الحمدللہ رب العالمین والصلوتہ والسلام علی سید المرسلین اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم
فَسْــٴَـلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ(۷)
اے لوگو! علم والوں سے پوچھو اگر تم نہیں جانتے۔
علم کی اہمیت اللہ فرماتا ہے
ارشادِ باری تعالیٰ ہے : حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے مؤمنوں پر بڑا احسان کیا کہ ان کے درمیان اُنہی میں سے ایک رسول بھیجا جواُن سامنے اللہ کی آیتوں کی تلاوت کرے،اُنہیں پاک صاف بنائے، اُنہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے،جب کہ یہ لوگ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں مبتلا تھے۔(سورۂ آل عمران ۱۶۴)
نبی کریم ﷺکا ارشاد ہے: ’’مجھے معلم بناکر بھیجا گیا۔ ‘‘(ابن ماجہ؍ دارمی) آپﷺ میں وہ تمام صفاتِ عالیہ موجود تھیں جو ایک معلمِ کامل میں مطلوب ہیں،آپﷺ کمالِ علم،خلقِ عظیم،اُسوۂ حسنہ ،کمال شفقت ورحمت جیسی صفات سے متصف تھے، آپ ﷺ کی تعلیم وتربیت خود اللہ تعالیٰ نے فرمائی،جیسا کہ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے: ’’اور تمہیں اُن باتوں کا علم دیا جو تم نہیں جانتے تھے۔(سورۃالنساء) آپ ﷺ کی عالی صفات میں کمالِ علم،عظیم حکمت،اعلیٰ اخلاق،شاگردوں کے ساتھ شفقت ورحمت اُن کی تعلیم وتربیت کے لیے عمدہ اور مفید اُسلوب کا استعمال اور اس کی خبر گیر ی وغیرہ جیسے اوصاف اپنے کمال کی انتہا کو پہنچے ہوئے تھے۔لہٰذا جو مدرس واُستاذ آپﷺ کا نائب بننا چاہے اور فن تدریس میں کمال تک پہنچنے کا خواہش مند ہو تو اس کے لیے ضروری ہے کہ پہلے معلّمِ اعظم نبی کریم ﷺ کی صفات وکمالات جو فن تدریس سے متعلق ہیں ،ان سے آشنا ہو اور پھر آپ کے نقشِ قدم پر چلے۔
پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام نے معلم کو انسانوں میں بہترین شخصیت قرار دیا فرمایا:’’تم میں بہترین شخص وہ ہے جو قرآن خود سیکھے اور دوسروں کو سکھائے‘‘(مشکوٰۃ)ایک حدیث میں ہے:’’خیر کی تعلیم دینے والے اُستاد کے حق میں دنیا کی ہر شے دعا گو ہوتی ہے، حتیٰ کہ سمندر کی مچھلیاں بھی‘‘ (ترمذی) ایک اور جگہ فرمایا: ’’دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے، وہ سب ملعون ہے، سوائے اللہ کے ذکر کے اور معلّمِ خیر اور متعلّم کے‘‘۔(ترمذی) اس سے آگے بڑھ کر مستجاب الدعوات رسول اللہ ﷺنے معلّمِ خیر کے لیے دعا فرمائی’’اللہ تعالیٰ خوش وخرم رکھے ،اُس شخص کو جس نے ہم سے کچھ سنا اور اسے محفوظ رکھا اور پھر آگے پہنچایا یعنی لوگوں کو بتایا۔(ابن ماجہ)
حضرت ابن عباس ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر یہ دعا فرمائی :اے اللہ!قرآن سکھانے والوں کی مغفرت فرما،اُن کی عمریں دراز فرما،اُن کی کمائی اور معاش میں برکت فرما۔(تحفۂ معلم:ص۱۹)
