نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

امام ‏کو ‏کاروبار ‏کرنا ‏؟

امام کو کاروبار کرنا ؟
السلام علیکم و رحمۃ الله وبرکاتہ
سوال یہ ہے کہ۔۔۔۔امام صاحب کا اجارہ پانچوں نماز کے وقت کا ہے۔۔۔۔۔اس وقت کے علاوہ امام صاحب کوئی کام یا تجارت کرسکتے ہیں یا نہیں۔۔۔۔۔تفصیل کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں۔۔۔۔محمد راشد حسین عظیمی عطاری
وعلیکم اسلام ورحمتہ اللہ و برکاتہ
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ لاَ تَأْكُلُواْ أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلاَّ أَن تَكُونَ تِجَارَةً عَن تَرَاضٍ مِّنكُمْ وَلاَ تَقْتُلُواْ أَنفُسَكُمْ إِنَّ اللّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًاO

اے ایمان والو! تم ایک دوسرے کا مال آپس میں ناحق طریقے سے نہ کھاؤ سوائے اس کے کہ تمہاری باہمی رضا مندی سے کوئی تجارت ہو، اور اپنی جانوں کو مت ہلاک کرو، بیشک اللہ تم پر مہربان ہے۔

النساء، 4: 29

اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے ہر صاحبِ ایمان کو مخاطب فرماتے ہوئے ناحق طریقے دوسروں کے اموال کھانے سے منع فرمایا ہے اور کاروبار یا تجارت کی صورت میں باہمی رضامندی سے لین دین کرنے کی اباحت بیان فرمائی ہے۔ آیت بیان کرنے کا مقصود یہ ہے کہ ہر صاحبِ ایمان کاروبار کرنے کا حق رکھتا ہے۔ دوسرے مقام پر فرمایا:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِن يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَO فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلَاةُ فَانتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِن فَضْلِ اللَّهِ وَاذْكُرُوا اللَّهَ كَثِيرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَO

اے ایمان والو! جب جمعہ کے دن (جمعہ کی) نماز کے لئے اذان دی جائے تو فوراً اللہ کے ذکر (یعنی خطبہ و نماز) کی طرف تیزی سے چل پڑو اور خرید و فروخت (یعنی کاروبار) چھوڑ دو۔ یہ تمہارے حق میں بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔ پھر جب نماز ادا ہوچکے تو زمین میں منتشر ہو جاؤ اور (پھر) اللہ کا فضل (یعنی رزق) تلاش کرنے لگو اور اللہ کو کثرت سے یاد کیا کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔

الْجُمُعَة، 62: 9-10

اس آیتِ مبارکہ میں بھی اللہ تعالیٰ نے بلاتخصیص اہلِ ایمان کو مخاطب فرمایا ہے کہ نماز ادا کرنے کے بعد کسبِ حلال کی عام اجازت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کسی بھی شخص پر کسبِ حلال کے سلسلے میں کوئی پابندی عائد نہیں کی بلکہ ایمانداری کے ساتھ کاروبارِ تجارت کرنے والوں کے بارے میں فرمایا:

رِجَالٌ لَّا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَن ذِكْرِ اللَّهِ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ يَخَافُونَ يَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِيهِ الْقُلُوبُ وَالْأَبْصَارُ.

(اللہ کے اس نور کے حامل) وہی مردانِ (خدا) ہیں جنہیں تجارت اور خرید و فروخت نہ اللہ کی یاد سے غافل کرتی ہے اور نہ نماز قائم کرنے سے اور نہ زکوٰۃ ادا کرنے سے (بلکہ دنیوی فرائض کی ادائیگی کے دوران بھی) وہ (ہمہ وقت) اس دن سے ڈرتے رہتے ہیں جس میں (خوف کے باعث) دل اور آنکھیں (سب) الٹ پلٹ ہو جائیں گی۔

