السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں
ھندہ, زید کی بیوی ہے اور بکر کی بہو اب ھندہ کا کہنا ہے کے بکر جو اسکے سسر ہے اسنے شہوت کے ساتھ چھوا
اور بکر (سسر) کا کہنا ہے کہ میں نے نہیں چھوا
اب زید کے لئے کیا حکم ہے کیا ھندہ زید کے نکاح میں ہے کہ نہیں؟
السائل : سید محمد عرفان شاہ
===== *وعليكم السلام و رحمۃاللہ و برکاتہ* ======
*الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق*
صورت مسوئلہ میں ہندہ نے جو الزام بکر پر لگایا ہے اور بکر اس الزام سے انکار کر رہا ہے تو ہندہ پر گواہ پیش کرنا لازم ہے اور اگر ہندہ گواہ پیش نہ کرے تو بکر کا قول مان لیا جائے گا جیسا کہ علامہ مفتی امجد علی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں عورت نے دعوٰی کیا کہ مرد نے اس کے اصول و فروع کو بشہوت چھوا یا بوسہ لیا یا کوئی اور بات کی ہے جس سے حرمت ثابت ہوتی ہے اور مرد نےانکار کیا تو قول مرد کا لیا جائے گا جبکہ عورت گواہ نہ پیش کر سکے *واللہ اعلم و رسولہ*
*دارالافتاء فیضان مدینہ*
فقیر *ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی*
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com