نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

شان ‏فاروق ‏اعظم

شان فاروق اعظم 

سیدنا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شانِ رفیعہ میں چند فرامینِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم پیش کرتا ہوں ۔ 

۱:-نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ:

’’اے ابن خطاب !اس ذات پاک کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، جس راستے پہ آپ کو چلتا ہواشیطان پالیتا ہے وہ اس راستہ سے ہٹ جاتا ہے، وہ راستہ چھوڑ کر دوسراراستہ اختیار کرتا ہے ۔‘‘ (صحیح بخاری)

۲:-صحیح بخاری میں روایت ہے کہ :’’حضور پاک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے حالتِ خواب میں دودھ پیا، یہاں تک کہ میں اس سے سیر ہوگیا اور اس کی سیرابی کے آثار میرے ناخنوں میں نمایاں ہونے لگے، پھر میں نے وہ دودھ عمرؓ کو دے دیا، اصحابِ رسولؓ نے پوچھا: یارسول اللہ! اس خواب کی تعبیر کیا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’علم‘‘۔

۳:-اسی طرح امام بخاری ؒنے ایک اور روایت بھی اپنی صحیح میںدرج کی ہے کہ :

’’ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کویہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: میں نیند میں تھا، میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ میرے سامنے پیش کیے جارہے ہیں اور انہوںنے قمیصیں پہنی ہوئی ہیں، کسی کی قمیص سینے تک اور کسی کی اس سے نیچے تک ،اور پھر عمرؓ کو پیش کیا گیا، انہوں نے ایسی لمبی وکھلی قمیص پہنی ہوئی تھی کہ وہ زمین پر گھسٹتی جارہی تھی ،اصحابِ رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے عرض کیا کہ: یارسول اللہ! اس خواب کی تعبیر کیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’دین ‘‘۔

۴:-اسی طرح بڑی ہی مشہور ومعروف حدیث نبوی ہے کہ :نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا۔‘‘یعنی اگر سلسلۂ نبوت جاری رہتا تو سیدنا حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی منصبِ نبوت سے سرفراز کیے جاتے ۔

۵:-ایک حدیثِ مبارکہ میں ہے کہ :’’رسول مکرم ومعظم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: تم سے پہلے جو اُمم گزری ہیں ان میں مُحدَث ہوا کرتے تھے اور میری امت میں اگر کوئی مُحدَث ہے تو وہ عمرؓ ہے۔‘‘

اسی حدیث مبارکہ میں لفظ’’مُحدَث‘‘کی تشریح میںصاحب فتح الباری علامہ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ یوں تحریر فرماتے ہیں کہ :

’’المُحْدَث المُلْھَم وھو من ألقي في روعہ شيء من قبل الملاء الأعلٰی ومن یجری الصواب علیٰ لسانہٖ بغیر قصد۔‘‘ 

یعنی ’’محدث وہ ہے جس کی طرف اللہ کی طرف سے الہام کیاجائے، ملاء اعلیٰ سے اس کے دل میں القاء کیا جائے اور بغیر کسی ارادہ وقصد کے جس کی زبان پر حق جاری کردیا جائے۔‘‘ یعنی اس کی زبان سے حق بات ہی نکلے ۔

۶:-ایک بار سیدنا عمر رضی اللہ عنہ شفیع اعظم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عمرہ کی اجازت طلب کی تو نبی مکرم ومعظم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’یا أخي أشرکنا في صالح دعاء ک ولا تنسنا‘‘ ۔۔۔ ’’اے میرے بھائی ! اپنی نیک دعائوں میں ہمیں بھی شریک کرنا اور بھول نہ جانا۔‘‘

۷:-سلسلۂ احادیث سے آخری حدیث پیش کرتا ہوں کہ یہ سلسلہ بہت دراز ہے اور دامنِ صفحات میں جگہ کم ،بخاری شریف میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث ہے کہ :’’ ایک دفعہ حضور پرنور صلی اللہ علیہ وسلم اُحد کے پہاڑ پر تشریف لے گئے، ہمراہ ابوبکر ؓ ،عمرؓ اور عثمان ؓ بھی تھے، اُحد کاپہاڑ لرزنے لگا توحضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا قدم مبارک اُحد پر مارتے ہوئے فرمایا: ’’اے اُحد! ٹھہر جا، تجھ پر اس وقت نبی، صدیق اور شہید کے علاوہ اور کوئی نہیں۔‘‘اس کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ دعا فرمایا کرتے تھے کہ: ’’اللّٰھم ارزقني شھادۃ في سبیلک وموتا في بلد حبیبک‘‘ ۔۔۔ ’’اے اللہ! مجھے اپنی راہ میں شہادت کی موت دینا اور موت آئے تو تیرے حبیب( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے شہر میں آئے ۔‘‘

