نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

سیرت ‏حضرت ‏عمر ‏فارق ‏رضی ‏اللہ ‏عنہ ‏

الحمدللہ رب العالمین والصلوتہ والسلام علی سید المرسلین اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم 

حضرت عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ


عنوان: حضرت عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ


رسول اللہ ﷺ کے جلیل القدرصحابی ٗخلیفۂ دوم امیرالمؤمنین فاروقِ اعظم حضرت عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ کاتعلق قبیلۂ قریش کے معززترین خاندان ’’بنوعدی‘‘سے تھا ٗجوکہ مکہ شہرکے مشہورومعروف محلہ ’’شُبیکہ‘‘میں آبادتھا۔بچپن کے بعدجب شباب کی منزل میں قدم رکھا توقبیلۂ قریش سے تعلق رکھنے والے دیگرمعززافرادکی مانندتجارت کواپنامشغلہ بنایا،فنونِ سپہ گری ٗشمشیرزنی ٗ نیزہ بازی ٗ تیراندازی ٗاورگھڑسواری میں خوب مہارت حاصل کی۔اس کے علاوہ پہلوانی اورکُشتی کے فن میں بھی انہیں کمال مہارت حاصل تھی ۔مکہ شہرکے قریب ہرسال ’’عُکاظ‘‘کا جومشہورومعروف اورتاریخی میلہ لگاکرتاتھا ،اس میں بڑے بڑے دنگلوں میں شرکت کرتے اور’’قوتِ بازو‘‘کاخوب مظاہرہ کیاکرتے تھے۔

مزیدیہ کہ بچپن میں ہی لکھناپڑھنابھی سیکھا،عربی لغت ٗ ادب ٗ فصاحت وبلاغت ٗ خصوصاً تقریروخطابت کے میدان میں انہیں بڑی دسترس حاصل تھی ،شجاعت وبہادری کے ساتھ ساتھ حکمت ودانش …نیزفنِ تقریروخطابت پرمکمل عبور…یہی وہ خوبیاں تھیں جن کی بناء پرقریشِ مکہ ہمیشہ نازک اورحساس مواقع پرگفت وشنیدکی غرض سے انہی کواپنا ’’سفیر‘‘ اور ’’نمائندہ‘‘بناکربھیجاکرتے تھے۔

حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ ان حضرات میں سے تھے جنہوں نے ابتدائی دورمیں دینِ اسلام قبول کیا کہ جب مسلمان بہت زیادہ مظلوم ولاچارتھے…یہی وجہ ہے کہ اُس بے بسی وکسمپرسی کے دورمیں دینِ اسلام قبول کرنے والوں کابڑامقام ومرتبہ ہے ،ان کیلئے عظیم خوشخبریاں ہیں ،اورانہیں قرآن کریم میں ’’السابقین الأولین‘‘یعنی’’بھلائی میں سبھی سے آگے بڑھ جانے والے‘‘کے نام سے یادکیاگیاہے…انہی خوش نصیب اورعظیم ترین افرادمیں حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔

مزیدیہ کہ حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ’عشرہ مبشرہ‘‘یعنی ان دس خوش نصیب ترین افرادمیں سے تھے جنہیں اس دنیاکی زندگی میں ہی رسول اللہ ﷺ نے جنت کی خوشخبری سے شادکام فرمایاتھا۔

حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کورسول اللہ ﷺ کے انتہائی مقرب اورخاص ترین ساتھی ہونے کے علاوہ مزیدیہ شرف بھی حاصل تھاکہ آپؓ رسول اللہ ﷺ کے سسربھی تھے،ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہاآپؓ ہی کی صاحبزادی تھیں ۔

حضرت عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ


عنوان: قبولِ اسلام


آفتابِ نبوت کومکہ شہرمیں اپنی کرنیں بکھیرتے ہوئے پانچواں سال چل رہاتھا…عمراُس وقت چھبیس برس کے کڑیل جوان تھے…رسول اللہ ﷺ کی طرف سے مکہ کی وادی میں بلندکی جانے والی توحیدکی صداعمرکیلئے بالکل نامانوس اوراجنبی چیزتھی۔ عمرکی طبیعت میں بہت زیادہ سختی اورتیزی تھی،جس کسی کے بارے میں معلوم ہوجاتاکہ وہ مسلمان ہوگیا ہے، عمراس کے درپے آزارہوجاتے…یہی حال ابوجہل کابھی تھا…مسلمانوں کوان دونوں کی طرف سے شدیدپریشانی کاسامناتھا۔یہی وجہ تھی کہ رسول اللہ ﷺ اُن دنوں اکثردعاء فرمایاکرتے:(اَللّھُمَّ أَعِزَّ الاِسلَامَ بِعُمَر بن الخَطَّاب أو بِعَمرو بن ھِشَام) یعنی’’اے اللہ!تودینِ اسلام کوقوت عطاء فرما عمربن خطاب ٗیاعمروبن ہشام کے ذریعے)۔ (۱) (۲) اُس ابتدائی دورمیں مکہ میں مٹھی بھرمسلمانوں کومشرکین کے ہاتھوں جس طرح اذیت کاسامناتھا…اس چیزکودیکھتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کوملکِ حبشہ کی جانب ہجرت کرجانے کامشورہ دیاتھا،جس پر(نبوت کے پانچویں سال)یکے بعددیگرے مسلمانوں کی دومختلف جماعتیں مکہ سے حبشہ کی جانب ہجرت کرگئی تھیں ۔