النُّوْر، 24: 37

مذکورہ بالا آیتِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ تجارت کرنا یا کسبِ حلال کے لیے کوشش کرنا ہر صاحبِ ایمان کے لیے جائز ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود تجارت فرمائی اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اپنا ذریعہ معاش تجارت کو بنایا اور کسبِ حلال کے لیے مختلف کام کیے۔ اس لیے علمائے کرام دین کی اشاعت و تبلیغ یا امامت و خطابت کے ساتھ بہتر ذریعہ معاش کی خاطر تجارت کریں یا کسبِ حلال کا کوئی بھی کام کریں تو منع نہیں ہے بلکہ ایسا کرنے والا عالمِ دین زیادہ اعتماد اور جرات کے ساتھ دین کے احکام بتا سکتا ہے۔ اگر کسی عالم یا امام کے ذریعہ معاش کی وجہ سے امامت و خطابت یا درس و تدریس میں حرج ہو رہا ہے تو پھر انتظامیہ کا فرض ہے کہ ادارہ یا مسجد کی طرف سے اُس عالمِ دین کے لیے کم سے کم اس قدر اعزازیہ مقرر کریں جس سے اُسے کسبِ معاش کے مسائل نہ رہیں۔ جس طرح حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تجارت پیشہ تھے، جب خلیفۃ الرسول کے عہدے پر متمکن ہوئے اور انتظامی امور کی انجام دہی کے سبب آپ کو کاروبار روکنا پڑا تو اہلِ حل و عقد کی تجویز پر آپ کے لیے بیت المال سے وظیفہ مقرر کر دیا گیا۔ حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:

لَمَّا اسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ، قَالَ: لَقَدْ عَلِمَ قَوْمِي أَنَّ حِرْفَتِي لَمْ تَكُنْ تَعْجِزُ عَنْ مَئُونَةِ أَهْلِي، وَشُغِلْتُ بِأَمْرِ المُسْلِمِينَ، فَسَيَأْكُلُ آلُ أَبِي بَكْرٍ مِنْ هَذَا المَالِ، وَيَحْتَرِفُ لِلْمُسْلِمِينَ فِيهِ.

جب حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنایا گیا تو فرمایا: میری قوم جانتی ہے کہ میرا کاروبار میرے اہل و عیال کی کفالت سے عاجز نہیں لیکن میں مسلمانوں کے کام میں مشغول ہو گیا ہوں، لہٰذا آلِ ابوبکر اس مال سے کھائے گی اور وہ اس میں مسلمانوں کے لیے کمائیں گے۔

البخاري، الصحيح، كتاب البيوع، باب كسب الرجل وعمله بيده، 2: 729، الرقم: 1964، بیروت: دار ابن كثير اليمامة

مذکورہ بالا آیات و روایات سے معلوم ہوا کہ عالمِ دین خواہ کسی بھی ذمہ داری پر فائز ہو وہ تجارت کرسکتا ہے۔ اگر اس کے فرائضِ منصبی میں حرج ہو رہا ہو تو انتظامیہ اس کی ضروریات پوری کرنے کا بندوبست کرے تاکہ وہ سارا وقت اور مکمل توجہ تبلیغ و تدریس کو دے سکے۔ اگر درس و تدریس اور امامت و خطابت کے ساتھ عالمِ دین کے لیے کاروبارِ دنیا کرنا ممکن ہو تو کوئی مانع نہیں۔ واللہ اعلم و رسولہ
ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

نسبندی کا شرعی حکم

نسبندی کا شرعی حکم روشن تحقیق السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ نس بندی کرانا کیسا ہے جبکہ ڈاکٹر یہ کہے کہ اب یہ عورت مزید بچے پیدا کرے گی، جس سے اسے سخت بیماری پیدا ہونے یا جان کا خطرہ ہے، اور باقی ضبط تولید کے ذرائع سے بھی کبھی خطرہ رہتا ہے، وہ ذرائع فیل ہو جاتے ہیں، اور عورت حاملہ ہو جاتی ہے، اس صورت میں عورت کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔  *سائل: محمد علی باڑمیر*  . وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ  الجواب وباللہ توفیق  نسبندی کی جائز اور ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدی، شرح مسلم جلد سوم میں فرماتے ہیں  1۔ کوئی شخص تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی (نسبندی کرواتا ہے) اصلًا جائز نہیں ہے، یہ اس لیے کہ حرمت کی علت تنگی رزق کا ہونا قرآن مجید میں مذموم ہے: "لا تقتلوا اولادکم من املاق   (سورہ نمبر 6آیت 151" 2۔ اور کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے، کیونکہ ان کی پرورش میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین ...

