نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

سیرت ‏حضرت ‏عشمان ‏غنی ‏رضی ‏اللہ ‏عنہ

الحمدللہ رب العالمین والصلوتہ والسلام علی سید المرسلین اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ


عنوان: رسول اللہﷺکے جلیل القدرصحابی ٗخلیفۂ سوم


امیرالمؤمنین ذوالنورین حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی ولادت مکہ میں رسول اللہ ﷺ کی ولادت باسعادت کے چھ سال بعدہوئی،قبیلۂ قریش کے مشہورخاندان ’’بنوامیہ ‘‘ سے تعلق تھا،سلسلۂ نسب پانچویں پشت میں عبدمناف پررسول اللہ ﷺ کے نسب سے جاملتاہے،مزیدیہ کہ ان کی نانی ’’اُم حکیم‘‘رسول اللہ ﷺ کے والدگرامی جناب عبداللہ کی جڑواں بہن تھیں ۔

٭حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی زندگی زمانۂ جاہلیت میں بھی انتہائی شریفانہ تھی جس کی وجہ سے قبیلۂ قریش میں نیزتمام شہرمکہ میں انہیں انتہائی عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھاجاتاتھا،اُس دورمیں جب ہرکوئی لہوولعب کادلدادہ اورشراب کاازحدرسیا تھا… مگرایسے میں بھی حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کادامن ہمیشہ لہوولعب سے پاک رہا، اوران کے لب جامِ شراب سے ہمیشہ ناآشنارہے۔

٭مکہ شہرمیں دینِ اسلام کاسورج طلوع ہونے سے قبل ہی حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاص دوستی اورقربت تھی ، دونوں میں بہت گہرے روابط تھے،حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ ٗ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ٗاورحضرت زیدبن حارثہ رضی اللہ عنہ کے بعدحضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ چوتھے شخص تھے جنہوں نے دعوتِ حق پرلبیک کہتے ہوئے دینِ اسلام قبول کیا، تب ان کی عمرچونتیس سال تھی۔

٭حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ’’السابقین الأولین‘‘یعنی بھلائی میں سبھی لوگوں پر سبقت لے جانے والوں میں سے تھے،یعنی وہ عظیم ترین افرادجنہوں نے بالکل ابتدائی دورمیں دینِ اسلام قبول کیا کہ جب مسلمانوں کیلئے بہت ہی مظلومیت اوربے بسی وبے چارگی کازمانہ چل رہاتھا…یہی وجہ ہے کہ ان حضرات کابڑامقام ومرتبہ ہے ،ان کیلئے عظیم خوشخبریاں ہیں ٗ اورانہیں قرآن کریم میں ’’السابقین الأولین‘‘کے نام سے یادکیاگیاہے۔

٭مزیدیہ کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ’’عشرہ مبشرہ‘‘یعنی ان دس خوش نصیب ترین افراد میں سے تھے جنہیں اس دنیاکی زندگی میں ہی رسول اللہ ﷺ نے جنت کی خوشخبری سے شادکام فرمایاتھا۔

٭نیزرسول اللہ ﷺ نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کومتعددمواقع پر ’’شہادت‘‘ کی خوشخبری بھی سنائی تھی،اور’’مظلومیت‘‘کی خبربھی دی تھی۔

٭حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کورسول اللہ ﷺ کے انتہائی مقرب اورخاص ترین ساتھی ہونے کے علاوہ مزیدیہ شرف بھی حاصل تھاکہ آپؓ رسول اللہ ﷺ کے دامادبھی تھے، رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادیوں حضرت رقیہ رضی اللہ عنہااورحضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کانکاح ایامِ جاہلیت میں ابولہب کے بیٹوں عتبہ اورعتیبہ سے ہواتھا،آپ ﷺ نے جب اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ حکم {وَأنذِرعَشِیرَتَکَ الأقرَبِینَ} (۱) (یعنی:’’آپؐ اپنے قریبی رشتے داروں کو[اللہ کے عذاب سے]ڈرائیے‘‘)کی تعمیل کے طورپراپنے خاندان ’’بنوہاشم‘‘کوکوہِ صفاپرجمع کرکے دینِ برحق کی طرف دعوت دی ٗ تواس موقع پرابولہب بگڑگیا،اوریوں کہنے لگا: تَبّاً لَکَ ! أمَا دَعَوتَنَا اِلّا لِھٰذا…؟ یعنی:(نعوذباللہ) اے محمد! تم ہلاک جاؤ،کیاتم نے ہمیں اسی لئے یہاں بلایاتھا…؟(۲) ابولہب کی اس بیہودہ گوئی پرآپؐ انتہائی رنجیدہ ودل گرفتہ ہوئے،جس پرآپؐ کی تسلی ودلجوئی کیلئے سورۃ المسد{تَبّت یَدَا أبِي لَھَب وَتَبَّ…} نازل ہوئی(یعنی :’’ٹوٹ جائیں ابولہب کے دونوں ہاتھ اوروہ خودبھی ہلاک ہوجائے…‘‘) 

اس پرابولہب مزید مشتعل ہوگیااوراس نے اپنے دونوں بیٹوں عتبہ اورعتیبہ کوحکم دیاکہ وہ آپؐ کی صاحبزادیوں ( حضرت رقیہ ؓ ،وحضرت ام کلثومؓ)کوطلاق دے کرگھرسے نکال دیں ، چنانچہ انہوں نے ایساہی کیا۔(۱)

کچھ عرصہ گذرنے کے بعدآپؐ نے اپنی صاحبزادی حضرت رقیہؓ کی شادی اپنے جلیل القدرصحابی حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے کردی،ان دونوں نے نبوت کے پانچویں سال مکہ سے حبشہ کی جانب ہجرت کی،جہاں اللہ نے انہیں بیٹاعطاء فرمایا،اس کے بعدنبوت کے دسویں سال ایک غلط فہمی کے نتیجے میں یہ دونوں میاں بیوی حبشہ سے واپس مکہ چلے آئے اورازسرِنومشرکینِ مکہ کی طرف سے تکلیفوں اوراذیتوں کے اسی سلسلے سے دوچارہوناپڑا…اورپھرنبوت کے تیرہویں سال ہجرتِ مدینہ کاحکم نازل ہونے کے بعدمکہ سے مدینہ کی جانب ہجرت کی۔

٭حبشہ میں قیام کے دوران ان دونوں میاں بیوی کے یہاں جس بیٹے کی ولادت ہوئی تھی ،اب مدینہ میں قیام کے دوران ان کایہ لختِ جگرجب چھ سال کاتھا…ایک روزاپنے گھرکے سامنے کھیل کودمیں مشغول تھاکہ اس دوران اچانک کسی جانب سے ایک لڑاکامرغاآیا اوراس بچے کی آنکھ میں چونچ ماری،جس کی وجہ سے چنددن شدیدزخمی رہنے کے بعدیہ بچہ داغِ مفارقت دے گیا…اس کے بعدحضرت رقیہ رضی اللہ کی عنہاکی کوئی اوراولادنہیں ہوئی۔

٭حضرت رقیہ رضی اللہ عنہاہجرتِ حبشہ کے موقع پراپنی والدہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہاسے دوری اورجدائی کے صدمے کی وجہ سے بیماررہنے لگی تھیں ،اب اپنے اکلوتے کم سن لختِ جگرکی اس اچانک موت نے انہیں نڈھال کرڈالا…جس پروہ مستقل صاحبِ فراش ہوگئیں ،اورپھرجلدہی سن دوہجری میں عین غزوۂ بدرکے روزمدینہ میں ان کاانتقال ہوگیا…تب حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ خاندانِ نبوت سے رشتہ منقطع ہوجانے پر انتہائی افسردہ ورنجیدہ رہنے لگے،لہٰذا آپ ؐنے اپنی دوسری صاحبزادی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کانکاح حضرت عثمان ؓبن عفان رضی اللہ عنہ سے کردیا،اسی دوہرے شرف کی وجہ سے وہ ’’ذوالنورین‘‘ (یعنی دونوروں والا)کے لقب سے معروف ہوئے۔(۱)

٭سن پانچ ہجری میں غزوۂ خندق کے بعدجب آپ ﷺ اپنے رب کی طرف سے غیبی اشارہ ملنے پر(۲) اگلے ہی سال یعنی سن چھ ہجری میں عمرے کی ادائیگی کی غرض سے مکہ کی جانب عازم سفرہوئے،اس موقع پر آپؐ جب مکہ شہرسے کچھ فاصلے پر’’حدیبیہ‘‘نامی مقام پر پہنچے تومعلوم ہواکہ مشرکینِ مکہ توقتل وخونریزی اورفتنہ وفسادپرآمادہ ہیں ، جس پرآپؐ نے ان کے ساتھ گفت وشنیدکی غرض سے بطورِسفیرحضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کوروانہ

(۱) حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کی وفات سن دوہجری میں ہوئی ،اس کے بعدسن تین ہجری میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کانکاح حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہاسے ہوا،اورپھرسن ۹ہجری میں رسول اللہ ﷺ کی غزوۂ تبوک سے مدینہ واپسی کے فوری بعدحضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہاکاانتقال ہوا،جبکہ اس سے محض ایک سال قبل یعنی سن آٹھ ہجری میں آپؐ کی بڑی صاحبزادی حضرت زینب رضی اللہ عنہاکابھی انتقال ہوچکاتھا۔

فرمایا،حضرت عثمانؓ جب وہاں پہنچے توان لوگوں نے انہیں اپنے پاس روک لیااوریہ خبرمشہورکردی کہ ہم نے عثمان کوقتل کرڈالاہے…تب رسول اللہ ﷺ نے اپنے ساتھیوں کومخاطب کرتے ہوئے ارشادفرمایا’’عثمان کے خون کابدلہ لینافرض ہے‘‘اورپھراس موقع پرآپؐ نے اپنے تمام ساتھیوں سے جاں نثاری وسرفروشی کی وہ تاریخی بیعت لی،جسے ’’بیعتِ رضوان‘‘کے نام سے یادکیاجاتاہے(۱)اس موقع پرآپؐ نے اپناہی ایک ہاتھ اپنے دوسرے ہاتھ پررکھتے ہوئے ارشادفرمایا’’یہ بیعت عثمان کی طرف سے ہے‘‘یقینااس سے رسول اللہ ﷺ کے نزدیک حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی اہمیت اورقدر ومنزلت واضح وثابت ہوتی ہے۔

