نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

کرامات ‏فاروق ‏اعظم

[کرامات فاروق اعظم 

: قبروالوں سے گفتگو : امیرالمؤمنین حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک مرتبہ ایک نوجوان صالح کی قبرپرتشریف لے گئے اور فرمایا کہ اے فلاں! اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ ’’وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتَانْ‘‘ یعنی جوشخص اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرگیا اس کے لئے دوجنتیں ہیں۔ اے نوجوان! بتا تیرا قبر میں کیا حال ہے؟ اُس نوجوان صالح نے قبر کے اندر سے آپ کا نام لے کر پکارا۔ اور بہ آواز بلند دومرتبہ جواب دیا کہ میرے رب نے یہ دونوں جنتیں مجھے عطا فرمادی ہیں۔

مدینہ کی آواز نہاوند تک : امیرالمؤمنین حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے حضرت ساریہ رضی اللہ عنہ کو ایک لشکر کا سپہ سالار بناکر نہاوند کی سرزمین میں جہاد کے لئے روانہ فرمایا۔ آپ جہاد میں مصروف تھے کہ ایک دن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مسجدِنبوی کے منبرپر خطبہ پڑھتے ہوئے ناگہاں یہ ارشاد فرمایا کہ ’’یاساریۃ الجبل‘‘ یعنی اے ساریہ! پہاڑ کی طرف اپنی پیٹھ کرلو۔ حاضرینِ مسجد حیران رہ گئے کہ حضرت ساریہ تو سرزمین نہاوند میں مصروفِ جہاد ہیں اور مدینہ منورہ سے سینکڑوں میل کی دوری پرہیں۔ آج امیرالمؤمنین نے انہیں کیونکر اور کیسے پکارا؟ لیکن نہاوند سے جب حضرت ساریہ رضی اللہ عنہ کا قاصد آیا تو اس نے یہ خبردی کہ میدانِ جنگ میں جب کفار سے ہمارا مقابلہ ہوا تو ہم کو شکست ہونے لگی۔ اتنے میں ناگہاں ایک چیخنے والے کی آواز آئی جو چلاچلاکر یہ کہہ رہا تھا کہ اے ساریہ! تم پہاڑ کی طرف اپنی پیٹھ کرلو پیٹھ کرلو۔ حضرت ساریہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ تو امیرالمؤمنین حضرت فاروق اعظمؓ کی آواز ہے۔ یہ کہا اور فوراً ہی انہوں نے اپنے لشکر کو پہاڑ کی طرف پشت کرکے صف بندی کا حکم دیا اور اس کے بعد جو ہمارے لشکر کی کفار سے ٹکر ہوئی تو ایک دم اچانک جنگ کا پانسہ ہی پلٹ گیا اور دم زدن میں اسلامی لشکر نے کفار کی فوجوں کو روند ڈالا اور عساکر اسلامیہ کے قاہرانہ حملوں کی تاب نہ لاکر کفار کا لشکر میدانِ جنگ چھوڑکر بھاگ نکلا اور افواجِ اسلام نے فتح مُبین کا پرچم لہرادیا

 ابوا لقاسم نے اپنی ”فوائد” میں روایت کی کہ امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس ایک شخص آیا، آپ نے اس کانام دریافت فرمایا:کہنے لگا: میرانام جمرہ (اخگر) ہے۔فرمایا :کس کا بیٹا؟ کہا:ابن شہاب(آتش پارہ ) کا، فرمایا :کن لوگوں میں سے ہے؟ کہا :حرقہ (سوزش) میں سے، فرمایا : تیرا وطن کہاں ہے ؟کہا :حرہ ( تپش) ،فرمایا: اس کے کس مقام پر ؟کہا: ذات لظٰی (شعلہ وار) میں ،فرمایا:اپنے گھر والوں کی خبر لے سب جل گئے، لوٹ کر گھر آیا تو سارا کنبہ جلا پایا۔(2)

  ابو الشیخ نے ”کتاب العظمۃ” میں روایت کی ہے کہ جب مصرفتح ہوا تو ایک روز اہلِ مصر نے حضرت عمر وبن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرض کیا کہ اے امیر! ہمارے دریائے نیل کی ایک رسم ہے جب تک اس کو ادانہ کیاجائے دریاجاری نہیں رہتا انہوں