فاروق اعظم کی اصحاب کہف سے ملاقات :

ایک دن نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ وسلم نے رب کی بارگاہ میں اصحاب کہف سے ملاقات کی آرزو کی تو اسی وقت حضرت جبریل علیہ السلام نازل ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ انھیں دنیا میں ظاہراً نہیں دیکھ پائیں گے البتہ اپنے اکابر صحابہ میں چار صحابیوں کو ان کے پاس بھیج دیں تاکہ وہ آپ کا پیغام ان تک پہنچائیں  اور انھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی دعوت دے نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ وسلم پر ایمان لانے کی دعوت دیں، نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ وسلم فرمایا جبریل! اس کی صورت کیا ہوگی میں اپنے صحابہ کو کیسے بھیجوں اور ان کے پاس جانے کا حکم کس کو دوں ؟ جبریل علیہ السلام نے عرض کیا یا رسول اللہ ایسا کرے آپ اپنی چادر مبارک کو بچھائیں  اور ایک طرف ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ اور دوسری طرف عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور تیسری طرف حضرت علی رضی اللہ عنہ اور چوتھی طرف حضرت ابو زر غفاری رضی اللہ عنہ کو بٹھا دیجیے اور پھر ہوا کو بلائیں جسے اللہ تَعَالٰی نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے لیے مسخر فرمایا تھا کیونکہ اللہ نے اسے حکم دیا ہے آپ کی اطاعت کرے آپ اس ہوا سے فرمائے کہ ان چاروں کو اٹھائے اور غار تک لے جائے جہاں اصحاب کہف آرام فرما ہیں چنانچہ ایسا ہی فرمایا تو ہوا نے آپ کی چادر مبارک کو اٹھایا چاروں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس پر آرام و سکون سے بیٹھے رہے دیکھتے ہی دیکھتے وہ چادر آنکھوں سے اوجھل ہو گئی یہاں تک کہ اصحاب کہف کے غار کے پاس ہوانے چادر کو زمین پر رکھ دیا صحابہ کرام نے غار کے قریب پہنچ کر منہ سے پتھر ہٹایا جیسے روشنی اندر پہنچی تو اصحاب کہف کے اس عاشق کتے نے ہلکی سی آواز نکالی لیکن جب اس نے رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ وسلم کے صحابہ کرام کو دیکھا تو ان کے قدموں کے بوسے لینے لگا پھر سر کے اشارے سے اندر آنے کو کہا چاروں صحابہ غار کے اندر گئے اور اصحاب کہف کو سلام کیا  اور آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ وسلم کا سلام پیش کیا اور اصحاب کہف نے جواب دیا اور آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ وسلم پر ایمان لے آئے (فیضان فاروق اعظم جلد 1 صفحہ 305 ( 

فاروق اعظم کے اسلام پر آسمان پر خوشی 

حضرت بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے پر حضرت جبریل علیہ السلام بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے پر آسمان والے ایک دوسرے کو خوشخبری دے رہے ہیں 

عدل فاروق اعظم 

ہرمزان ، نہاوند کا ایرانی گورنر تھا اور مسلمانوں کا کٹر دشمن تھا،اس کی وجہ سے مسلمانوں اور ایرانیوں میں کئی لڑائیاں ہوئیں،آخر ہرمزان گرفتار ہوا،اسے یقین تھا کہ اسے موت کے گھاٹ اتار دیا جائے گا ،لیکن امیر المومنین حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے اسے اس شرط پر رہا کر دیا کہ وہ آئندہ جزیہ دے گا ۔وہ آزاد ہو کر وہ اپنے دارلحکومت پہنچا ، بہت بڑی فوج اکٹھی کی اور مسلمانوں کے مقابلے پر اتر آیا،لیکن اس بار بھی اسے شکست ہوئی اور ہرمزان دوبارہ سے گرفتار ہو کر خلیفہ کے سامنے پیش کیا گیا ۔ ہرمزان کے چہرے سے صاف ظاہر تھا کہ وہ خود کو صرف کچھ لمحوں کا مہمان سمجھتا ہے۔اس کے اورخلیفہ ثانی حضرت سیدنافاروق اعظم رضی اﷲ عنہ کے درمیان ہونے والی بات چیت امیرالمؤمنین کے ایفائے عہدکی ایک درخشندہ مثال ہے،جسے تاریخ نے اپنے سینے میں محفوظ کرلیاہے،ملاحظہ فرمائیے!

