقت آپ ﷺ کوسب سے زیادہ بھروسہ تھا،یعنی حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ ، اورپھرفوراًہی وہ دونوں رات کی تاریکی میں گھرکے عقبی دروازے سے نکل کرایک نئی منزل کی جانب روانہ ہوگئے۔ 

مدینہ منورہ مکہ مکرمہ سے شمال کی جانب واقع ہے،لیکن یہ دونوں حضرات بالکل مخالف سمت میں یعنی جنوب(ملکِ یمن) کی طرف چل دئیے،رات کے اندھیرے میں دشوارگذار پہاڑی راستوں پرکہ جہاں ہرطرف نوکیلے سنگ ریزوں کی بھرمارتھی… دونوں مسلسل پاپیادہ چلتے رہے، حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کبھی رسول ﷺ کے آگے چلتے، کبھی پیچھے، کبھی دائیں ، اورکبھی بائیں ، یوں وہ بارباراپنی جگہ تبدیل کرتے، گویابڑی بے چینی میں مبتلاہوں … آپؐ نے ان کی یہ کیفیت دیکھی تودریافت فرمایاکہ اے ابوبکر!کیابات ہے؟ اس پرابوبکرؓنے جواب دیا: ’’اے اللہ کے رسول! مجھے کبھی یہ اندیشہ ہونے لگتاہے کہ ایسانہوکہ کوئی دشمن سامنے کہیں چھپا بیٹھا ہو اوروہ اچانک سامنے سے ظاہرہوکرآپ کوکوئی نقصان پہنچائے،اس لئے میں آپ کے آگے آگے چلنالگتاہوں ،اورپھریہ اندیشہ ہونے لگتاہے کہ ایسانہو کوئی تعاقب کرنے والا کہیں پیچھے سے اچانک آجائے ،یہ سوچ کرمیں آپ کے پیچھے آجاتاہوں ،پھریہ فکرستانے لگتی ہے کہ کہیں ایسا نہوکہ دائیں یابائیں کوئی دشمن گھات لگائے بیٹھاہو…اس لئے میں کبھی آپ کے دائیں چلنے لگتاہوں اورکبھی آپ کے بائیں …!!

اسی کیفیت میں یہ دونوں حضرات مسلسل چلتے رہے… یہاں تک کہ تقریباً پانچ میل(یعنی تقریباًآٹھ کلومیٹر) کی مسافت پیدل طے کرنے کے بعدایک انتہائی بلندوبالاپہاڑکے دامن میں پہنچے ،اورانتہائی کٹھن اورمشکل ترین راستہ طے کرتے ہوئے اس کی چوٹی پرواقع ایک غارکے سامنے جاپہنچے جوکہ ’’غارِثور‘‘کے نام سے معروف ہے۔

اس غارکے دہانے پرپہنچنے کے بعدحضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیاکہ یارسول اللہ ! آپ یہیں توقف فرمائیے، پہلے میں اکیلااندرجاکرغارکاجائزہ لے لوں … کہیں ایسانہوکہ پہلے سے ہی وہاں کوئی دشمن چھپابیٹھاہو…چنانچہ حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ تنہااندرگئے،اچھی طرح جائزہ لیا، اورکچھ صفائی وغیرہ بھی کی ، اِدھراُدھرچندچھوٹے بڑے سوراخ نظرآئے ، حضرت ابوبکرؓکویہ اندیشہ لاحق ہواکہ کہیں ان سوراخوں میں کوئی موذی جانورنہو،کہ جورسول اللہ ﷺ کیلئے تکلیف واذیت کاباعث بن جائے … یہ سوچ کر انہوں نے اپنے لباس سے کچھ کپڑاپھاڑکراس کے ذریعے ان سوراخوں کوبندکردیا، اور پھرباہرآکررسول اللہ ﷺ کی خدمت میں گذارش کی کہ’’ یارسول اللہ!اب آپ اندر تشریف لے آئیے‘‘۔ جس پرآپ ﷺ غارکے اندرتشریف لے آئے،اوراس کے بعدیہ دونوں حضرات اس غارمیں تین دن مقیم رہے۔

اُدھرمکہ شہرسے ان دونوں حضرات کی خفیہ روانگی کے بعداب نہایت زوروشورکے ساتھ تعاقب اورتلاش کاسلسلہ شروع ہوگیا …ہرکوئی نہایت سرگرمی کے ساتھ اسی کام میں سرگرداں ہوگیا۔آخرایک بارایساموقع بھی آیاکہ یہ لوگ تعاقب کرتے کرتے اُس غارکے دہانے پرجاپہنچے کہ جس میں وہ دونوں حضرات پناہ لئے ہوئے تھے، حتیٰ کہ ان کی آوازیں اوران کی باہمی گفتگوغارکے اندرسنائی دینے لگی۔اس قدرنازک ترین صورتِ حال کی وجہ سے حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ پریشان ہوگئے،اورعرض کیاکہ ’’اے اللہ کے رسول! مجھے اپنی کوئی فکرنہیں ہے، البتہ مجھے یہ غم کھائے جارہاہے کہ کہیں آپ کوکوئی تکلیف نہ پہنچے، کیونکہ اگرآپ کوکچھ ہوگیاتوپھرپوری امت کاکیا بنے گا…؟‘‘یعنی یہ توپوری امت کا خسارہ ہوگا، تب آپ ﷺ نے انہیں تسلی دیتے ہوئے ارشادفرمایا: مَا ظَنُّکَ یَا أبَا بَکْر بِاثْنَیْن ، اَللّہُ ثَالِثُھُمَا؟ یعنی’’اے ابوبکر!ایسے دوانسان کہ جن کے ساتھ تیسراخوداللہ ہو ٗ ان کے بارے میں تمہاراکیاگمان ہے؟‘‘ مقصدیہ کہ ہم محض دونہیں ہیں ، بلکہ ہمارے ساتھ اللہ کی معیت ونصرت بھی شاملِ حال ہے، لہٰذافکرکی کوئی بات نہیں ۔