جبکہ اُدھرشہرمکہ میں ان مشرکین نے حضرت عثمان ؓ کوپیشکش کرتے ہوئے کہا’’ آپ جب عرصۂ درازکے بعدمکہ پہنچ ہی گئے ہیں ، تواب آپ بیت اللہ کاطواف توکرلیجئے‘‘

ان کی طرف سے اس پیشکش کے جواب میں حضرت عثمانؓ نے فرمایا: مَا کُنتُ لأفعَل ، حَتّیٰ یَطُوفَ رَسُولُ اللّہِ ﷺ ۔ یعنی’’جب تک خودرسول اللہ ﷺ بیت اللہ کاطواف نہیں کرلیں گے اُس وقت تک میں بھی نہیں کروں گا‘‘ ۔

یقینااس سے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے دل میں رسول اللہ ﷺ کیلئے موجزن بے مثال قلبی تعلق اوروالہانہ عقیدت ومحبت کااظہارہوتاہے۔

٭دینِ اسلام کے بالکل ابتدائی دورسے ہی رسول اللہ ﷺ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے ’’وحی‘‘نیزدیگرضروری اورخاص رازکی باتیں تحریرکروایاکرتے تھے،اورپھراس کے بعدبھی طویل عرصہ تک حضرت عثمانؓ ہی ’’کتابتِ وحی‘‘کامقدس فریضہ انجام دیتے رہے۔ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہافرمایاکرتی تھیں ’’مجھے وہ منظراب بھی بخوبی یادہے کہ رسول اللہ ﷺ عثمان کواپنے قریب بٹھاکران سے ’’وحی‘‘لکھوایاکرتے تھے…‘‘اس کے بعدمزیدفرمایاکرتی تھیں : فَوَاللّہِ مَا کَانَ اللّہُ لِیُنزِلَ عَبداً مِن نَبِیِّہٖ تِلکَ المَنزِلَۃَ اِلّا کَانَ عَلَیہِ کَرِیماً ۔ یعنی’’اللہ کی طرف سے یقینااپنے کسی ایسے بندے کوہی اپنے نبی کااس قدرخاص قرب عطاء کیاجاسکتاہے کہ جواللہ کے نزدیک اس قابل ہو…‘‘۔

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ


عنوان: خشیتِ الٰہیہ


حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے مزاج پرخشیتِ الٰہیہ کاغلبہ رہتاتھا، رقت طاری رہتی تھی،اکثروبیشترآبدیدہ رہاکرتے تھے،موت ٗقبر ٗاورفکرِآخرت کاجذبہ غالب رہتا،تلاوتِ قرآن کابہت زیادہ اہتمام کیاکرتے تھے،حافظِ قرآن تھے،خوش الحان تھے،کاتبینِ وحی میں سے تھے۔

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ


عنوان: تواضع اورعجزوانکسار


چونکہ ابتداء سے ہی بہت زیادہ مالداراورخوشحال تھیٗ حتیٰ کہ اسی وجہ سے ’’غنی‘‘کہلاتے تھے،لہٰذاخادموں اورغلاموں کی بڑی تعدادہمہ وقت موجودرہاکرتی تھی،لیکن اس کے باوجود اکثراپنے کام کاج خودہی کیاکرتے ،رات کوتہجدکیلئے بیدارہوتے تووضوء کیلئے پانی کاانتظام خودہی کرلیاکرتے،کسی خادم کونہ جگاتے۔ حضرت حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : رَأیتُ عُثمَانَ یَقِیلُ فِي المَسجِدِ وَ ھُوَ یَومَئِذٍ خَلِیفَۃ وَ أَثَرُ الحَصَیٰ بِجَنْبِہٖ ۔ یعنی’’میں نے عثمان (رضی اللہ عنہ)کومسجدنبوی میں فرش پراس کیفیت میں قیلولہ کرتے دیکھا کہ جسم پرکنکروں کے نشانات نمایاں تھے،حالانکہ وہ اس وقت خلیفہ تھے‘‘۔

یعنی اپنے زمانۂ خلافت کے دوران سادگی وانکسارکایہ عالم تھاکہ مسجدکے فرش پرلیٹے ہوئے دیکھا،نیزیہ کہ جسم میں کنکرچبھے جارہے تھے…جبکہ اس وقت ایشیااورافریقہ کے اکثرحصے پران کی حکمرانی تھی۔

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ


عنوان: سخاوت وفیاضی


حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے زمانۂ قبل ازاسلام سے ہی تجارت کواپنامشغلہ اورذریعۂ معاش بنایاتھااورانتہائی امانت ودیانت کے ساتھ تجارت کیاکرتے تھے، لہٰذا کاروبارمیں خوب خیروبرکت اوربہت زیادہ خوشحالی وفراوانی تھی،مکہ کے نامورتاجروں اور مالداروں میں ان کاشمارہوتاتھا،قبولِ اسلام کے بعدہمیشہ دینِ اسلام کی سربلندی اور مسلمانوں کی فلاح وبہبودکی خاطرنہایت سخاوت وفیاضی اوردریادلی کے ساتھ اپنامال خرچ کرتے رہے،مسلمان جب ہجرت کرکے مکہ سے مدینہ پہنچے تووہاں پینے کے پانی کی سخت قلت اوردشواری کاسامناکرناپڑا،میٹھے پانی کاایک کنواں تھاجوکسی یہودی کی ملکیت تھا، اوروہ پیسے لئے بغیرکسی کوپانی نہیں دیتاتھا،اس وقت عام طورپرمسلمانوں کی اتنی حیثیت نہیں تھی کہ وہ قیمت اداکرکے پانی حاصل کرسکیں …اس پرحضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے اپنی جیبِ خاص سے بیس ہزاردرہم نقداداکرکے وہ کنواں اس یہودی سے خریدلیا اور ہمیشہ کیلئے مسلمانوں کیلئے وقف کردیا۔

ہجرتِ مدینہ کے فوری بعدمسجدِنبوی کی تعمیرکاکام انجام دیاگیاتھا،رفتہ رفتہ مسلمانوں کیتعدادمیں اضافے کی وجہ سے یہ مسجدنمازیوں کیلئے ناکافی ہونے لگی،جس پررسول اللہ ﷺ نے ایک روزخطبۂ جمعہ کے موقع پراعلان فرمایا: مَن بَنَیٰ لِلّہِ مَسجِداً بَنَیٰ اللّہُ لَہٗ بَیتاً فِي الجَنَّۃ (۱) یعنی’’جوکوئی اللہ کیلئے مسجد تعمیرکرے گا، اللہ اس کیلئے جنت میں گھرتعمیرفرمائے گا‘‘۔

یہ ارشادِنبوی سنتے ہی حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے اپنی جیبِ خاص سے ادائیگی کرکے مسجدسے متصل بہت سے مکانات ان کے مالکوں سے خریدکراس جگہ کومسجدمیں شامل کردیا۔

غزوۂ تبوک کے موقع پرملکِ عرب خشک سالی کی لپیٹ میں تھا،قحط اورافلاس کے سائے ہرطرف پھیلے ہوئے تھے،اسلامی لشکرکواشیائے خوردونوش کی اتنے بڑے پیمانے پرقلت کا سامنااس سے قبل کبھی نہیں کرناپڑاتھا،اس نازک صورتِ حال میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے غلہ واناج سے لدے ہوئے ساڑھے نوسواونٹ ٗ سترگھوڑے ٗ نیزایک ہزار دینارنقدپیش کئے…رسول اللہ ﷺ نے جب یہ منظردیکھاکہ اتنی بڑی تعدادمیں خوراک سے لدے ہوئے اونٹ چلے آرہے ہیں ، توآپؐ نے اپنے صحابۂ کرام سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا:’’لو…تمہارے پاس بھلائی آپہنچی‘‘۔ اورپھرآپؐ نے یوں دعاء فرمائی : ’’اے اللہ! میں عثمان سے خوش ہوگیا…توبھی خوش ہوجا‘‘۔

قبولِ اسلام کے بعدہرجمعہ کے دن اللہ کی رضامندی وخوشنودی کی خاطرایک غلام آزاد کیاکرتے تھے،چونتیس سال کی عمرمیں جب مشرف باسلام ہوئے تھے،اس کے بعدسے بیاسی سال کی عمرمیں انتقال تک ،یعنی اڑتالیس سال مسلسل یہی معمول جاری رہا… مزیدیہ کہ بہت سی بیواؤں اوریتیموں کی کفالت ونگہبانی مستقل طورپراپنے ذمے لے رکھی تھی،غرضیکہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ دینِ اسلام کی نشرواشاعت نیزضرورتمند مسلمانوں کی فلاح وبہبودکیلئے ہمیشہ دل کھول کراوربڑے پیمانے پرمالی تعاون کرتے رہے۔

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ


عنوان: شرم وحیاء


حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فطری طورپرہی انتہائی شرمیلے تھے،شکل وصورت بھی بہت اچھی اورجاذبِ نظرتھی،اس پرمزیدیہ کہ شرم وحیاء کے غلبے کی وجہ سے چہرے پرہمہ وقت عجیب سی معصومیت چھائی رہتی تھی۔

رسول اللہ ﷺ کاارشادہے:(لِکُلِّ دِینٍ خُلُقٌ وَ خُلُقُ الاِسلَامِ الحَیَاء) (۱) ترجمہ:(ہردین کاایک خاص اخلاق ہواکرتاہے،اوردینِ اسلام کاخاص اخلاق ’’حیاء‘‘ ہے ) ۔

یعنی دنیامیں جتنے مذاہب ہیں ان میں سے ہرایک کے ماننے والوں اورپیروکاروں کاکوئی خاص مزاج ہواکرتاہے اوران میں ایسی کوئی خاص صفت یاعادت نمایاں ہوتی ہے جوانہیں دوسرے سبھی انسانوں سے ممتازکرتی ہے اورجسے ان کی شناخت سمجھاجاتاہے۔ 

اسی طرح دینِ اسلام کابھی ایک خاص امتیازی وصف اورایک خاص پہچان ہے،اورہ ہے:’’شرم وحیاء‘‘۔

رسول اللہ ﷺ کے اس ارشادکی روشنی میں دینِ اسلام میں ’’شرم وحیاء‘‘کی اہمیت ٗنیز مسلمان کیلئے اس کی ضرورت کوسمجھ لینے کے بعداب حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بارے میں آپ ﷺ کایہ ارشادملاحظہ ہو: أَصْدَقُھُم حَیَائً عُثْمَان ۔ (۱) یعنی’’سب سے بڑھ کرسچے حیاء دارتوعثمان ہیں ‘‘۔

’’حیاء ‘‘کی اس قدراہمیت ٗاورپھرحضرت عثمان ؓ کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کی طرف سے یہ اتنی بڑی گواہی کہ’’ سب سے بڑھ کرسچے حیاء دارتوعثمان ہیں ‘‘اس سے یقینا حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ کی بڑی منقبت ثابت ہوتی ہے۔مزیدیہ کہ آپؐ کے اس ارشادکی رُوسے یہ بات بھی ثابت ہوگئی کہ حضرت عثمان ؓکی حیاء مصنوعی اورنقلی نہیں تھی،محض دکھاوے والامعاملہ نہیں تھا…بلکہ یہ حیاء تصنع اوربناوٹ سے پاک…فطری ٗسچی ٗ اور خالص تھی…!

