السلامُ علیکم ورحمۃ اللّه وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع متین
اس مسئلہ میں کہ
اگر کسی عورت کا شوہر گم ھو جائے تو عورت دوسرا نکاح کرنے کیلے کتنامدت انتظار کرے گی ؟؟
عبد المصطفیٰ پنجاب پاکستان
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفی
جس گمشدہ مرد کی موت و زندگی کا حال معلوم نہ ہو وہ مفقود الخبر ہے : مفقود کی بیوی کے لئے مذہب حنفی میں حکم یہ ہے کہ وہ اپنے شوہر کی عمر 90 سال ہونے تک انتظار کرے (یعنی فرض کریں کہ اب اگر شوہر موجود ہوتا تو اس کی عمر 90 سال ہوتی ) اور امام ابن ہمام رضی اللہ عنہ کا مختار یہ ہے کہ شوہر کی عمر 70 سال ہونے تک انتظار کرے! مگر وقت ضرورت مفقود کی بیوی کو حضرت امام مالک رحمت اللہ علیہ کے مذہب پر عمل کی رخصتی ہے ان کے مذہب کے مطابق مفقود کی عورت ضلع کے سب سے بڑے سنی صحیح العقیدہ عالم (مفتی ) کے حضور فسخ نکاح کا دعوٰی کرے وہ عالم (مفتی ) اس کا دعوٰی سن کر چار سال کی مدت مقرر کرے! اگر مفقود کی عورت نے کسی عالم (مفتی ) کے حضور فسخ نکاح کا دعوٰی نہ کیا اور بطور خود چار سال انتظار کرتی رہی تو یہ مدت حساب میں شمار نہیں ہوگی بلکہ دعوی کے بعد چار سال کی مدت درکار ہے اس مدت میں اس کے شوہر کی موت و زندگی معلوم کرنے کی کوشش کریں جب یہ مدت گزر جائے اور اس کے شوہر کی موت و زندگی نہ معلوم ہو سکے تو وہ عورت اسی عالم ( مفتی ) کے حضور استغاثہ پیش کرے اس وقت وہ عالم (مفتی ) اس کے شوہر پر موت کا حکم کرے گا پھر عورت عدت وفات گزار کر جس سے چاہے نکاح کر سکتی ہے اس سے پہلے کسی سے نکاح کرنا جائز نہیں (فتاوی برکاتہ صفحہ 162 )
واللہ اعلم و رسولہ ۔۔۔دارالافتاء فیضان مدینہ ۔۔۔۔۔
فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com