اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
علماۓ کرام کی بارگاہ میں سوال ہے ? کہ لڑکی اھل حدیث اور لڑکا سنی انکا نکاح آپس میں ہو سکتا ہے یا نہیں اور نکاح پڑھانے والے پر کیا حکم لگے گا
جواب عطا کریں
بڑی مھر بانی ہو گی
بشیر احمد اکبری پاٹن گجرات
=== *وعلیکم السلام و رحمۃاللہ و برکاتہ* ===
*الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق*
اہل حدیث غیر مقلد فرقہ ہے جو بدمذہب گمراہ ہے ان کے ساتھ سنی کا نکاح نہیں ہو سکتا قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بدمذہب اگر بیمار پڑ جائے تو اس کی عیادت نہ کرو اگر مر جائے تو جنازہ میں شرکت نہ کرو ان سے ملاقات ہو تو انھیں سلام نہ کرو ان کے پاس نہ بیٹھوں نہ کھانا کھاؤ نہ پانی پیو نہ ان کے ساتھ شادی کرو نہ ان کی جنازہ کی نماز پڑھو اور نہ ان کے ساتھ نمازیں پڑھو *انوار الحدیث صفحہ 103* 📕
*مسند امام اعظم صفحہ 23* 📗 ایسی نکاح حرام ہے پڑھانے والا سخت گنہگار مستحق عذاب نار ہے کہ یہ نکاح نہیں بلکہ زنا ہے جس کی سند دے رہا ہے لہٰذا نکاح پڑھانے والے پر لازم ہے کہ وہ اعلانیہ توبہ کرے اور لوگوں کو بتائے کہ یہ نکاح نہیں ہوا *واللہ اعلم و رسولہ*
*دارالافتاء فیضان مدینہ*
*ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری*
*تاریخ 21 جنوری 2021 بروز جمعرات*
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com