علیم کی ضرورت ایک مسلمہ ضرورت ہے، کیونکہ جہالت تمام برائیوں کی جڑ ہے اور علم تمام کمالات کا سرچشمہ ہے، انسان بغیر علم کے نہ تو اپنی زندگی کو صحیح طے کرسکتا ہے اور نہ اپنی آخرت کی تیاری کرسکتا ہے، کیونکہ نجات کے لئے عمل ضروری ہے اور عمل کا پہلا زینہ علم ہے، اور شریعت کے احکامات، عبادات و معاملات میں مردو عورت کی کوئی تخصیص نہیں، بلکہ دونوں ہی اپنے کردہ اور ناکردہ کے جوابدہ ہیں، تو اس کا لازمی مطلب یہ ہے کہ عمل کے لئے جس طرح مردوں کے لئے علم ناگزیر ہے اسی طرح عورتوں کے لئے بھی ضروری ہے، اسی لئے قرآن کریم میں اللہ عزوجل نے امہات المومنین کو حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے:
وَاذْكُرْنَ مَا يُتْلَى فِي بُيُوتِكُنَّ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ وَالْحِكْمَةِ (احزاب: ۳۴)
’’تم ان آیات الہیہ (قرآن) اور اس علم (احکام) کو یادرکھو جس کا تمہارے گھر میں چرچا رہتا ہے‘‘ صاحب تفسیر طبری آیت میں مذکور لفظ ’’حکمت‘‘ کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
ویعنی بالحکمۃ مااوحی الی رسول اللہ ﷺ من احکام دین اللہ ولم ینزل بہ قرآن وذلک السنۃ
’’حکمت سے مراد وہ باتیں ہیں جن کی رسول ﷺ کو وحی کی گئی لیکن اسے قرآن میں نازل نہیں کیا گیا اور وہ سنت ہے‘‘ (تفسیر طبری: ۲۲؍۹ وکذا: تفسیر مظہری: ۷؍۳۴۲)
علامہ عبدالرحمن بن ناصر السعدی (۱۳۰۷۔۱۳۷۶) اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
جب اللہ نے ازواج مطہرات کو عمل کا حکم دیا جو کہ چند چیزوں کے کرنے اور چند چیزوں کے نہ کرنے کا نام ہے تو اللہ نے انہیں علم کا حکم دیا اور انہیں علم کے حصول کا طریقہ بتاتے ہوئے فرمایا کہ ’’تم ان آیات الہیہ (قرآن) اور اس علم (احکام) کو یاد رکھو جس کا تمہارے گھر میں چرچا رہتا ہے‘‘ آیات اللہ سے مراد قرآن ہے اور حکمت سے قرآنی اسرار اور رسول اللہ کی سنت مراد ہے، اور انہیں ذکر کا حکم، تلاوت کے ذریعہ الفاظ کو یاد رکھنے، اور اس میں غور و فکر اور احکامات کی تخریج کے ذریعہ اس کے معانی کو یاد رکھنے پر مشتمل ہے‘‘
’’اذکرن کے دو مفہوم ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ ان چیزوں کو خود یاد رکھنا جس کا نتیجہ ان پر عمل کرنا ہے، دوسرے یہ کہ جو کچھ قرآن ان کے گھروں میں ان کے سامنے نازل ہوا یا جو تعلیمات رسول ﷺ نے ان کو کو دی اس کا ذکر امت کے دوسرے لوگوں سے کریں اور ان کو پہونچائیں‘‘ (معارف القرآن: ۷؍۱۴۱)