اسی واقعے کی طرف قرآن کریم میں اس طرح اشارہ کیاگیاہے: {اِلّا تَنصُرُوہُ فَقَد نَصَرَہُ اللّہُ اِذ أخْرَجَہُ الَّذِینَ کَفَرُوا ثَانِيَ اثْنَینِ اِذ ھُمَا فِي الغَارِ اِذ یَقُولُ لِصَاحِبِہٖ لَا تَحْزَن اِنَّ اللّہَ مَعَنَا} (۱) ترجمہ:(اگرتم ان(نبی ﷺ ) کی مددنہیں کروگے ٗ تواللہ نے ہی ان کی مددکی اُس وقت جبکہ انہیں کافروں نے نکال دیاتھا ٗ دومیں سے دوسرا ٗ جبکہ وہ دونوں غارمیں تھے ، جب یہ اپنے ساتھی سے کہہ رہے تھے کہ غم نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے)

رسول اللہ ﷺ ٗ نیزآپؐ کے ہمسفریعنی حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ ٗ دونوں تین دن تین رات مسلسل اس غارمیں مقیم رہے، اس کے بعدوہاں سے آگے منزلِ مقصودیعنی مدینہ کی جانب روانگی ہوئی ،طویل سفر کے بعدآخریہ دونوں حضرات نبوت کے چودہویں سال، بتاریخ ۸/ربیع الاول ،بروزپیر،مدینہ کے مضافات میں پہنچ گئے۔

اس یادگاراوراہم ترین سفرکے موقع پرحضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے جس طرح رسول اللہ ﷺ کی خدمت وپاسبانی کافریضہ سرانجام دیا…یقیناوہ تاریخِ اسلام کا ناقابلِ فراموش باب ہے۔

غزوات 

حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ


عنوان: غزوات


ہجرت کاحکم نازل ہونے کے بعدرسول اللہ ﷺ ودیگرمسلمان رفتہ رفتہ مکہ سے مدینہ کی جانب ہجرت کرگئے، جہاں نئی اوربدلی ہوئی زندگی تھی ،جہاں مشرکینِ مکہ کی طرف سے ظلم وزیادتی کے وہ پرانے سلسلے نہیں تھے۔

لیکن مشرکینِ مکہ کویہ بات ہرگزگوارانہیں تھی کہ مسلمان ان کے شکنجے سے نکلنے کے بعداب مدینہ میں سکون واطمینان کی زندگی بسرکریں ، وہاں پھلتے پھولتے رہیں اوران کی قوت میں اضافہ ہوتاچلاجائے،بالخصوص انہیں اُس تجارتی شاہراہ کی وجہ سے بہت زیادہ پریشانی لاحق تھی کہ جس پرسفرکرتے ہوئے ان کے تجارتی قافلے مکہ سے ملکِ شام آتے جاتے تھے،اوروہ شاہراہ مدینہ کے قریب سے گذرتی تھی۔

چنانچہ ایسے ہی حالات میں ہجرت کے بعددوسرے ہی سال مشرکینِ مکہ کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف مسلح یلغارکے سلسلے شروع ہوگئے ،نیزمشرکینِ مکہ کے علاوہ دیگربہت سے مشرک قبائل ٗ اوراسی طرح یہودیوں کے ساتھ بھی وقتاً فوقتاًمسلح تصادم کی نوبت آتی رہی ،اوریوں ’’غزوات‘‘کاسلسلہ چلتارہا…

ایسے میں ہرغزوے کے موقع پرحضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی زیرِ قیادت پیش پیش رہے … شجاعت وبہادری کے بے مثال کارناموں کے علاوہ مزیدیہ کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت ٗ پاسبانی ٗاورمشاورت کے فرائض بھی سرانجام دیتے رہے۔ غرضیکہ سفرہویاحضر،امن ہویاجنگ،ہمیشہ ہرموقع پرحضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ رہے…نیزدینِ اسلام کی نشرواشاعت اورمسلمانوں کی فلاح وبہبودکیلئے ہمیشہ کوشاں وسرگرداں رہے۔

آپ کے مناقب 

حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ


عنوان: حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے مناقب


٭…رسول اللہ ﷺ نے ارشادفرمایا: (مَا لِأحَدٍ عِندَنَا یَدٌ اِلَّا وَقَد کَافَینَاہُ ، مَا خَلَا أبَابَکرٍ ، فَاِنَّ لَہٗ عَندَنَا یَداً یُکَافِئِہُ اللَّہُ بَہٖ یَومَ القِیَامَۃِ، وَمَا نَفَعَنِي مَالُ أحَدٍ قَطُّ مَا نَفَعَنِي مَالُ أبِي بَکر، وَ لَوکُنتُ مُتَّخِذاً خَلِیلاً لَاتَّخَذتُ أبَا بَکرٍ خَلِیلاً ، ألَا وَاِنَّ صَاحِبَکُم خَلِیلُ اللّہ) (۱)