ایسے ہی ایک موقع پرعمرنے اپنے قریبی عزیزوں میں سے ایک مسلمان شخص کوجب بے بسی ولاچاری کی کیفیت میں مکہ سے حبشہ کی جانب ہجرت کرتے دیکھاتوبڑی ہی حسرت کے ساتھ اسے ہجرت کایہ ارادہ ملتوی کرکے مکہ میں ہی رک جانے کامشورہ دیا…جس پراس شخص نے بھی بڑی حسرت کے ساتھ یہ جواب دیاکہ ’’اے عمر!کاش تم نے ہمیں ناحق اس قدرنہ ستایاہوتا…توہم یوں بے وطن ہوجانے پرمجبورنہ ہوتے‘‘۔ یہ بات سن کرعمرپہلی باراپنی تمامترترش مزاجی کے باوجوددکھی ہوگئے…اپنی قوم کویوں ٹوٹتے اوربکھرتے ہوئے …اورپھربے وطن ہوتے ہوئے دیکھنا…یہ چیزعمرکیلئے ا نتہائی صدمے کاباعث بنی،جس کی وجہ سے وہ شب وروزاسی پریشانی میں مبتلارہنے لگے کہ آخریہ معاملہ کس طرح حل ہوگا؟اسی کیفیت میں وقت گذرتارہا…اورپھربالآخراس کے اگلے سال،یعنی جب نبوت کاچھٹاسال چل رہاتھا،ایک روزعمرکے صبرکاپیمانہ لبریزہوگیا…سوچاکہ جس شخص کی وجہ سے میری قوم یوں ٹوٹتی اوربکھرتی جارہی ہے…اسی شخص کو(نعوذباللہ) قتل کردیاجائے…اوریوں اس مشکل کاہمیشہ کیلئے خاتمہ کردیاجائے…یہی بات سوچ کروہ ایک روزسخت گرمی کے موسم میں اورتپتی ہوئی دوپہرمیں ننگی تلوارہاتھ میں لئے ہوئے چل دئیے۔ راستے میں نُعیم بن عبداللہ(۱) نامی ایک شخص کی ان پر نظرپڑی تووہ ٹھٹھک کررہ گیا…اس قدرآگ برساتی ہوئی گرمی میں ،اورتپتی ہوئی اس دوپہرمیں عمراپنے ہاتھ میں ننگی تلوارلئے ہوئے چلے جارہے ہیں …وہ شخص خوفزدہ ہوگیا…اورخوب سمجھ گیاکہ معاملہ خطرناک ہے۔ چنانچہ اس نے اسی خوف ودہشت کی کیفیت میں دریافت کیا:’’عمر!خیریت توہے؟اس وقت آپ کہاں چلے جارہے ہیں ؟ عمرنے جواب دیا(نعوذباللہ)آج میں اس شخص (یعنی رسول اللہ ﷺ کاکام تمام کرنے جارہاہوں ‘‘ ۔ اس پروہ شخص بولا’’عمر!پہلے اپنے گھرکی خبرتولے لو…تمہاری اپنی بہن اوربہنوئی مسلمان ہوچکے ہیں ‘‘ اس شخص کی زبانی یہ بات سن کرعمرآگ بگولہ ہوگئے…اوروہاں سے سیدھے اپنی بہن (فاطمہ بنت خطاب)کے گھرپہنچے۔ اس وقت وہ اوران کے شوہر(سعیدبن زید رضی اللہ عنہ)دونوں تلاوتِ قرآن میں مشغول تھے۔ عمرنے وہاں پہنچتے ہی نہایت غصے کی کیفیت میں بہن کوزدوکوب کرناشروع کردیا…یہی سلسلہ جاری تھاکہ اس دوران اچانک بہن نے نہایت پرعزم لہجے میں اورفیصلہ کن اندازمیں بھائی کومخاطب کرتے ہوئے کہا’’عمر!تم جس قدرچاہومجھے مارلو…لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوگا(۱) بہن کی زبانی یہ بات سن کر…اورپہلی بار…بالکل غیرمتوقع طورپراس کی یہ جرأت دیکھ کرعمرچونک اٹھے… اورسوچنے لگے کہ اس دین میں اتنی قوت…اس کلام میں اس قدرتأثیر…کہ اس قدر زدوکوب کے باوجودبہن نے یوں دوٹوک فیصلہ سنادیا…تب عمرکے اندازبدلنے لگے… اورپھرقدرے توقف کے بعدبہن کومخاطب کرتے ہوئے یوں کہنے لگے’’اچھا…جوکچھ تم پڑھ رہے تھے…ذرہ مجھے بھی وہ چیزدکھاؤ…‘‘اس پربہن نے جواب دیا’’عمر!تم مشرک ہو،ناپاک ہو،لہٰذاتم اللہ کے اس پاک کلام کونہیں چھوسکتے‘‘۔ عمرنے مسلسل اصرارکیا… آخرعمرکایہ اصراراب ’’التجاء‘‘میں تبدیل ہونے لگا…بہن نے جب عمرکے رویے میں یہ اتنی بڑی تبدیلی دیکھی توکہاکہ ’’بھائی پہلے تم غسل کرکے پاک صاف ہوجاؤ…‘‘تب عمرغسل کرکے آئے اورپھروہی مطالبہ دہرایا،تب بہن نے انہیں وہ اوراق دکھائے جن میں وہ قرآنی آیات تحریرتھیں …عمرپڑھتے گئے… {طٰہٰ، مَٓا أنزَلنَا عَلَیکَ القُرآنَ لِتَشقَیٰ، اِلّا تَذکِرَۃً لِّمَن یَخشَیٰ، تَنزِیلاً مِّمَن خَلَقَ الأرضَ وَالسَّمٰوَاتِ العُلَیٰ، الرَّحمٰنُ عَلَیٰ العَرشِ استَوَیٰ ، لَہٗ مَا فِي السَّمٰواتِ وَمَا فِي الأرضِ وَ مَا بَینَھُمَا وَمَا تَحتَ الثَّرَیٰ، وَاِن تَجھَر بِالقَولِ فَاِنَّہٗ یَعلَمُ السِّرَّ وَأَخفَیٰ، اَللّہُ لَآ اِلٰہَ اِلّا ھُوَ لَہُ الأَسمَٓائُ الحُسنَیٰ}(۱) ترجمہ:(’’طٰہٰ، ہم نے یہ قرآن اس لئے نازل نہیں کیاکہ تم مشقت میں پڑجاؤ،البتہ یہ اس شخص کی نصیحت کیلئے نازل کیاہے جو[اللہ سے]ڈرتاہو،اس کانازل کرنااس اللہ کی طرف سے ہے جس نے زمین کواور بلند آسمانوں کوپیداکیاہے،جورحمن ہے عرش پرقائم ہے،جس کی ملکیت آسمانوں اورزمین ٗ اوران دونوں کے درمیان ٗاورزمین کی تہوں کے نیچے کی ہرایک چیزپرہے۔ اگرتوبلندآوازسے کوئی بات کہے ٗ تو ٗوہ توہرایک پوشیدہ سے پوشیدہ ترچیزکوبھی بخوبی جانتاہے،وہی اللہ ہے جس کے سواکوئی معبودنہیں ٗاسی کے بہترین نام ہیں )۔

عمریہ آیات پڑھتے گئے ،اورایک ایک لفظ ان کے دل کی گہرائیوں میں اترتاچلاگیا،دیکھتے ہی دیکھتے دل کی دنیابدل گئی…اورپھربے اختیاریوں کہنے لگے:’’کیایہی وہ کلام ہے جس کی وجہ سے قریش نے محمداوران کے مٹھی بھرساتھیوں کواس قدرستارکھاہے…؟‘‘۔

اورپھراگلے ہی لمحے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضری کی غرض سے بے تابانہ وہاں سے روانہ ہوگئے۔

اُ ن دنوں رسول اللہ ﷺ بیت اللہ سے متصل ’’صفا‘‘پہاڑی کے قریب ’’دارالارقم‘‘نامی گھر میں رہائش پذیرتھے ،جہاں مٹھی بھرمسلمان آپؐ کی خدمت میں حاضرہوکراللہ کے دین کاعلم حاصل کیاکرتے تھے۔چنانچہ عمراسی ’’دارالارقم‘‘کی جانب روانہ ہوگئے۔

اُس وقت وہاں دارالارقم میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ چندمسلمان موجودتھے،انہوں نے جب عمرکواس طرف آتے دیکھا تووہ پریشان ہوگئے…اتفاق سے اُس وقت ان کے ہمراہ حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ بھی موجودتھے،جن کااس معاشرے میں بڑامقام ومرتبہ اورخاص شان وشوکت تھی،جن کی بہادری کے بڑے چرچے تھے ، خاندانِ بنوہاشم کے چشم وچراغ ٗ نیزرسول اللہ ﷺ کے چچا تھے…اورمحض تین دن قبل ہی مسلمان ہوئے تھے…انہوں نے جب یہ منظردیکھا…اوروہاں موجودکمزوروبے بس مسلمانوں کی پریشانی دیکھی…توانہیں تسلی دیتے ہوئے کہنے لگے: ’’فکرکی کوئی بات نہیں ،عمراگرکسی اچھے ارادے سے آرہے ہیں توٹھیک ہے، اوراگرکسی برے ارادے سے آرہے ہیں تو آج میں ان سے خوب اچھی طرح نمٹ لوں گا‘‘ اورپھرعمروہاں پہنچے،آمدکامقصدبیان کیا…حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ انہیں ہمراہ لئے ہوئے اندررسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچے، عمرنے وہاں آپؐ کی خدمت میں حاضرہوکر أَشھَدُ أن لا اِلٰہ الّا اللّہ وَ أَشھَدُ أَنّکَ عَبدُ اللّہِ وَرَسُولُہ (میں گواہی دیتاہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودبرحق نہیں ٗ اورمیں گواہی دیتاہوں کہ آپؐ اللہ کے بندے اوراس کے رسول ہیں ‘‘کہتے ہوئے دینِ اسلام قبول کیا،اورآپ ﷺ کے دستِ مبارک پربیعت کی۔