خلیفہ : تم نے ہمارے ساتھ کئی بار عہد شکنی کی ہے،تم جانتے ہو کہ اس جرم کی سزا موت ہے ؟

ہرمزان : ہاں میں جانتا ہوں اور مرنے کیلیے تیار ہوں،لیکن میری ایک آخری خواہش ہے۔ میں شدید پیاسا ہوں اور پانی پینا چاہتا ہوں ۔ خلیفہ کے حکم پر اسے پانی کا پیالہ پیش کیا گیا ۔

ہرمزان : مجھے خوف ہے کہ پانی پینے سے پہلے ہی مجھے قتل نہ کر دیا جائے۔

خلیفہ : اطمینان رکھو ، جب تک تم پانی نہ پی لو کوئی شخص تمھارے سر کو نہ چھوئے گا ۔

ہرمزان : آپ نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ جب تک میں پانی نہ پیوں گا ، مجھے قتل نہ کیا جائے گا،لہٰذامیں یہ پانی کبھی نہ پیوں گا (یہ کہہ کر اس نے پیالہ توڑ دیااورفاتحانہ اندازمیں کہنے لگا)اب آپ مجھے کبھی قتل نہیں کر سکتے ۔

خلیفہ : (مسکرا کر )تم نے عجیب چال چلی ہے، لیکن عمر کو اپنے لفظوں کا پاس ہے،جا ؤتم آزاد ہو ۔ ہرمزان شکرگزاری اور حیرانی کے تاثرات کے ساتھ چلا جاتا ہے ۔کچھ عرصہ بعد ہرمزان اپنے کچھ ساتھیوں سمیت خلیفہ کے سامنے حاضر ہوتاہے۔

خلیفہ : ہرمزان ! کیسے آئے ؟

ہرمزان : امیر المؤمنین ! ہم سب ایک نئی زندگی کی تلاش میں ہیں،ہمیں اسلام کا راستہ بتا دیجئے ۔یہ کہتے ہی اس نے اپناہاتھ خلیفہ ثانی حضرت سیدنافاروق اعظم رضی اﷲ عنہ کے دست مبارک میں دے دیااورآپ ؓ کے ایفائے عہدکی بدولت اپنے تمام ساتھیوں کے ساتھ اسلام کے دامن رحمت میں داخل ہوگیا۔

بے مثال عدل

آپ کے عدل کی مثال دنیا کے کسی دوسرے حکمراں میں نہیں ملتی ، آپ کے عدل کی یہ حالت تھی کہ جب آپ کا انتقال ہوا تو آپ کی سلطنت کے دوردراز علاقہ کا ایک چرواہا بھاگتا ہوا آیا اورچیخ کربولا: لوگو!حضرت عمرفاروق کا انتقال ہوگیا ہے ۔لوگوں نے کہا: تم مدینہ سے ہزاروں میل دور جنگل میں رہتے ہو،تمہیں کس نے خبردی ؟ چرواہا بولا: جب تک عمر فاروق رضی اﷲ عنہ زندہ تھے میری بھیڑیں جنگل میں بے خوف چرتی پھرتی تھیں ،کوئی درندہ ان کی طرف آنکھ اٹھاکر نہیں دیکھتا تھا ،لیکن آج پہلی بار ایک بھیڑیا میری بھیڑ کا بچہ اٹھاکر لے گیا ہے ۔ میں نے بھیڑئیے کی اس جراء ت سے جان لیا کہ آج عمررضی اﷲ عنہ دنیا میں نہیں ہیں ۔

مدینہ کے بازارمیں گشت کے دوران ایک موٹے تازے اونٹ پر نظر پڑی ، پوچھا: یہ کس کا اونٹ ہے ؟ بتایا کہ یہ آپ کے صاحبزادے عبداﷲ رضی اﷲ عنہ کا ہے ۔ آپ نے گرجدار آواز میں کہا کہ عبداﷲ کو فورا میرے پاس بلاؤ، جب سیدناعبداﷲ رضی اﷲ عنہ آئے توپوچھا: عبداﷲ! یہ اونٹ تمہارے ہاتھ کیسے آیا؟ عرض کیا : اباجان !یہ اونٹ بڑا کمزورتھا اورمیں نے اس کو سستے داموں خرید کرچراگاہ میں بھیج دیا تاکہ یہ موٹا تازہ ہوجائے اور میں اس کو بیچ کر نفع حاصل کروں۔ یہ سن کر آپ نے فرمایا: تمھاراخیال ہوگا کہ لوگ اس کو چراگاہ میں دیکھ کر کہیں گے : یہ امیر المؤمنین کے بیٹے کا اونٹ ہے، اسے خوب چرنے دو، اس کو پانی پلاؤ ، اس کی خدمت کرو۔ سنو! اس کو بیچ کر اصل رقم لے لو اور منافع بیت المال میں جمع کرادو۔ سیدنا عبداﷲ رضی اﷲ عنہ نے سرتسلیم خم کردیا ۔