ترجمہ:(ہم نے ہرایک کے احسان کابدلہ چکادیاہے،البتہ ابوبکرکے احسانات ایسے ہیں کہ جن کابدلہ انہیں خوداللہ ہی روزِقیامت عطاء فرمائے گا، کسی بھی شخص کامال میرے اس قدرکام نہیں آیا،کہ جس قدرابوبکرکے مال سے مجھے فائدہ پہنچاہے،اگرمیں کسی کواپنا’’خاص دوست‘‘بناتا ٗتویقیناابوبکرہی کوبناتا،لیکن بات یہ ہے کہ تمہارایہ ساتھی [یعنی خودرسول اللہ ﷺ ]توبس صرف اللہ ہی کا’’خاص دوست‘‘ہے)

٭…(مَاعَرَضْتُ الاِسلَامَ عَلَیٰ أحَدٍ اِلَّا کَانَت لَہٗ کَبْوَۃٌ ، اِلّا أبُو بَکرٍ ، فَاِنَّہٗ لَم یَتَلَعْثَم فِي قَولِہٖ) (۲)

ترجمہ:(میں نے جس کسی کوبھی دینِ اسلام کی طرف دعوت دی ٗ اس نے ابتداء میں کچھ ترددکااظہارکیا،سوائے ابوبکرکے جنہوں نے اس موقع پرقطعاً کسی ترددکااظہارنہیں کیا)۔

٭… عن أبي ھریرۃ رضي اللّہُ عنہ قال: قَالَ رَسُولُ اللّہِ ﷺ : مَن أصْبَحَ مِنکُمُ الیَومَ صَائِماً؟ قَالَ أبوبکر: أنَا ، قَالَ: فَمَن تَبِعَ مِنکُمُ الیَومَ جَنَازۃً؟ قَالَ أبوبکر: أنَا ، قَالَ: فَمَن أطْعَمَ مِنکُمُ الیَومَ مِسْکِیناً؟ قَالَ أبوبکر: أنَا ، قَالَ: فَمَن عَادَ مِنکُمُ الیَومَ مَرِیضاً؟ قَالَ أبوبکر: أنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللّہِ ﷺ : مَا اجْتَمَعنَ فِي امْرِیٍٔ اِلَّا دَخَلَ الجَنَّۃَ ۔ (۱)

ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک باراپنے صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے دریافت فرمایا: ’’آج تم میں سے روزہ کس نے رکھاہے؟‘‘ ابوبکررضی اللہ عنہ نے عرض کیا : ’’اے اللہ کے رسول!میں نے‘‘ ۔ تب آپؐ نے دریافت فرمایا: ’’تم میں سے کس نے آج جنازے میں شرکت کی ہے؟‘‘ ابوبکرؓنے عرض کیا : ’’اے اللہ کے رسول!میں نے‘‘ ۔ تب آپؐ نے دریافت فرمایا: ’’تم میں سے کس نے آج مسکین کوکھاناکھلایاہے؟‘‘ابوبکرؓنے عرض کیا : ’’اے اللہ کے رسول! میں نے‘‘ ۔ تب آپؐ نے دریافت فرمایا: ’’تم میں سے کس نے آج بیمارکی عیادت کی ہے؟‘‘ابوبکرؓنے عرض کیا : ’’اے اللہ کے رسول!میں نے‘‘۔ اس پرآپؐ نے فرمایا:’’ جس شخص میں یہ تمام خوبیاں جمع ہوگئیں وہ ضرورجنت میں داخل ہوجائے گا‘‘۔

٭…حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشادفرمایا:

(اِنَّ مِن أَمَنِّ النَّاسِ عَلَيَّ فِي صُحْبَتِہٖ وَ مَالِہٖ أبُوبَکر) (۲) یعنی’’تمام لوگوں میں سب سے زیادہ جس شخص کی صحبت کو ٗنیزاس کے مال کومیں اپنے لئے باعثِ اطمینان تصورکرتاہوں ٗ وہ ابوبکرہیں ‘‘۔

٭…حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک باررسول اللہ ﷺ نے ارشادفرمایا:(اِنَّ اللّہَ بَعَثَنِي اِلَیکُم فَقُلتُم : کَذَبْتَ ، وَقَالَ أبُوبَکر: صَدَقْتَ)(۱) یعنی’’اللہ نے مجھے تم لوگوں کی جانب مبعوث فرمایا،تب تم لوگوں نے مجھے جھٹلایا،جبکہ ابوبکرنے میری تصدیق کی‘‘۔(۲)