نے دریافت کیا:کیا؟ کہا: اس مہینے کی گیارہ تاریخ کو ہم ایک کنواری لڑکی کو اس کے والدین سے لے کر عمدہ لباس اور نفیس زیور سے سجاکردریائے نیل میں ڈالتے ہیں۔ حضرت عمر و بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ اسلام میں ہرگز ایسا نہیں ہوسکتا اور اسلام پرانی واہیات رسموں کو مٹاتا ہے۔ پس وہ رسم موقوف رکھی گئی اور دریا کی روانی کم ہوتی گئی یہاں تک کہ لوگوں نے وہاں سے چلے جانے کا قصد کیا، یہ دیکھ کر حضرت عمروبن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے امیر المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں تمام واقعہ لکھ بھیجا، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب میں تحریر فرمایا: تم نے ٹھیک کیا۔بے شک اسلام ایسی رسموں کو مٹاتا ہے۔ میرے اس خط میں ایک رقعہ ہے اس کو دریائے نیل میں ڈال دینا۔ عمرو بن عاص کے پاس جب امیر المومنین کا خط پہنچا اور انہوں نے وہ رقعہ اس خط میں سے نکالا تو اس میں لکھاتھا:”از جانب بندۂ خدا عمر امیرا لمومنین بسوئے نیلِ مصر بعد ازحمدو صلوٰۃ آنکہ اگر تو خود جاری ہے تو نہ جاری ہو اور اللہ تعالیٰ نے جاری فرمایا تو میں اللہ واحد قہار سے درخواست کرتاہوں کہ تجھے جاری فرمادے۔”عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ رقعہ دریائے نیل میں ڈالا ایک شب میں سولہ گز پانی بڑھ گیااور بھینٹ چڑھانے کی رسم مصر سے بالکل موقوف ہوگئی۔ (1)

 حجاز کی گھاٹیوں سے آگ نکلی جس نے سب کچھ خاک تر کر دیا حضرت عمر ؓ نے حضرت تمیم داری ؓ کو ساتھ لیا اور آگ بجھانے نکلے حضرت عمرؓ نے حضرت تمیم داری ؓ سے فر مایا کہ آگ کو ہنکانہ شروع کرو انہوں نے آگ کو اپنی چادر سے ہنکانہ شروع کیا اور اسے دھکیلتے دھکیلتے اس گھاٹی سے جہاں سے نکلی اندر فر ما دیا اور آج تک دوبارہ وہ آگ نہیں نکلی۔


سید نا حضرت علی ؓ نے خلافت فاروقی ؓ کے دور میں ایک بار خواب میں دیکھا کہ حضور نماز پڑھا رہے ہیں بعد از نماز حضور محراب سے تکیہ لگا کر بیٹھ گئے اتنے میں ایک عورت چھوہاروں کا ایک طباق لیکر مسجد میں آئی اور آنحضرت کی خد مت میں پیش کیا آپ نے دو چھوہارے مجھے دیئے حضرت علی ؓ فر ماتے ہیں صبح میں نماز ادا کر نے کے لیئے مسجد نبوی پہنچا حضرت عمر ؓ نے حسب معمول نماز پڑھائی پھر نماز کے بعد مسجد کے محراب سے تکیہ لگا کر بیٹھ گئے اتنے میں ایک عورت چھو ہا روں کا طبق لے کر آئی حضرت علی ؓ فر ما تے ہیں حضرت عمر فاروق ؓ نے مجھے اس میں سے دو چھوہا رے اٹھا کر دیئے اور میرے منہ میں رکھ دیئے حضرت علی ؓ فر ماتے ہیں میں نے کچھ اور کی خواہش کی تو حضرت عمر ؓ نے فر ما یا رات کو محبوب دو عالم حضرت محمد دو سے زائد دیتے تو میں بھی ضرور دیتا اس کے بعد فر ما یا مومن فراست ایمانی سے پہنچا ن لیتا ہے ۔




حضرت عمر ؓ کی کرامت میں سے آپ کی وہ دعا بھی ہے جو پروردگار کے حضور مانگ کرتے تھے اے اللہ مجھے اپنی راہ میں شہادت کی موت نصیب فر ما اور دے بھی شہر مدینہ میں صحابہ کرام ؓ اس پر تعجب کا اظہار کرتے کیونکہ شہادت تو میدان میں آتی ہے لیکن اللہ تعالی نے دعا قبول کی شہا دت بھی مدینہ شہر میں آئی مسجد نبوی میں نصیب ہوئی ۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