ان تفسیری اقتباسات سے یہ بات اچھی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ اللہ نے ازواج مطہرات کو قرآن و حدیث میں بیان کردہ علوم و معارف کے حصول اور حاصل شدہ علوم کی حفاظت و اشاعت کا حکم دیا، ساتھ ہی یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ انہیں یہ حکم، احکامات اسلامیہ پر عمل پیرا ہونے کے لئے دیا گیا تھا، کیونکہ علم کے بغیر صحیح عمل کا تصور ناممکن ہے، اور یہ ظاہر ہے کہ احکامات شرعیہ کی بجا آوری جس طرح امہات المومنین پر لازم تھی اسی طرح امت کی تمام عورتوں پر بھی لازم ہے، تو اس ’’علت مشترکہ‘‘ کی بنیاد پر اس حکم قرآنی کا تعلق جس طرح امہات امومنین سے تھا ایسے ہی امت کی تمام عورتوں سے بھی ہوگا۔
اسی لئے دور نبوت میں بھی عورتوں کی تعلیم کا اہتمام کیا گیا اور رسول اللہ ﷺ کی تعداد ازدواج کی متعدد حکمتوں میں سے ایک حکمت یہ بھی تھی کہ عورتیں بھی مسائل سیکھ سکیں اور ازدواج مطہرات کے واسطے سے تعلیم نبوت عام عورتوں تک بھی پہونچ سکے۔ نبی اکرم ﷺ مردوں کی طرح عورتوں سے بھی وعظ و نصیحت کرتے اور پیغام خداوندی سناتے۔ چناں چہ کتب حدیث میں عورتوں کی تعلیم اور ان سے وعظ کے متعدد واقعات مذکور ہیں، حضرت عبداللہ بن عباس ایک واقعہ نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
حضرت عبداللہ بن عباس ایک واقعہ نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
أن رسول اللہ ﷺ خرج و معه بلال فظن انه لم یسمع فوعظهن وأمرهن بالصدقة فجعلت المرأہ تلقی القرط والخاتم و بلال یاخذ فی طرح ثوبه (بخاری: کتاب العلم، باب عظۃ الامام النساء و تعلیمہن)
’’رسول اللہ ﷺ نکلے اور آپؐ کے ہمراہ بلالؓ تھے آپ نے یہ خیال کیا کہ (مردوں سے وعظ کے دوران) عورتیں آپ کی آواز نہ سن سکیں چناں چہ آپ نے ان سے وعظ کیا اور انہیں صدقہ کا حکم دیا تو عورتیں اپنی بالیاں اور انگوٹھیاں نکال کر دینے لگیں اور حضرت بلال اپنے دامن میں لے رہے تھے‘‘۔ اس روایت کی تشریح کے تحت علامہ شوکانیؒ لکھتے ہیں:
اس روایت سے عورتوں سے وعظ کرنے، انہیں احکام اسلام کی تعلیم دینے، انہیں صدقہ دینے پر آمادہ کرنے اور ان کی تعلیم کے لئے علاحدہ مجلس کا اہتمام کرنے کا استحباب کا ذکر ہے‘‘
حضرت ابو سعید خدریؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ عورتوں نے دربار نبوی میں یہ شکایت کی کہ مرد آپ سے استفادہ میں ہم سے سبقت لے گئے، اس لئے آپ ہمارے لئے اپنی طرف سے کوئی دن متعین کردیجئے، اس دن ہم آپ کے پاس حاصر ہو جایا کریں تاکہ اللہ نے جو علم آپؐ کو دیا ہے آپؐ ہمیں اس کی تعلیم دیں، آپؐ نے فرمایا کہ تم عورتیں فلاں دن فلاں مقام پر جمع ہو جایا کرو، وہ سب اس جگہ جمع ہوگئیں پھر آپؐ تشریف لائے اور عورتوں کو تعلیم دی پھر فرمایا کہ تم میں سے جس عورت کے تین بچے وفات پاجائیں وہ بچے اس کے لئے دوزخ سے حفاظت کا دریعہ بنیں گے، ایک عورت نے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول دو کے بارے میں کیا حکم ہے؟ ابو سعید ؓکہتے ہیں کہ اس خاتون نے اپنا سوال دہرایا تو آپؐ نے فرمایا دو، دو اور دو بھی۔(بخاری: کتاب الاعتصام بالکتاب والنۃ، باب تعلیم النبی ﷺ ، مسلم: کتاب البروالصلۃ والآداب، باب الاحسان الی البنات)