امیرالمو منین سیدنا عمر فاروق رض اﷲ عنہ کے دربار میں ایک نوجوان روتے ہوئے داخل ہوا ۔ آپ نے رونے کی وجہ پوچھی :اس نے روتے روتے عرض کیا کہ میں مصر سے آیا ہوں، وہاں کے گورنر کے بیٹے سے دوڑ کے مقابلے میں جیت گیا تو محمد بن عمروبن عاص رضی اﷲ عنہ نے میری کمر پر کوڑے برسائے، جس سے میری کمر چھلنی ہوگئی ۔ وہ کوڑے مارتا رہا اور کہتا رہا کہ تمہاری یہ جراء ت کہ سرداروں کی اولاد سے آگے بڑھو۔ آپ نے یہ داستان سننے کے بعد مصر کے گورنرعمروبن عاص رضی اﷲ عنہ اور ان کے بیٹے کو بلابھیجا، جب وہ آگئے توکہا: یہ ہیں سردار کے بیٹے ، پھرمصری کو کوڑا دیا اور کہا کہ اس کی پیٹھ پرزورسے کوڑے ماروتاکہ اس کو پتا چلے کہ سرداروں کے بیٹوں کی بے اعتدالیوں پر ان کا کیا حشر ہوتا ہے ۔ اس نوجوان نے جی بھر کر بدلہ لیا ۔ یہ ہے وہ بے لاگ عدل جس میں قوموں کی عزت اورترقی کا راز پنہاں ہے ۔

حب رسول صلی اﷲ علیہ وسلم

حضرت فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ ایک مرتبہ مسجد نبوی میں داخل ہوتے تو دیکھا کہ حضور اقدس صلی اﷲ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس رضی اﷲ عنہ کے گھر کا پرنالہ مسجد نبوی کی طرف لگا ہوا ہے،جس کی وجہ سے بارش وغیرہ کا پانی مسجد نبوی کے اندر گرتا تھا۔ حضرت فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ نے سوچا کہ مسجد تو اﷲ تعالیٰ کا گھر ہے اور کسی شخص کے ذاتی گھر کا پرنالہ مسجد کے اندر آرہا ہو تو یہ اﷲ کے حکم کے خلاف ہے چنانچہ آپ نے اس پرنالے کو توڑنے کا حکم دیا او وہ توڑ دیا گیا۔حضرت عباس رضی اﷲ عنہ کو پتا چلا کہ میرے گھر کا پرنالہ توڑ دیا گیا ہے تو حضرت فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ کے پاس آ ئے اور ان سے فرمایا :

یہ پرنالہ حضوراقدس صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانے میں لگا یاتھا اور آپ کی اجازت سے میں نے لگایا تھا۔

حضرت فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : کیا حضور اقدس صلی اﷲ علیہ وسلم نے اجازت دی تھی؟

انھوں نے فرمایا : ہاں! اجازت دی تھی۔ حضرت فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ نے حضرت عباس رضی اﷲ عنہ سے فرمایا :

میرے ساتھ آؤ۔ چنانچہ اس پرنالے کی جگہ کے پاس گئے اور وہاں جاکر خود رکوع کی حالت میں کھڑے ہوگئے اور حضرت عباس رضی اﷲ عنہ سے فرمایا : اب میری کمر پہ کھڑے ہوکر یہ پرنالہ دوبارہ لگاؤ۔ حضرت عباس رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : میں دوسروں سے لگوالوں گا۔ حضرت فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : عمر(رضی اﷲ عنہ) کی یہ مجال کہ وہ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے لگائے ہوئے پرنالے کو توڑ دے، مجھ سے یہ اتنا بڑا جرم سرزد ہوا، اس کی کم از کم سزا یہ ہے کہ میں رکوع میں کھڑا ہوتا ہوں اور تم میری کمر پہ کھڑے ہوکر یہ پرنالہ لگاؤ۔ چنانچہ حضرت عباس رضی اﷲ عنہ نے ان کی کمر پر کھڑے ہوکر وہ پرنالہ اس کی جگہ پر واپس لگادیا۔

قیامت میں جواب دہی کاخوف

ایک بار حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ علاقہ شام سے واپس آئے تو آپ ؓ تنہا ہوکر لوگوں سے حالات دریافت کرنے لگے۔ آپؓ ایک بڑھیا کے پاس سے گزرے اور اُس سے اُس کا حال پوچھا۔