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں : کَانَ رَسُولُ اللّہِ ﷺ مُضطَجِعاً فِي بَیتِي کَاشِفاً عَن فَخِذَیہِ أو سَاقَیہِ ، فاَستَأذَنَ أَبُوبَکر ، فَأَذِنَ لَہٗ ، وَھُوَ عَلَیٰ تِلکَ الحَالِ ، فَتَحَدَّثَ ، ثُمَّ استَأذَنَ عُمَرُ ، فَأَذِنَ لَہٗ ، وَھُوَ کَذلِکَ ، فَتَحَدَّثَ ، ثُمَّ استَأذَنَ عُثمَانُ ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللّہِ ﷺ وَسَوَّیٰ ثِیَابَہٗ ، فَدَخَلَ فَتَحَدَّثَ ، فَلَمَّا خَرَجَ قَالَت عَائِشَۃُ ؛ یَا رَسُولَ اللّہ! دَخَلَ أَبُوبَکر فَلَم تَھتَشَّ لَہٗ وَلَم تُبَالِ بِہٖ ، ثُمَّ دَخَلَ عُمَرُ فَلَم تَھتَشَّ لَہٗ وَلَم تُبَالِ بِہٖ ، ثُمَّ دَخَلَ عُثمَانُ فَجَلَستَ فَسَوَّیَتَ ثِیَابَکَ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ : أَلَا أستَحِيْ مِن رَجُلٍ تَستَحِيْ مِنہُ المَلَائِکَۃُ ۔ (۲) ترجمہ:’’رسول اللہ ﷺ ایک روزمیرے گھرمیں لیٹے ہوئے تھے اس حالت میں کہ آپ کی ران سے ٗ یا پنڈلی سے کپڑاکچھ ہٹاہواتھا۔اس دوران ابوبکر(رضی اللہ عنہ) نے اندرآنے کی اجازت چاہی۔آپؐ نے انہیں اجازت دی ، جس پروہ اندرآئے اورآپؐ کے ساتھ کچھ گفتگوکی، جبکہ اس دوران آپؐ اسی کیفیت میں رہے۔اس کے بعدعمر(رضی اللہ عنہ)نے اندرآنے کی اجازت چاہی،آپؐ نے انہیں بھی اجازت دی ، جس پروہ اندرآئے اورآپؐ کے ساتھ کچھ گفتگوکی،تب بھی آپؐ اسی کیفیت میں ہی رہے۔اس کے بعدعثمان(رضی اللہ عنہ)نے اندرآنے کی اجازت چاہی،تب آپؐ سیدھے ہوکربیٹھ گئے اوراپنالباس بھی درست کیا، تب عثمان (رضی اللہ عنہ) اندرداخل ہوئے اورکچھ گفتگوکی۔پھرجب یہ حضرات چلے گئے تومیں نے عرض کیاکہ اے اللہ کے رسول!ابوبکر(رضی اللہ عنہ)جب اندرآئے توآپؐ نے ان کی وجہ سے کوئی خاص فکرنہیں کی(یعنی ان کی آمدپر آپ نے اپنی ہیئت یالباس وغیرہ درست کرناضروری نہیں سمجھا)۔پھرعمر(رضی اللہ عنہ)اندرآئے،ان کی آمدپربھی آپ نے کوئی خاص فکرنہیں کی۔اورپھرعثمان(رضی اللہ عنہ) اندرآئے ، تب آپ سنبھل کربیٹھ گئے اوراپنالباس بھی درست کیا؟اس پرآپؐ نے ارشادفرمایا: ’’کیامیں اس شخص سے شرم نہ کروں کہ جس سے فرشتے بھی شرماتے ہیں ‘‘۔(۱)

نیزحضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی شرم وحیاء کی وجہ سے کیفیت یہ تھی کہ خلوت میں بھی کبھی برہنہ ہوکرغسل نہیں کیاکرتے تھے۔

نیزیہ کہ قبولِ اسلام کے وقت جب رسول اللہ ﷺ کے دستِ مبارک پربیعت کی تھی ٗ اس کے بعدکبھی زندگی بھراپنے اُس ہاتھ (یعنی دائیں ہاتھ)سے شرمگاہ کونہیں چھوا…اسے ’’شرم وحیاء ‘‘کامظہرکہاجائے…؟یارسول اللہ ﷺ کے ساتھ والہانہ عقیدت ومحبت کااثرکہہ لیاجائے…بہرحال کیفیت یہی تھی…!

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ


عنوان: خلافت کیلئے انتخاب


خلیفۂ دوم حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ نے قاتلانہ حملے میں زخمی ہونے کے بعدچھ حضرات کے نام تجویزکرتے ہوئے (جن میں اقرباء پروری کے شا ئبہ سے بچنے کیلئے اپنے بیٹے عبداللہ ٗنیزاپنے بہنوئی حضرت سعیدبن زیدرضی اللہ عنہ کوشامل نہیں کیاتھا) یہ وصیت کی تھی کہ یہی چھ افرادباہم مشاورت کے بعدآپس میں سے ہی کسی کومنصبِ خلافت کیلئے منتخب کرلیں …‘‘وہ چھ افرادیہ تھے:

۱۔حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ۔ ۲۔حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ۔

۳۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ۔۴۔حضرت سعدبن ابی وقاص رضی اللہ عنہ۔۵۔ حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ ۔۶۔حضرت زبیربن العوام رضی اللہ عنہ۔

نیزاس موقع پریہ تاکیدبھی فرمائی کہ ان چھ حضرات میں سے کسی ایک کے انتخاب کایہ کام زیادہ سے زیادہ تین دن کی مدت میں بہرصورت طے پاجائے،تاکہ معاملہ طول نہ پکڑ نے پائے…اوریوں منافقین اورخفیہ دشمنوں کوکسی سازش کاموقع نہ مل سکے۔

چنانچہ حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کی شہادت کے فوری بعدان چھ حضرات میں سے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اپنی دستبرداری کااعلان کردیا،البتہ اس عزم کا اظہار کیاکہ وہ اس سنگین ترین معاملے کی مسلسل خودنگرانی کرتے رہیں گے (۱)لہٰذااب انہوں نے مسلسل ان پانچ افرادکے ساتھ ملاقاتوں کاسلسلہ شروع کیا…توابتداء میں ہی حضرت سعدبن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے منصبِ خلافت کی عظیم ذمہ داری قبول کرنے سے معذرت کرلی…پھررفتہ رفتہ حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے اورپھرحضرت زبیربن العوام رضی اللہ عنہ نے بھی معذرت کااظہارکیا…جس پرعبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ مسلسل حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اورحضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے ملاقاتیں کرتے رہے،لیکن ان دونوں حضرات کی جانب سے کوئی واضح جواب نہ مل سکا… حضرت عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ کی طرف سے مقررکردہ تین دن کی مہلت تیزی کے ساتھ اختتام پذیرہورہی تھی…تب آخرعبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے مہاجرین وانصارمیں سے اکابرصحابہ کارجحان معلوم کرنے کی غرض سے بارباران کی جانب رجوع کیا،تب اکثریت کارجحان حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی جانب نظرآیا،جس پرآخریکم محرم سن ۲۴ہجری مسجدنبوی میں نمازکے وقت جب تمام اکابرِصحابہ جمع تھے،حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نیزحضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بھی موجودتھے، تب حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے معاملے کی نزاکت کی جانب توجہ دلاتے ہوئے مسلمانوں کیلئے جلدازجلدکسی خلیفہ کے انتخاب کی ضرورت واہمیت کے بارے میں مختصرتقریرکی،اس بارے میں حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کی اس تاکیدی وصیت کاحوالہ بھی دیاکہ ’’یہ اہم ترین معاملہ فقط تین دن کی مدت کے اندرطے پاجاناچاہئے‘‘۔ اورپھراس سلسلے میں اپنی بھرپورکوشش اورجدوجہدکا ٗ نیزاکابرِ صحابہ کے ساتھ اپنی طویل ملاقاتوں اورمسلسل مشاورت کاتذکرہ بھی کیا،اورپھرفرمایاکہ’’ اس تمامترکوشش اورتگ ودوکے نتیجے کے طورپرجوصورتِ حال سامنے آئی ہے وہ یہ کہ اکثریت کارجحان عثمان بن عفان (رضی اللہ عنہ )کی جانب ہے…‘‘

یہ کہنے کے بعدحضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اپنی جگہ سے اٹھے اورحضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے سامنے پہنچ کر ان کے ہاتھ پربیعت کی،اورپھرحضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ، ودیگرتمام مسلمانوں نے بھی بیعت کی…یوں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کومسلمانوں کے خلیفۂ سوم کی حیثیت سے منتخب کیاگیا۔

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ


عنوان: کارنامے اورخدمات: توسیعِ مسجدِ نبوی


مدینہ شہرکی آبادی میں مسلسل اضافے کی وجہ سے نمازیوں کیلئے مسجدِ نبوی ناکافی پڑنے لگی تھی،جس پرحضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے اس کی توسیع کافیصلہ کیا۔چنانچہ یہ کام مسلسل دس ماہ جاری رہا،اس دوران حضرت عثمانؓ اس مقدس کام کی بذاتِ خودنگرانی کرتے رہے اورشب وروزمصروف رہے،آخراینٹ ٗچونے ٗاورپتھرکی یہ نہایت خوشنما اور مستحکم عمارت تیارہوگئی۔

