نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

کرسی پر نماز پڑھنا ؟

کرسی پر نماز پڑھنا ؟

اسلام وعلیکم عرض یہ ہےکہ میری ریڑ کی۔ھڈی اور ٹا نگ کا أپریسن ہوا ہے ویسے تو الحمد و للہ میں کھڑے ہو کر نماز پڑہ لیتا ہوں کبھی کبھی میری کمر میں درد ہوتا ہے تو میںں کرسی پر بیٹھ نماز پڑہ لیتا ہوں مسجد میں ذیادہ تر نماز میں  کھڑےہو کر پڑھتا ہوں لیکن گھر پر میرا رل کرتا ہے کہ میں نماز کر سی پر بیٹھ کر پڑوں یا پڑھتا ہوں کیا میدے لیے یہ جائز ہے قرأن و حدیث کی روشنی مین جواب دیں ۔۔۔اسلام وعلیکم محمد اکرم أرائیں حیدرأباد پاکستان

وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق 

حدیث میں  ہے، عمران بن حصین رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بیمار تھے، حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے نماز کے بارے میں  سوال کیا، فرمایا: ’’کھڑے ہو کر پڑھو، اگر استطاعت نہ ہو تو بیٹھ کر اور اس کی بھی استطاعت نہ ہو تو لیٹ کر، اﷲ تعالیٰ کسی نفس کو تکلیف نہیں  دیتا مگر اتنی کہ اس کی وسعت ہو۔‘‘ (اس حدیث کو مسلم کے سوا جماعت محدثین نے روایت کیا۔


         بزار مسند میں  اور بیہقی معرفۃ میں  جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ایک مریض کی عیادت کو تشریف لے گئے، دیکھا کہ تکیہ پر نماز پڑھتا ہے یعنی سجدہ کرتا ہے اسے پھینک دیا، اس نے ایک لکڑی لی کہ اس پر نماز پڑھے، اسے بھی لے کر پھینک دیا اور فرمایا: زمین پر نماز پڑھے اگر استطاعت ہو ،ورنہ اشارہ کرے اور سجدہ کو رکوع سے پست کرے۔ 


         جو شخص بوجہ بیماری کے کھڑے ہو کر نما زپڑھنے پر قادر نہیں  کہ کھڑے ہو کر پڑھنے سے ضرر لاحق ہوگا یا مرض بڑھ جائے گا یا دیر میں  اچھا ہو گا یا چکّر آتا ہے یا کھڑے ہو کر پڑھنے سے قطرہ آئے گا یا بہت شدید درد ناقابل برداشت پیدا ہوجائے گا تو ان سب صورتوں  میں بیٹھ کر رکوع و سجود کے ساتھ نماز پڑھے۔ (3) (درمختار) (بہار شریعت باب مریض کی نماز  ) 

آج کل مساجد میں کرسیوں کے زیادہ استعمال کی وجہ یہ ہے کہ معمولی تکلیف  والا بھی کرسی پر نماز پڑھتا ہے، جب کہ کرسی پر نماز پڑھنے کا حکم شرعی حکم یہ ہے کہ:


جو شخص کسی بیماری کی وجہ سے  کھڑے ہونے پر قادر نہیں، یا کھڑے ہونے پر  تو قادر ہے، لیکن زمین پر بیٹھ کر سجدہ کرنے پر قادر نہیں، یا قیام و سجود کے ساتھ نماز  پڑھنے کی صورت میں بیماری میں اضافہ یا شفا ہونے میں تاخیر یا ناقابل برداشت شدید قسم کا درد ہونے کا غالب  گمان ہو، تو ان صورتوں میں وہ کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھ سکتا ہے۔ کسی قابلِ برداشت معمولی درد یا کسی موہوم تکلیف کی وجہ سے فرض نماز میں قیام کو ترک کردینا اور کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنا جائز  نہیں۔ زمین پر سجدہ کرنے اور قیام پر قدرت ہونے کی صورت میں اگر فرض و واجب نماز میں قیام ترک کیا تو نماز ادا نہیں ہوگی۔


اسی طرح فرض نماز  میں مکمل قیام پر تو قادر نہیں، لیکن کچھ دیر کھڑا ہو سکتا ہے، ایسے شخص کے لیے اتنی دیر کھڑا ہونا فرض ہے، اگرچہ کسی چیز کا سہارا لینا پڑے، اس کے بعد وہ بقیہ نماز بیٹھ کر پڑھ سکتاہے، پھر اگروہ زمین پر سجدہ کرسکتاہو تو زمین پر بیٹھ کرنماز پڑھے، اور اگر زمین پر بیٹھنے میں اسے ناقابلِ برداشت تکلیف ہو تو  کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھ سکتا ہے۔


جو  شخص قیام پر تو قادر ہو،  لیکن کمر یا گھٹنے کی تکلیف کی وجہ سے زمین پر سجدہ کرنے پر قادر نہ ہو تو اس سے قیام بھی ساقط ہوجاتا ہے۔


جو شخص قیام پر تو قادر نہیں، لیکن زمین پر بیٹھ کر سجدہ کرنے پر قادر ہے تو اس کے لیے اشارہ سے سجدہ کرنا جائز نہیں، ایسے شخص کے لیے حکم یہ ہے کہ زمین پر بیٹھ کر باقاعدہ سجدے کے ساتھ نماز ادا کرے، صرف اشارے سے  سجدہ کرنا کافی نہیں ہوگا۔