بڑھیا نے کہا :عمرؓ کا کیا حال ہے؟

حضرت عمرؓ : اوہ ابھی شام سے واپس آئے ہیں۔ 

بڑھیا! اﷲ تعالیٰ اُنہیں میری طرف سے جزائے خیر دے۔

حضرت عمرؓ :کیوں؟ آخر اس کا سبب؟

بڑھیا: جب سے وہ خلیفہ ہوئے ہیں، مجھے آج تک بیت المال سے ایک پیسا نہیں ملا۔

حضرت عمرؓ : عمر ؓ کو تیرا حال معلوم نہیں۔

بڑھیا: سبحان اﷲ! یہ آپ نے کیا کہا؟ جو شخص خلیفہ ہو اور پھر اسے یہ معلوم نہ ہو کہ مشرق ومغرب کے درمیان کیا ہورہا ہے؟میری سمجھ میں نہیں آسکتا۔

اس بڑھیاکے یہ الفاظ سُن کر حضرت عمرؓ کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور کہنے لگے:

اے عمرؓ !تجھ پر افسوس ہے، تیری رعایا تجھ سے کیسے جھگڑتی ہے ۔اس کے بعد آپؓ نے بڑھیا سے کہا:

’’اے بڑھیا! تو اپنی داد خواہی کتنے میں فروخت کر کے اپنے دعویٰ سے دستبردار ہوسکتی ہے ،بتا،میں عمرؓ کو اس پر راضی کر لوں گا۔

بڑھیا: اﷲ تعالیٰ تم پر رحم کر ے، میرے ساتھ تم تمسخرنہ کرو۔آخر آپؓ نے 20درہم میں اُس کی داد خواہی خرید لی۔ اس بڑھیاسے رخصت ہونے ہی کوتھے کہ حضرت علیؓ اورعبد اﷲ بن مسعودؓ ’’السلام علیک یا امیر المؤمنین ‘‘کہتے ہوئے آموجود ہوئے۔بڑھیا امیر المؤمنین کا لفظ سنتے ہی سخت پریشان ہوئی ۔حضرت عمرؓ نے فرمایا: اے بڑھیا!افسوس نہ کر، تو نے کوئی الزام کی بات نہیں کہی۔ اس کے بعد حضرت عمرؓ نے ایک کاغذکے ٹکڑے پر یہ عبارت لکھی۔’’بسم اﷲ الرحمن الرحیمیہ تحریر اس امر کے متعلق کہ عمرؓ نے فلاں بڑھیا سے اپنی ابتدائے خلافت سے اب تک اس کی داد خواہی20 درہم میں خرید لی۔ اب اگر وہ قیامت کے دن اﷲ تعالیٰ کے سامنے دعویٰ کرے تو میں اس سے بری ہوں، علیؓاور عبد اﷲ بن مسعود ؓ اس پر گواہ ہیں۔‘‘

صحرامیں بدوکی دادرسی

حضرت عمرفاروقؓ کا دستور تھا کہ جب کبھی کوئی قافلہ باہر سے آکر نواح مدینہ میں اترتا تو آپ ؓ تمام رات چوکی داری کیا کرتے۔ ایک رات آپؓ گشت کرتے ہوئے ایک بدو کے خیمے کے پاس سے گزرے۔ بدوخیمے کے سامنے سر جھکائے خاموش بیٹھا تھا۔ حضرت عمرؓ اس کے پاس جا پہنچے اور اُس سے سفر وغیرہ کے حالات پوچھنے لگے۔ اتنے میں خیمے کے اندر سے ایک عورت کے کراہنے کی آواز آئی۔ 

حضرت عمرؓ نے پوچھا:: یہ کس کی آواز ہے؟

بدو نے کہا کہ میری عورت کو در دِزہ ہورہاہے۔ حضرت عمرؓ یہ سنتے ہی شہر کی طرف لوٹے اور گھر آئے ۔ آپؓ کی زوجہ حضرت ام کلثوم،ؓ جو نیکی وحلم اور محبت واطاعت کی مجسم تصویر تھیں، آپ فی الفور انھیں ہمراہ لے کر اُس بدو کے خیمے کے پاس آئے اور بدو سے کہا : آپ میری بیوی کو خیمہ کے اندر آنے کی اجازت دیں تاکہ وہ اندر جاکر آپ کی بیوی کو تسلی وتشفی دیں اور ممکن امداد کرسکیں۔ چنانچہ بدو نے اجازت دے دی۔ حضرت ام کلثوم ؓ اندر تشریف لے گئیں ۔ پہلے چراغ روشن کیااور پھر تیماداری میں مصروف ہوگئیں۔بدو کو اس وقت تک معلوم نہ تھا کہ آپؓ امیر المؤمنین ہیں۔ جس وقت امیر المؤمنین ؓکی بیوی ام کلثومؓ خیمہ کے اندر تیماداری میں مصروف ہوگئیں، بدو حضرت عمرؓ کے پاس آکر بیٹھ گیا اور کہا بدو:سنا ہے حضرت عمرؓ بڑے سخت گیر ہیں ،کیا تم انہیں جانتے ہو؟