اس موقع پروہاں موجودمسلمانوں کی مسرت اورجوش وخروش کایہ عالم تھاکہ ان سب نے یک زبان ہوکراس قدرپرجوش طریقے سے ’’نعرۂ تکبیر‘‘بلندکیاکہ مکے کی وادی گونج اٹھی…مشرکینِ مکہ کے نامورسرداروں کے کانوں تک جب اس نعرے کی گونج پہنچی… تووہ کھوج میں لگ گئے کہ آج مسلمانوں کے اس قدرجوش وخروش کی وجہ کیاہے؟ اورآخرجب انہیں یہ بات معلوم ہوئی کہ آج عمرمسلمان ہوگئے ہیں …تووہ نہایت رنجیدہ وافسردہ ہوگئے…اوربے اختیاریوں کہنے لگے کہ’’آج مسلمانوں نے ہم سے بدلہ لے لیا‘‘۔

حضرت عمررضی اللہ عنہ کے قبولِ اسلام سے قبل تک مسلمان کمزوروبے بس تھے،چھپ چھپ کراللہ کی عبادت کیاکرتے تھے…جس روزحضرت عمرؓ نے دینِ اسلام قبول کیا، تورسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کیاکہ : ألَسْنَا عَلَیٰ الحَقِّ یَا رَسُولَ اللّہ؟ یعنی’’اے اللہ کے رسول! کیاہم حق پرنہیں ہیں ؟‘‘ آپؐ نے جواب دیا : بَلَیٰ یا عُمَر یعنی’’ہاں اے عمر‘‘۔ تب عمرکہنے لگے : فَفِیمَ الاِخفَائُ؟ یعنی’’توپھرہمیں چھپانے کی کیاضرورت ہے؟‘‘اورتب پہلی بارمسلمان وہاں سے بیت للہ کی جانب اس کیفیت میں روانہ ہوئے کہ انہوں نے دوصفیں بنارکھی تھیں ، ایک صف کی قیادت حضرت عمررضی اللہ عنہ ٗ جبکہ دوسری صف کی قیادت حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کررہے تھے…حتیٰ کہ اسی کیفیت میں یہ تمام مسلمان بیت اللہ کے قریب پہنچے جہاں حسبِ معمول بڑی تعدادمیں رؤسائے قریش موجودتھے،ان سب کی نگاہوں کے سامنے مسلمانوں نے پہلی بارعلیٰ الاعلان بیت اللہ کا طواف کیااورنمازبھی اداکی…یہی وہ منظرتھاجسے دیکھ کررسول اللہ ﷺ نے حضرت عمرکو ’’الفاروق‘‘یعنی’’ حق وباطل کے درمیان فرق اورتمیزکردینے والا‘‘کے یادگارلقب سے نوازاتھا۔

حضرت عمررضی اللہ عنہ کے مزاج میں طبعی اورفطری طورپرہی تندی اورشدت تھی…قبولِ اسلام کے بعداب ان کی یہ شدت اسلام اورمسلمانوں کی حمایت ونصرت میں صرف ہونے لگی،جس سے کمزوروبے بس مسلمانوں کوبڑی تقویت نصیب ہوئی …جیساکہ مشہورصحابی حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ’’مَا زِلنَا أَعِزَّۃً مَنذُ أَسلَمَ عُمَر‘‘ یعنی’’جب سے عمرمسلمان ہوئے ہیں …تب سے ہم طاقت ورہوئے ہیں ‘‘(۱)

اسی طرح حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : (اِن کَانَ اِسلَامُ عُمَر لَفَتْحاً ، وَھِجرَتُہٗ لَنَصْراً ، وَاِمَارَتُہٗ رَحْمَۃً ، وَاللّہِ مَا استَطَعْنَا أن نُصَلِّيَ بَالبَیْتِ حَتّیٰ أسْلَمَ عُمَر‘‘ (۲) یعنی’’ عمرکاقبولِ اسلام ہمارے لئے بڑی فتح تھی،ان کی ہجرت ہمارے لئے نُصرت تھی، اوران کی خلافت ہمارے لئے رحمت تھی،اللہ کی قسم ! عمرکے قبولِ اسلام سے قبل ہم کبھی بیت اللہ کے قریب نمازتک نہیں پڑھ سکتے تھے ‘‘ ۔

حضرت عمررضی اللہ عنہ کے قبولِ اسلام سے قبل کیفیت یہ تھی کہ مکہ میں جوکوئی مسلمان ہوجاتا وہ اپنے قبولِ اسلام کوحتیٰ الامکان چھپانے کی کوشش کیاکرتاتھا…جبکہ اس بارے میں حضرت عمررضی اللہ عنہ کاحال یہ تھاکہ تمام سردارانِ قریش کے پاس جاجاکرانہیں اپنے قبولِ اسلام کے بارے میں خودآگاہ کیاکرتے تھے۔

حضرت صہیب بن سنان الرومی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :(لَمَّا أسْلَمَ عُمَرُ ظَھَرَ الاِسلَامُ، وَدُعِيَ اِلَیہِ عَلَانِیَۃً، وَجَلَسنَا حَولَ البَیتِ حِلَقاً، وَطُفنَا بِالبَیْت وَانتَصَفْنَا مِمَّن غَلَظَ عَلَینا ، وَ رَدَدنَا عَلَیہِ بَعْضَ مَا یَأتِي بِہٖ)۔

یعنی’’جب عمر(رضی اللہ عنہ) مسلمان ہوئے تودینِ اسلام کوغلبہ نصیب ہوا، اوردینِ اسلام کی طرف علیٰ الاعلان دعوت دی جانے لگی،بیت اللہ کے قریب ہم اپنے حلقے بناکر (بے خوف وخطر)بیٹھنے لگے،بیت اللہ کاطواف کرنے لگے،اورماضی میں جولوگ (ہمارے قبولِ اسلام کی وجہ سے )ہمارے ساتھ ظلم وزیادتی اورناانصافی کرتے چلے آرہے تھے…اب ہم کسی حدتک ان سے اپناحق بھی وصول کرنے لگے تھے‘‘۔ (۱)

یوں حضرت عمررضی اللہ عنہ کاقبولِ اسلام مسلمانوں کیلئے فتح ونصرت …جبکہ کفارومشرکین کیلئے شکست وہزیمت کاپیش خیمہ ثابت ہوا۔