٭…حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :( أَمَرَنَا رَسُولُ اللّہِ ﷺ أن نَتَصَدَّقَ ، وَوَافَقَ ذَلِکَ عِندِي مَالاً ، فَقُلتُ: الیَومَ أسبِقُ أبَابَکرٍ ان سَبَقتُہٗ یَوماً ، فَجِِئتُ بِنِصفِ مَالِي، فَقَالَ رَسُولُ اللّہِ ﷺ : مَا أبقَیتَ لِأھلِکَ؟ قُلتُ : مِثلَہٗ ، وَ أتَیٰ أبُوبَکرٍ بِکُلِّ مَا عِندَہٗ ، فَقَالَ رَسُولُ اللّہِ ﷺ : یَا أبَا بَکر مَا أبقَیتَ لِأھلِکَ؟ قَالَ : أبقَیتُ لَھُمُ اللّہَ وَ رَسُولَہ ، قُلتُ : لَا أسبِقُہٗ اِلَیٰ شَیٍٔ أبَداً) (۳)یعنی’’ ایک باررسول اللہ ﷺ نے ہمیں صدقہ دینے کاحکم دیا، اتفاق سے اُس وقت مجھے کچھ مال میسرتھا،لہٰذامیں سوچنے لگاکہ آج تومیں ابوبکر پر سبقت لے جاؤنگا، یہی سوچ کرمیں اپناآدھامال لئے ہوئے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوگیا،آپؐ نے مجھ سے دریافت فرمایا’’اپنے گھروالوں کیلئے کیاچھوڑکرآئے ہو؟‘‘ میں نے عرض کیا ’’اتناہی مال ان کیلئے چھوڑآیاہوں ‘‘۔ اورتب ابوبکراپناسارامال لئے ہوئے حاضر ہوگئے،رسول اللہ ﷺ نے ان سے بھی یہی دریافت فرمایاکہ ’’اپنے گھر والوں کیلئے کیاچھوڑکرآئے ہو؟‘‘ ابوبکرنے جواب دیا ’’اے اللہ کے رسول! گھروالوں کیلئے میں اللہ اوراس کے رسول کانام چھوڑآیاہوں ‘‘۔ تب میں نے اپنے دل میں سوچاکہ ’’آج کے بعدمیں کبھی ابوبکرسے سبقت لے جانے کی کوشش نہیں کروں گا…‘‘(۱)

٭…سن ۹ہجری میں باقاعدہ اسلامی عبادت کے طورپر جب فرضیتِ حج کاحکم نازل ہوا تورسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کواپنے نائب کی حیثیت سے ’’امیرالحجاج‘‘ مقررفرمایا،اورتمام مسلمانوں نے دینِ اسلام کے اہم ترین رکن کی حیثیت سے تاریخ میں پہلی بارفریضۂ حج حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی امارت میں اداکیا۔

٭…رسول اللہ ﷺ اس جہانِ فانی سے رحلت سے قبل آخری ایام میں جب ۷/ربیع الاول بروزبدھ مسجدمیں آخری باراپنے منبرپرجلوہ افروزہوئے تھے اورمتعددنصیحتیں اور وصیتیں فرمائی تھیں ، تب اسی موقع پرآپؐ نے وہاں موجودافرادکومخاطب کرتے ہوئے یہ ارشاد بھی فرمایاتھا :(اِنَّ عَبْداً خَیَّرَہُ اللّہُ أن یُؤتِیَہٗ مِن زَھرَۃِ الدُّنیَا مَا شَائَ ، وَبَیْنَ مَا عِندَہٗ ، فَاختَارَ مَا عِندَہٗ) یعنی’’اللہ کاایک بندہ ہے،جسے اللہ نے اس بات کااختیاردیا ہے کہ اگروہ چاہے تو اللہ اسے دنیاوی زندگی کی خوب رونقیں عطاء فرمائے، اور اگر وہ چاہے تواب اللہ کے پاس موجودنعمتوں میں چلاآئے…لہٰذا اس بندے نے اللہ کے پاس موجودنعمتوں کوپسندکرلیاہے‘‘۔(۲)

اس حدیث کے راوی حضرت ابوسعیدخدریؓ فرماتے ہیں کہ ’’یہ بات سن کرحضرت ابوبکرؓ رونے لگے،اوربیساختہ یوں کہنے لگے: فَدَینَاکَ بِآبَائِنَا وَأمّھَاتِنَا یَا رََسُولَ اللّہ)یعنی’’اے اللہ کے رسول! آپ پرہمارے ماں باپ قربان…‘‘ ابوبکرؓکی ا س کیفیت پرہمیں تعجب ہونے لگا،یہ منظردیکھ کرکچھ لوگ یوں کہنے لگے کہ ابوبکر کو دیکھو…رسول اللہ ﷺ ہمیں یہ بات بتارہے ہیں کہ ’’اللہ کاایک بندہ ہے ٗ جسے اللہ نے اس بات کااختیاردیا ہے کہ اگروہ چاہے تو اللہ اسے دنیاوی زندگی کی خوب رونقیں عطاء فرمائے، اوراگروہ چاہے تواب اللہ کے پاس موجودنعمتوں میں چلاآئے،اوراس بندے نے اللہ کے پاس موجودنعمتوں کوپسندکرلیاہے‘‘۔ اورذرہ ابوبکرکودیکھو،رسول اللہ ﷺ کی یہ بات سن کریہ رورہے ہیں ،اورکہتے ہیں کہ ’’اے اللہ کے رسول! آپ پرہمارے ماں باپ قربان‘‘ بھلایہ کیابات ہوئی…؟؟

اس کے بعدحضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ (فَکَانَ رَسُولُ اللّہِ ﷺ ھُوَ المُخَیَّرُ ، وَکَانَ أبُوبَکر أعْلَمَنَا)(۱)یعنی ’’اللہ کی طرف سے اپنے جس بندے کو یہ اختیاردیاگیاتھا…وہ خودرسول اللہ ﷺ تھے…اورابوبکرہم سبھی سے زیادہ علم والے تھے…‘‘

مطلب یہ کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی جانب سے اختیاردیئے جانے پرجواب میں رسول اللہ ﷺ اس فانی دنیامیں اب مزیدزندگی بسرکرنے کی بجائے اپنے رب کے جوارِرحمت میں منتقل ہوجانے کوپسندفرماچکے تھے…ہم اس بات کونہیں سمجھ سکے…البتہ ابوبکر(رضی اللہ عنہ) ہم میں سب سے زیادہ علم ودانش سے مالامال تھے…رسول اللہ ﷺ کی گفتگوکو ٗ نیزاس میں پوشیدہ اسرارورموزکوہم سب سے زیادہ وہی سمجھنے والے تھے… لہٰذااس رازکی بات کو ہم نہیں سمجھ سکے ،اوراس وجہ سے ہم تعجب کرنے لگے،جبکہ حضرت ابوبکرؓاس راز کوسمجھ گئے اور…بے اختیاررونے لگے…!