ایک روایت میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ان الفاظ میں منقول ہے:
من کانت له ابنة فادبها فاحسن ادبها وعلمها فاحسن تعلیمها واوسع علیها من نعم اللہ التی اسبغ علیه کانت له منعة وسترۃ من النار (المعجم الکبیر: ۱؍۱۹۷، روایت : ۱۰۴۴۷)
’’جس کے پاس لڑکی ہو اور اس نے اسے اچھا ادب سکھلایا اور اچھی تعلیم دی اور اس پروہ انعامات کو وسیع کیا جو کہ اللہ نے اس کو دیا ہے تو وہ لڑکی اس کے لئے جہنم سے رکاوٹ اور پردہ بنے گی‘‘
ایک اور روایت میں رسول اللہ ﷺ باندیوں کی تعلیم پر زور دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:
"تین قسم کے لوگوں کے لئے دواجر ہیں ایک تو وہ آدمی جس کا اپنے نبی پر ایمان ہو پھر رسول اللہ ﷺ پر ایمان لے آئے، ایک وہ غلام جب کہ وہ اللہ کا حق اور اپنے آقاؤں کا حق ادا کردے اور ایک وہ آدمی جس کے پاس ایک باندی جس سے وہ جنسی تعلقات رکھتا ہو پھر وہ اسے اچھا ادب سکھلائے اور اسے اچھی تعلیم دے پھر اسے آزاد کرکے اس سے شادی کرلے تو اس کے لئے دواجر ہیں‘‘
علامہ ابن حجر عسقلانیؒ اس روایت کے تحت لکھتے ہیں:
الاعتناء بالاهل الحرائر فی تعلیم فرائض اللہ وسنن رسوله آکد من الاعتناء بالاماء (فتح الباری: کتاب العلم، باب تعلیم الرجل امتہ)
’’آزاد گھر والوں کو اللہ کے فرائض اور اس کے رسول کی سنتوں کی تعلیم پر توجہ دینا باندی کی تعلیم پر توجہ دینے سے زیادہ اہم اور ضروری ہے‘‘
حضرت عائشہ ؓ انصار کی ان عورتوں کی تعریف کرتی ہیں جو ’’تفقہ فی الدین‘‘ حاصل کرنے کی متمنی اور اس میں منہمک تھیں جیسا کہ امام بخاری نے آپ ؓ کا یہ قول ان الفاظ میں نقل کیا ہے:
نعم النساء نساء الانصار لم یننعهن الحیاء ان یتفقهن فی الدین (بخاری: کتاب العلم، باب الحیاء فی العلم)
’’انصار کی عورتیں کتنی بہتر ہیں دین میں تفقہ حاصل کرنے میں انہیں حیاء مانع نہیں ہے"
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا
’’علم سیکھو، کیوں کہ اللہ تعالیٰ کے لیے علم سیکھنا خشیت، اسے حاصل کرنے کی کوشش کرنا عبادت،اس کا پڑھنا پڑھانا تسبیح،اس کی جستجو جہاد، ناواقف کو سکھانا صدقہ او راس کی اہلیت رکھنے والوں کو بتانا ثواب کا ذریعہ ہے۔ نیز علم تنہائی کا ساتھی، دین کا راہ نما،خوش حالی وتنگ دستی میں مدد گار، دوستوں کے نزدیک وزیر، قریبی لوگوں کے نزدیک قریب اورجنت کی راہ کا مینار ہدایت ہے۔ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کچھ لوگوں کو اوپر اٹھاتا ہے۔ اور انہیں بھلائی میں راہ نمائی، قیادت وسرداری عطا کرتا ہے۔ جن کی پیروی کی جاتی ہے، وہ بھلائی کے راہ نما ہوتے ہیں، جن کے نقش قدم پر چلا جاتا ہے اورجن کے افعال کو نمونہ بنایا جاتا ہے۔ فرشتے ان کے دوستی کی خواہاں ہوتے ہیں اورپنے پروں سے ان کو چھوتے ہیں۔ ہر خشک اور تران کے لیے مغفرت طلب کرتا ہے، یہاں تک کہ سمندر کی مچھلیاں، جان دار، خشکیوں کے درندے اور جانور، آسمان اور اس کے ستارے تک۔ علم ہی کے ذریعے اللہ کی اطاعت وعبادت کی جاتی ہے، اس کی حمد وثنا ہوتی ہے، اسی سے پرہیزگاری ہوتی ہے، اسی سے صلہ رحمی کی جاتی ہے، اسی سے حلال اور حرام جانا جاتا ہے۔ وہی راہ نما اور عمل اس کا پیروکار ہے۔ بدبخت اس سے محروم رہتے ہیں۔‘‘(اوکماقال ﷺ۔ابن عبدالبر کی کتاب’’جامع بیان العلم وفضل سے ماخوذ)
.ہومخصوصی
خصوصیملی مسائلنقطہ نظر
تعلیم کی اہمیت اور ضرورت
ریاض فردوسی اشاعت 21 اکتوبر، 2020
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا
’’علم سیکھو، کیوں کہ اللہ تعالیٰ کے لیے علم سیکھنا خشیت، اسے حاصل کرنے کی کوشش کرنا عبادت،اس کا پڑھنا پڑھانا تسبیح،اس کی جستجو جہاد، ناواقف کو سکھانا صدقہ او راس کی اہلیت رکھنے والوں کو بتانا ثواب کا ذریعہ ہے۔ نیز علم تنہائی کا ساتھی، دین کا راہ نما،خوش حالی وتنگ دستی میں مدد گار، دوستوں کے نزدیک وزیر، قریبی لوگوں کے نزدیک قریب اورجنت کی راہ کا مینار ہدایت ہے۔ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کچھ لوگوں کو اوپر اٹھاتا ہے۔ اور انہیں بھلائی میں راہ نمائی، قیادت وسرداری عطا کرتا ہے۔ جن کی پیروی کی جاتی ہے، وہ بھلائی کے راہ نما ہوتے ہیں، جن کے نقش قدم پر چلا جاتا ہے اورجن کے افعال کو نمونہ بنایا جاتا ہے۔ فرشتے ان کے دوستی کی خواہاں ہوتے ہیں اورپنے پروں سے ان کو چھوتے ہیں۔ ہر خشک اور تران کے لیے مغفرت طلب کرتا ہے، یہاں تک کہ سمندر کی مچھلیاں، جان دار، خشکیوں کے درندے اور جانور، آسمان اور اس کے ستارے تک۔ علم ہی کے ذریعے اللہ کی اطاعت وعبادت کی جاتی ہے، اس کی حمد وثنا ہوتی ہے، اسی سے پرہیزگاری ہوتی ہے، اسی سے صلہ رحمی کی جاتی ہے، اسی سے حلال اور حرام جانا جاتا ہے۔ وہی راہ نما اور عمل اس کا پیروکار ہے۔ بدبخت اس سے محروم رہتے ہیں۔‘‘(اوکماقال ﷺ۔ابن عبدالبر کی کتاب’’جامع بیان العلم وفضل سے ماخوذ)
ہومخصوصی
خصوصیملی مسائلنقطہ نظر
تعلیم کی اہمیت اور ضرورت
ریاض فردوسی اشاعت 21 اکتوبر، 2020
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا
’’علم سیکھو، کیوں کہ اللہ تعالیٰ کے لیے علم سیکھنا خشیت، اسے حاصل کرنے کی کوشش کرنا عبادت،اس کا پڑھنا پڑھانا تسبیح،اس کی جستجو جہاد، ناواقف کو سکھانا صدقہ او راس کی اہلیت رکھنے والوں کو بتانا ثواب کا ذریعہ ہے۔ نیز علم تنہائی کا ساتھی، دین کا راہ نما،خوش حالی وتنگ دستی میں مدد گار، دوستوں کے نزدیک وزیر، قریبی لوگوں کے نزدیک قریب اورجنت کی راہ کا مینار ہدایت ہے۔ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کچھ لوگوں کو اوپر اٹھاتا ہے۔ اور انہیں بھلائی میں راہ نمائی، قیادت وسرداری عطا کرتا ہے۔ جن کی پیروی کی جاتی ہے، وہ بھلائی کے راہ نما ہوتے ہیں، جن کے نقش قدم پر چلا جاتا ہے اورجن کے افعال کو نمونہ بنایا جاتا ہے۔ فرشتے ان کے دوستی کی خواہاں ہوتے ہیں اورپنے پروں سے ان کو چھوتے ہیں۔ ہر خشک اور تران کے لیے مغفرت طلب کرتا ہے، یہاں تک کہ سمندر کی مچھلیاں، جان دار، خشکیوں کے درندے اور جانور، آسمان اور اس کے ستارے تک۔ علم ہی کے ذریعے اللہ کی اطاعت وعبادت کی جاتی ہے، اس کی حمد وثنا ہوتی ہے، اسی سے پرہیزگاری ہوتی ہے، اسی سے صلہ رحمی کی جاتی ہے، اسی سے حلال اور حرام جانا جاتا ہے۔ وہی راہ نما اور عمل اس کا پیروکار ہے۔ بدبخت اس سے محروم رہتے ہیں۔‘‘(اوکماقال ﷺ۔ابن عبدالبر کی کتاب’’جامع بیان العلم وفضل سے ماخوذ)
تعلیم ہر انسان چاہے وہ آمیر ہو یا غریب،مرد ہو یا عورت کی بنیادی ضرورت میں سے ایک ہے یہ انسان کا حق ہے جو کوئی اسے نہیں چھین سکتا۔انسان اور حیوان میں فرق تعلیم ہی کی بدولت ہے۔عزوہ بدر کے قیدیوں کی رہائی کیلیے فدیہ کی رقم مقرر کی گئی تھی ان میں سے جو نادار تھے وہ بلا معاوضہ ہی چھوڑ دیئے گئے لیکن جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے انہیں حکم ہوا کہ دس دس بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دیں تو چھوڑ دیئے جائیں گے۔چنانچہ سیدنا زید بن ثابت ؓ نے جوکاتب وحی تھے ایسی طرح لکھنا سیکھا تھا اسی بات سے ہم اندازہ لگاسکتے ہے کہ تعلیم کی کیا اہمیت ہے اوران کا حصول کتنی ضروری ہے۔تعلیم نام ہے کسی قوم کی روحانی اور تہذیبی قدروں کو نئی نسل تک اس طرح پہونچانے کا کہ وہ اس کی زندکی کا جز بن جائے۔جب بھی مسلمان علم اور تعلیم سے دور ہوئے وہ غلام بنالیئے گئے یا پھر جب بھی انہوں نے تعلیم کے مواقعوں سے خود کو محروم کیا وہ بحیثیت قوم اپنی شناخت کھو بیٹھے۔
قرآنِ مجید میں لگ بھگ پانچ سو مقامات پر حصول تعلیم کی اہمیت اور فضیلت بیان کی گئی۔ علم کی فرضیت کا براہ راست بیان بے شمار احادیث میں بھی آیا ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایاکہ ’’حصول علم تمام مسلمانوں پر (بلا تفریق مرد و زن) فرض ہے۔بے شک علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و زن پر فرض ہے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایاکہ ’’جو شخص طلب علم کے لیے کسی راستے پر چلا، اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیا‘‘۔اور یہ بات واضح کر دی گئی کہ قرآنِ مجید سے حصول علم خواتین کے لیے بھی اسی طرح فرض ہے جیسے مردوں کے لیے ہے اس لیے تعلیم ہر صورت حاصل کرنا چاہیئے۔
آج کے دور میں تعلیم کی ضرورت اور اہمیت بہت زیادہ ہو گئی ہے۔ آج کا دور کمپیوٹر کا دور ہے لیکن عام تعلیم کی اہمیت کم نہیں ہوئی۔ کمپیوٹر وہ ہی چلے گا جس کو لکھنا پڑھنا آتا ہے۔انجینئرنگ، وکالت، ڈاکٹری اور مختلف جدید علوم حاصل کرنا آج کے دور کا لازمی تقاضہ ہے۔جدید علوم تو ضروری ہیں ہی اس کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کی بھی اہمیت اپنی جگہ ہے۔