حضرت عمرؓ :واقعی وہ سخت گیر ہیں۔

بدو :میں حیران ہوں کہ مدینہ کے لوگوں نے کیوں اُسے اپنا امیر بنا لیا؟

حضرت عمرؓـ: مسلمانوں کی مرضی ،شاید اُن کی نظر میں عمرؓ اچھا آدمی ہوگا اور کثرت رائے نے انہیں امیر منتخب کر لیا۔

بدو:وہ بڑے پُر لطف کھانے کھاتا ہوگا۔حضرت عمرؓ اور بدو کے درمیان اسی قسم کی گفتگو ہورہی تھی کہ حضرت ام کلثومؓکی آواز آئی:

’’امیر المؤمنین !ً اپنے دوست کو خوش خبری دے دیجیے، اﷲ تعالیٰ نے اُنھیں فرزند عطا کیا ہے۔‘‘

بدو امیر المؤمنین کا نام سنتے ہی گھبرا کر آپ کے برابرسے اُٹھ کر آپ کے سامنے آبیٹھا اور اپنی گستاخی کی معذرت کرنے لگا۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: کوئی حرج نہیں، قوم کا سردار قوم کا سچا خادم ہوتا ہے۔ کل صبح تم میرے پاس آنا، میں بیت المال سے تمہارے بچے کا وظیفہ مقرر کر دوں گا ۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔

فاتح بیت المقدس کی خاکساری

جب صحابہ ؓ کی افواج دورِفاروقیؓ میں بیت المقدس کو فتح کرنے کے لیے گئی تو عیسائیوں نے کہا کہ مسلمانو! ہم تم سے لڑنا نہیں چاہتے،کیوں کہ ہماری تورات میں لکھا ہے کہ بیت المقدس کو فتح کرنے کے لیے اگر مسلمانوں کی افواج آئیں تو تم ان سے لڑائی مت کرنا،اسی طرح یہودیوں نے کہا :ہماری کتاب انجیل میں ہے کہ چابیاں مسلمانوں کے خلیفہ کے سپرد کر دینا۔فوجیں وہیں بیٹھ گئیں اور ایک قاصد مدینہ منورہ بھیجا گیا کہ وہ لوگ چابیاں خلیفۂ وقت کو دینا چاہتے ہیں ۔خلیفہ وقت سیدنا حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے اپنے غلام اسلم کو بلاکرحکم دیاکہ سواری تیا کرو غیر ملکی دورے پر جانا ہے۔اس نے سواری تیا رکی۔فاروقِ اعظمؓ سواری پر سوار ہو گئے ،سادگی اور عدل کی انتہا دیکھیے کہ22 مربع میل پر حکومت کرنے والاخلیفہ وقت اور مسلمانوں کا حاکم جب چلنے لگا تو جسم پروہ کپڑے تھے جن پر سترہ پیوند تھے۔

جانے لگے تو تمام صحابہؓ مل کر اُم المومنین سیدنا عائشہ ؓ کے پاس گئے اور کہا کہ اے امی عائشہ!ؓ دیکھئے فاروقِ اعظمؓ غیر مسلموں سے مذاکرات کرنے جا رہے ہیں، یہ ٹاکیوں والے کپڑے دیکھ کر غیر مسلم کیا کہیں گے۔

فاروقِ اعظمؓ نے سیدہ عائشہ ؓ سے عرض کیا:’’ اے اُم المومنینؓ میں آپ کی بات ٹال نہیں سکتا ،لیکن مجھے یہ بتائیے کیاحضوراکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کے جسم مبارک پر ٹاکیوں والا لباس نہیں ہوتا تھا ــ؟کیا پیغمبرؐ کاچولہا کئی کئی ماہ نہیں بجھا رہتا تھا ؟‘‘۔