حضرت عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ


عنوان: ہجرت


مکہ میں اسی طرح وقت گذرتارہا…حتیٰ کہ جب ہجرت کاحکم نازل ہواتوکیفیت یہ تھی کہ تمام مسلمانوں نے خفیہ طورپرمکہ سے مدینہ کی جانب ہجرت کی،جبکہ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے جب ہجرت کاارادہ کیا…توبڑی ہی شانِ بے نیازی کے ساتھ مشرکینِ مکہ کی بھیڑ سے بے خوف وخطرگذرتے ہوئے بیت اللہ کے قریب پہنچے، نہایت اطمینان کے ساتھ طواف کیا،دورکعت نمازپڑھی،اس کے بعدوہاں موجودان سردارانِ قریش کومخاطب کرتے ہوئے کہا:’’میں مدینہ جارہاہوں …تم میں سے اگرکوئی یہ چاہتاہے کہ اس کی ماں اس کی لاش پرروئے…اس کی بیوی بیوہ ہوجائے…اوربچے یتیم ہوجائیں …تووہ آئے… مجھے روک لے…‘‘۔

یہ سن کروہ تمام سردارانِ قریش سہم گئے،اوران میں سے کسی کوآگے بڑ ھ کرروکنے کی ہمت نہیں ہوئی…اوریوں حضرت عمررضی اللہ عنہ خفیہ ہجرت کی بجائے…علیٰ الاعلان وہاں سے مدینہ کی جانب روانہ ہوگئے۔

حضرت عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ


عنوان: غزوات


مکی دورمسلمانوں کیلئے مظلومیت اورمشکلات کادورتھا،اس کے بعدمدنی دورآیاجومکی دورسے ہرلحاظ سے مختلف تھا،یہاں مسلمان اب مشرکینِ مکہ کے مظالم اورایذاء رسانیوں سے دورمسرورومطمئن اورخوشگوارزندگی بسرکرنے لگے…مشرکینِ مکہ کومسلمانوں کی یہ نئی خوشگوارزندگی پسندنہ آئی ۔ چنانچہ انہوں نے متعددبارمسلمانوں کوصفحۂ ہستی سے نیست ونابودکردینے کی ٹھانی، جس کے نتیجے میں بہت سے غزوات کی نوبت آئی۔ ایسے میں ہرغزوے کے موقع پرحضرت عمررضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کی زیرِقیادت شرکت کی ، شجاعت وبسالت کے بے مثال جوہردکھائے۔ 

اسی کیفیت میں مدینہ میں وقت گذرتارہا،جنگ کاموقع ہویاامن کازمانہ، سفرہو یا حضر، ہمیشہ ہرحالت میں اورہرموقع پرحضرت عمررضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت ٗنیزصحبت ومعیت میں پیش پیش رہے…مزیدیہ کہ ہرموقع پررسول اللہ ﷺ کی مشاورت کے فرائض بھی بحسن وخوبی انجام دیتے رہے۔

 حضرت عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ


عنوان: حضرت عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ کے مناقب


٭…اِنَّ اللّہَ تَعَالَیٰ جَعَلَ الحَقَّ عَلَیٰ لِسَانِ عُمَرَ وَقَلبِہٖ (۱)

ترجمہ:(بے شک اللہ تعالیٰ نے ’’حق ‘‘ کوعمرکی زبان پراوران کے دل میں رکھ دیاہے)

٭…لَو کَانَ نَبِيٌّ بَعدِي لَکَانَ عُمَرَ بن الخَطّاب (۲)

ترجمہ:(میرے بعداگرکوئی نبی ہوتا تویقیناوہ عمربن خطاب ہی ہوتے)

٭…لَقَد کَانَ فِیمَا قَبلَکُم مِنَ الأُمَمِ ٌ مُحَدَّثُونَ مِن غَیرِ أن یَکُونُوا أنبِیَائَ فَاِن یَکُ فِي أُمَّتِي أَحَدٌ فَاِنَّہٗ عُمَرُ (۱)

ترجمہ:(تم سے پہلی امتوں میں کچھ ایسے لوگ ہواکرتے تھے جواگرچہ نبی تونہیں تھے ٗ البتہ ان کے قلب میں [من جانب اللہ] القاء کیاجاتاتھا ، میری امت میں بھی اگرکوئی ایساانسان ہوتو یقیناوہ عمرہی ہوسکتے ہیں )

٭…یَا ابنَ الخَطّابِ! وَالَّذِي نَفسِي بِیَدِہٖ مَا لَقِیَکَ الشَّیطَانُ سَالِکاً فَجّاً اِلَّاسَلَکَ فَجّاً غَیرَکَ (۲)

ترجمہ:(اے ابنِ خطاب! قسم اس اللہ کی جس کے قبضے میں میری جان ہے،جب کبھی شیطان تمہیں کسی راستے پرچلتاہوا دیکھتا ہے تووہ فوراً [وہ راستہ چھوڑکر]دوسرے راستے پرچلنے لگتاہے)

رسول اللہ ﷺ کے نزدیک اپنے جلیل القدرصحابی حضرت عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ کیلئے جومقام ومرتبہ تھا اس کااندازہ مذکورہ بالااحادیث سے بخوبی کیاجاسکتاہے۔

حضرت عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ


عنوان: خلافت کیلئے انتخاب


حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ ہمیشہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت اورصحبت ومعیت میں پیش پیش رہے،علمی استفادہ اورکسبِ فیض کاسلسلہ ہمیشہ جاری رہا، آپؐ بھی ہمیشہ تادمِ آخرحضرت عمربن خطابؓ سے راضی اورمسرورومطمئن رہے،اوریوں آپؐ کامبارک دور گذر گیا۔

آپ ﷺ کے بعدخلیفۂ اول حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے دورِخلافت میں حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کو انتہائی قریبی اورقابلِ اعتمادساتھی اورخصوصی مشیرکی حیثیت حاصل رہی،حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کوحضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کے مشورے ٗ فہم وفراست ٗ دوراندیشی ٗ اوراصابتِ رائے پرہمیشہ مکمل بھروسہ اوراطمینان رہا۔

چنانچہ حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے انتقال سے چندروزقبل مہاجرین وانصار میں سے کبارِصحابہ کے ساتھ مشاورت اورغوروفکرکے بعدیہ وصیت فرمائی کہ میرے بعد عمر بن خطاب مسلمانوں کے خلیفہ کی حیثیت سے فرائض انجام دیں گے۔ اس پربعض افرادنے اظہارِخیال کرتے ہوئے یوں کہاکہ ’’عمرکے بارے میں ہمیں کوئی ترددتونہیں ہے… البتہ یہ کہ ان کے مزاج میں سختی ہے‘‘۔ حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ’’عمرکی سختی اس لئے ہے کہ میں نرم ہوں ،جب ساری ذمہ داری ان پرہوگی ، تووہ خودہی نرم ہوجائیں گے‘‘۔ اس کے بعدمزیدفرمایا:’’اگراللہ نے پوچھا،تویہ جواب دوں گاکہ اپنے بعد ایسے شخص کومسلمانوں کافرمانروا بناکرآیاہوں جوتیرے بندوں میں سب سے بہتر ہے‘‘ ۔

جس روزحضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کاانتقال ہوا،اسی روزیعنی ۲۲/جمادیٰ الثانیہ سن ۱۳ہجری بروزپیرمدینہ میں تمام مسلمانوں نے حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پربیعت کی۔

خلافت کی ذمہ داریاں سنبھالتے ہی حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے سامنے اپنے مختصرخطاب میں کہا:

’’لوگو!تمہارے معاملات کی اب تمامترذمہ داری میرے شانوں پررکھدی گئی ہے،اس لئے میری تمام سختی اب نرمی میں بدل چکی ہے،جوکوئی امن وامان اورسلامتی کے ساتھ رہناچاہے،میں اس کیلئے انتہائی نرم ہوں ،البتہ جولوگ دوسروں پرظلم وزیادتی کرتے ہیں ، میری سختی ان کیلئے بدستورقائم رہے گی،اگرکوئی کسی کے ساتھ ظلم وزیادتی کرے گا تومیں اسے اُس وقت تک نہیں چھوڑوں گاجب تک اُس کاایک رخسارزمین پرٹکاکر ٗاوردوسرے رخسارپرپاؤں رکھ کراُس سے مظلوم کاحق وصول نہ کرلوں …اللہ کے بندو!اللہ سے ڈرو، مجھ سے درگذرکرکے میراہاتھ بٹاؤ،نیکی کوپھیلانے اوربرائی کاراستہ روکنے میں میری مدد کرو، تمہاری جوخدمات اللہ نے میرے سپردکی ہیں ٗ ان کے متعلق مجھے نصیحت کرو،میں تم سے یہ بات کہہ رہاہوں ، اورتمہارے لئے اللہ سے مغفرت طلب کررہاہوں ‘‘۔

حضرت عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ


عنوان: فتوحات


خلیفۂ دوم امیرالمؤمنین فاروقِ اعظم حضرت عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ کادورِحکومت دس سال چھ مہینے اورپانچ دن رہا، حکومتوں کے عروج وزوال کیلئے یہ کوئی بڑی مدت نہیں ، مگرحضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس مختصرعرصے میں اسلامی حکومت کوایک جانب ایشیااوردوسری جانب افریقہ کے قلب تک پہنچادیا…اسلامی فتوحات کاایک سیلاب تھاجس کے آگے بندباندھناکسی کے بس میں نہیں تھا،’’قادسیہ ‘‘اور’’یرموک‘‘جیسی تاریخی جنگیں اسی دورمیں لڑی گئیں جن کے نتیجے میں ہمیشہ کیلئے دنیاکاجغرافیہ ہی بدل گیا۔ ساڑھے دس برس کی اس مختصرمدت میں حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ نے جوعلاقے فتح کئے ان کارقبہ ساڑھے بائیس لاکھ مربع میل سے کچھ زیادہ تھا…ایک لاکھ چھتیس ہزارشہرفتح ہوئے ،جن میں چارہزارمساجدتعمیرکی گئیں ۔ یوں بہت بڑے پیمانے پراللہ کی اس سرزمین پراللہ کے دین کابول بالاہوا…اوراہلِ ایمان کوایسی بے مثال اوریادگارعظمت ورِفعت نصیب ہوئی…جس کی مثال اس کے بعدچشمِ فلک نے کبھی نہیں دیکھی۔سادگی 

حضرت عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ


عنوان: سادگی


اس قدربے مثال فتوحات اورعظیم الشان کارناموں کے باوجودسادگی اورزُہدوتقویٰ کایہ عالم تھا کہ فرشِ خاک پرہی لیٹتے،کسی پتھرکواپناتکیہ بنالیتے،پیوندلگے ہوئے کپڑے پہنتے، اکثرکسی سالن کے بغیرصرف زیتون کے تیل کے ساتھ ہی خشک روٹی کھالیتے،زندگی ہرقسم کے کروفر ٗ نمودونمائش اورٹھاٹ باٹ سے خالی…مگرجلال ایسا…کہ…کوئی شہنشاہ بھی اس کی تاب نہ لاسکتاتھا…عبادتِ الٰہی میں اپنی مثال آپ تھے،خشیتِ الٰہیہ کاہمیشہ غلبہ رہتا…اورمزاج پراکثررقت طاری رہتی تھی۔

فتحِ بیت المقدس کے انتہائی یادگاراورتاریخی موقع پرجب مدینہ منورہ میں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کواپنانائب مقررکرنے کے بعدبیت المقدس کی جانب عازمِ سفرہوئے توکیفیت یہ تھی کہ اس طویل سفرکیلئے بیت المال سے محض ایک اونٹ حاصل کیاگیاجس پروہ خود اورخادم باری باری سواری کرتے رہے۔

اُس وقت روئے زمین کی دونوں طاقتورترین سلطنتوں یعنی ’’فارس ‘‘اور’’روم‘‘ کے مقابلے میں فتح ونصرت کے جھنڈے گاڑنے…اورپھراسی کے نتیجے میں فتحِ بیت المقدس کے اس تاریخی موقع پر…رومیوں کاایک جمعِ غفیروہاں اُمڈآیاتھا…تاکہ مسلمانوں کے فرمانروا اوراس عظیم ترین فاتح کی محض ایک جھلک دیکھ سکیں جس نے بیک وقت قیصروکسریٰ کاغرور ہمیشہ کیلئے خا ک میں ملادیاتھا…جس کے ہاتھوں ان کی شان وشوکت کاسورج ہمیشہ کیلئے غروب ہوگیاتھا، جس کی قیادت میں مٹھی بھرکلمہ گوصحرانشیں آندھی اورطوفان کی مانند ہرطرف چھاگئے تھے…تب ان سب نے اپنی کھلی آنکھوں سے یہ عجیب وغریب اورناقابلِ یقین منظردیکھاکہ یہ عظیم الشان فاتح وکشورکشا…عظیم اسلامی سلطنت کاوالی وفرمانروا…طویل سفرطے کرنے کے بعداب بیت المقدس میں داخل ہوتے وقت اُس کی کیفیت یہ ہے کہ… خودپاپیادہ…جبکہ خادم اونٹ پرسوار…مزیدیہ کہ اُس کے جسم پر جو لباس ہے…اُس میں ایک دونہیں …چودہ پیوندلگے ہوئے ہیں …اورجب اس موقع پرکسی نے لباس تبدیل کرنے کامشورہ دیاتھا…تب اس عظیم فرمانروانے آبِ زرسے لکھے جانے کے قابل ان تاریخی الفاظ میں مختصراوردوٹوک جواب دیتے ہوئے یوں کہاتھا ’’نَحنُ قَومٌ أَعَزَّنَا اللّہُ بِالاِسلَام…‘‘یعنی:’’اللہ نے ہمیں جوعزت دی ہے وہ صرف اسلام کی بدولت دی ہے ،اوربس…‘‘

 حضرت عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ


عنوان: کارنامے اورخدمات


خلیفۂ دوم امیرالمؤمنین حضرت عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ نے اس وسیع وعریض اسلامی سلطنت کانظم ونسق بحسن وخوبی چلانے کی غرض سے متعددبنیادی اقدامات کئے جن کی اہمیت وافادیت وقت کے ساتھ ساتھ خوب نمایاں ہوتی چلی گئی۔مثلاً:

۱… ہجری اسلامی کیلنڈرکاآغاز۔

۲…عُمالِ حکومت یعنی مختلف علاقوں کے سرکاری عہدے داروں کاہمیشہ سختی کے ساتھ محاسبہ اوران پرکڑی نگاہ رکھنا۔