تعلیم کے حصول کے لیے قابل اساتذہ بھی بے حد ضروری ہیں جو بچوں کو اعلیٰ تعلیم کے حصول میں مدد
فراہم کرتے ہیں۔ استاد کی بچوں کو تعلیم دینابنیادی ذمہ داری ہوتی ہے۔ استاد وہ نہیں جو محض چار کتابیں پڑھا کر اور کچھ کلاسز لے کر اپنے فرائض سے مبرا ہوگیا بلکہ استاد وہ ہے۔ جو طلباء و طالبات کی خفیہ صلاحیتوں کو بیدار کرتا ہے اور انہیں شعور و ادراک، علم و آگہی نیز فکر و نظر کی دولت سے مالا مال کرتا ہے۔جن اساتذہ نے اپنی اس ذمہ داری کو بہتر طریقے سے پورا کیا، ان کے شاگرد آخری سانس تک ان کے احسان مند رہتے ہیں۔ آج کے دور میں چند عناصر نے پیشہ تدریس کو بھی آلودہ کر دیا گیا ہے۔ ملک میں جگہ جگہ مختلف تعلیمی اداروں کی شاخیں نظر آتی ہیں۔لیکن ان کے اداروں میں میٹرک اور انٹر پاس استاد بچوں کو تعلیم دے رہے ہیں۔ ایسے افراد کی وجہ سے اس عظیم پیشہ کی قدر و قیمت کی کوئی اہمیت نہیں رہی ہے۔ہمارے تعلیمی نظام کو مختلف حصوں میں تقسیم کردیا ہے۔مسلمان کبھی جدید تعلیم سے دور نہیں رہے بلکہ جدید زمانے کے جتنے بھی علوم ہیں زیادہ تر کے بانی مسلمان ہی ہیں۔ موازنہ کیا جائے تو اندازہ ہوگا کہ آج یورپ تک کی جامعات میں مسلمانوں کی تصنیف کردہ کتابیں نصاب میں شامل ہیں۔
ہومخصوصی
خصوصیملی مسائلنقطہ نظر
تعلیم کی اہمیت اور ضرورت
ریاض فردوسی اشاعت 21 اکتوبر، 2020
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا
’’علم سیکھو، کیوں کہ اللہ تعالیٰ کے لیے علم سیکھنا خشیت، اسے حاصل کرنے کی کوشش کرنا عبادت،اس کا پڑھنا پڑھانا تسبیح،اس کی جستجو جہاد، ناواقف کو سکھانا صدقہ او راس کی اہلیت رکھنے والوں کو بتانا ثواب کا ذریعہ ہے۔ نیز علم تنہائی کا ساتھی، دین کا راہ نما،خوش حالی وتنگ دستی میں مدد گار، دوستوں کے نزدیک وزیر، قریبی لوگوں کے نزدیک قریب اورجنت کی راہ کا مینار ہدایت ہے۔ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کچھ لوگوں کو اوپر اٹھاتا ہے۔ اور انہیں بھلائی میں راہ نمائی، قیادت وسرداری عطا کرتا ہے۔ جن کی پیروی کی جاتی ہے، وہ بھلائی کے راہ نما ہوتے ہیں، جن کے نقش قدم پر چلا جاتا ہے اورجن کے افعال کو نمونہ بنایا جاتا ہے۔ فرشتے ان کے دوستی کی خواہاں ہوتے ہیں اورپنے پروں سے ان کو چھوتے ہیں۔ ہر خشک اور تران کے لیے مغفرت طلب کرتا ہے، یہاں تک کہ سمندر کی مچھلیاں، جان دار، خشکیوں کے درندے اور جانور، آسمان اور اس کے ستارے تک۔ علم ہی کے ذریعے اللہ کی اطاعت وعبادت کی جاتی ہے، اس کی حمد وثنا ہوتی ہے، اسی سے پرہیزگاری ہوتی ہے، اسی سے صلہ رحمی کی جاتی ہے، اسی سے حلال اور حرام جانا جاتا ہے۔ وہی راہ نما اور عمل اس کا پیروکار ہے۔ بدبخت اس سے محروم رہتے ہیں۔‘‘(اوکماقال ﷺ۔ابن عبدالبر کی کتاب’’جامع بیان العلم وفضل سے ماخوذ)