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ


عنوان: فتوحات


خلیفۂ دوم حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانے سے عظیم الشان فتوحات کاجوبے مثال سلسلہ چلاآرہاتھا ٗاب خلیفۂ سوم کے زمانے میں بھی وہی سلسلہ کافی حدتک جاری رہا، خصوصاًابتدائی چندسالوں میں بڑے پیمانے پرفتوحات ہوئیں ،اسلامی لشکربیک وقت ایک جانب ایشیااوردوسری جانب افریقہ میں پیش قدمی کرتارہا،اسلامی ریاست وسیع سے وسیع ترہوتی چلی گئی،طرابلس اورمراکش فتح ہوئے،افغانستان ٗ خراسان اورترکستان کے بہت سے حصے اسلامی ریاست میں شامل ہوئے ،آرمینیااورآذربائیجان کی فتح کے نتیجے میں اسلامی ریاست کی حدودقوقازاورکوہِ قاف تک جاپہنچیں ۔ خلیفۂ دوم کے زمانے میں روئے زمین کی عظیم ترین قوت سلطنتِ فارس کااگرچہ خاتمہ ہوچکاتھا،البتہ وہاں کامفرورفرمانروا ’’یزدگرد‘‘اب بھی مسلسل اِدھراُدھربھاگ دوڑ میں مشغول تھا،اسے جب موقع ملتاوہ مسلمانوں کے خلاف کوئی نہ کوئی کارروائی کردیتا…یوں وقتاًفوقتاًچھوٹی بڑی مختلف چھڑپوں کی نوبت آتی رہتی تھی ،آخراب خلیفہ ٔ سوم کے زمانے میں ’’مرو‘‘کے مقام پرایک چھڑپ کے دوران وہ ماراگیا…یوں مسلمانوں کے ہاتھوں فارس کی فتح کی اب تکمیل ہوگئی۔(۱)

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ


عنوان: بحری فوج


فوجی خدمات کے شعبے میں سب سے اہم ٗ نمایاں ٗ اوریادگاراقدام بحری فوج کاقیام تھا،دراصل عظیم الشان فتوحات کے نتیجے میں اسلامی ریاست کی حدودبہت دوردرازتک پھیل چکی تھیں ، اب ان کی حفاظت بھی ایک بہت بڑی ذمہ داری تھی ،رومی فوج اگرچہ بہت بڑے پیمانے پرمسلمانوں کے ہاتھوں بدترین شکست سے دوچارہوچکی تھی…تاہم اب بھی رومیوں کوجب اورجہاں موقع ملتاوہ مسلمانوں کے خلاف جارحیت کاارتکاب کرتے رہتے تھے،اکثران کی یہ اشتعال انگیزیاں دوردرازکے علاقوں میں سمندری راستے سے ہواکرتی تھیں ۔

اس چیزکے سدِباب کیلئے خلیفۂ سوم حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے ’’بحری فوج‘‘تیارکی ۔ یوں تاریخِ اسلام میں پہلی باربحری فوج کاقیام عمل میں آیا،جس کی وجہ سے اب خشکی سے نکل کرسمندرکی وسعتوں پربھی مسلمانوں کی بالادستی قائم ہوگئی،اسی بحری فوج کے ذریعے رومیوں کے خلاف کئی تاریخی اورفیصلہ کن قسم کی جنگیں سمندرکے پانیوں میں لڑی گئیں ، جن کے نتیجے میں متعددچھوٹے بڑے ساحلی شہراورجزیرے مسلمانوں نے فتح کئے، جن میں مشہورتاریخی جزیرہ ’’قُبرُص‘‘ بھی شامل ہے۔(۱)

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ


عنوان: کتابتِ قرآن کریم


خلیفۂ سوم حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی دینی خدمات میں اہم ترین اوریادگار خدمت کتابتِ قرآن کریم کیلئے مخصوص رسم الخط کی تعیین ہے ۔ اس کاپس منظرکچھ اس طرح ہے کہ قرآن کریم جوکہ عربی زبان میں ہے ،اس کے بہت سے کلمات اس طرح تحریرکئے گئے تھے کہ انہیں ایک سے زائدطریقوں سے پڑھاجاسکتاتھا،اہلِ زبان کیلئے اس میں کوئی دشواری نہیں تھی،لیکن خلیفۂ دوم اورپھرخلیفۂ سوم کے دورِخلافت میں اسلامی ریاست کی حدود بہت زیادہ وسعت اختیارکرگئیں ،غیرعرب دنیاکابہت وسیع رقبہ اسلامی مملکت میں شامل ہوا،جس کے ساتھ ہی وہاں کے باشندے بھی جوکہ غیرعرب تھے بہت بڑی تعداد میں مسلمان ہوتے چلے گئے،لہٰذاصورتِ حال یہ پیش آئی کہ قرآن کریم کے بہت سے کلمات جواس طرح تحریرکئے گئے تھے کہ انہیں ایک سے زائدطریقوں سے پڑھناممکن تھا ٗ اب غیرعرب چونکہ ان کلمات کے معنیٰ ومفہوم سے ناواقف تھے لہٰذاان کلمات کی تلاوت کے بارے میں ان میں اختلاف کی نوبت آنے لگی،کوئی ایک طرح پڑھتا…جبکہ کوئی دوسراشخص اسی کلمے کواپنی دانست کے مطابق دوسری طرح پڑھتا…ظاہرہے کہ یہ انتہائی حساس معاملہ تھا،کیونکہ یہ کسی عام کتاب کی بات نہیں تھی، بلکہ یہ توکلام اللہ کامعاملہ تھا۔

سلطنتِ فارس کے ایک دوردرازکے علاقے’’آرمینیا‘‘(۲)کے محاذپریہ معاملہ زیادہ شدت اختیارکرگیا۔کیفیت یہ ہوئی کہ سپاہی دن بھرمحاذِجنگ پردشمن کے خلاف برسرِپیکار رہتے،اورپھررات کوجب فرصت کے لمحات میسرآتے تواپنے اللہ سے لَولگاتے،دعاء ومناجات اورتلاوتِ قرآن کاسلسلہ شروع ہوجاتا…ایسے میں متعددقرآنی کلمات کے تلفظ کے حوالے سے ان میں باہم اختلاف کی نوبت آتی…اوریہ چیزان سبھی کیلئے ذہنی وفکری تشویش کاباعث بنتی…قرآن جوکہ اہلِ ایمان کواتفاق واتحادکادرس دیتاہے… اگرخوداسی قرآن کی تلاوت کے معاملے میں ہی اختلاف کی نوبت آنے لگے …توسمجھ لیناچاہئے کہ معاملہ کس قدرسنگین اورفوری توجہ طلب ہوگا…

ان دنوں اُس محاذپراسلامی لشکرکی سپہ سالاری کے فرائض حضرت حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ انجام دے رہے تھے،انہوں نے اس صورتِ حال کی نزاکت کومحسوس کرتے ہوئے اس کے فوری تدارک کی ضرورت کوشدت کے ساتھ محسوس کیا،اوراسی غرض سے طویل ترین سفرکی مشقت وصعوبت برداشت کرتے ہوئے وہ مدینہ پہنچے ،جہاں انہوں نے خلیفہ ٔ وقت حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کواس صورتِ حال سے مطلع کرتے ہوئے اس کے فوری تدارک کامطالبہ کیا،جس کے نتیجے میں حضرت عثمانؓ نے قرآن کریم کاایک نیانسخہ ایسے رسم الخط میں تحریرکرنے کافیصلہ کیا جس میں وہ تمام کلمات جن کی تلاوت اورتلفظ کے وقت اختلاف کی نوبت آتی تھی …غوروفکرکے بعدانہیں اس طرح تحریرکیاجائے کہ اس کے بعد اختلاف کی گنجائش باقی نہ رہے،اورانہیں فقط اسی طرح پڑھاجاسکے جس طرح پڑھنامقصودہے۔

چنانچہ اس مقصدکیلئے ہنگامی طورپراکابرصحابۂ کرام میں سے چندایسے حضرات پرمشتمل ایک لَجنہ(مجلس)تشکیل دی گئی جنہیں قرآنی علوم میں بطورِخاص بڑی دسترس اورمہارت حاصل تھی،اورپھران منتخب حضرات پرمشتمل اس مجلس کی سربراہی ونگرانی کی عظیم ترین ذمہ داری جلیل القدرصحابی حضرت زیدبن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کوسونپی ٗ جوکہ عرصۂ درازتک رسول اللہ ﷺ کے مبارک دورمیں ’’کتابتِ وحی‘‘کامقدس فریضہ انجام دیتے رہے تھے، اورجواس سے قبل خلیفۂ اول حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے دورمیں ’’جمعِ قرآن‘‘ کے موقع پرتشکیل دی گئی مجلس کے سربراہ کی حیثیت سے بھی بحسن وخوبی فرائض انجام دے چکے تھے۔

مزیدیہ کہ اب کتابتِ قرآن کی غرض سے مخصوص رسم الخط کی تعیین کے اس کام کی خلیفۂ وقت حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ بذاتِ خودبھی نہایت توجہ و انہماک کے ساتھ نگرانی کرتے رہے،بالخصوص یہ کہ آپؓ خودبھی حافظِ قرآن تھے،نیزعہدِنبوی میں عرصۂ درازتک کتابتِ وحی کی مقدس ترین خدمت بھی انجام دیتے رہے تھے،اوریہ کہ قرآن کریم کے ساتھ آپؓ کوخاص شغف بھی تھا۔

چنانچہ انتہائی عرق ریزی اورمحنتِ شاقہ کے بعدمخصوص رسم الخط متعین کیاگیا ٗجوکہ ہمیشہ کیلئے ’’رسمِ عثمانی‘‘کے نام سے معروف ہوا، نیزہمیشہ کیلئے امت کااس بات پراجماع منعقد ہوگیاکہ تاقیامت قرآنی کریم کاکوئی بھی نسخہ تحریرکرتے وقت اسی ’’رسمِ عثمانی‘‘کی پابندی لازمی ہوگی۔

یوں ’’رسمِ عثمانی‘‘کے مطابق قرآن کریم کاایک نیانسخہ تحریرکیاگیا، پھراس کی متعددنقول تیارکی گئیں ،جنہیں مختلف علاقوں اوراقالیم کی جانب ارسال کیاگیا۔

تلاوتِ قرآن جیسے اہم ترین معاملے میں مسلمانوں کواختلاف وافتراق سے بچانے اورانہیں ایک رسم الخط پرمتحدومتفق کرنے کے حوالے سے خلیفۂ سوم حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا یہ اقدام یقینا’’کتاب اللہ‘‘کی بہت بڑی خدمت تھی ،جسے تاقیامت تمام امتِ مسلمہ پرعظیم احسان کے طورپرہمیشہ یادرکھاجائے گا۔

