نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

بچے ‏کے ‏دودھ ‏پینے ‏کی ‏مدت

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

محترم مفتی صاحب مدظلہ العالی،
حسب ذیل سوالات کے قرآن ‌و حدیث کی روشنی میں جوابات عنایت فرمائیں آپ کی کرم نوازیش ہوگی۔ اللّٰه کریم آپ کو ‌جزا‌ء خیر عطا فرمائے۔

( سوال ١ )
بپے کی ولادت کے دو سال بعد بھی دودھ بھر جاتا ہے۔ یہاں تک کہ کپڑے پر ظاہر ہوتا ہے۔  ماہر نسوانیت گاینیکولوجسٹ ڈاکٹر سے رابطہ کیا گیا انہوں بتایا کہ یہ قدرتی‌ معاملہ ہے اس میں ‌دخل‌ نہ کریں بلکہ یہ اپنے آپ بند ہو جائے گا۔

مگر احتیاط‌‌ میں یہ بتایا گیا ہے کہ دودھ ذیادہ آنے پر ملک پمپ سے نکالنا ہی ہوگا ورنا پستانوں میں دودھ جمع ہو جانے پر ایک طرح‌‌کی گانٹھ ہو سکتی ہے ‌یا‌ بریسٹ کینسر ‌بھی ہونے کے امکان ‌ہے

لہذا پمپ سے دودھ نکالنا پڑتا ہے۔ پمپ‌‌ کے ساتھ ایک‌ پلاسٹک کا جار‌ ہوتا ہے اور دودھ اس میں ‌جمع ہوتا ہے۔

اب یہ دودھ کا کیا کریں۔
کون پی سکتاہے؟
کیا بچے کو دوسرے دودھ کے ساتھ ملاکر دیں سکتے ہیں؟
پمپ سے نکالا گیا وہ دودھ کیا شوہر نے جان بوجھ کر یا انجان میں پی لیا تو نکاح ٹوٹ گیا؟

( سوال ٢ )
گھر میں کسی فرد کا انتقال ہوا تو اب کیا اسلام میں ایسا کوئی شرعی حکم ہے کہ جوان شادی شدہ جوڑے ایک مہینہ یا چالیس دین یا کوئی خاص ‌گنتی‌ کے دینوں ‌تک ایک دوسرے سے دور دور رہے۔ الگ الگ بستر پر سوئے کیا ہے اسلام‌‌ تعلیمات میں ‌ایسا کوئی حکم ہے؟
کیا جوان شادی شدہ جوڑے ساتھ میں اپنے کمرے میں سوۓ یا تعلق رکھے تو کیا یہ اسلام میں جائز ہے یا نہیں؟

دوسرا یہ کہ مرحوم کے کتنے دین بعد شادی بیاہ کر سکتے ہیں؟ کیونکہ ‌پہلے سے ہی شادی کی تاریخ طے شدہ تھی اب کیا کوئی آسان ترین طریقہ ہے جس میں شادی کرنا ممکن ہو؟

( سوال ٣ )
بچے کی ولادت کے سیزرین آپریشن کے بعد ڈاکٹر نے بتایا کہ اگر اب یہ عورت کو حمل ٹھہرا تو اس کی جان کو خطرہ ہے۔

چونکہ ہمیں یہ بات کی تسلی نا ہوئی تو ہم نے مسلمان پابند شرع ڈاکٹر سے رجوع کیا تب انہوں نے بھی یہی بات دہرائی۔ تو کیا اب حمل روکنے کے لئے ابورشن آپریشن کروانا جائز ہے یا نہیں؟
____ *وعلیکم السلام و رحمۃاللہ و برکاتہ* ____________
*الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق*
ولادت کے دو سال کے بعد بچے کو دودھ پلانے کی اجازت نہیں ہے *اور مائیں دودھ پھیلائیں اپنی اولاد کو دو سال، (قرآن مجید سورتہ البقرہ آیت 223 ) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ دودھ پلانے کی مدت دو سال ہے  اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ دودھ پلانے کی مدت تیس مہنے ہے اور امام زفر کے نزدیک مدت 3 سال ہے  (تبیان القرآن ) لہٰذا ولادت کے تین سال کے بعد بچے کو دودھ پلانا جائز نہیں جب اسی بچے کو دودھ پیلانا جائز نہیں تو دوسرے کو بردجہ اولی جائز نہیں یہ دودھ کسی کے لیے بھی جائز نہیں اسے دفن کر دیا جائے یہی بہتر ہے، شوہر کو بیوی کا دودھ پینا حرام ہے مگر اس سے نکاح نہیں ٹوٹتا  (عام کتب فقہ ) 2 یہ سب جہالت ہے اسلام میں صرف غم موت کا تین روزہ تک ہے البتہ عورت جس کا شوہر فوت ہوگیا ہو اس کے لیے 4 ماہ 10 روز ہے، محرم میں 1 سے 30 تاریخ تک جب چاہے نکاح کر سکتے ہیں  سوال 3 صورت مسوئلہ میں اگر واقعی ایسا ہے جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا ہے تو حمل اگر 4 ماہ سے کم کا ہے تو گرا سکتے ہیں ورنہ نہیں اور آپریشن بھی کروانا جائز ہے  (دیکھے ہماری تحقیق نسبندی کا شرعی حکم )
*دارالافتاء فیضان مدینہ*
*فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی*
تاریخ 28 ستمبر 2020