یقینااس سے حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کامقام ومرتبہ ٗ فہم وفراست ٗ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ان کاخاص تعلقِ خاطر اورمزاج شناسی ٗ نیزتمام صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی برگزیدہ ترین جماعت میں ان کی خاص حیثیت اوردینی بصیرت واضح وثابت ہوتی ہے۔

٭…اسی طرح رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ طیبہ کے آخری ایام میں (بتاریخ ۹/ربیع الاول بروزجمعرات)جب شدتِ مرض کی وجہ سے نقاہت بہت بڑھ چکی تھی اورآپؐ کواطلاع دی گئی تھی کہ عشاء کی نمازکیلئے سبھی لوگ مسجدمیں منتظرہیں …تب آپؐ نے ارشادفرمایاتھاکہ:

’’مُرُوا أبَابَکر، فَلیُصَلِّ بِالنَّاس‘‘ (۱) یعنی’’ابوبکرسے کہوکہ وہ لوگوں کو نمازپڑھائیں ‘‘

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاچونکہ اپنے والد(حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ) کے مزاج سے بخوبی واقف تھیں ٗلہٰذااس موقع پرانہوں نے اپنے والدکے بارے میں عرض کیا’’اے اللہ کے رسول! وہ توبہت ہی کمزوراورنرم دل انسان ہیں ٗ ان کی آوازبھی کافی پست ہے،مزیدیہ کہ وہ جب بھی قرآن پڑھتے ہیں توبہت زیادہ رونے لگتے ہیں ‘‘

تب آپ ﷺ نے اپناوہی حکم دہرایا، اورحضرت عائشہ ؓ نے بھی اپنی وہی گذارش دہرائی ٗ آخر تیسری بارآپؐ نے قدرے سختی کے ساتھ یہی حکم دہرایا…اورتب حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے آ پ ؐکی حیاتِ طیبہ کے دوران ہی،اور خودآپؐ کے حکم پر… آپؐ کی جگہ مسجدنبوی میں امامت کاآغازکیا…!

غورطلب بات ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے تمام صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی برگزیدہ وپاکیزہ ترین جماعت میں سے حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کواپنی مسجدمیں ، اپنی جگہ نمازپڑھانے کیلئے ، اورتمام مسلمانوں کی امامت کیلئے خودمنتخب فرمایا،مزیدیہ کہ اصراراورتاکیدکے ساتھ متعددباراس چیزکاحکم دیا۔

چنانچہ خودرسول اللہ ﷺ کی حیاتِ طیبہ کے دوران حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ آپؐ کے مصلیٰ پرکھڑے ہوکر امامت کے فرائض انجام دیتے رہے…جبکہ آسمانوں سے نزولِ وحی کا ٗنیزجبریل امین علیہ السلام کی آمدورفت کاسلسلہ ابھی بدستور جاری تھا۔

یقینااس سے حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی عظمتِ شان ظاہرہوتی ہے۔۔حضور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلم  کی رحلت کا وقت 

حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ


عنوان: رسول اللہﷺ کی رحلت کے موقع پر


رسول اللہ ﷺ کی رحلت اوراس جہانِ فانی سے رخصتی کا سانحہ یقیناتمام مسلمانوں کیلئے بہت ہی بڑاصدمہ تھا، جیساکہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : مَا رَأیتُ یَوماً قَطُّ کَانَ أحسَنَ وَلَا أضوَأَ مِن یَومٍ دَخَلَ عَلَینَا فِیہِ رَسُولُ اللّہِ ﷺ وَمَا رَأیتُ یَوماً أقبَحَ وَلَا أظلَمَ مِن یَومٍ مَاتَ فِیہِ رَسُولُ اللّہِ ﷺ (۱) یعنی’’میں نے مدینہ شہرمیں کبھی کوئی ایسا خوشگواراورروشن دن نہیں دیکھاکہ جیسارسول اللہ ﷺ کی مدینہ تشریف آوری کے موقع پرتھا،اسی طرح میں نے مدینہ شہرمیں کبھی اس قدر سوگوار اوربجھاہوا دن نہیں دیکھاکہ جیسارسول اللہ ﷺ کی وفات کے موقع پرتھا‘‘۔

چنانچہ اُس روزتمام مدینہ شہرمیں ہرجانب رنج والم کی فضاء چھائی ہوئی تھی …ہرکوئی غم کے سمندرمیں ڈوباجارہاتھا،ہرایک پربے خودی کی کیفیت طاری تھی ،اورہرطرف آہ وبکاء کا ماحول تھا،کسی کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہاتھا،نہ ہی کسی کاذہن اس جان لیواخبرکوقبول کرنے کیلئے آمادہ تھاکہ رسول اللہ ﷺ اب ہمیشہ کیلئے ہم سے جداہوچکے ہیں ۔

