نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

مدینہ ‏کی ‏جانب

السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسۂلہ کے جواب میں کہ زید کہتا ہے کہ مدینہ منورہ کی جانب منہ کر کے پیشاب کر سکتے ہیں مدلل جواب دے کر شکریہ کا موقع فراہم کیجئے ناچیز محمد جمال الدین اکبری  *وعلیکم السلام و رحمۃاللہ و برکاتہ*
*الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق*    سیدنا ابوسہلہ سائب بن خلاد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، احمد( بن صالح امام ابو داؤد کے استاد) کہتے ہیں کہ وہ(سائب رضی اللہ عنہ) اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں سے ہیں) اُن سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ایک قوم کی امامت کی اس نے قبلہ کی طرف تھوکا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی طرف دیکھ رہے تھے جب وہ نماز سے فارغ ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا آئندہ سے وہ امامت نہ کرائے۔ اس کے بعد اس نے پھر امامت کا ارادہ کیا تو لوگوں نے منع کر دیا اور اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قول سے مطلع کیا تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ ہاں میں نے منع کیا ہے) ابوسہلہ کہتے ہیں کہ میرا گمان ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا کہ تو نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف پہنچائی ہے ۔
سنن ابوداؤد:جلد اول:حدیث نمبر 479 نماز کا بیان :
مسجد میں تھوکنا مکروہ ہے۔ ( الراوي: السائب بن خلاد المحدث:الألباني - المصدر: صحيح أبي داود - الصفحة أو الرقم: 481خلاصة حكم المحدث: حسن ) جب کعبہ کی طرف تھوکنا منع ہے اور یہ بے ادبی ہے تو اسی طرح مدینہ منورہ کی جانب تھوکنا بھی بدرجہ اولی منع ہے نہ کہ پیشاب کرنا یہ تو سخت بے ادبی ہے مدینہ منورہ کا ادب جنتا کعبہ کا ہے اتنا ہی مدینہ منورہ کا بھی ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ ادب لازم ہے سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلوی رحمۃاللہ علیہ نے کیا خوب فرمایا *حاجیوں آوں شہنشاہ کا روضہ دیکھو*
*کعبہ تو دیکھ چکے کعبے کا کعبہ دیکھو*
لہٰذا زید کا کہنا صحیح نہیں *واللہ اعلم و رسولہ*
*دارالافتاء فیضان مدینہ*
*فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی*
تاریخ 9 ستمبر 2020 بروز بدھ

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

نسبندی کا شرعی حکم

نسبندی کا شرعی حکم روشن تحقیق السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ نس بندی کرانا کیسا ہے جبکہ ڈاکٹر یہ کہے کہ اب یہ عورت مزید بچے پیدا کرے گی، جس سے اسے سخت بیماری پیدا ہونے یا جان کا خطرہ ہے، اور باقی ضبط تولید کے ذرائع سے بھی کبھی خطرہ رہتا ہے، وہ ذرائع فیل ہو جاتے ہیں، اور عورت حاملہ ہو جاتی ہے، اس صورت میں عورت کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔  *سائل: محمد علی باڑمیر*  . وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ  الجواب وباللہ توفیق  نسبندی کی جائز اور ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدی، شرح مسلم جلد سوم میں فرماتے ہیں  1۔ کوئی شخص تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی (نسبندی کرواتا ہے) اصلًا جائز نہیں ہے، یہ اس لیے کہ حرمت کی علت تنگی رزق کا ہونا قرآن مجید میں مذموم ہے: "لا تقتلوا اولادکم من املاق   (سورہ نمبر 6آیت 151" 2۔ اور کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے، کیونکہ ان کی پرورش میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین ...

کمیشن لینا कमिशन लेना हिंदी अनुवाद आखिर में

हिंदी अनुवाद आखिर में है  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع کے ایک عالم صاحب جو کہ امامت کرتے ہیں ساتھ میں ان کا کاروبار گاڑیوں کے لین دین کا جس میں دو پارٹیوں سے سودا کرواتے ہیں جس میں ان کی ذمہ داری رہتی ہے گاڑیوں کے کاغذ وغیرہ کسی میں فولڈ ہوگا تو گارنٹی ان کی رہتی ہے جس کی وجہ سے کبھی نقصان بھی ہوتا ہے کبھی فائدہ مہینہ دو مہینہ کے بعد جب کاغذ وغیرہ نام پر ہو جاتے ہیں تب 5000/10000 جو کمیشن طے ہوتا ہے وہ ملتا ہے ابھی کوئی شخص بولتا ہے کے کمیشن کا دھندا کرنے والے کے پیچھے نماز نہیں ہوتی قرآن و حدیث کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں سائل قاری غلام رسول ضیائی   کوشل کوٹ ضلع بانسواڑہ راجستھان ُ الجواب و بللہ توفیق    شرعی ضابطے پورے کرتے ہوئے کمیشن کے  ذریعے روزی کمانے میں شرعاً کوئی ممانعت نہیں  ہے، کہ کمیشن یا بروکری وہ ذریعۂ آمدنی ہے جس میں اپنی محنت کے ذریعے ایک سروس دی جاتی ہے اور یہ طریقۂ آمدنی آج کا نہیں بلکہ  صدیوں سے رائج ہے جس کو ہر دور کے علماء نے جائز ہی کہا ۔  بروکر کی اجرت (کمیشن): بروکر کو "اجیر خاص" یا "وکیل" سمجھا جات...

حربی سے سود لینے کا حکم روشن تحقیق

حربی سے سود لینے کا حکم ؟ دارالافتاء گلزارِ طیبہ کی یہ علمی تحقیق نہایت دقیق، جامع اور بصیرت افروز ہے۔ اس میں جہاں امام ابو حنیفہؒ کے قول کا صحیح مفہوم واضح کیا گیا ہے، وہیں اس کے غلط استعمالات اور اس کے دینی، سماجی و بین الاقوامی مضمرات پر بھی مدلل کلام کیا گیا ہے۔ علمی و ادبی تاثرات: 1. محققانہ اسلوب: تحقیق کی بنیاد قرآنی آیات، صحیح احادیث اور فقہاء کی معتبر تشریحات پر رکھی گئی ہے۔ علامہ ابن قدامہ، علامہ سعیدی، امام ابن ہمام، امام شافعی، سرخسی وغیرہ جیسے جلیل القدر علماء کے اقوال سے مزین یہ رسالہ اسلوبِ تحقیق کا عمدہ نمونہ ہے۔ 2. فقہی توازن و اعتدال: تحقیق میں نہ صرف مختلف اقوال کا ذکر کیا گیا بلکہ ان کا تجزیہ بھی علمی انداز میں کیا گیا ہے، جو قاری کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا اصل مدعا کیا تھا، اور بعد کے علماء نے ان کے قول کو کس حد تک محدود کیا ہے۔ 3. دورِ حاضر کے تقاضے: یہ تحقیق صرف نصوص کی بحث نہیں، بلکہ موجودہ حالات کے تناظر میں ایک عملی رہنمائی بھی ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا کے دور میں فتاویٰ کے غلط استعمال، اسلام کے بارے میں پھیلنے والی بدگمانیوں اور ہندوست...