السلامعلیکم و رحمت اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسءلہ کے بارے میں کہ کیا مسافر سنت موءکدہ اور واجب نماز پڑھیگا یا نہیں
مع حوالہ کے جواب عنایت فرماءیں
ساءل= مولانا نصیر الدین صدیقی
باڑمیر راجستھا الھند
======== *وعلیکم السلام و رحمۃاللہ و برکاتہ* =======
*الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق* مسافر سنت اور وتر پوری پڑھے گا حضرت بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضر اور سفر دونوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ نماز پڑھی ہیں میں نے آپ کے ساتھ حضر میں ظہر کی 4 رکعتیں پڑھیں اور اس کے بعد دو رکعت، (سنت ) اور سفر میں آپ کے ساتھ ظہر کی دو رکعتیں پڑھیں اور اس کے بعد دو رکعت (سنت ) اور عصر کی دو رکعتیں اور اس کے بعد کوئی (نماز ) نہیں پڑھیں اور مغرب کی سفر اور حضر دونوں میں 3 رکعتیں پڑھیں نہ حضر میں کوئی کمی نہ سفر میں یہ دن کے وتر ہے اور اس کے بعد دو رکعتیں پڑھیں *جامع ترمذی رقم الحدیث 552* وتر اور سنتوں میں قصر نہیں بلکہ پوری پڑھی جائے گی، البتہ بہار شریعت میں ہے کہ خوف اور رواروی کی حالت میں معاف ہے اور امن کی حالت میں پڑھی جائیں *بہار شریعت حصہ 4 صفحہ 747*
مگر وتر پڑھنا ہوگا سنت معاف ہے واللہ اعلم و رسولہ
دارالافتاء فیضان مدینہ
*العارض فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی*
تاریخ *27 اگست 2020 بروز جمعرات*
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com