۳…مفتوحہ علاقوں میں بہت سے نئے شہروں کی تعمیر۔

۴…مفتوحہ علاقوں میں حفاظتی اقدام کے طورپرمتعددنئی فوجی چھاؤنیاں تعمیرکی گئیں جن میں سے ہرچھاؤنی میں ہمہ وقت کم ازکم چارہزارگھوڑے جنگی مقاصدکیلئے تیاررہتے تھے۔ ۵… دفاع کومضبوط ومؤثربنانے کی غرض سے متعددنئے قلعے تعمیرکروائے۔

۶…پہلی بارباقاعدہ فوج اورپولیس کامحکمہ قائم کیاگیا۔

۷…سرحدی علاقوں میں گشت کی غرض سے مستقل سرحدی حفاظتی فوج تشکیل دی گئی۔

۸…مستقل احتیاطی فوج تشکیل دی گئی جس میں تیس ہزارگھوڑے تھے۔

۹…فوجیوں کیلئے باقاعدہ وظیفہ اورتنخواہیں مقررکی گئیں ۔

۱۰…ہرفوجی کیلئے ہرچھ ماہ بعدباقاعدہ چھٹی کی سہولت مہیاکی گئی۔

۱۱…باقاعدہ عدالتی نظام رائج کیاگیا ٗنیزقاضی مقررکئے گئے۔

۱۲…بیت المال قائم کیاگیا۔

۱۳…رقبوں اورسڑکوں کی پیمائش کی گئی۔

۱۴…مردم شماری کی گئی۔

۱۵…کاشتکاری کانظام قائم کیاگیا،اس مقصدکیلئے متعددنہریں کھدوائیں ٗملک کے طول وعرض میں آبپاشی کے نظام کوبہتربنایاگیا۔

۱۶…مفتوحہ علاقوں میں چارہزارنئی مساجدتعمیرکی گئیں ۔

۱۷…مساجدمیں روشنی کاانتظام کیاگیا۔

۱۸…اماموں ٗ مؤذنوں ٗ اورخطیبوں کیلئے باقاعدہ وظائف مقررکئے گئے۔

۱۹…معلمین اورمدرسین کیلئے باقاعدہ وظائف مقررکئے گئے۔

۲۰…’’نظامِ وقف‘‘قائم کیاگیا۔

۲۱…غلہ واناج ودیگرغذائی اجناس کی حفاظت کی غرض سے ملک کے طول وعرض میں متعددبڑے بڑے گودام تیارکئے گئے۔

۲۲…اسلامی ریاست کاباقاعدہ سکہ جاری کیاگیا۔

٭…ملکی نظم ونسق سے متعلق ان شاندارکارناموں ٗبے مثال خدمات ٗاوریادگاراقدامات کے علاوہ مزیدیہ کہ :

٭…نمازِتراویح میں مسلمانوں کوایک امام کی اقتداء میں متحداوریکجاکیاگیا۔

٭…تاریخِ اسلام میں پہلی بار’’امیرالمؤمنین‘‘کالقب استعمال کیاگیا، جبکہ اس سے قبل خلیفۂ اول حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کیلئے ’’خلیفۃ رسول اللہ‘‘(یعنی:رسول اللہ ﷺ کے خلیفہ)کالقب استعمال کیاجاتاتھا۔

اورپھرخلیفۂ اول کے بعدجب حضر ت عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ نے خلافت کامنصب سنبھالا،توابتداء میں انہیں ’’خلیفۃُ خلیفۃِ رسولِ اللہ‘‘کہاگیا (یعنی:رسول اللہ ﷺ کے خلیفہ کے خلیفہ)لیکن سبھی نے اس اشکال کوشدت کے ساتھ محسوس کیاکہ یکے بعددیگرے خلفاء کا یہ سلسلہ توبڑھتارہے گا…لہٰذاکتنی بارلفظ’’خلیفہ‘‘ کا اضافہ کیاجائے گا؟چنانچہ غوروفکرکے بعد’’خلیفہ‘‘کی بجائے پہلی بارحضرت عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ کیلئے ’’امیرالمؤمنین‘‘ کا لقب استعمال کیاگیا،اورپھربعدمیں آنے والے خلفاء کیلئے بھی یہی لقب استعمال کیا جاتا رہا ۔

 حضرت عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ


عنوان: عدل وانصاف


خلیفۂ دوم امیرالمؤمنین حضرت عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ کواس حقیقت کابخوبی احساس وادراک تھاکہ بقاء کارازعدل وانصاف میں ہی مضمرہے،لہٰذاچھوٹے بڑے اورامیروفقیرکی رعایت کے بغیرانہوں نے انصاف کے تقاضوں کی ہمیشہ مکمل پاسداری کی اوراس سلسلے میں رہتی دنیاتک اعلیٰ مثال قائم کی ،یہی وجہ ہے کہ آج بھی ’’عدلِ فاروقی‘‘کوضرب المثل سمجھاجاتاہے …اوراس لحاظ سے حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے دورِخلافت کو’’مثالی دور‘‘تسلیم کیاجاتاہے۔

: حضرت عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ


عنوان: رعایاپروری


فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کی نظرخلافت کی ظاہری شان وشوکت پرنہیں تھی،بلکہ ان کی نظرمیں خلافت’’پدرانہ حیثیت‘‘رکھتی تھی،جیسے ایک باپ اپنی اولادکاخیال رکھتاہے ٗ ایسے ہی فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ اپنی رعایاکاخیال رکھتے تھے…آپؓ نے اپنی رعایاکااوراس بارے میں اللہ کے سامنے جوابدہی کااحساس اس حدتک کیاکہ تاریخ اپنے کسی دورمیں اس کی مثال پیش نہیں کرسکتی،اسی احساس کایہ کرشمہ تھاکہ کمزوروں اورمحتاجوں کے جذبات اوران کی تکلیفوں کاصحیح اندازہ لگانے کیلئے آپؓ نے خودکوہمیشہ انہی کی سطح پررکھا… راتوں کواٹھ اٹھ کرشہرکے گلی کوچوں میں گھومتے پھرتے اورلوگوں کے حالات ومشکلات کابذاتِ خوداندازہ لگاتے…رعیت میں سے کسی کے پاؤں میں اگرکانٹاچبھ جاتاتواس کی چبھن اورتکلیف عمراپنے دل میں محسوس کرتے…!!

حضرت عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ


عنوان: شہادت


خلیفۂ دوم امیرالمؤمنین حضرت عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ سن ۲۳ہجری میں جب حجِ بیت اللہ سے واپسی پرمکہ سے مدینہ کی جانب محوِسفرتھے ٗراستے میں ایک جگہ اپنے اونٹ کوبٹھایا،اورزمین پربیٹھ کراپنے ہاتھوں سے سنگریزوں کواِدھراُدھرہٹاتے ہوئے آرام کیلئے کچھ جگہ بنائی …اورپھروہاں اپنی چادربچھاکراس پرلیٹ گئے،جب نگاہ آسمان کی جانب اٹھی توفوراًہی دونوں ہاتھ بھی آسمان کی جانب بلندہوگئے…تب اپنے رب سے مناجات کرتے ہوئے یوں دعاء کی :اَللّھُمَّ کَبُرَتْ سِنِّي ، وَضَعُفَتْ قُوَّتِي ، وَانتَشَرَتْ رَعِیَّتِي ، فَاقبِضنِي اِلَیکَ…یعنی’’اے اللہ!اب میری عمرزیادہ ہوگئی ہے ، قوت بھی کمزورپڑچکی ہے، رعایابھی خوب پھیل چکی ہے،اس لئے اے اللہ!اب تومجھے بس اپنے پاس بلالے‘‘۔ (۱)