چنانچہ اسی حالت میں فاروقِ اعظم ؓ اپنے غلام کو لے کر چل پڑے۔ایک منزل پر پہنچ کر فاروقِ اعظم ؓ نے اپنے غلام کو فرمایا :سواری کو بٹھاؤ۔سواری بیٹھ گئی تو فاروقِ اعظم ؓ نے غلام کے ہاتھوں سے مہار پکڑ کر کہا کہ اب تم سواری پر سوار ہو جاؤ۔ غلام نے کہا ’’امیرالمومنینؓ !میں ایک نوکر ہوں، غلام ہوں،خادم ہوں ‘‘ توفاروقِ اعظمؓ نے فرمایا بحیثیت انسان تُو اور میں برابر ہیں ۔ پھرباریاں طے کرلیں اور باری باری سواری پر سوار ہونے لگے۔ اتفاق سے جب بیت المقدس کے قریب پہنچے تو مہار فاروقِ اعظمؓ کے ہاتھ میں تھی ۔غلام نے کہا: یا امیرالمومنین ؓ !سامنے یہودیوں اور عیسائیوں کی جماعت کھڑی ہے،وہ لو گ کیا کہیں گے کہ مسلمانوں کا خلیفہؓ پیدل آرہا ہے۔تو اس پر فاروقِ اعظمؓ نے فرمایا :میں اس ناانصافی کا جواب میں کیا دوں گا ، اگر آج تیرا حق میں نے استعمال کر لیا۔فاروقِ اعظمؓ نے ایک ہاتھ میں مہار پکڑی اور دوسرے ہاتھ میں ٹوٹا ہوا جوتا جو دورانِ سفر ٹوٹ گیا تھا ۔ اور جب فاروقِ اعظمؓ بیت المقدس پہنچے تو وہ کتابیں کھول کر بیٹھے تھے ۔ایک نے کہا جو سواری پر ہے وہ مسلمانوں کا دوسرا خلیفہ ؓہے۔دوسرے نے کہا نہیں،بلکہ میری کتاب کہتی ہے کہ خلیفہؓ پیدل ہو گا سواری پر غلام ہو گا۔پھر آپ کو چابیاں دے دی گئیں۔

یہ میری جدی پشتی جاگیرنہیں مسلمانوں کی ملک ہے

جب فاروقِ اعظمؓ چابیاں لیے باہر تشریف لائے تو ایک بوڑھا آدمی آیا اور ایک کاغذ فاروقِ اعظمؓ کے ہاتھ میں دیا ۔عمر فاروقؓ نے وہ کاغذ پڑھا اور سر ہلا دیا کہ یہ میرے اختیار میں نہیں۔واپسی پر فاروقِ اعظمؓ سے صحابہ ؓ نے سوال کیا : وہ بوڑھا کون تھا اور وہ خط کیا تھا؟ تو فاروقِ اعظمؓ نے جواب دیا : آج سے چالیس سال قبل میرا والد مجھے یہاں بکریاں چَرانے کے لیے لایاتھا،میں دن کو بکریاں چَراتا اور رات کو یہیں سو جاتا ۔ ایک روز بیت المقدس کی باہر والی دیوار کے ساتھ سو رہا تھا ،صبح جب دھوپ نکلی اور میری آنکھ کھلی تو میں نے دیکھا کہ ایک آدمی میرے چہرے کو بڑے غور سے دیکھ رہا ہے۔میں بیدارہواتومجھ سے مخاطب ہوکراس نے سوال کیا:

تم کون ہو اور کدھر سے آئے ہو ؟میں نے جواب دیا :عرب سے آیا ہوں ،یہاں بکریاں چراتا ہوں ۔اس نے کہا: تیرا نام کیا ہے؟ میں نے کہا: عمر۔یہ سن کراس نے کہا تمہارے باپ کا نام خطاب تو نہیں ۔میں نے کہا ہاں ۔اس نے کہا تم اپنے دائیں پاؤں کی پنڈلی سے کپڑا ٹھاؤ ۔جب میں نے کپڑا اٹھایا تو اس نے کہا :میں گواہی دیتا ہوں اے نوجوان! جو آخری رسول آئے گا تو اس کا دوسرا خلیفہ ہو گا ،میری کتاب تورات میں لکھا ہے :محمدصلی اﷲ علیہ وسلم کا دوسرا خلیفہ عمر ؓ ہو گااور اس کی پنڈلی پر نشان ہو گا۔پھر اس نے کہا: جب یہ علاقہ تیرے قبضہ میں آئے تو تُو مجھے دے گا؟میں نے جان چھڑانے کے لیے کہہ دیا: ہاں دے دوں گا۔ فاروقِ اعظمؓ فرمانے لگے: وہ جو آدمی میرے پاس خط لایا تھا وہی آدمی تھااور اس نے بیت المقدس کا قبضہ مانگاتھا۔ میں نے اس سے معذرت کی اور کہا :یہ مسلمانوں کا علاقہ ہے، میری جدی پشتی کوئی جاگیر نہیں ۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

