کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسئلہ کے متعلق کہ ایک امام سند یافتہ عالم ہے اور امامت ایسے گاؤں میں کرتا ہے جس میں اکثر مسلمان سود اور جوا کا کاروبار کرتے ہیں اور امام مذکور کو سب معلوم ہے لیکن برسوں سے اسی گاؤں امامت کرتا ہے سود اور جوا کی رقم سے تنخواہ حاصل کرتا ہے آیا ایسے امام کی اقتداء درست ہے؟ ؟؟
نیز سود اور جوا کے کاروبار کرنے والوں کی دعوت بھی کھاتا ہے تو ایسے امام کے متعلق حکم شرع شریف کیاہے؟ ؟؟
کتب معتبرہ سے مدلل جواب عطا کریں
*الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق*
صورت مسوئلہ میں امام کو معلوم ہے کہ تنخواہ وہی مال حرام سے دیتے ہیں تو لینا ناجائز اور یہ معلوم نہ ہو یا ان کے پاس دونوں قسم کی آمدنی ہو اور حلال و حرام آمدنی کو باہم ملا دیا ہو یا یہ معلوم ہو کہ اس کی بیشتر آمدنی جائز ہے تو لینا جائز ہے *فتاوی بحر العلوم جلد اول صفحہ 386* اور سود خور کے یہاں کھانے سے احتراز مناسب ہے اور شبہ کے مال سے زیادہ احتراز چاہے مگر حرمت نہیں جب تک معلوم نہ ہو (کہ یہ کھانا حرام کمائی سے ہے ) *فیضان فتاوی رضویہ صفحہ 557* اور اگر امام کو یقینی معلوم ہے کہ تنخواہ مال حرام سے ہی دیتے ہیں تو اب امام کو ایسی جگہ نوکری کرنا جائز نہیں اور اگر امام جانتے ہوئے بھی احتراز نہیں کرتا تو اس کی اقتداء صحیح نہیں ہوگی، قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اگر تمہیں خوش آئے کہ خدا تمہاری نماز قبول کرے تو چاہے کہ تمھارے اچھے تمھاری امامت کرے وہ تمھارے صفیر ہے *فتاوی رضویہ جلد 5 صفحہ 445* *واللہ اعلم و رسولہ*
*دارالافتاء فیضان مدینہ*
*فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی*
تاریخ 13 ستمبر 2020 بروز اتوار
حربی سے سود لینے کا حکم ؟ دارالافتاء گلزارِ طیبہ کی یہ علمی تحقیق نہایت دقیق، جامع اور بصیرت افروز ہے۔ اس میں جہاں امام ابو حنیفہؒ کے قول کا صحیح مفہوم واضح کیا گیا ہے، وہیں اس کے غلط استعمالات اور اس کے دینی، سماجی و بین الاقوامی مضمرات پر بھی مدلل کلام کیا گیا ہے۔ علمی و ادبی تاثرات: 1. محققانہ اسلوب: تحقیق کی بنیاد قرآنی آیات، صحیح احادیث اور فقہاء کی معتبر تشریحات پر رکھی گئی ہے۔ علامہ ابن قدامہ، علامہ سعیدی، امام ابن ہمام، امام شافعی، سرخسی وغیرہ جیسے جلیل القدر علماء کے اقوال سے مزین یہ رسالہ اسلوبِ تحقیق کا عمدہ نمونہ ہے۔ 2. فقہی توازن و اعتدال: تحقیق میں نہ صرف مختلف اقوال کا ذکر کیا گیا بلکہ ان کا تجزیہ بھی علمی انداز میں کیا گیا ہے، جو قاری کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا اصل مدعا کیا تھا، اور بعد کے علماء نے ان کے قول کو کس حد تک محدود کیا ہے۔ 3. دورِ حاضر کے تقاضے: یہ تحقیق صرف نصوص کی بحث نہیں، بلکہ موجودہ حالات کے تناظر میں ایک عملی رہنمائی بھی ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا کے دور میں فتاویٰ کے غلط استعمال، اسلام کے بارے میں پھیلنے والی بدگمانیوں اور ہندوست...
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com