اورپھرمدینہ منورہ پہنچنے کے بعدمسجدِنبوی میں خطاب کے دوران اللہ سبحانہ ٗوتعالیٰ سے اپنے لئے شہادت کی دعاء مانگی…لیکن پھرفوراًہی فرمانے لگے : أَنَّیٰ لِي الشَّھَادَۃ؟ یعنی’’میرے نصیب میں شہادت کہاں ؟‘‘

اس جملے سے غالباًمقصدیہ ہوگاکہ مختلف محاذوں پرجواسلامی افواج اللہ کے دین کی سربلندی کی خاطرمصروفِ جہادہیں …وہ تمام علاقے مدینہ سے بہت دور…سینکڑوں ٗ بلکہ ہزاروں میلوں کی مسافت پرہیں …لہٰذامحاذِجنگ سے اس قدردوریہاں مدینہ میں بیٹھے ہوئے ’’شہادت‘‘کی توقع کس طرح کی جاسکتی ہے…؟اورپھرقدرے توقف کے بعدخودہی یوں فرمانے لگے: اِنَّ الَّذِي سَاقَنِي مِن مَکَّۃَ اِلَیٰ المَدِینَۃِ قَادِرٌ عَلَیٰ أن یَسُوقَ لِي الشَھَادَۃَ اِلَیٰ المَدِینَۃ یعنی’’وہ اللہ جس نے اپنے فضل وکرم سے مجھے مکہ سے مدینہ پہنچادیا،یقیناوہ اس بات پربھی قادرہے کہ اب میرے لئے ’’شہادت‘‘ کوبھی یہیں مدینہ میں ہی پہنچادے‘‘۔ (۲)

اس واقعہ کے بعدمحض چندروزہی گذرے تھے کہ ماہِ ذوالحجہ کے آخری دنوں میں ’’ابولولوفیروز‘‘نامی مجوسی غلام نے آپؓ کے قتل کامنصوبہ بنایا،اس مقصدکیلئے اس نے ایک بڑازہرآلودخنجربھی تیارکیا۔ایک روزنمازِفجرسے پہلے ہی اندھیرے کافائدہ اٹھاتے ہوئے وہ مسجدکے کسی کونے میں چھپ کربیٹھ گیا…اورجب نمازکاوقت ہوا …حضرت عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ حسبِ معمول امامت کیلئے آگے بڑھے اورنمازشروع کی،ابھی تکبیرہی کہی تھی کہ ابولولوفیروزنے آگے بڑھ کرخنجرسے کئی وارکئے،لوگوں نے اسے پکڑنے کی کوشش کی تواس نے اندھادھندہرایک کونشانہ بناناشروع کردیا…چونکہ مسجدمیں سب ہی لوگ غیرمسلح تھے اس لئے اسے پکڑنے میں دقت پیش آئی ، اس کے ان حملوں کے نتیجے میں وہاں موجودنمازیوں میں سے تیرہ افرادشدیدزخمی ہوئے ، جن میں سے چھ افراد شہیدہوگئے…کچھ موقع پرہی…اورکچھ بعدمیں …اس موقع پرقاتل نے جب فرارہونے کی کوشش کی توحضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اس پراپناکمبل ڈال دیا،جس پراسے نقل وحرکت میں دشواری پیش آنے لگی،اورتب اس نے گرفتاری سے بچنے کیلئے اپنے اسی خنجرسے ہی خودکشی کرلی…اوریوں وہ بدبخت اپنے اس بدترین جرم کے پیچھے کارفرمااصل ’’سازش‘‘کوہمیشہ کیلئے ’’سربستہ راز‘‘کی شکل میں چھپاگیا۔ 

حضرت عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ جواس اچانک حملے کے نتیجے میں شدیدزخمی ہوجانے کی وجہ سے گرگئے تھے،اب انہوں نے نمازمکمل کرنے غرض سے حضرت عبدالرحمن بن عو ف رضی اللہ عنہ کواشارہ کیا،جس پرانہوں نے آگے بڑھ کر نمازِفجرمکمل کی،جبکہ حضرت عمررضی اللہ عنہ کوفوری طورپراٹھاکرگھرپہنچایاگیا۔

کچھ وقت گذرنے کے بعدجب طبیعت قدرے سنبھلی تواپنے سرہانے موجودحضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہماکومخاطب کرتے ہوئے استفسارکیا’’بھتیجے !وہ حملہ آورکون تھا،اوراس کاانجام کیاہوا؟‘‘اس پرانہوں نے جواب میں یوں کہا’’وہ مجوسی غلام ابولؤلؤفیروزتھا،اوریہ کہ اس نے خودکشی کرلی ہے‘‘ ۔ یہ سن کر فرمایا’’اللہ کاشکرہے کہ مجھے کسی ایسے شخص نے قتل نہیں کیاجواللہ کے سامنے سجدہ ریزہوتاہو‘‘۔

اس موقع پرمہاجرین وانصارمیں سے کبارِصحابہ نے مشورہ دیتے ہوئے کہاکہ ’’اے امیرالمؤمنین! آپ اپناجانشین مقررکردیجئے…تاکہ اختلاف وافتراق کی نوبت نہ آئے‘‘

اس پرحضرت عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ نے چھ حضرات کے نام گنواتے ہوئے فرمایاکہ ’’رسول اللہ ﷺ کے نزدیک ان چھ حضرات کی خاص حیثیت تھی،آپ ﷺ ان سے ہمیشہ خوش رہے اور تادمِ آخرراضی ومطمئن رہے …لہٰذایہی چھ افرادباہم مشاورت کے بعدآپس میں سے ہی کسی کومنصبِ خلافت کیلئے منتخب کرلیں ‘‘۔ وہ چھ افرادیہ تھے:

۱۔حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ۔ ۲۔حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ۔

۳۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ۔۴۔حضرت سعدبن ابی وقاص رضی اللہ عنہ۔۵۔ حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ ۔۶۔حضرت زبیربن العوام رضی اللہ عنہ۔(۱)

نیزاس موقع پریہ تاکیدبھی فرمائی کہ ان چھ حضرات میں سے کسی ایک کے انتخاب کایہ کام زیادہ سے زیادہ تین دن کی مدت میں بہرصورت طے پاجائے،تاکہ معاملہ طول نہ پکڑنے پائے…اوریوں منافقین اورخفیہ دشمنوں کوکسی سازش کاموقع نہ مل سکے۔

حضرت عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ نے اس قاتلانہ حملے کے نتیجے میں زخمی ہونے کے بعدیہ تاکیدکی تھی کہ نئے خلیفہ کے انتخاب تک ان کی جگہ مسجدِنبوی میں نمازصہیب پڑھائیں ۔ چنانچہ اس دوران ٗ نیزحضرت عمرؓکی شہادت کے بعدبھی مزیدتین دن یعنی نئے خلیفہ کے انتخاب تک مسجدِنبوی میں امامت کے فرائض مسلسل حضرت صہیب بن سنان الرومیؓ انجام دیتے رہے۔(۱)

