السلام علیکم و رحمت اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع متین
خالد کی ماں کا گردہ ( kidney ) خراب ہے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ خالد اپنا ایک گردہ ( kidney ) ماں کو ڈونیٹ( donet) کردے تو ماں کی جان کو بچایا جا سکتا ہے
تو کیا خالد اپنا گردہ نکلوا سکتا ہے؟
السائل: احمد شاہ سید
كچھ بھوج
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق صورت مسئولہ میں خالد کو یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ اپنا گردہ ماں کو دے کیونکہ انسان اپنے جسم کا مالک نہیں ہے اللہ تَعَالٰی فرماتا! اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰى مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَؕ بیشک اللہ نے مسلمانوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال اس بدلے میں خرید لئے کہ ان کے لیے جنت ہے (سورتہ التوبہ 11 ) انسان کے اعضاء اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی امانت ہیں، جنہیں خود جائز حدود میں استعمال کرنے اور ان سے نفع اٹھانے کا انسان کو حق حاصل ہے، لیکن انسان اپنے اعضاء کا مالک نہیں ہوتا، نہ ہی انسانی اعضاء مال ہیں ؛ اس لیے نہ ہی انسان اپنے اعضاء میں سے کسی عضوکوہبہ کرسکتاہے اورنہ عطیہ کرنے کی وصیت کرسکتاہے۔ اعضائے انسانی کا زندگی میں یابعد از مرگ کسی کوعطیہ کرنا ناجائزوحرام ہے۔نیز انسان قابلِ احترام وتکریم ہے،اس کے اعضاء میں سے کسی عضو کو اس کے بدن سے جدا کرکے دوسرے انسان کودینے میں انسانی تکریم کی خلاف ورزی لازم آتی ہے، اسی بناپرفقہاءِ کرام نے علاج معالجہ اورشدیدمجبوری کے موقع پربھی انسانی اعضاء کے استعمال کو ممنوع قراردیاہے۔مزیدتفصیلات کے علامہ غلام رسول سعیدی رحمت اللہ علیہ کی شرح صحیح مسلم جلد دوم ملاحظہ فرمائیں اور یہ ہی فیصلہ مجلس شرعی کا ہے اس طرح علاج کروانا کیا واجب ہے؟ اس پر یہ کلام ہوا کہ علاج کا حکم یہ نہیں ہے (یعنی واجب ) بلکہ کتابوں میں موجود ہے کہ علاج نہ کیا اور مر گیا تو گنہگار نہ ہوگا اس لیے کہ علاج سے شفا یقینی نہیں ۔۔پیوندکاری سے کامیابی کی جو شرح دی گئی ہے وہ ہمارے حق میں اول یقینی نہیں ثانیاً یہ شرح بحیثیت مجموعی ہے آپریشن کے مرحلے سے شفا تک گزر نے میں اتنے مراحل ہیں کہ ہر ہر مرحلہ پر ہلاکت کا خطرہ ہوتا ہے پھر مریض خاص کے حق میں زیادہ سے زیادہ ظن اور امید کا حصول ہوتا ہے قطع و یقین کا نہیں !دوسری طرف جو عضو عطا کرنے والا تندرست و توانا انسان ہے خاص اس کے حق میں کوئی حاجت و اضطرار نہیں کہ وہ اپنا عضو دوسرے کو دے ان حالات کے پیش نظر عضو انسان سے عضو انسان کی پیوند کاری کے جواز کا حکم بہت مشکل ہے بلکہ بروقت عدم جواز ہی واضح ہے اور ہم اسی کا حکم دیتے ہیں (مجلس شرعی کے فیصلے جلد اول صفحہ 184 ) واضح رہے کہ ہمارے علماء اہل سنت میں سے کسی نے جواز کا قول کیا ہو ایسا میری نظر سے نہیں گزرا لہٰذا ہم بھی عدم جواز کے قائل ہیں
واللہ اعلم و رسولہ
فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری
دارالافتاء فیضان مدینہ
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com