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ


عنوان: ’’فتنہ…‘‘اورپھر’’شہادت‘‘


خلیفۂ سوم ذوالنورین حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی انتہائی مظلومیت کی کیفیت میں شہادت کاواقعہ تاریخِ اسلام کابہت ہی افسوسناک حادثہ اورتاقیامت تمام اہلِ ایمان کو خون کے آنسورُلانے والااندوہناک واقعہ ہے۔اس واقعے کوتاریخِ اسلام میں ’’فتنہ‘‘کے نام سے یادکیاجاتاہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ کامبارک دورگذرجانے کے بعدیہ اولین فتنہ تھا، جس کے نتائج واثرات اس قدربھیانک اوردوررس تھے کہ اس ایک فتنے سے آئندہ صدیوں تک مزیدکئی فتنے جنم لیتے رہے…یہ فتنہ عرصۂ درازتک مختلف شکلیں بدل بدل کر،اُمت کیلئے باہمی اختلاف وافتراق اوربڑے مصائب وآلام کاسبب بنتارہا…اس فتنے کے نتیجے میں مختلف زمانوں میں مسلمانوں میں باہم خونریزاورتباہ کُن تصادم کی نوبت آتی رہی…اوراسی فتنے کے نتیجے میں ہی امتِ مسلمہ تاقیامت متعددفرقوں اورگروہوں میں بٹ کررہ گئی…جس کی وجہ سے امت کی وحدت پارہ پارہ ہوئی اورتقسیم درتقسیم کا لامتناہی سلسلہ چل نکلا۔

اس افسوسناک فتنے کاپس منظرانتہائی مختصرطورپریوں بیان کیاجاسکتاہے کہ:

٭…حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ بہت زیادہ شرمیلے ٗ انتہائی نرم مزاج ٗاورحلیم وبردبارتھے،آپؓ نے جب منصبِ خلافت سنبھالاتوابتدائی چھ سال تواسلامی مملکت کے اطراف واکناف میں سابق خلیفہ یعنی حضرت عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ کی سختی کااثرجاری رہا ٗجس کی وجہ سے امورِسلطنت بدستوردرست اندازمیں چلتے رہے…لیکن رفتہ رفتہ بدنیت ٗ سازشی ٗ اورشرپسندقسم کے لوگوں نے نئے خلیفہ کے مزاج کوسمجھ لیا،چنانچہ انہوں نے اسصبروتحمل ٗنرم دلی ومہربانی ٗاورحلم وبردباری کاناجائزفائدہ اٹھایا،اوریوں انہیں سازشوں اورریشہ دوانیوں کاموقع مل گیا…بالفاظِ دیگربہت سے بدخصلت لوگوں کواپنے انتہائی شریف النفس اورمہربان خلیفہ کی شرافت راس نہ آئی…جابجاخفیہ تنظیمیں قائم کرلی گئیں … اورمرورِوقت کے ساتھ یہ فتنہ مضبوط ہوتاچلاگیا۔

٭…خلیفہ ٔ دوم کے زمانے میں بہت بڑے پیمانے پراسلامی فتوحات کے نتیجے میں حدودِسلطنت بہت زیادہ وسعت اختیارکرچکی تھیں ،رعیت میں اب بہت بڑی تعدادمیں عرب وعجم ہرقسم کے لوگ شامل تھے،ان کی زبانیں مختلف تھیں ،ان کاپس منظرایک دوسرے سے جداتھا،ماضی میں ان کاتعلق مختلف تہذیبوں اورثقافتوں سے رہاتھا،قبولِ اسلام سے قبل ان کے سابقہ مذاہب وادیان جداجداتھے…اورپھرقبولِ اسلام کے بعدکیفیت بھی جدا جداتھی…کوئی خلوصِ نیت کے ساتھ برضاورغبت مسلمان ہواتھا،کوئی کسی دنیاوی مصلحت کے تحت مسلمان ہواتھا،کوئی محض ’’جذبۂ انتقام‘‘کی بناء پرمسلمان ہواتھا… چنانچہ اسلامی فتوحات کے اس سیلِ رواں کوجب بزورِطاقت روکنے کاکوئی طریقہ نظر نہ آیاتوان شرپسندوں اورچھپے ہوئے بدخواہوں نے مکروفریب ٗ سازش ٗ اورنفاق کے ذریعے دینِ اسلام کے خلاف اپنے مذموم مقاصدکی تکمیل کافیصلہ کیا…اوریوں مسلمانوں کے ہاتھوں میدانِ جنگ میں اپنی گذشتہ ناکامیوں کابدلہ اب عیاری ومکاری کے ذریعے لینے کی ٹھانی…اوریہ لوگ جگہ جگہ گھوم پھرکرحضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے خلاف نفرت کے شعلے بھڑکاتے رہے اوراس فتنے کومسلسل ہوادیتے رہے۔

٭…آخرسن ۳۵ہجری میں حجِ بیت اللہ کے موقع پردوردرازکے علاقوں سے یہی شرپسند لوگ حاجیوں کے روپ میں بہت بڑی تعدادمیں حجازکی جانب روانہ ہوگئے،اس دوران مدینہ کے قریب پہنچنے پرمکہ کی جانب اپناسفرجاری رکھنے کی بجائے مدینہ کے مضافات میں ہی انہوں نے اپنے خفیہ ٹھکانے بنالئے۔

اُس موقع پرمدینہ کے عام باشندے بڑی تعدادمیں ٗنیزاکابرِصحابہ میں سے بھی اکثریت مدینہ میں موجودنہیں تھی،یہ حضرات حجِ بیت اللہ کی غرض سے مکہ گئے ہوئے تھے اورمدینہ شہر تقریباًخالی تھا،جبکہتمام اسلامی لشکردوردرازکے ممالک میں مختلف محاذوں پردشمنوں کے خلاف برسرِپیکارتھا،خودمدینہ شہرمیں (جواس وقت اولین اسلامی ریاست کادارالحکومت تھا)کوئی اسلامی فوج موجودنہیں تھی…کیونکہ وہاں کے تمام باشندے باہم شیروشکرتھے ، وہاں مکمل امن امان اورسکون واطمینان کی فضاء تھی ، وہاں کبھی کسی فوج کی ضرورت محسوس ہی نہیں کی گئی تھی…ایسے میں دوردرازکے علاقوں سے اتنی بڑی تعدادمیں یہ فسادی اورشرپسندعناصرحجاجِ بیت اللہ کے بھیس میں اپنے مذموم مقاصدکی تکمیل کی غرض سے وہاں آدھمکے … لہٰذاتعدادکے لحاظ سے یہ شرپسندشایداُس وقت خودمدینہ میں موجوداصل باشندوں سے بھی زیادہ تھے، اس نادرموقع سے بھرپورفائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے خلیفۂ وقت نیزدیگرمسلمانوں کی حجِ بیت اللہ کے بعدمکہ سے مدینہ واپسی سے قبل ہی وہاں اپنے قدم جمالئے اوراپنی پوزیشن مستحکم کرلی،نیزخلیفۂ وقت حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے گھرکامحاصرہ کرلیاجواِن کی شہادت تک(چالیس روز) مسلسل جاری رہا، اشیائے خوردونوش کی رسدبندکردی گئی،بئررومہ نامی مشہورکنواں جوہجرتِ مدینہ کے فوری بعدجب وہاں مسلمانوں کوپینے کے پانی کی شدیدقلت کاسامنا تھا، تب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنی جیبِ خاص سے نقدبیس ہزاردرہم اداکرکے وہ کنواں ایک یہودی سے خرید کرمسلمانوں کیلئے وقف کردیاتھا،اورتب ہی سے (یعنی تقریباًگذشتہ پینتیس سال سے) تمام اہلِ مدینہ مسلسل اسی کنویں سے (بالکل مفت) پانی پی رہے تھے،لیکن اب ان فسادیوں کی آمدکے بعداسی کنویں کے پانی سے حضرت عثمان ؓ اوران کے اہلِ خانہ کو محروم کردیاگیا…یوں اس ظالمانہ محاصرے کے دوران مظلوم خلیفۂ وقت اوران کے اہلِ خانہ کے شب وروزنہایت عسرت ومشقت کی کیفیت میں بسرہونے لگے۔

اس دوران کبارِصحابہ میں سے متعددحضرات نے باربارپیشکش کی کہ ’’ہم آپ کوکسی طرح خفیہ طورپر یہاں سے نکال لے جائیں …مکہ …یاکسی اورمحفوظ مقام پرپہنچادیں ‘‘۔ لیکن ہربارحضرت عثمانؓ نے یہی جواب دیاکہ ’’میں جِوارِرسول ﷺ نیز’’دارالہجرۃ‘‘کوچھوڑ کسی اور جگہ ہرگزنہیں جاؤں گا…‘‘

اورجب متعددکبارِصحابہ نے باربار ان فسادیوں اورباغیوں کوبزورِطاقت وہاں سے رفع دفع کرنے کی اجازت چاہی…تب ہربارحضرت عثمانؓ نے یہ کہتے ہوئے اجازت دینے سے انکارکیاکہ ’’مجھے یہ بات ہرگزگوارانہیں کہ محض میری جان بچانے کی خاطر رسول اللہ ﷺ کی مسجدکے پڑوس میں خونریزی کاکوئی سلسلہ ہو‘‘۔

٭…دراصل حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کواپنی شہادت کامکمل یقین تھا،اس سے بھی بڑھ کریہ کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بہت پہلے سے ہی ایک عہدوپیمان کررکھاتھا…جس پروہ سختی کے ساتھ تادمِ زیست قائم رہناچاہتے تھے…اس بارے میں چنداحادیث ملاحظہ ہوں :

٭…عَن أنَسٍ رَضِيَ اللّہُ عَنہ: ( أنَّ النَّبِيَّ ﷺ صَعِدَ أُحُداً ، فَتَبِعَہُ أَبُوبَکرٍ وَ عُمَرُ وَعُثمَانُ ، فَرَجَفَ بِھِم ، فَضَرَبَہُ نَبِيُّ اللّہِ ﷺ بِرِجلِہٖ وَ قَالَ: اُثبُت أُحُد ، فَمَا عَلَیکَ اِلّا نَبِيٌّ وَصِدِّیقٌ وَشَھِیدَانِ)(۱)

ترجمہ:حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک باررسول اللہ ﷺ اُحدپہاڑ پر چڑھے، اورپھرآپؐ کے پیچھے ابوبکر ٗ عمر ٗ اورعثمان (رضی اللہ عنہم)بھی وہاں پہنچ گئے، اُس وقت اُحدپہاڑ کچھ لرزنے لگا…تب آپؐ نے اس پراپناپاؤں مارتے ہوئے فرمایا:’’اے اُحد ٹھہرجاؤ،کیونکہ اس وقت تم پرایک نبی ٗ ایک صدیق ٗ اوردوشہیدموجودہیں ‘‘ 