نسبندی کا شرعی حکم

نسبندی کا شرعی حکم روشن تحقیق السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ نس بندی کرانا کیسا ہے جبکہ ڈاکٹر یہ کہے کہ اب یہ عورت مزید بچے پیدا کرے گی، جس سے اسے سخت بیماری پیدا ہونے یا جان کا خطرہ ہے، اور باقی ضبط تولید کے ذرائع سے بھی کبھی خطرہ رہتا ہے، وہ ذرائع فیل ہو جاتے ہیں، اور عورت حاملہ ہو جاتی ہے، اس صورت میں عورت کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔  *سائل: محمد علی باڑمیر*  . وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ  الجواب وباللہ توفیق  نسبندی کی جائز اور ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدی، شرح مسلم جلد سوم میں فرماتے ہیں  1۔ کوئی شخص تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی (نسبندی کرواتا ہے) اصلًا جائز نہیں ہے، یہ اس لیے کہ حرمت کی علت تنگی رزق کا ہونا قرآن مجید میں مذموم ہے: "لا تقتلوا اولادکم من املاق   (سورہ نمبر 6آیت 151" 2۔ اور کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے، کیونکہ ان کی پرورش میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین ...

کمیشن لینا कमिशन लेना हिंदी अनुवाद आखिर में

हिंदी अनुवाद आखिर में है  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع کے ایک عالم صاحب جو کہ امامت کرتے ہیں ساتھ میں ان کا کاروبار گاڑیوں کے لین دین کا جس میں دو پارٹیوں سے سودا کرواتے ہیں جس میں ان کی ذمہ داری رہتی ہے گاڑیوں کے کاغذ وغیرہ کسی میں فولڈ ہوگا تو گارنٹی ان کی رہتی ہے جس کی وجہ سے کبھی نقصان بھی ہوتا ہے کبھی فائدہ مہینہ دو مہینہ کے بعد جب کاغذ وغیرہ نام پر ہو جاتے ہیں تب 5000/10000 جو کمیشن طے ہوتا ہے وہ ملتا ہے ابھی کوئی شخص بولتا ہے کے کمیشن کا دھندا کرنے والے کے پیچھے نماز نہیں ہوتی قرآن و حدیث کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں سائل قاری غلام رسول ضیائی   کوشل کوٹ ضلع بانسواڑہ راجستھان ُ الجواب و بللہ توفیق    شرعی ضابطے پورے کرتے ہوئے کمیشن کے  ذریعے روزی کمانے میں شرعاً کوئی ممانعت نہیں  ہے، کہ کمیشن یا بروکری وہ ذریعۂ آمدنی ہے جس میں اپنی محنت کے ذریعے ایک سروس دی جاتی ہے اور یہ طریقۂ آمدنی آج کا نہیں بلکہ  صدیوں سے رائج ہے جس کو ہر دور کے علماء نے جائز ہی کہا ۔  بروکر کی اجرت (کمیشن): بروکر کو "اجیر خاص" یا "وکیل" سمجھا جات...

حربی سے سود لینے کا حکم روشن تحقیق

حربی سے سود لینے کا حکم ؟ دارالافتاء گلزارِ طیبہ کی یہ علمی تحقیق نہایت دقیق، جامع اور بصیرت افروز ہے۔ اس میں جہاں امام ابو حنیفہؒ کے قول کا صحیح مفہوم واضح کیا گیا ہے، وہیں اس کے غلط استعمالات اور اس کے دینی، سماجی و بین الاقوامی مضمرات پر بھی مدلل کلام کیا گیا ہے۔ علمی و ادبی تاثرات: 1. محققانہ اسلوب: تحقیق کی بنیاد قرآنی آیات، صحیح احادیث اور فقہاء کی معتبر تشریحات پر رکھی گئی ہے۔ علامہ ابن قدامہ، علامہ سعیدی، امام ابن ہمام، امام شافعی، سرخسی وغیرہ جیسے جلیل القدر علماء کے اقوال سے مزین یہ رسالہ اسلوبِ تحقیق کا عمدہ نمونہ ہے۔ 2. فقہی توازن و اعتدال: تحقیق میں نہ صرف مختلف اقوال کا ذکر کیا گیا بلکہ ان کا تجزیہ بھی علمی انداز میں کیا گیا ہے، جو قاری کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا اصل مدعا کیا تھا، اور بعد کے علماء نے ان کے قول کو کس حد تک محدود کیا ہے۔ 3. دورِ حاضر کے تقاضے: یہ تحقیق صرف نصوص کی بحث نہیں، بلکہ موجودہ حالات کے تناظر میں ایک عملی رہنمائی بھی ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا کے دور میں فتاویٰ کے غلط استعمال، اسلام کے بارے میں پھیلنے والی بدگمانیوں اور ہندوست...