بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا بد مذہبوں کا ہر فرد کافر ہے یعنی بعض وہ بد مذہب جو ان کے اکابروں کے کفریہ نظریات و کفریہ عبارات سے یا واقف نہیں ہیں یا انہیں یہ سکھایا جاتا ہو کہ یہ مولویوں کی آپسی تعصبات کی وجہ سے کفریہ فتوے لگا دیے جاتے ہیں اور وہ عوامی بد مذہب جہلا ہوتے ہیں یہ لوگ چاہے تبلیغی جماعت والے ہو یا اہل حدیث یا کوئی دوسرے بدمذہب فرقے سے تعلق رکھتے ہو تو اب طلب امر بات یہ ہے کہ بد مذہبوں کا ہر فرد کافر ہے اور ان کا ذبیحہ حرام ہے اور انکو سلام کرنا اور مغفرت کی دعا کرنا حرام ہے یا نہیں بینوا تاجرو۔ ساءل علی بخش اکبری راجستھانی
*الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق*
بدمزہب لوگ جو اپنے پیشواؤں کے عقائد کفریات سے واقف نہیں ہیں اور نہ ہی ان لوگوں سے کوئی کفر سرزد ہوا تو اس پر حکم کفر تو نہیں لگائے گئے مگر یہ لوگ گمراہ تو ضرور ہے اور گمراہ لوگوں سے دور رہنے کا حکم ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ایسے لوگوں سے بچو اور انھیں اپنے قریب نہ آنے دو تاکہ وہ تمھیں گمراہ نہ کرے اور فتنہ میں نہ ڈالیں *انوار الحدیث باب جنتی اور جہنمی فرقہ* جب ظاہر ہے کہ وہ گمراہی میں فوت ہوئے ہیں تو ان کے لیے مغفرت کی دعا کرنا مناسب نہیں اور نہ ہی ان لوگوں کا ذبیحہ کھانا جائز بلکہ ان سے دور رہنے میں ہی بھلائی ہے *واللہ اعلم و رسولہ*
دارالافتاء فیضان مدینہ
*فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی*
تاریخ 14 ستمبر 2020 بروز پیر
نسبندی کا شرعی حکم روشن تحقیق السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ نس بندی کرانا کیسا ہے جبکہ ڈاکٹر یہ کہے کہ اب یہ عورت مزید بچے پیدا کرے گی، جس سے اسے سخت بیماری پیدا ہونے یا جان کا خطرہ ہے، اور باقی ضبط تولید کے ذرائع سے بھی کبھی خطرہ رہتا ہے، وہ ذرائع فیل ہو جاتے ہیں، اور عورت حاملہ ہو جاتی ہے، اس صورت میں عورت کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔ *سائل: محمد علی باڑمیر* . وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ الجواب وباللہ توفیق نسبندی کی جائز اور ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدی، شرح مسلم جلد سوم میں فرماتے ہیں 1۔ کوئی شخص تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی (نسبندی کرواتا ہے) اصلًا جائز نہیں ہے، یہ اس لیے کہ حرمت کی علت تنگی رزق کا ہونا قرآن مجید میں مذموم ہے: "لا تقتلوا اولادکم من املاق (سورہ نمبر 6آیت 151" 2۔ اور کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے، کیونکہ ان کی پرورش میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین ...
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com