ایسی نازک ترین صورتِ حال میں حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کاناقابلِ فراموش کردارتمام امت کیلئے سہارے اورتسلی کاباعث بنا۔

چنانچہ اس موقع پروہاں موجودسبھی افرادکے سامنے حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے مختصرخطبہ دیا ٗجس میں رسول اللہ ﷺ کی اس جہانِ فانی سے رحلت کایوں اعلان فرمایا ’’مَن کَانَ مِنکُم یَعبُدُ مُحَمَّداً فَاِنَّ مُحَمَّداً قَد مَاتَ ، وَمَن کَانَ یعبُدُ اللّہَ فَاِنَّ اللّہَ حَيٌّ لَا یَمُوتُ‘‘ یعنی’’تم میں سے جوکوئی محمدؐکی عبادت کرتاتھا ٗوہ جان لے کہ محمدؐکااب انتقال ہوچکاہے،اورجوکوئی اللہ کی عبادت کرتاتھا ٗ تواللہ ہمیشہ زندہ رہنے والاہے ٗ اسے کبھی موت آنے والی نہیں ہے‘‘اورپھرقرآن کریم کی یہ آیت تلاوت کی: {وَمَا مُحَمَّدٌ اِلّا رَسُولٌ قَد خَلَتْ مِن قَبلِہِ الرُّسُلُ أفَاِن مَّاتَ أو قُتِلَ انقَلَبتُم عَلَیٰ أعْقَابِکُم ومَن یَّنقَلِبْ عَلَیٰ عَقِبَیہِ فَلَن یَّضُرَّ اللّہَ شَیئاً وَّ سَیَجزِي اللّہُ الشَّاکِرِینَ} (۱) (۲)

ترجمہ:’’محمد[ ﷺ ]توصرف رسول ہی ہیں ،ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گذرچکے ہیں ،کیااگران کاانتقال ہوجائے ٗ یاوہ شہیدہوجائیں ٗتوتم اسلام سے اپنی ایڑیوں کے بل پھرجاؤگے؟ اورجوکوئی پھرجائے اپنی ایڑیوں پرتوہرگزوہ اللہ کاکچھ نہیں بگاڑے گا،عنقریب اللہ شکرگذاروں کونیک بدلہ دے گا‘‘۔

حضرات صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس آیت سے ٗ نیزاس کے مضمون سے خوب واقف تھے ، اورعرصۂ درازسے اسے پڑھتے اورسنتے چلے آرہے تھے،لیکن اس روزحضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی زبانی جب یہ آیت سنی توانہیں یوں محسوس ہواکہ گویایہ آیت ابھی نازل ہوئی ہو،ان کے ذہنوں میں اس آیت کامضمون تازہ ہوگیا، وہ سب اس آیت کو بارباردہرانے لگے،جیساکہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ اُس وقت وہاں جس شخص کی طرف بھی میری نگاہ اٹھی ٗمجھے اس کے لب ہلتے ہوئے نظرآئے، اوروہ یہی آیت زیرِلب دہراتاہوانظرآیا۔

اس کانتیجہ یہ ہواکہ لوگوں کے غم واضطراب میں بتدریج کمی آنے لگی اوررفتہ رفتہ انہیں اس تلخ ترین حقیقت پریقین آنے لگاکہ رسول اللہ ﷺ واقعی اب ہم میں نہیں رہے، اوریوں اُس نازک ترین موقع پرحضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کایہ تاریخی کردارتمام مسلمانوں کیلئے تسلی و تشفی کا ٗنیزصورتِ حال کوبگڑنے سے بچانے کاسبب اورذریعہ بنا۔خلافت کا انتخاب 

حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ


عنوان: خلافت کیلئے انتخاب


رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ طیبہ کے دوران مسلمانوں کے تمام امورمخصوص اندازسے چل رہے تھے۔ پھرآپؐ کی اس جہانِ فانی سے رحلت کے نتیجے میں سبھی کچھ بدل کررہ گیا، ظاہرہے کہ ایسے میں امت کوکسی پاسبان ونگہبان کی اشداورفوری ضرورت تھی،تاکہ بیرونی دشمنوں ٗنیزاندرونی بدخواہوں ٗمنافقوں اورموقع پرستوں کوکسی سازش کاموقع نہ مل سکے۔

چنانچہ سن گیارہ ہجری میں بتاریخ ۱۲/ربیع الاول بروزپیر جب رسول اللہ ﷺ کے انتقال کا جاں گدازواقعہ پیش آیاتھااورآپؐ کی تجہیزوتکفین کے سلسلے میں ہی مشاورت کی غرض سے اکابرصحابہ میں سے متعددحضرات آپؐ کے گھرمیں موجودتھے، اس دوران کچھ لوگوں نے وہاں موجودحضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کوآکراطلاع دی کہ ’’سقیفۂ بنی ساعدہ‘‘نامی مقام پربڑی تعدادمیں لوگ جمع ہیں اوروہاں یہ موضوع زیرِبحث ہے کہ اب رسول اللہ ﷺ کاخلیفہ اورجانشیں کون ہوگا…؟

یہ اطلاع ملنے پرحضرت عمررضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ سے اصرارکرتے ہوئے کہاکہ’’قبل اس کے کہ معاملہ نازک ہوجائے…ہمیں وہاں چلناچاہئے…‘‘