٭…عَن أبِي مُوسَیٰ الأشعَرِي رَضِيَ اللّہُ عَنہ: (کُنتُ مَعَ النَّبِيِّ ﷺ فِي حَائَطٍ مِن حِیطَانِ المَدِینۃِ ، فَجَائَ رَجُلٌ فَاستَفتَحَ ، فَقَالَ النَّبِيِّ ﷺ : اِفتَح لَہُ وَبَشِّرہُ بَالجَنَّۃِ ، فَفَتَحتُ لَہُ ، فَاِذَا ھُوَ أَبُوبَکرٍ ، فَبَشَّرتُہُ بِمَا قَالَ النَّبِيُّ ﷺ ، فَحَمِدَ اللّہَ ، ثُمَّ جَائَ رَجُلٌ فَاستَفتَحَ ، فَقَالَ النَّبِيِّ ﷺ : اِفتَح لَہُ وَبَشِّرہُ بَالجَنَّۃِ ، فَفَتَحتُ لَہُ ، فَاِذَا ھُوَ عُمَرُ ، فَبَشَّرتُہُ بِمَا قَالَ النَّبِيُّ ﷺ ، فَحَمِدَ اللّہَ ، ثُمَّ جَائَ رَجُلٌ فَاستَفتَحَ ، فَقَالَ لِي : اِفتَح لَہُ وَبَشِّرہُ بَالجَنَّۃِ عَلَیٰ بَلوَیٰ تُصِیبُہُ ، فَاِذَا عُثمَانُ ، فَأخبَرتُہُ بِمَا قَالَ رَسُولُ اللّہِ ﷺ ، فَحَمِدَ اللّہَ ، ثُمَّ قَال : اَللّہُ المُستَعَانُ)(۲)

ترجمہ:حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ’’ ایک باررسول اللہ ﷺ کے ہمراہ جب میں مدینہ کے باغوں میں سے کسی باغ میں موجودتھا ٗ تب کسی شخص نے وہاں آکردروازہ بجایا(۳) اس پررسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’اس کیلئے دروازہ کھول دو، نیز اسے جنت کی خوشخبری بھی سنادو‘‘میں نے دروازہ کھول دیا،وہ ابوبکرتھے،میں نے انہیں رسول اللہ ﷺ کے ارشادکے مطابق وہ خوشخبری سنائی،جس پرانہوں نے اللہ کی تعریف بیان کی (یعنی اللہ کاشکراداکیا)۔

کچھ دیربعدپھرکسی شخص نے وہاں آکردروازہ بجایا،اس پررسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’اس کیلئے دروازہ کھو ل دو، نیزاسے جنت کی خوشخبری بھی سنادو‘‘میں نے دروازہ کھول دیا،وہ عمرتھے،میں نے انہیں رسول اللہ ﷺ کے ارشادکے مطابق وہ خوشخبری سنائی،جس پرانہوں نے اللہ کی تعریف بیان کی (یعنی اللہ کاشکراداکیا)۔

کچھ دیربعدپھرکسی شخص نے وہاں آکردروازہ بجایا،اس پررسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’اس کیلئے دروازہ کھو ل دو، نیزاسے جنت کی خوشخبری بھی سنادو…ایک آزمائش سے گذرنے کے بعد‘‘میں نے دروازہ کھول دیا،وہ عثمان تھے،میں نے انہیں رسول اللہ ﷺ کے ارشاد کے مطابق وہ خوشخبری سنائی،نیزیہ بات بھی بتائی کہ جنت کی خوشخبری توہے ،لیکن ایک آزمائش سے گذرنے کے بعد…جس پرانہوں نے اللہ کی تعریف بیان کی،نیزیہ بھی کہا ’’اللہ مددگارہے‘‘۔

امام یحییٰ بن شرف النووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :(وَفِیہِ فَضِیلَۃُ ھٰؤلَائِ الثَّلَاثَۃِ … وَأنَھُم مِن أھلِ الجَنَّۃِ … وَیَستَمِرُّونَ عَلَیٰ الاِیمَانِ وَالھُدَیٰ…) (۱) یعنی’’اس حدیث سے ان تینوں حضرات [ابوبکروعمروعثمان رضی اللہ عنہم اجمعین)کی فضیلت ثابت ہوتی ہے … نیزیہ کہ یہ تینوں اہلِ جنت میں سے ہیں …اوریہ کہ ایمان اورہدایت پرتادمِ زیست ثابت قدم رہیں گے‘‘۔

اسی طرح اس حدیث سے رسول اللہ ﷺ کایہ معجزہ بھی ظاہرہوتاہے کہ آپؐ نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے ساتھ پیش آنے والے اس ’’بلویٰ‘‘ یعنی آزمائش کی پیشگی خبردے دی ۔

نیزاس حدیث سے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی طرف سے رسول اللہ ﷺ کے ہرارشادپر ٗ خصوصاًاس ارشادپرمضبوط اوراٹل ایمان اورتصدیق کااظہاربھی ہوتاہے کہ آپؓ نے رسول اللہ ﷺ کی زبانِ مبارک سے اپنے بارے میں اس آزمائش کاتذکرہ سننے کے بعداللہ سے اس آزمائش کے ٹلنے کی دعاء نہیں کی…بلکہ اس موقع پراپنے لئے اللہ سے مددواستعانت اورصبروثبات کی دعاء مانگی…جیساکہ اس موقع پران کی طرف سے اَللّہُ المُستَعَان (یعنی اللہ ہی مددگارہے) کہنے کے علاوہ ٗ متعددروایات میں اَللّھُمَّ صَبراً کے الفاظ بھی واردہوئے ہیں (۱) یعنی ’’یااللہ تومجھے اُس آزمائش کے موقع پرصبروثبات عطاء فرمانا‘‘۔

مقصدیہ کہ رسول اللہ ﷺ نے جب اس آزمائش کی خبردی ہے تویہ خبریقینادرست ہے… لہٰذااسے ٹالنے کی فکریادعاء کی بجائے اللہ سے اپنے لئے صبروبرداشت ٗعزیمت واستقامت ٗ اورہمت وحوصلے کی دعاء مانگی۔

٭… ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک بارعثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کومخاطب کرتے ہوئے ارشادفرمایا: یَا عُثمَان ، لَعَلَّ اللّہَ یُقَمِّصُکَ قَمِیْصاً ، فَاِن أَرَادَکَ المُنَافِقُونَ عَلیٰ خَلْعِہٖ فَلَاتَخلَعہُ لَھُم حَتَّیٰ تَلقَانِي(۲)یعنی’’اے عثمان! اللہ آپ کوایک خلعت پہنائے گا،تب منافقین آپ سے اس خلعت کواتاردینے کامطالبہ کریں گے ،لیکن آپ اسے مت اتارئیے گا … تاوقتیکہ آپ [اسے پہنے ہوئے ہی] مجھ سے آملیں ‘‘۔

رسول اللہ ﷺ کے اس ارشادمیں ’’خلعت‘‘(لباس)سے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے ’’خلافت‘‘مرادلی تھی ،لہٰذاباغی ان سے خلافت سے دستبرداری کاجومسلسل مطالبہ کررہے تھے ،اس کے جواب میں وہ رسول اللہ ﷺ کے اسی ارشاد ٗبلکہ اس تاکیدپرمضبوطی سے عمل پیراتھے…یعنی کسی صورت اس ’’خلعت‘‘کونہیں اتارنا(یعنی خلافت دستبردارنہیں ہونا)کہ جواللہ نے پہنائی ہے…اوریہ کہ اس دستبرداری کامطالبہ کرنے والے لوگ برحق نہیں …بلکہ محض منافقین ہیں …!

٭… عَن ابنِ عُمَرَ : ذَکَرَ رَسُولُ اللّہِ ﷺ فِتنَۃً ، فَقَالَ : یُقتَلُ فِیھَا ھٰذَا مَظلُوماً ، لِعُثمَان ۔ (۱)

ترجمہ:’’حضرت ابن عمررضی اللہ عنہماسے روایت ہے کہ ایک باررسول اللہ ﷺ نے ایک فتنے کاتذکرہ فرمایا،تب آپؐ نے عثمان (رضی اللہ عنہ) کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: یہ شخص اسی فتنے کے موقع پر مظلومیت کی حالت میں قتل کردیاجائے گا‘‘۔

٭… عَن مُرَّۃ بن کعب : سَمِعْتُ رَسُولَ اللّہ ﷺ یَذکُرُ فِتنَۃً یَقرُبُھا ، فَمَرَّ رَجُلٌ مُقَنَّعٌ بِثَوبٍ ، فَقَالَ : ھٰذَا یَومَئِذٍ عَلَیٰ الھُدَیٰ ، فَقُمتُ اِلَیہِ ، فَاِذَا ھُوَ عُثمَانُ بن عَفَّان ، فَأَقبَلتُ اِلَیہِ بِوَجْھِي ، فَقُلتُ : ھٰذَا؟ قَالَ: نَعَم ۔(۲)

ترجمہ:’’حضرت مُرّۃ بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک بارمیں نے رسول اللہ ﷺ کوایک ایسے فتنے کاتذکرہ کرتے ہوئے سناجوجلدہی ظاہرہونے والاتھا،اسی دوران ایک شخص وہاں سے گذرا جس نے کپڑے سے سے اپنامنہ ڈھانپ رکھا تھا،آپؐ نے اس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا’’اُس فتنے کے موقع پریہ شخص ہدایت پرہوگا‘‘۔ تب میں اٹھ کراس شخص کے قریب پہنچا،میں نے دیکھاکہ وہ توعثمان بن عفان ہیں ، اس پرمیں نے آپؐ سے دریافت کیا’’یہی شخص؟‘‘ آپؐ نے جواب میں ارشادفرمایا’’ہاں …یہی شخص‘‘۔

غرضیکہ اس فتنے کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کے یہ تمام ارشادات اوراس موقع پر آپؐ کی طرف سے ہدایات وتنبیہات …یہ سب کچھ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پیشِ نظرتھا،اسی وجہ سے وہ مکمل مطمئن تھے اورصبروثبات ٗ نیزمکمل عزیمت واستقامت کے ساتھ ان تمامترمشکلات کامقابلہ کررہے تھے،اوراس دوران اکابرصحابہ میں سے جب بھی جس کسی نے بھی کسی بھی شکل میں تعاون کی پیشکش کی ٗ توآپؓ نے ہمیشہ یہی جواب دیاکہ ’’میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک عہدوپیمان کررکھاہے…میں اسی پرقائم ہوں ‘‘۔