کمیشن لینا कमिशन लेना हिंदी अनुवाद आखिर में

हिंदी अनुवाद आखिर में है  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع کے ایک عالم صاحب جو کہ امامت کرتے ہیں ساتھ میں ان کا کاروبار گاڑیوں کے لین دین کا جس میں دو پارٹیوں سے سودا کرواتے ہیں جس میں ان کی ذمہ داری رہتی ہے گاڑیوں کے کاغذ وغیرہ کسی میں فولڈ ہوگا تو گارنٹی ان کی رہتی ہے جس کی وجہ سے کبھی نقصان بھی ہوتا ہے کبھی فائدہ مہینہ دو مہینہ کے بعد جب کاغذ وغیرہ نام پر ہو جاتے ہیں تب 5000/10000 جو کمیشن طے ہوتا ہے وہ ملتا ہے ابھی کوئی شخص بولتا ہے کے کمیشن کا دھندا کرنے والے کے پیچھے نماز نہیں ہوتی قرآن و حدیث کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں سائل قاری غلام رسول ضیائی   کوشل کوٹ ضلع بانسواڑہ راجستھان ُ الجواب و بللہ توفیق    شرعی ضابطے پورے کرتے ہوئے کمیشن کے  ذریعے روزی کمانے میں شرعاً کوئی ممانعت نہیں  ہے، کہ کمیشن یا بروکری وہ ذریعۂ آمدنی ہے جس میں اپنی محنت کے ذریعے ایک سروس دی جاتی ہے اور یہ طریقۂ آمدنی آج کا نہیں بلکہ  صدیوں سے رائج ہے جس کو ہر دور کے علماء نے جائز ہی کہا ۔  بروکر کی اجرت (کمیشن): بروکر کو "اجیر خاص" یا "وکیل" سمجھا جات...

حربی سے سود لینے کا حکم روشن تحقیق

حربی سے سود لینے کا حکم ؟ دارالافتاء گلزارِ طیبہ کی یہ علمی تحقیق نہایت دقیق، جامع اور بصیرت افروز ہے۔ اس میں جہاں امام ابو حنیفہؒ کے قول کا صحیح مفہوم واضح کیا گیا ہے، وہیں اس کے غلط استعمالات اور اس کے دینی، سماجی و بین الاقوامی مضمرات پر بھی مدلل کلام کیا گیا ہے۔ علمی و ادبی تاثرات: 1. محققانہ اسلوب: تحقیق کی بنیاد قرآنی آیات، صحیح احادیث اور فقہاء کی معتبر تشریحات پر رکھی گئی ہے۔ علامہ ابن قدامہ، علامہ سعیدی، امام ابن ہمام، امام شافعی، سرخسی وغیرہ جیسے جلیل القدر علماء کے اقوال سے مزین یہ رسالہ اسلوبِ تحقیق کا عمدہ نمونہ ہے۔ 2. فقہی توازن و اعتدال: تحقیق میں نہ صرف مختلف اقوال کا ذکر کیا گیا بلکہ ان کا تجزیہ بھی علمی انداز میں کیا گیا ہے، جو قاری کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا اصل مدعا کیا تھا، اور بعد کے علماء نے ان کے قول کو کس حد تک محدود کیا ہے۔ 3. دورِ حاضر کے تقاضے: یہ تحقیق صرف نصوص کی بحث نہیں، بلکہ موجودہ حالات کے تناظر میں ایک عملی رہنمائی بھی ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا کے دور میں فتاویٰ کے غلط استعمال، اسلام کے بارے میں پھیلنے والی بدگمانیوں اور ہندوست...