اس کے بعدحضرت عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ نے ان چھ افرادکوبلوایا،اورانہیں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:’’تم میں سے جوشخص خلافت کیلئے منتخب ہو، اسے میں وصیت کرتاہوں کہ وہ ’’انصار‘‘کے حقوق کابہت لحاظ رکھے،کیونکہ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کی مددکی اورمہاجرین کواپنے گھروں میں ٹھکانہ فراہم کیا،انصارتمہارے محسن ہیں ، تمہیں بھی ان کے ساتھ احسان ہی کرناچاہئے،ان کی بھول چُوک سے جہاں تک ممکن ہودرگذراورچشم پوشی سے کام لینا‘‘۔

پھرمزیدفرمایا:’’تم میں سے جوکوئی خلافت کیلئے منتخب ہومیں اسے ’’مہاجرین‘‘کے ساتھ حسنِ سلوک کی بھی وصیت کرتاہوں ‘‘۔

اورپھراپنے بیٹے عبداللہ کوام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاکی خدمت میں یہ کہتے ہوئے بھیجاکہ ’’جاؤ…ان سے میرے لئے رسول اللہ ﷺ اورابوبکررضی اللہ عنہ کے پہلومیں تدفین کی اجازت طلب کرو‘‘

اس پرحضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہماوہاں پہنچے اوراپنے والدیعنی حضرت عمرؓکی طرف سے یہی گذارش کی …جسے سننے کے بعدام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاکی 

آنکھوں سے آنسورواں ہوگئے…اورفرمایا:’’میں اس جگہ کواپنے لئے محفوظ رکھناچاہتی تھی…مگرآج میں عمرکوخودپرترجیح دوں گی…‘‘

۲۶/ذوالحجہ سن ۲۳ہجری بروزِبدھ قاتلانہ حملے کے نتیجے میں زخمی ہونے کے بعدچوتھے روزیعنی یکم محرم سن ۲۴ہجری بروزاتوارتریسٹھ برس کی عمرمیں رسول اللہ ﷺ کے خاص ساتھی اورجلیل القدرصحابی خلیفۂ دوم امیرالمؤمنین فاروقِ اعظم حضرت عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ اس جہانِ فانی سے کوچ کرتے ہوئے اپنے رب سے جاملے…نمازِجنازہ حضرت صہیب بن سنان الرومی رضی اللہ عنہ نے پڑھائی ،مسجدِنبوی میں رسول اللہ ﷺ اورخلیفۂ اول حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے پہلومیں سپردِخاک کئے گئے۔

اللہ تعالیٰ جنت الفردوس میں ان کے درجات بلندفرمائیں ، نیزہمیں وہاں اپنے حبیب ﷺ اورتمام صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی صحبت ومعیت کے شرف سے سرفرازفرمائیں ۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

نسبندی کا شرعی حکم

نسبندی کا شرعی حکم روشن تحقیق السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ نس بندی کرانا کیسا ہے جبکہ ڈاکٹر یہ کہے کہ اب یہ عورت مزید بچے پیدا کرے گی، جس سے اسے سخت بیماری پیدا ہونے یا جان کا خطرہ ہے، اور باقی ضبط تولید کے ذرائع سے بھی کبھی خطرہ رہتا ہے، وہ ذرائع فیل ہو جاتے ہیں، اور عورت حاملہ ہو جاتی ہے، اس صورت میں عورت کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔  *سائل: محمد علی باڑمیر*  . وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ  الجواب وباللہ توفیق  نسبندی کی جائز اور ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدی، شرح مسلم جلد سوم میں فرماتے ہیں  1۔ کوئی شخص تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی (نسبندی کرواتا ہے) اصلًا جائز نہیں ہے، یہ اس لیے کہ حرمت کی علت تنگی رزق کا ہونا قرآن مجید میں مذموم ہے: "لا تقتلوا اولادکم من املاق   (سورہ نمبر 6آیت 151" 2۔ اور کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے، کیونکہ ان کی پرورش میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین ...

کمیشن لینا कमिशन लेना हिंदी अनुवाद आखिर में

हिंदी अनुवाद आखिर में है  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع کے ایک عالم صاحب جو کہ امامت کرتے ہیں ساتھ میں ان کا کاروبار گاڑیوں کے لین دین کا جس میں دو پارٹیوں سے سودا کرواتے ہیں جس میں ان کی ذمہ داری رہتی ہے گاڑیوں کے کاغذ وغیرہ کسی میں فولڈ ہوگا تو گارنٹی ان کی رہتی ہے جس کی وجہ سے کبھی نقصان بھی ہوتا ہے کبھی فائدہ مہینہ دو مہینہ کے بعد جب کاغذ وغیرہ نام پر ہو جاتے ہیں تب 5000/10000 جو کمیشن طے ہوتا ہے وہ ملتا ہے ابھی کوئی شخص بولتا ہے کے کمیشن کا دھندا کرنے والے کے پیچھے نماز نہیں ہوتی قرآن و حدیث کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں سائل قاری غلام رسول ضیائی   کوشل کوٹ ضلع بانسواڑہ راجستھان ُ الجواب و بللہ توفیق    شرعی ضابطے پورے کرتے ہوئے کمیشن کے  ذریعے روزی کمانے میں شرعاً کوئی ممانعت نہیں  ہے، کہ کمیشن یا بروکری وہ ذریعۂ آمدنی ہے جس میں اپنی محنت کے ذریعے ایک سروس دی جاتی ہے اور یہ طریقۂ آمدنی آج کا نہیں بلکہ  صدیوں سے رائج ہے جس کو ہر دور کے علماء نے جائز ہی کہا ۔  بروکر کی اجرت (کمیشن): بروکر کو "اجیر خاص" یا "وکیل" سمجھا جات...

حربی سے سود لینے کا حکم روشن تحقیق

حربی سے سود لینے کا حکم ؟ دارالافتاء گلزارِ طیبہ کی یہ علمی تحقیق نہایت دقیق، جامع اور بصیرت افروز ہے۔ اس میں جہاں امام ابو حنیفہؒ کے قول کا صحیح مفہوم واضح کیا گیا ہے، وہیں اس کے غلط استعمالات اور اس کے دینی، سماجی و بین الاقوامی مضمرات پر بھی مدلل کلام کیا گیا ہے۔ علمی و ادبی تاثرات: 1. محققانہ اسلوب: تحقیق کی بنیاد قرآنی آیات، صحیح احادیث اور فقہاء کی معتبر تشریحات پر رکھی گئی ہے۔ علامہ ابن قدامہ، علامہ سعیدی، امام ابن ہمام، امام شافعی، سرخسی وغیرہ جیسے جلیل القدر علماء کے اقوال سے مزین یہ رسالہ اسلوبِ تحقیق کا عمدہ نمونہ ہے۔ 2. فقہی توازن و اعتدال: تحقیق میں نہ صرف مختلف اقوال کا ذکر کیا گیا بلکہ ان کا تجزیہ بھی علمی انداز میں کیا گیا ہے، جو قاری کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا اصل مدعا کیا تھا، اور بعد کے علماء نے ان کے قول کو کس حد تک محدود کیا ہے۔ 3. دورِ حاضر کے تقاضے: یہ تحقیق صرف نصوص کی بحث نہیں، بلکہ موجودہ حالات کے تناظر میں ایک عملی رہنمائی بھی ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا کے دور میں فتاویٰ کے غلط استعمال، اسلام کے بارے میں پھیلنے والی بدگمانیوں اور ہندوست...