السلام علیکم کیا فرماتے ہے علماے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ میں ایک گاؤں میں درگاہ ہے اسکا تعمیری کام کروانا کمیٹی کے لوگوں نے مل کر ایک ترکیب بنائی درگاہ کے نام کی بک چھپوائی پھر چندہ کرے کے پیسہ جمع کر کے درگاہ کا کام مکمل کرے اسکے بعد بچی ہوئی رقم کو مدرسے کی تعمیری کام میں لگائے تو کیا درگاہ کی بچی ہوئی رقم لگ سکتی ہے قرآن وحدیث کی روشنی جواب عنایت فرماے از قلم میرمحمد اکبری مقام پوسٹ چھاجالا تحصیل بھنمال ضلع جالور راجستھان
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق
صورت مسوئلہ میں حکم یہ ہے کہ درگاہ کا کام مکمل ہو گیا اور روپیہ بچ جاتا ہے تو چندہ دینے والوں کو واپس دینا ہوگا جیسا امام احمد رضا خان بریلوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں
چندہ کا جو روپیہ کام ختم ہو کر بچے لازم ہے چندہ دینے والوں کو حصہ رسید واپس دیا جائے یا وہ جس کام کے لیے اب اجازت دیں اس میں صرف ہو (بغیر ) ان کی اجازت کے صرف کرنا حرام ہے ہاں جب ان کا پتہ نہ چلے تو اب (حکم ) ہے کہ جس طرح کام کے لیے چندہ لیا تھا اسی طرح کے دوسرے کام میں (خرچ ) کرے مثلاً تعمیر مسجد کا چندہ تھا اور مسجد تعمیر ہو چکی باقی (بچے ہوئے روپے ) کسی مسجد کی تعمیر میں (خرچ کرے ) غیر تعمیر میں نہیں مثلاً کہ تعمیر مدرسہ میں صرف نہ کریں اور اس طرح دوسرا کام نہ پائیں تو وہ باقی روپیہ فقیروں کو تقسیم کر دیں (فتاوی رضویہ جلد 16 صفحہ 207 )
خلاصہ کلام آپ اس رقم سے کسی دوسری درگاہ پر کام کر سکتے ہیں مگر مدرسہ میں نہیں البتہ چندہ دینے والے اجازت دے تو حرج نہیں
واللہ اعلم ورسولہ
نسبندی کا شرعی حکم روشن تحقیق السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ نس بندی کرانا کیسا ہے جبکہ ڈاکٹر یہ کہے کہ اب یہ عورت مزید بچے پیدا کرے گی، جس سے اسے سخت بیماری پیدا ہونے یا جان کا خطرہ ہے، اور باقی ضبط تولید کے ذرائع سے بھی کبھی خطرہ رہتا ہے، وہ ذرائع فیل ہو جاتے ہیں، اور عورت حاملہ ہو جاتی ہے، اس صورت میں عورت کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔ *سائل: محمد علی باڑمیر* . وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ الجواب وباللہ توفیق نسبندی کی جائز اور ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدی، شرح مسلم جلد سوم میں فرماتے ہیں 1۔ کوئی شخص تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی (نسبندی کرواتا ہے) اصلًا جائز نہیں ہے، یہ اس لیے کہ حرمت کی علت تنگی رزق کا ہونا قرآن مجید میں مذموم ہے: "لا تقتلوا اولادکم من املاق (سورہ نمبر 6آیت 151" 2۔ اور کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے، کیونکہ ان کی پرورش میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین ...
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com