ایک روزحضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے گھرکے دروازے پرموجودمدینہ کے عام مسلمانوں اوران باغیوں کے درمیان جھڑپ کی نوبت آئی جس کے نتیجے میں فریقین کے متعددافرادزخمی ہوگئے،تب مدینہ کے باشندے (جن کی تعدادسات سوسے زائدتھی،جن میں متعدداکابرصحابہ کرام بھی شامل تھے) حضرت عثمانؓ کے گھرکے سامنے جمع ہوئے اوران سے باغیوں کے خلاف مدافعت کی اجازت چاہی…لیکن حسبِ سابق اس باربھی حضرت عثمانؓ نے انکارکیا ،اورانہیں سمجھابجھاکر…بلکہ خوب اصرارکرکے …واپس روانہ کردیا۔

اسی کیفیت میں وقت گذرتارہا،حالات مزیدبگڑتے چلے گئے …محاصرہ طول پکڑتاگیا، فاقے بڑھتے گئے…آخرمسلسل فاقوں کے دوران ایک روزحضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے روزہ رکھا،دن بھرعبادت وتلاوتِ قرآن میں مشغول رہے،جب شام ہوئی توافطارکیلئے پانی تک میسرنہ آسکا،اسی کیفیت میں تمام رات گذرگئی،دوسری صبح ان کی اہلیہ نائلہ ایک پڑوسن سے خفیہ طورپرکچھ پانی مانگ کرلائیں ، اوراپنے شوہرکوپیش کیا،جبکہ طلوعِ صبح سے قبل ہی حضرت عثمانؓ بغیرکچھ کھائے پئے ہی دوبارہ روزے کی نیت کرچکے تھے…،نمازِفجرکے بعدقرآن کریم کی تلاوت میں مشغول ہوگئے،اس دوران کچھ دیرکیلئے آنکھ لگ گئی توخواب میں دیکھاکہ رسول اللہ ﷺ نیزحضرات ابوبکروعمررضی اللہ عنہماکسی باغ میں تشریف فرماہیں ، اورانہیں مخاطب کرتے ہوئے یوں فرما رہے ہیں ’’عثمان!آج شام تم روزہ ہمارے ساتھ افطارکروگے…‘‘

نیندسے بیدارہوتے ہی صاف ستھرانفیس لباس زیب تن کیا،اورعبادت میں مشغول ہوگئے،دن بھریہی کیفیت رہی…نیزاس روزاللہ کی رضامندی وخوشنودی کی خاطربیس غلام بھی آزادکئے۔

اتفاق سے اسی روزمدینہ میں یہ خبرگردش کرنے لگی کہ ان باغیوں کی سرکوبی کی غرض سے اسلامی ریاست کے دوردرازکے بعض علاقوں سے متعددلشکرمدینہ کی جانب رواں دواں ہوچکے ہیں …اس خبرکی وجہ سے باغیوں نے اپنی مذموم کارروائیاں تیزکرنے کی ٹھانی۔

مزیدیہ کہ اس موقع پرمدینہ شہرمیں موجودکبارِصحابۂ کرام میں سے متعددحضرات نے اپنے نوجوان بیٹوں کوحضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے گھرکی حفاظت پرمأمور کررکھاتھا،تاکہ ان باغیوں میں سے کوئی کسی صورت اندرداخل نہ ہوسکے،ان نوجوانوں میں بالخصوص حسن بن علی بن ابی طالب ، حسین بن علی بن ابی طالب،عبداللہ بن عمربن الخطاب،نیز عبداللہ بن زبیربن العوام (رضی اللہ عنہم اجمعین) پیش پیش تھے (۱)

اسی صورتِ حال میں وہ دن گذرتارہا،سورج حسبِ معمول اپناسفرطے کرتے ہوئے اپنی منزل کی جانب بڑھتارہا،آخر سورج ڈھلنے لگا…پھرعصرکاوقت ہوا…اورپھرجب افطارکاوقت بھی قریب آنے لگا…تونہ جانے کہاں سے کسی باغی کاچلایاہواتیرفضاء میں اُڑتاہواآیا…اورحضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے دروازے پرحفاظت کی غرض سے موجودنوجوانوں میں سے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کوآلگا،جس پروہ زخمی ہوگئے اورخون بہنے لگا…یہ منظردیکھ کرباغی گھبراگئے اورباہم یوں سرگوشیاں کرنے لگے کہ حسن (رضی اللہ عنہ) زخمی ہوچکے ہیں ، نواسۂ رسولؐہونے کی وجہ سے ان کی خاص قدرومنزلت ہے ،نیزان کے خاندان بنوہاشم کابھی بہت زیادہ اثرورسوخ ہے…لہٰذاان کازخمی ہوجاناہمارے لئے خطرے کی گھنٹی ہے…عین ممکن ہے کہ مدینہ کے سبھی باشندے اب مشتعل ہوجائیں ، اورہمارے خلاف کوئی بڑافیصلہ کن اقدام کریں ،لہٰذااب مزیدتاخیرہمارے حق میں بہتر نہیں ہوگی، جو کرنا ہے صورتِ حال بگڑنے سے قبل…بس ابھی فوری طورپرکرلیاجائے۔

اس باہمی مشاورت کے بعدفوری طورپرکچھ باغی عقبی راستے سے خفیہ طورپرحضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے گھرسے متصل ابوحزم انصاری رضی اللہ عنہ کے گھرمیں داخل ہوئے، اورپھروہاں سے دیوارپھلانگتے ہوئے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے گھرکی چھت پرجاپہنچے…اورپھروہاں سے گھرکے اندرونی حصے میں اترگئے…باہرکسی کوکانوں کان خبرتک نہ ہوسکی ،مہاجرین وانصارمیں سے متعدداکابرصحابۂ کرام کے نوجوان بیٹے بدستور وہاں دروازے پرپہرہ دیتے رہے…لیکن اندرکی صورتِ حال کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھی۔

اُدھرعقبی راستے اورپھرچھت سے ہوتے ہوئے باغی آخرجب حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ کے گھرکے اندرونی حصے میں پہنچے توسیدھے اُس مقام کی جانب گئے جہاں حضرت عثمانؓ بیٹھے ہوئے انتہائی خشوع وخضوع کے ساتھ تلاوتِ قرآن میں مشغول تھے… تب ایک سنگدل باغی نے آگے بڑھ کرپوری قوت سے لوہے کی سلاخ پیشانی پردے ماری… عجب اتفاق کہ اُس وقت آپ رضی اللہ عنہ یہ آیت تلاوت کررہے تھے{فَسَیَکفِیکَھُمُ اللّہُ وَھُوَ السَّمِیعُ العَلِیمُ صِبغَۃَ اللّہِ وَ مَن أَحسَنُ مِنَ اللّہِ صِبغَۃً وَنَحنُ لَہٗٗ عَابِدُونَ} (۱) یعنی (اللہ عنقریب ان سے آپ کوکافی ہوجائے گا،اوروہ خوب سننے اورجاننے والاہے، اللہ کارنگ اختیارکرو،اوراللہ سے اچھارنگ کس کاہوگا،ہم تواسی کی عبادت کرنے والے ہیں )

اس آیت کی تلاوت کے ساتھ ہی پیشانی پر جب اس آہنی سلاخ کی ضرب لگی …توخون بہنے لگا…تب اس بہتے ہوئے خون کے کچھ چھینٹے قرآن کریم کے اس نسخے میں اس آیت پربھی جاگرے (یعنی:اللہ کارنگ اختیارکرو،اوراللہ سے اچھارنگ کس کاہوگا)(۲)

اس کے بعدایک اوربدبخت نے آگے بڑھ کرتلوارسے وارکیا،جسے آپؓ نے اپنے ہاتھ پرروکنے کوشش کی ،جس پرآپؓ کاہاتھ کٹ کربازوسے جداہوگیا،تب آپؓ کی زبان سے یہ الفاظ نکلے ’’یہ وہی ہاتھ ہے جس نے سب سے پہلے قرآن لکھاتھا‘‘(۳)

باغی نے دوبارہ وارکیا،اس بارآپؓ کی اہلیہ نائلہ نے آگے بڑھ کراپنے ہاتھ پراس وار کوروکناچاہا…جس پران کے ہاتھ کی انگلیاں کٹ کردورجاگریں ،اس کے بعدایک باغی نے آپؓ پرتلوارسے پے درپے کئی وارکئے ۔

یوں چالیس روزتک مسلسل جاری رہنے والے اس ظالمانہ ومجرمانہ محاصرے کے بعد بالآخر۱۸/ ذوالحجہ سن ۳۵ ہجری ،جمعہ کی شام مغرب سے کچھ قبل (جب افطارکاوقت قریب تھا) خلیفۂ سوم حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتہائی مظلومیت وبے بسی کی کیفیت میں ،بیاسی سال کی عمرمیں ، اس جہانِ فانی سے کوچ کرگئے۔

باغی جس طرح خفیہ طریقے سے اندرآئے تھے ٗ اُسی طرح اس مجرمانہ کارروائی کے بعد نہایت سرعت کے ساتھ خفیہ طریقے سے غائب ہوگئے…باہرکسی کوکچھ خبرہی نہ ہوسکی… کچھ دیربعدجب ان کی زخمی اہلیہ نائلہ کے ہوش وحواس قدرے بحال ہوئے توانہوں نے چیخناچلاناشروع کیا…تب سبھی لوگ دوڑے ہوئے وہاں پہنچے اورانتہائی المناک اور دلخراش منظردیکھ کردم بخودرہ گئے…

بہرحال …جوہوناتھا وہ ہوچکا…جُبیربن مطعم رضی اللہ عنہ نے نمازِجنازہ پڑھائی، اور پھر …تحمل وبرداشت … غیرت وحیاء …اورعصمت وشرافت …کے اس پیکرکوغسل دئیے بغیر…انہی خون آلودکپڑوں میں ہی رات کی تاریکی میں ’’بقیع‘‘میں سپردِخاک کردیاگیا۔

یہ ہے مظلوم عثمان بن عفان (رضی اللہ عنہ )کی المناک داستان…اہلِ ایمان تاقیامت جب بھی یہ داستان پڑھیں گے…تویقینایہ داستان انہیں خون کے آنسورُلاتی رہے گی۔

خلیفۂ سوم ذوالنورین حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے ساتھ یہ جواتنابڑاظلم ہوا، اور یہ اتنابڑاجوفتنہ پیش آیا…اس کے برے نتائج ٗ ناقابلِ تلافی نقصانات ٗ اورمنفی اثرات آج تک مسلسل جاری وساری ہیں …یہی فتنہ مختلف اوقات میں مختلف شکلیں بدلتاہوا آگے بڑھتارہااورتباہیاں پھیلاتارہا،جس کے نتیجے کے طورپرکتنے ہی مزیدفتنے پیداہوتے رہے، باہمی جنگوں اورخونریزیوں کی نوبت آتی رہی۔

غرضیکہ امتِ مسلمہ میں آج تک جو افتراق وانتشارہے ، نفرتوں اورتفرقہ بازیوں کاجو لامتناہی سلسلہ ہے…یہ سب اسی کا اثرہے…اسی کانتیجہ ہے…بلکہ اسی کا ’’وبال‘‘ہے…!(۱)

اللہ تعالیٰ جنت الفردوس میں ان کے درجات بلندفرمائیں ، نیزہمیں وہاں اپنے حبیب ﷺ اورتمام صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی صحبت ومعیت کے شرف سے سرفرازفرمائیں ۔

حضرت عثمان شکل و صورت میں حضورعلیہ السلام سے مشابہت رکھتے تھے


حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اعلی صفات کے حامل اور کامل الحیاء و الایمان تھے. آپ کے اخلاق عالیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہت رکھتے تھے. آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے باطن کو حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے سانچے میں ڈھالا ہوا تھا .یہاں تک کہ آپ کا ظاہر ی شکل وصورت بھی آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی مشابہت رکھتی تھی .چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے صحابہ میں سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اخلاق کے لحاظ سے مجھ سے بہت مشابہت رکھتے ہیں( ابن عساکر). 


رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے اپنی صاحبزادی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح کرنے کے بعد اپنی صاحبزادی سے فرمایا: تمہارے شوہر عثمان غنی تمہارے دادا حضرت ابراہیم علیہ السلام اور تمہارے باپ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے شکل و صورت میں بہت مشابہ ہیں (کنزل العمال).


آپ کو ذوالنورین کہنے کی وجہ


حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا لقب ذوالنورین ہیں. یہ وہ فضیلت ہے جو آپ کے سوا کسی کو بھی حاصل نہیں ہے. امام بیہقی روایت کرتے ہیں: کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم تک حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی شخص کے نکاح میں کسی نبی کی دو بیٹیاں نہیں آئی اس لیے آپ رضی اللہ عنہ کو ذوالنورین کہتے ہیں. 


اعلی حضرت فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:


 نور کی ،سرکار سے ،پایا ،دو شالہ   نور کا 


ہو مبارک تم کو ذوالنورین  جوڑا نور کا.




    رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا نکاح پہلے اپنی صاحبزادی حضرت رقیہ سے کیا. حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کے انتقال کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی دوسری صاحبزادی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کو ان کے  نکاح میں دے دی. آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی عظمت و فضیلت کا یہ عالم ہے کہ حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کے انتقال کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بخدا میری اگر کوئی اور بیٹی ہوتی تو اس کو بھی عثمان کے عقد میں دے دیتا. (طبرانی) امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ لکھتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے فرمایا اگر میری چالیس بیٹیاں ہوتی تو یکے بعد دیگرے  میں تمہارا نکاح ان سب سے کر دیتا یہاں تک کہ کوئی بھی باقی نہیں رہتی. 


 جنت کی بشارت


     آپ رضی اللہ عنہ کے فضائل و کمالات بےشمار ہیں، آقائے دو جہاں صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کو دو مرتبہ جنت کی بشارت سنائی. چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم دو مرتبہ جنت خریدی  ایک مرتبہ بیر رومہ خرید کر اور دوسری مرتبہ لشکر عسرہ میں جنگی سازوسامان دے کر (حاکم).


      واقعہ کچھ اس طرح  ہے کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ ایماندار اورسچے تاجر ہونے کی بدولت بہت دولت مند تھے آپ کی دولت سے مسلمانوں کو بہت نفع پہنچا.  ہجرت مدینہ کے بعد میٹھا پانی کی کمی تھی، اس وقت میٹھے پانی کا فقط ایک ہی کنواں تھا جو ایک یہودی کی تھا. اس یہودی نے اس کنویں کو ذریعہ معاش بنایا ہوا تھا. غریب مسلمانوں کو پانی کی سخت تکلیف تھی، اس تکلیف کا احساس کرتے ہوئے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اس کنویں کو 8 ہزار میں خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کر دیا. اسی طرح جب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ جنگ عسرہ کی تیاری کے موقع پر ایک ہزار دینار لے کر رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر دو مرتبہ یہ جملہ ارشاد فرمایا: کہ آج کے بعد عثمان کو ان کا کوئی عمل نقصان نہیں پہنچائے گا(ترمذی).


واقعہ بیعت رضوان


    ایک مرتبہ جب رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے مقام حدیبیہ میں بیعت رضوان کا حکم فرمایا،تو اس وقت حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد کی حیثیت سے مکہ معظمہ گئے ہوئے تھے، لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی، جب سب لوگ بیعت کرچکے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :کہ عثمان اللہ اور اس کے رسول کے کام سے گئے ہوئے ہیں ،پھر اپنا ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ پر مارا یعنی حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف سے خود بیعت فرمائی (ترمذی). شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دست مبارک کو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ قرار دیا. یہ وہ  فضیلت ہے جو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاص ہے (اشعۃ اللمعات). آپ نے مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ حبشہ اور مدینہ دونوں جانب ہجرت کی. غزوہ بدر کے لئے جب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین  تیاری کر رہے تھے تو اس وقت حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی زوجہ کی طبیعت ناساز تھی، اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ میں ہی رہنے کا حکم ارشاد فرمایا تھا. غزوہ بدر میں آپ رضی اللہ عنہ کی عدم شمولیت کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کو بدری صحابہ میں شمار کیا اور بدر کے مال غنیمت سے حصہ عطا فرمایا.



تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

نسبندی کا شرعی حکم

نسبندی کا شرعی حکم روشن تحقیق السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ نس بندی کرانا کیسا ہے جبکہ ڈاکٹر یہ کہے کہ اب یہ عورت مزید بچے پیدا کرے گی، جس سے اسے سخت بیماری پیدا ہونے یا جان کا خطرہ ہے، اور باقی ضبط تولید کے ذرائع سے بھی کبھی خطرہ رہتا ہے، وہ ذرائع فیل ہو جاتے ہیں، اور عورت حاملہ ہو جاتی ہے، اس صورت میں عورت کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔  *سائل: محمد علی باڑمیر*  . وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ  الجواب وباللہ توفیق  نسبندی کی جائز اور ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدی، شرح مسلم جلد سوم میں فرماتے ہیں  1۔ کوئی شخص تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی (نسبندی کرواتا ہے) اصلًا جائز نہیں ہے، یہ اس لیے کہ حرمت کی علت تنگی رزق کا ہونا قرآن مجید میں مذموم ہے: "لا تقتلوا اولادکم من املاق   (سورہ نمبر 6آیت 151" 2۔ اور کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے، کیونکہ ان کی پرورش میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین ...

کمیشن لینا कमिशन लेना हिंदी अनुवाद आखिर में

हिंदी अनुवाद आखिर में है  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع کے ایک عالم صاحب جو کہ امامت کرتے ہیں ساتھ میں ان کا کاروبار گاڑیوں کے لین دین کا جس میں دو پارٹیوں سے سودا کرواتے ہیں جس میں ان کی ذمہ داری رہتی ہے گاڑیوں کے کاغذ وغیرہ کسی میں فولڈ ہوگا تو گارنٹی ان کی رہتی ہے جس کی وجہ سے کبھی نقصان بھی ہوتا ہے کبھی فائدہ مہینہ دو مہینہ کے بعد جب کاغذ وغیرہ نام پر ہو جاتے ہیں تب 5000/10000 جو کمیشن طے ہوتا ہے وہ ملتا ہے ابھی کوئی شخص بولتا ہے کے کمیشن کا دھندا کرنے والے کے پیچھے نماز نہیں ہوتی قرآن و حدیث کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں سائل قاری غلام رسول ضیائی   کوشل کوٹ ضلع بانسواڑہ راجستھان ُ الجواب و بللہ توفیق    شرعی ضابطے پورے کرتے ہوئے کمیشن کے  ذریعے روزی کمانے میں شرعاً کوئی ممانعت نہیں  ہے، کہ کمیشن یا بروکری وہ ذریعۂ آمدنی ہے جس میں اپنی محنت کے ذریعے ایک سروس دی جاتی ہے اور یہ طریقۂ آمدنی آج کا نہیں بلکہ  صدیوں سے رائج ہے جس کو ہر دور کے علماء نے جائز ہی کہا ۔  بروکر کی اجرت (کمیشن): بروکر کو "اجیر خاص" یا "وکیل" سمجھا جات...

حربی سے سود لینے کا حکم روشن تحقیق

حربی سے سود لینے کا حکم ؟ دارالافتاء گلزارِ طیبہ کی یہ علمی تحقیق نہایت دقیق، جامع اور بصیرت افروز ہے۔ اس میں جہاں امام ابو حنیفہؒ کے قول کا صحیح مفہوم واضح کیا گیا ہے، وہیں اس کے غلط استعمالات اور اس کے دینی، سماجی و بین الاقوامی مضمرات پر بھی مدلل کلام کیا گیا ہے۔ علمی و ادبی تاثرات: 1. محققانہ اسلوب: تحقیق کی بنیاد قرآنی آیات، صحیح احادیث اور فقہاء کی معتبر تشریحات پر رکھی گئی ہے۔ علامہ ابن قدامہ، علامہ سعیدی، امام ابن ہمام، امام شافعی، سرخسی وغیرہ جیسے جلیل القدر علماء کے اقوال سے مزین یہ رسالہ اسلوبِ تحقیق کا عمدہ نمونہ ہے۔ 2. فقہی توازن و اعتدال: تحقیق میں نہ صرف مختلف اقوال کا ذکر کیا گیا بلکہ ان کا تجزیہ بھی علمی انداز میں کیا گیا ہے، جو قاری کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا اصل مدعا کیا تھا، اور بعد کے علماء نے ان کے قول کو کس حد تک محدود کیا ہے۔ 3. دورِ حاضر کے تقاضے: یہ تحقیق صرف نصوص کی بحث نہیں، بلکہ موجودہ حالات کے تناظر میں ایک عملی رہنمائی بھی ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا کے دور میں فتاویٰ کے غلط استعمال، اسلام کے بارے میں پھیلنے والی بدگمانیوں اور ہندوست...