چنانچہ یہ حضرات وہاں پہنچے ، وہاں یہی موضوع زیرِبحث تھا،اورکسی بھی لمحے یہ معاملہ کوئی غلط رُخ اختیارکرسکتاتھا،صورتِ حال کی اس نزاکت کوبھانپتے ہوئے حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ نے لوگوں کومخاطب کرتے ہوئے اس نازک موقع پر ’’فتنہ وافتراق‘‘سے بچنے ٗ اوراتفاق واتحادکوبہرصورت قائم رکھنے کی اہمیت وضرورت کے بارے میں مختصرگفتگوکی ۔ اس کے بعدحضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ ٗنیزحضرت ابوعبیدہ عامربن الجراح رضی اللہ عنہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایاکہ ’’یقینایہی دوحضرات رسول اللہ ﷺ کی جانشینی کے قابل ہیں ، لہٰذا میرامشورہ یہ ہے کہ ان میں سے کسی ایک کے ہاتھ پرجلدازجلدبیعت کر لی جائے‘‘۔

حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی یہ بات سُن کرحضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا’’ہم میں سے کس کادل اس بات کوگواراکرے گاکہ وہ شخص جسے خودرسول اللہ ﷺ نے ہماری امامت کیلئے منتخب فرمایاتھا،اس کے ہوتے ہوئے کسی اورکواس منصب کیلئے پسند کیا جائے؟

حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کی زبانی یہ بات سنتے ہی حضرت عمررضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے اصرارکیا’’ابوبکر،اپناہاتھ بڑھائیے‘‘ جس پرحضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے ان کی جانب اپناہاتھ بڑھایا،اورتب فوراًہی حضرت عمررضی اللہ عنہ نے وہاں موجودلوگوں کومخاطب کرتے ہوئے بآوازِبلندیہ الفاظ کہے ’’لوگو!میں ابوبکرکے ہاتھ پربیعت کررہاہوں ،تم سب بھی انہی کے ہاتھ پربیعت کرلو، یہی رسول اللہ ﷺ کے جانشیں ہیں ‘‘۔(۱)

اس پروہاں موجودسبھی افرادنے بڑی تعدادمیں حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی ۔ کبارِصحابہ کرام میں سے چندافراداس وقت وہاں موجودنہیں تھے ، جنہوں نے بعدمیں مسجدِنبوی میں بیعت کی۔ یوں حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کوبالاتفاق رسول اللہ ﷺ کے جانشین اور’’خلیفۂ اول‘‘ کی حیثیت سے منتخب کرلیاگیا۔

خلافت کی ذمہ داری سنبھالنے کے فوری بعدحضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے مختصرخطبہ دیتے ہوئے فرمایا: (أیُّھَا النَّاس! اِنِّي وُلِّیْتُ عَلَیکُم وَلَستُ بِخَیرِکُم ، اِن أحسَنْتُ فَأعِینُونِي ، وَاِن أسَأتُ فَقَوِّمُونِي ، الصِّدقُ أَمَانَۃ ، وَالکَذِبُ خِیَانَۃ ، الضَّعِیفُ فِیکُم قَوِيٌّ عِندِي حَتّیٰ أُرجِعَ اِلَیہِ حَقَّہٗ ، وَالقَوِيُّ فِیکُم ضَعِیفٌ عِندِي حَتّیٰ آخُذَ مِنہُ حَقَّہٗ ، أطِیعُونِي مَا أطَعتُ اللّہَ وَ رَسُولَہٗ ، فَاِن عَصَیتُ اللّہَ وَ رَسُولَہٗ فَلَا طَاعَۃَ لِي عَلَیکُم)

ترجمہ:’’لوگو!میں تمہاراامیرمقررکیاگیاہوں ٗحالانکہ میں تم سے افضل نہیں ہوں ۔اگرمیں اچھے کام کروں توتم میری مددکرنا،غلطی کروں تواصلاح کرنا۔سچ امانت ہے،جبکہ جھوٹ خیانت ہے۔تم میں سے جوشخص کمزورہے ،وہ میرے نزدیک طاقتورہے جب تک میں اسے اس کاحق نہ دلادوں ۔اورتم میں سے جوکوئی طاقتورہے، میرے نزدیک وہ کمزورہے، تاوقتیکہ میں اس سے حقدارکاحق وصول نہ کرلوں ۔تم میری اطاعت کروجب تک میں اللہ اوراس کے رسول ؐکی اطاعت کروں ۔ اور اگرمجھ سے کوئی ایساعمل سرزدہوجس میں اللہ اور اس کے رسولؐکی نافرمانی کاپہلونکلتاہو، توتم پرمیری اطاعت واجب نہیں ہوگی۔ اللہ تم پررحم فرمائے‘‘۔

