نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

امام ‏کا ‏تاخیر ‏سے ‏آنا

احمد رضا عطاری:
*السلام علیکم و رحمۃاللہ و برکاتہ* کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل میں ہماری مسجد کے امام صاحب کہی بار اقامت کا وقت ہو جاتا ہے پھر بھی تاخیر سے پہنچتے ہیں اس کی وجہ سے مقتدی امام سے ناراض ہو جاتے ہیں اور امام کو ڈاٹ بھی دیتے ہیں اس پر حکم شرعی بیان فرمائیں *سائل محمد جنید گجرات*
*وعلیکم السلام و رحمۃاللہ و برکاته* الجواب و باللہ توفیق صورت مسئولہ میں اگر کبھی کبھی امام صاحب تاخیر سے حاضر ہوتے ہیں تو اس پر مقتدیوں کا ناراض ہو جانا درست نہیں اگر کبھی امام صاحب نے تاخیر کر دی تو اس میں مقتدیوں کا نقصان نہیں بلکہ فائدہ ہی ہے
*قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم*  جب تک تم *نماز* کا انتظار کرتے رہو گویا تم نماز ہی میں مشغول ہو *(بخاری شریف حدیث نمبر 647* )
معلوم ہوا کہ امام کا انتظار کرنا بھی ثواب ہے جب تک امام حاضر نہیں ہوگا تب بھی آپ کو نماز کا ہی ثواب مل رہا ہے  حضرت *عمر* رضی اللہ عنہ اقامت کے بعد بھی بعض اوقات کسی آدمی کے ساتھ کھڑے ہو کر کوئی ضروری بات کر لیا کرتے تھے  *(*ابن ابی شیبہ* حدیث 163 )  ایک مرتبہ اقامت کہہ دی گئی تھی اور صفیں بنا لی گئی تھی کہ ایک آدمی آیا اور اس نے حضرت *عمر رضی اللہ عنہ* سے گفتگو شروع کر دی وہ دونوں کافی دیر تک گفتگو کرتے رہے اور پھر زمین پر بیٹھ گئے جبکہ لوگ صفوں میں کھڑے تھے *(ابن ابی شیبہ حدیث 164 )* اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ کوئی ضروری کام آجائے تو امام اقامت ہونے کے بعد بھی اگر حاضر نہیں ہوا تو اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا جائے گا البتہ امام کو چاہیے کہ اپنی ڈیوٹی میں کوتاہی نہ برتیں
*دارالافتاء فیضان مدینہ*
فقیر *ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی*
تاریخ *12 جولائی*  *2020* اتوار

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

نسبندی کا شرعی حکم

نسبندی کا شرعی حکم روشن تحقیق السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ نس بندی کرانا کیسا ہے جبکہ ڈاکٹر یہ کہے کہ اب یہ عورت مزید بچے پیدا کرے گی، جس سے اسے سخت بیماری پیدا ہونے یا جان کا خطرہ ہے، اور باقی ضبط تولید کے ذرائع سے بھی کبھی خطرہ رہتا ہے، وہ ذرائع فیل ہو جاتے ہیں، اور عورت حاملہ ہو جاتی ہے، اس صورت میں عورت کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔  *سائل: محمد علی باڑمیر*  . وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ  الجواب وباللہ توفیق  نسبندی کی جائز اور ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدی، شرح مسلم جلد سوم میں فرماتے ہیں  1۔ کوئی شخص تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی (نسبندی کرواتا ہے) اصلًا جائز نہیں ہے، یہ اس لیے کہ حرمت کی علت تنگی رزق کا ہونا قرآن مجید میں مذموم ہے: "لا تقتلوا اولادکم من املاق   (سورہ نمبر 6آیت 151" 2۔ اور کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے، کیونکہ ان کی پرورش میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین ...

حربی سے سود لینے کا حکم روشن تحقیق

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ  سوال کیا فرماتے ہیں مفتیان اعظم مسلہ ذیل میں ہندستان کے کفار سے سود لینا کیسا اور ہندوستان کی بینکوں سے ملنے والا سود کا کیا حکم ہے اور کیا ہندوستان کے کفار حربی ہے ان سوالات کا جواب عنایت فرمائیں سایل محمد علی سانوا باڑمیر راجستھان  وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ الجواب وباللہ توفیق  تحقیق یہ ہے کہ ہندوستان کے کفار سے بھی سودی معاملات جایز نہیں اور ہندوستان کی بینکوں سے ملنے والا سود بھی حرام ہے اس رقم کو بغیر نیت ثواب کے  کسی غریب کو دے دیں اب آے اس مسلے پر تفصیلی گفتگو کرتے ہیں  دارالحرب کے سود میں جمہور فقہا کا نظریہ علامہ ابن قدامہ حنمبلی فرماتےہے دارالحرب میں سود اسی طرح حرام ہے جس طرح دارال اسلام میں سود حرام ہے امام احمد امام مالک امام اوزاعی امام ابو یسف امام شافعی اور اسحاق کا بھی یہی مزہب ہے امام ابو حنیفہ نے کہا کہ مسلمان اور حربی کے درمیان دارالحرب میں ربا جاری نہیں ہوگا اور ان سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ دو شخص دارالحرب میں مسلمان ہو گئے توان کے درمیان ربا (سود) نہیں ہوگا اور ان کے اموال مباح ہیں علامہ غلام رسول س...

کیا حضور پر جادو کا اثر ہوا تھا

کیا حضور پر جادو کا اثر ہوا تھا حنفی دارالافتا۶ - 01/03/2025  کیا فرماتے ہے مفیان کرام کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کا اثر ہوا تھا اور ہوا تھا تو اس پر صحیح حدیث موجود ہے اور دوسرا سوال یہ ہے کہ صحیح بخاری کی اس حدیث کا کیا جواب ہے جس میں ہے کہ وحی رک گئی تو آپ نے اپنے آپ کو پہاڈ سے گرانا چاہا جواب عنائت فرمائے سائل محمد علی کچھ گجرات  الجواب و باللہ توفیق کسی بھی مسئلے میں قائدہ یہ ہے کہ اس کو قرآن کے سامنے پیش کریں گے اگر قرآن کے خلاف ہے تو اگرچہ حدیث صحیح ہو اس کو قبول نہیں کیا جائے گا آپ پر جادو کا اثر ہوا تھا اس پر جمہور مفسرین نے یہ ہی لکھا ہے تبیان القرآن جلد۔ اول صفہ ۱۰۴۸میں ہے  امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی 606  ھ لکھتے ہیں :- جمہور مفسرین نے یہ کہا ہے کہ لبیدبن اعصم یہودی نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر گایرہ گرہوں میں جادو کیا تھا اور اس دھاگے کو ذروان نامی کنوئیں کی تہہ میں ایک پتھر کے نیچے دبا دیا تھا، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیمار ہوگئے اور تین دن آپ پر سخت گزرے، پھر اس وجہ سے معوذتین نازل ہوئیں اور حضرت جبریل نے آ کر آپ کو ...