السلام عليكم ورحمۃ الله وبركاته۔ سوال کیا فرماتے ہیں علمائے کرام وہ مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں جو کہ ہمارے امام صاحب نے جان بوجھ کر دیوبندی کے یہاں قربانی کی ہے جیسا کہ انہیں بخوبی طور پر معلوم تھا کہ وہ لوگ عقائد باطلہ فاسدہ کو ماننے والے ہے پھر بھی ہمارے امام صاحب نے جان بوجھ کر یہ غلطی کر بیٹھےاور قربانی کر دیئے مگر ان کے یہاں کچھ کھایا پیا نہیں ہے تو ہمارے امام صاحب پر کیا حکم شرعیہ وارد ہوتے ہیں جواب عنایت فرمائیں مفتیان عظام مع حوالہ سائل عزیزم محمد عتیق احمد اشرفی پرتاپ گڑھ یو۔پی
======= *وعلیکم السلام و رحمۃاللہ و برکاته* =======
*الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق*
امام صاحب کا دیوبندی کے وہاں جا کر قربانی کرنا جائز نہیں دیوبندی اپنے کفریات قطعیہ کی بنا پر بمطابق فتاوی حسام الحرمین کافر و مرتد ہیں ایسے لوگوں سے میل جول رکھنا حرام ہے *قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم* بدمزہب اگر بیمار پڑ جائے تو اس کی عیادت نہ کرو اگر مر جائے تو جنازہ میں شریک نہ ہو ان سے ملاقات ہو تو انھیں سلام نہ کرو ان کے پاس نہ بیٹھوں نہ کھانا کھاؤں نہ پانی پیئے نہ ان کے ساتھ شادی بیاہ کرو نہ ان کی جنازہ کی نماز پڑھوں اور نہ ان کے ساتھ نماز پڑھو *مسند امام اعظم صفحہ 23* اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ ان کے وہاں جانا بھی سخت ممنون ہے امام صاحب توبہ کریں امام قوم کا رہنما ہوتا ہے جب امام ان کے وہاں جائیں گے تو عوام بھی امام کو دیکھ کر کہی وہ بھی گمراہ نہ ہو جائیں *واللہ اعلم و رسولہ*
*دارالافتاء فیضان مدینہ*
*فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی*
نسبندی کا شرعی حکم روشن تحقیق السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ نس بندی کرانا کیسا ہے جبکہ ڈاکٹر یہ کہے کہ اب یہ عورت مزید بچے پیدا کرے گی، جس سے اسے سخت بیماری پیدا ہونے یا جان کا خطرہ ہے، اور باقی ضبط تولید کے ذرائع سے بھی کبھی خطرہ رہتا ہے، وہ ذرائع فیل ہو جاتے ہیں، اور عورت حاملہ ہو جاتی ہے، اس صورت میں عورت کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔ *سائل: محمد علی باڑمیر* . وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ الجواب وباللہ توفیق نسبندی کی جائز اور ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدی، شرح مسلم جلد سوم میں فرماتے ہیں 1۔ کوئی شخص تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی (نسبندی کرواتا ہے) اصلًا جائز نہیں ہے، یہ اس لیے کہ حرمت کی علت تنگی رزق کا ہونا قرآن مجید میں مذموم ہے: "لا تقتلوا اولادکم من املاق (سورہ نمبر 6آیت 151" 2۔ اور کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے، کیونکہ ان کی پرورش میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین ...
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com