السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں لوگ قبرستان پر آتے تو شیرنی لے کر آتے ہیں اگر ان میں سے کوئی شیرنی نہیں لاتا ہے تو مدرسہ میں پیسے دے کر جاتا ہے اور کہہ کر جاتا ہے کہ اس پیسوں کی شیرنی لے کر بچوں میں تقسیم کر دینا اگر ان پیسوں کو مدرسہ میں ایصال ثواب کے لئے خرچ کر سکتے ہیں۔ ۔ شفیع محمد سالاریہ_*وعلیکم السلام و رحمۃاللہ و برکاتہ* ____
*الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق*
صورت مسوئلہ میں یہ پیسے امانت ہے جس مقصد کے لیے دئیے گئے ہیں اسی میں خرچ کرنا لازم ہے ورنہ امانت میں خیانت کا گناہ ہوگا آپ ایمانداری سے خرچ کرے جس کے لئے پیسے دئیے گئے ہیں قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسلمان ایماندار جو کچھ بھی خرچ کرتا ہے اور بعض دفعہ فرمایا وہ چیز پوری طرح دیتا ہے جس کا اسے سرمایہ کے مالک کی طرف سے حکم دیا گیا ہے اور اس کا دل بھی اس سے خوش ہے اور اسی کو دیا ہے جسے دینے کے لیے مالک نے کہا تھا تو وہ دینے والا بھی صدقہ دینے والوں میں سے ایک ہے *صحیح بخاری رقم الحدیث 1438*
*واللہ اعلم و رسولہ *
*فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی*
تاریخ 07/ستمبر 2020 بروز پیر دارالافتا۶ فیضان مدینہ نیاز
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com