نسبندی کا شرعی حکم

نسبندی کا شرعی حکم روشن تحقیق السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ نس بندی کرانا کیسا ہے جبکہ ڈاکٹر یہ کہے کہ اب یہ عورت مزید بچے پیدا کرے گی، جس سے اسے سخت بیماری پیدا ہونے یا جان کا خطرہ ہے، اور باقی ضبط تولید کے ذرائع سے بھی کبھی خطرہ رہتا ہے، وہ ذرائع فیل ہو جاتے ہیں، اور عورت حاملہ ہو جاتی ہے، اس صورت میں عورت کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔  *سائل: محمد علی باڑمیر*  . وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ  الجواب وباللہ توفیق  نسبندی کی جائز اور ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدی، شرح مسلم جلد سوم میں فرماتے ہیں  1۔ کوئی شخص تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی (نسبندی کرواتا ہے) اصلًا جائز نہیں ہے، یہ اس لیے کہ حرمت کی علت تنگی رزق کا ہونا قرآن مجید میں مذموم ہے: "لا تقتلوا اولادکم من املاق   (سورہ نمبر 6آیت 151" 2۔ اور کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے، کیونکہ ان کی پرورش میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین ...

کمیشن لینا कमिशन लेना हिंदी अनुवाद आखिर में

हिंदी अनुवाद आखिर में है  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع کے ایک عالم صاحب جو کہ امامت کرتے ہیں ساتھ میں ان کا کاروبار گاڑیوں کے لین دین کا جس میں دو پارٹیوں سے سودا کرواتے ہیں جس میں ان کی ذمہ داری رہتی ہے گاڑیوں کے کاغذ وغیرہ کسی میں فولڈ ہوگا تو گارنٹی ان کی رہتی ہے جس کی وجہ سے کبھی نقصان بھی ہوتا ہے کبھی فائدہ مہینہ دو مہینہ کے بعد جب کاغذ وغیرہ نام پر ہو جاتے ہیں تب 5000/10000 جو کمیشن طے ہوتا ہے وہ ملتا ہے ابھی کوئی شخص بولتا ہے کے کمیشن کا دھندا کرنے والے کے پیچھے نماز نہیں ہوتی قرآن و حدیث کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں سائل قاری غلام رسول ضیائی   کوشل کوٹ ضلع بانسواڑہ راجستھان ُ الجواب و بللہ توفیق    شرعی ضابطے پورے کرتے ہوئے کمیشن کے  ذریعے روزی کمانے میں شرعاً کوئی ممانعت نہیں  ہے، کہ کمیشن یا بروکری وہ ذریعۂ آمدنی ہے جس میں اپنی محنت کے ذریعے ایک سروس دی جاتی ہے اور یہ طریقۂ آمدنی آج کا نہیں بلکہ  صدیوں سے رائج ہے جس کو ہر دور کے علماء نے جائز ہی کہا ۔  بروکر کی اجرت (کمیشن): بروکر کو "اجیر خاص" یا "وکیل" سمجھا جات...

حربی سے سود لینے کا حکم روشن تحقیق

حربی سے سود لینے کا حکم ؟ دارالافتاء گلزارِ طیبہ کی یہ علمی تحقیق نہایت دقیق، جامع اور بصیرت افروز ہے۔ اس میں جہاں امام ابو حنیفہؒ کے قول کا صحیح مفہوم واضح کیا گیا ہے، وہیں اس کے غلط استعمالات اور اس کے دینی، سماجی و بین الاقوامی مضمرات پر بھی مدلل کلام کیا گیا ہے۔ علمی و ادبی تاثرات: 1. محققانہ اسلوب: تحقیق کی بنیاد قرآنی آیات، صحیح احادیث اور فقہاء کی معتبر تشریحات پر رکھی گئی ہے۔ علامہ ابن قدامہ، علامہ سعیدی، امام ابن ہمام، امام شافعی، سرخسی وغیرہ جیسے جلیل القدر علماء کے اقوال سے مزین یہ رسالہ اسلوبِ تحقیق کا عمدہ نمونہ ہے۔ 2. فقہی توازن و اعتدال: تحقیق میں نہ صرف مختلف اقوال کا ذکر کیا گیا بلکہ ان کا تجزیہ بھی علمی انداز میں کیا گیا ہے، جو قاری کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا اصل مدعا کیا تھا، اور بعد کے علماء نے ان کے قول کو کس حد تک محدود کیا ہے۔ 3. دورِ حاضر کے تقاضے: یہ تحقیق صرف نصوص کی بحث نہیں، بلکہ موجودہ حالات کے تناظر میں ایک عملی رہنمائی بھی ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا کے دور میں فتاویٰ کے غلط استعمال، اسلام کے بارے میں پھیلنے والی بدگمانیوں اور ہندوست...