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

نسبندی کا شرعی حکم

نسبندی کا شرعی حکم روشن تحقیق السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ نس بندی کرانا کیسا ہے جبکہ ڈاکٹر یہ کہے کہ اب یہ عورت مزید بچے پیدا کرے گی، جس سے اسے سخت بیماری پیدا ہونے یا جان کا خطرہ ہے، اور باقی ضبط تولید کے ذرائع سے بھی کبھی خطرہ رہتا ہے، وہ ذرائع فیل ہو جاتے ہیں، اور عورت حاملہ ہو جاتی ہے، اس صورت میں عورت کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔  *سائل: محمد علی باڑمیر*  . وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ  الجواب وباللہ توفیق  نسبندی کی جائز اور ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدی، شرح مسلم جلد سوم میں فرماتے ہیں  1۔ کوئی شخص تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی (نسبندی کرواتا ہے) اصلًا جائز نہیں ہے، یہ اس لیے کہ حرمت کی علت تنگی رزق کا ہونا قرآن مجید میں مذموم ہے: "لا تقتلوا اولادکم من املاق   (سورہ نمبر 6آیت 151" 2۔ اور کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے، کیونکہ ان کی پرورش میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین ...

کمیشن لینا कमिशन लेना हिंदी अनुवाद आखिर में

हिंदी अनुवाद आखिर में है  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع کے ایک عالم صاحب جو کہ امامت کرتے ہیں ساتھ میں ان کا کاروبار گاڑیوں کے لین دین کا جس میں دو پارٹیوں سے سودا کرواتے ہیں جس میں ان کی ذمہ داری رہتی ہے گاڑیوں کے کاغذ وغیرہ کسی میں فولڈ ہوگا تو گارنٹی ان کی رہتی ہے جس کی وجہ سے کبھی نقصان بھی ہوتا ہے کبھی فائدہ مہینہ دو مہینہ کے بعد جب کاغذ وغیرہ نام پر ہو جاتے ہیں تب 5000/10000 جو کمیشن طے ہوتا ہے وہ ملتا ہے ابھی کوئی شخص بولتا ہے کے کمیشن کا دھندا کرنے والے کے پیچھے نماز نہیں ہوتی قرآن و حدیث کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں سائل قاری غلام رسول ضیائی   کوشل کوٹ ضلع بانسواڑہ راجستھان ُ الجواب و بللہ توفیق    شرعی ضابطے پورے کرتے ہوئے کمیشن کے  ذریعے روزی کمانے میں شرعاً کوئی ممانعت نہیں  ہے، کہ کمیشن یا بروکری وہ ذریعۂ آمدنی ہے جس میں اپنی محنت کے ذریعے ایک سروس دی جاتی ہے اور یہ طریقۂ آمدنی آج کا نہیں بلکہ  صدیوں سے رائج ہے جس کو ہر دور کے علماء نے جائز ہی کہا ۔  بروکر کی اجرت (کمیشن): بروکر کو "اجیر خاص" یا "وکیل" سمجھا جات...

حربی سے سود لینے کا حکم روشن تحقیق

حربی سے سود لینے کا حکم ؟ دارالافتاء گلزارِ طیبہ کی یہ علمی تحقیق نہایت دقیق، جامع اور بصیرت افروز ہے۔ اس میں جہاں امام ابو حنیفہؒ کے قول کا صحیح مفہوم واضح کیا گیا ہے، وہیں اس کے غلط استعمالات اور اس کے دینی، سماجی و بین الاقوامی مضمرات پر بھی مدلل کلام کیا گیا ہے۔ علمی و ادبی تاثرات: 1. محققانہ اسلوب: تحقیق کی بنیاد قرآنی آیات، صحیح احادیث اور فقہاء کی معتبر تشریحات پر رکھی گئی ہے۔ علامہ ابن قدامہ، علامہ سعیدی، امام ابن ہمام، امام شافعی، سرخسی وغیرہ جیسے جلیل القدر علماء کے اقوال سے مزین یہ رسالہ اسلوبِ تحقیق کا عمدہ نمونہ ہے۔ 2. فقہی توازن و اعتدال: تحقیق میں نہ صرف مختلف اقوال کا ذکر کیا گیا بلکہ ان کا تجزیہ بھی علمی انداز میں کیا گیا ہے، جو قاری کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا اصل مدعا کیا تھا، اور بعد کے علماء نے ان کے قول کو کس حد تک محدود کیا ہے۔ 3. دورِ حاضر کے تقاضے: یہ تحقیق صرف نصوص کی بحث نہیں، بلکہ موجودہ حالات کے تناظر میں ایک عملی رہنمائی بھی ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا کے دور میں فتاویٰ کے غلط استعمال، اسلام کے بارے میں پھیلنے والی بدگمانیوں اور ہندوست...