خلیفۂ اول کی اس اولین تقریر کے ایک ایک جملے میں رسول اللہ ﷺ کی پاکیزہ تعلیم وتربیت اوراخلاص وتقویٰ کی جھلک نمایاں نظرآتی ہے۔ نیزاس اولین تقریرمیں انہوں نے یہ وضاحت وصراحت کردی کہ ان کااندازِفکریہ ہے کہ ’’وہ خودکوعوام الناس سے ممتاز ومنفرد تصور نہیں کرتے‘‘۔ نیزان کااندازِحکمرانی یہ ہوگاکہ’’ سچ کی نشرواشاعت اورجھوٹ کاراستہ روکنے کی ہرممکن کوشش کی جائے گی، اوریہ کہ ہرقیمت پرانصاف کابول بالاکیاجائے گا ٗ جبکہ ظلم وناانصافی کا مکمل سدِباب کیاجائے گا، نیزیہ کہ جب تک وہ خوداللہ عزوجل کی اطاعت وفرمانبرداری کے راستے پرگامزن رہیں گے ٗ عوام الناس پران کی اطاعت وفرمانبرداری محض اُسی وقت تک ضروری ولازمی ہوگی‘‘۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

نسبندی کا شرعی حکم

نسبندی کا شرعی حکم روشن تحقیق السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ نس بندی کرانا کیسا ہے جبکہ ڈاکٹر یہ کہے کہ اب یہ عورت مزید بچے پیدا کرے گی، جس سے اسے سخت بیماری پیدا ہونے یا جان کا خطرہ ہے، اور باقی ضبط تولید کے ذرائع سے بھی کبھی خطرہ رہتا ہے، وہ ذرائع فیل ہو جاتے ہیں، اور عورت حاملہ ہو جاتی ہے، اس صورت میں عورت کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔  *سائل: محمد علی باڑمیر*  . وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ  الجواب وباللہ توفیق  نسبندی کی جائز اور ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدی، شرح مسلم جلد سوم میں فرماتے ہیں  1۔ کوئی شخص تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی (نسبندی کرواتا ہے) اصلًا جائز نہیں ہے، یہ اس لیے کہ حرمت کی علت تنگی رزق کا ہونا قرآن مجید میں مذموم ہے: "لا تقتلوا اولادکم من املاق   (سورہ نمبر 6آیت 151" 2۔ اور کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے، کیونکہ ان کی پرورش میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین ...

کمیشن لینا कमिशन लेना हिंदी अनुवाद आखिर में

हिंदी अनुवाद आखिर में है  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع کے ایک عالم صاحب جو کہ امامت کرتے ہیں ساتھ میں ان کا کاروبار گاڑیوں کے لین دین کا جس میں دو پارٹیوں سے سودا کرواتے ہیں جس میں ان کی ذمہ داری رہتی ہے گاڑیوں کے کاغذ وغیرہ کسی میں فولڈ ہوگا تو گارنٹی ان کی رہتی ہے جس کی وجہ سے کبھی نقصان بھی ہوتا ہے کبھی فائدہ مہینہ دو مہینہ کے بعد جب کاغذ وغیرہ نام پر ہو جاتے ہیں تب 5000/10000 جو کمیشن طے ہوتا ہے وہ ملتا ہے ابھی کوئی شخص بولتا ہے کے کمیشن کا دھندا کرنے والے کے پیچھے نماز نہیں ہوتی قرآن و حدیث کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں سائل قاری غلام رسول ضیائی   کوشل کوٹ ضلع بانسواڑہ راجستھان ُ الجواب و بللہ توفیق    شرعی ضابطے پورے کرتے ہوئے کمیشن کے  ذریعے روزی کمانے میں شرعاً کوئی ممانعت نہیں  ہے، کہ کمیشن یا بروکری وہ ذریعۂ آمدنی ہے جس میں اپنی محنت کے ذریعے ایک سروس دی جاتی ہے اور یہ طریقۂ آمدنی آج کا نہیں بلکہ  صدیوں سے رائج ہے جس کو ہر دور کے علماء نے جائز ہی کہا ۔  بروکر کی اجرت (کمیشن): بروکر کو "اجیر خاص" یا "وکیل" سمجھا جات...

حربی سے سود لینے کا حکم روشن تحقیق

حربی سے سود لینے کا حکم ؟ دارالافتاء گلزارِ طیبہ کی یہ علمی تحقیق نہایت دقیق، جامع اور بصیرت افروز ہے۔ اس میں جہاں امام ابو حنیفہؒ کے قول کا صحیح مفہوم واضح کیا گیا ہے، وہیں اس کے غلط استعمالات اور اس کے دینی، سماجی و بین الاقوامی مضمرات پر بھی مدلل کلام کیا گیا ہے۔ علمی و ادبی تاثرات: 1. محققانہ اسلوب: تحقیق کی بنیاد قرآنی آیات، صحیح احادیث اور فقہاء کی معتبر تشریحات پر رکھی گئی ہے۔ علامہ ابن قدامہ، علامہ سعیدی، امام ابن ہمام، امام شافعی، سرخسی وغیرہ جیسے جلیل القدر علماء کے اقوال سے مزین یہ رسالہ اسلوبِ تحقیق کا عمدہ نمونہ ہے۔ 2. فقہی توازن و اعتدال: تحقیق میں نہ صرف مختلف اقوال کا ذکر کیا گیا بلکہ ان کا تجزیہ بھی علمی انداز میں کیا گیا ہے، جو قاری کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا اصل مدعا کیا تھا، اور بعد کے علماء نے ان کے قول کو کس حد تک محدود کیا ہے۔ 3. دورِ حاضر کے تقاضے: یہ تحقیق صرف نصوص کی بحث نہیں، بلکہ موجودہ حالات کے تناظر میں ایک عملی رہنمائی بھی ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا کے دور میں فتاویٰ کے غلط استعمال، اسلام کے بارے میں پھیلنے والی بدگمانیوں اور ہندوست...