بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا بد مذہبوں کا ہر فرد کافر ہے یعنی بعض وہ بد مذہب جو ان کے اکابروں کے کفریہ نظریات و کفریہ عبارات سے یا واقف نہیں ہیں یا انہیں یہ سکھایا جاتا ہو کہ یہ مولویوں کی آپسی تعصبات کی وجہ سے کفریہ فتوے لگا دیے جاتے ہیں اور وہ عوامی بد مذہب جہلا ہوتے ہیں یہ لوگ چاہے تبلیغی جماعت والے ہو یا اہل حدیث یا کوئی دوسرے بدمذہب فرقے سے تعلق رکھتے ہو تو اب طلب امر بات یہ ہے کہ بد مذہبوں کا ہر فرد کافر ہے اور ان کا ذبیحہ حرام ہے اور انکو سلام کرنا اور مغفرت کی دعا کرنا حرام ہے یا نہیں بینوا تاجرو۔ ساءل علی بخش اکبری راجستھانی
*الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق*
بدمزہب لوگ جو اپنے پیشواؤں کے عقائد کفریات سے واقف نہیں ہیں اور نہ ہی ان لوگوں سے کوئی کفر سرزد ہوا تو اس پر حکم کفر تو نہیں لگائے گئے مگر یہ لوگ گمراہ تو ضرور ہے اور گمراہ لوگوں سے دور رہنے کا حکم ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ایسے لوگوں سے بچو اور انھیں اپنے قریب نہ آنے دو تاکہ وہ تمھیں گمراہ نہ کرے اور فتنہ میں نہ ڈالیں *انوار الحدیث باب جنتی اور جہنمی فرقہ* جب ظاہر ہے کہ وہ گمراہی میں فوت ہوئے ہیں تو ان کے لیے مغفرت کی دعا کرنا مناسب نہیں اور نہ ہی ان لوگوں کا ذبیحہ کھانا جائز بلکہ ان سے دور رہنے میں ہی بھلائی ہے *واللہ اعلم و رسولہ*
دارالافتاء فیضان مدینہ
*فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی*
تاریخ 14 ستمبر 2020 بروز پیر
حربی سے سود لینے کا حکم ؟ دارالافتاء گلزارِ طیبہ کی یہ علمی تحقیق نہایت دقیق، جامع اور بصیرت افروز ہے۔ اس میں جہاں امام ابو حنیفہؒ کے قول کا صحیح مفہوم واضح کیا گیا ہے، وہیں اس کے غلط استعمالات اور اس کے دینی، سماجی و بین الاقوامی مضمرات پر بھی مدلل کلام کیا گیا ہے۔ علمی و ادبی تاثرات: 1. محققانہ اسلوب: تحقیق کی بنیاد قرآنی آیات، صحیح احادیث اور فقہاء کی معتبر تشریحات پر رکھی گئی ہے۔ علامہ ابن قدامہ، علامہ سعیدی، امام ابن ہمام، امام شافعی، سرخسی وغیرہ جیسے جلیل القدر علماء کے اقوال سے مزین یہ رسالہ اسلوبِ تحقیق کا عمدہ نمونہ ہے۔ 2. فقہی توازن و اعتدال: تحقیق میں نہ صرف مختلف اقوال کا ذکر کیا گیا بلکہ ان کا تجزیہ بھی علمی انداز میں کیا گیا ہے، جو قاری کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا اصل مدعا کیا تھا، اور بعد کے علماء نے ان کے قول کو کس حد تک محدود کیا ہے۔ 3. دورِ حاضر کے تقاضے: یہ تحقیق صرف نصوص کی بحث نہیں، بلکہ موجودہ حالات کے تناظر میں ایک عملی رہنمائی بھی ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا کے دور میں فتاویٰ کے غلط استعمال، اسلام کے بارے میں پھیلنے والی بدگمانیوں اور ہندوست...
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com