مسجد میں کرسیاں ایک جانب ہوں تو اچھا ہے ، اوراگر صف مکمل نہ ہو تو درمیان  میں بھی کرسی پر نمازجائز ہے۔مسجد انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ بقدرِ ضرورت کرسیاں مسجد میں رکھیں اور نمازیوں کو چاہیے کہ جن کو درج بالاتفصیل کے مطابق کرسی پر نمازپڑھنا جائز نہ ہو  وہ ہرگز کرسی پر نماز نہ پڑھیں واللہ اعلم و رسولہ 

فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری 
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن 👇🏻
https://t.me/joinchat/zRegWnHwDwE5ZDg1

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

نسبندی کا شرعی حکم

نسبندی کا شرعی حکم روشن تحقیق السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ نس بندی کرانا کیسا ہے جبکہ ڈاکٹر یہ کہے کہ اب یہ عورت مزید بچے پیدا کرے گی، جس سے اسے سخت بیماری پیدا ہونے یا جان کا خطرہ ہے، اور باقی ضبط تولید کے ذرائع سے بھی کبھی خطرہ رہتا ہے، وہ ذرائع فیل ہو جاتے ہیں، اور عورت حاملہ ہو جاتی ہے، اس صورت میں عورت کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔  *سائل: محمد علی باڑمیر*  . وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ  الجواب وباللہ توفیق  نسبندی کی جائز اور ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدی، شرح مسلم جلد سوم میں فرماتے ہیں  1۔ کوئی شخص تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی (نسبندی کرواتا ہے) اصلًا جائز نہیں ہے، یہ اس لیے کہ حرمت کی علت تنگی رزق کا ہونا قرآن مجید میں مذموم ہے: "لا تقتلوا اولادکم من املاق   (سورہ نمبر 6آیت 151" 2۔ اور کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے، کیونکہ ان کی پرورش میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین ...

کمیشن لینا कमिशन लेना हिंदी अनुवाद आखिर में

हिंदी अनुवाद आखिर में है  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع کے ایک عالم صاحب جو کہ امامت کرتے ہیں ساتھ میں ان کا کاروبار گاڑیوں کے لین دین کا جس میں دو پارٹیوں سے سودا کرواتے ہیں جس میں ان کی ذمہ داری رہتی ہے گاڑیوں کے کاغذ وغیرہ کسی میں فولڈ ہوگا تو گارنٹی ان کی رہتی ہے جس کی وجہ سے کبھی نقصان بھی ہوتا ہے کبھی فائدہ مہینہ دو مہینہ کے بعد جب کاغذ وغیرہ نام پر ہو جاتے ہیں تب 5000/10000 جو کمیشن طے ہوتا ہے وہ ملتا ہے ابھی کوئی شخص بولتا ہے کے کمیشن کا دھندا کرنے والے کے پیچھے نماز نہیں ہوتی قرآن و حدیث کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں سائل قاری غلام رسول ضیائی   کوشل کوٹ ضلع بانسواڑہ راجستھان ُ الجواب و بللہ توفیق    شرعی ضابطے پورے کرتے ہوئے کمیشن کے  ذریعے روزی کمانے میں شرعاً کوئی ممانعت نہیں  ہے، کہ کمیشن یا بروکری وہ ذریعۂ آمدنی ہے جس میں اپنی محنت کے ذریعے ایک سروس دی جاتی ہے اور یہ طریقۂ آمدنی آج کا نہیں بلکہ  صدیوں سے رائج ہے جس کو ہر دور کے علماء نے جائز ہی کہا ۔  بروکر کی اجرت (کمیشن): بروکر کو "اجیر خاص" یا "وکیل" سمجھا جات...

حربی سے سود لینے کا حکم روشن تحقیق

حربی سے سود لینے کا حکم ؟ دارالافتاء گلزارِ طیبہ کی یہ علمی تحقیق نہایت دقیق، جامع اور بصیرت افروز ہے۔ اس میں جہاں امام ابو حنیفہؒ کے قول کا صحیح مفہوم واضح کیا گیا ہے، وہیں اس کے غلط استعمالات اور اس کے دینی، سماجی و بین الاقوامی مضمرات پر بھی مدلل کلام کیا گیا ہے۔ علمی و ادبی تاثرات: 1. محققانہ اسلوب: تحقیق کی بنیاد قرآنی آیات، صحیح احادیث اور فقہاء کی معتبر تشریحات پر رکھی گئی ہے۔ علامہ ابن قدامہ، علامہ سعیدی، امام ابن ہمام، امام شافعی، سرخسی وغیرہ جیسے جلیل القدر علماء کے اقوال سے مزین یہ رسالہ اسلوبِ تحقیق کا عمدہ نمونہ ہے۔ 2. فقہی توازن و اعتدال: تحقیق میں نہ صرف مختلف اقوال کا ذکر کیا گیا بلکہ ان کا تجزیہ بھی علمی انداز میں کیا گیا ہے، جو قاری کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا اصل مدعا کیا تھا، اور بعد کے علماء نے ان کے قول کو کس حد تک محدود کیا ہے۔ 3. دورِ حاضر کے تقاضے: یہ تحقیق صرف نصوص کی بحث نہیں، بلکہ موجودہ حالات کے تناظر میں ایک عملی رہنمائی بھی ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا کے دور میں فتاویٰ کے غلط استعمال، اسلام کے بارے میں پھیلنے والی بدگمانیوں اور ہندوست...