تعلیم ہر انسان چاہے وہ آمیر ہو یا غریب،مرد ہو یا عورت کی بنیادی ضرورت میں سے ایک ہے یہ انسان کا حق ہے جو کوئی اسے نہیں چھین سکتا۔انسان اور حیوان میں فرق تعلیم ہی کی بدولت ہے۔عزوہ بدر کے قیدیوں کی رہائی کیلیے فدیہ کی رقم مقرر کی گئی تھی ان میں سے جو نادار تھے وہ بلا معاوضہ ہی چھوڑ دیئے گئے لیکن جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے انہیں حکم ہوا کہ دس دس بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دیں تو چھوڑ دیئے جائیں گے۔چنانچہ سیدنا زید بن ثابت ؓ نے جوکاتب وحی تھے ایسی طرح لکھنا سیکھا تھا اسی بات سے ہم اندازہ لگاسکتے ہے کہ تعلیم کی کیا اہمیت ہے اوران کا حصول کتنی ضروری ہے۔تعلیم نام ہے کسی قوم کی روحانی اور تہذیبی قدروں کو نئی نسل تک اس طرح پہونچانے کا کہ وہ اس کی زندکی کا جز بن جائے۔جب بھی مسلمان علم اور تعلیم سے دور ہوئے وہ غلام بنالیئے گئے یا پھر جب بھی انہوں نے تعلیم کے مواقعوں سے خود کو محروم کیا وہ بحیثیت قوم اپنی شناخت کھو بیٹھے۔
قرآنِ مجید میں لگ بھگ پانچ سو مقامات پر حصول تعلیم کی اہمیت اور فضیلت بیان کی گئی۔ علم کی فرضیت کا براہ راست بیان بے شمار احادیث میں بھی آیا ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایاکہ ’’حصول علم تمام مسلمانوں پر (بلا تفریق مرد و زن) فرض ہے۔بے شک علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و زن پر فرض ہے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایاکہ ’’جو شخص طلب علم کے لیے کسی راستے پر چلا، اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیا‘‘۔اور یہ بات واضح کر دی گئی کہ قرآنِ مجید سے حصول علم خواتین کے لیے بھی اسی طرح فرض ہے جیسے مردوں کے لیے ہے اس لیے تعلیم ہر صورت حاصل کرنا چاہیئے۔
آج کے دور میں تعلیم کی ضرورت اور اہمیت بہت زیادہ ہو گئی ہے۔ آج کا دور کمپیوٹر کا دور ہے لیکن عام تعلیم کی اہمیت کم نہیں ہوئی۔ کمپیوٹر وہ ہی چلے گا جس کو لکھنا پڑھنا آتا ہے۔انجینئرنگ، وکالت، ڈاکٹری اور مختلف جدید علوم حاصل کرنا آج کے دور کا لازمی تقاضہ ہے۔جدید علوم تو ضروری ہیں ہی اس کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کی بھی اہمیت اپنی جگہ ہے۔
تعلیم کے حصول کے لیے قابل اساتذہ بھی بے حد ضروری ہیں جو بچوں کو اعلیٰ تعلیم کے حصول میں مدد
فراہم کرتے ہیں۔ استاد کی بچوں کو تعلیم دینابنیادی ذمہ داری ہوتی ہے۔ استاد وہ نہیں جو محض چار کتابیں پڑھا کر اور کچھ کلاسز لے کر اپنے فرائض سے مبرا ہوگیا بلکہ استاد وہ ہے۔ جو طلباء و طالبات کی خفیہ صلاحیتوں کو بیدار کرتا ہے اور انہیں شعور و ادراک، علم و آگہی نیز فکر و نظر کی دولت سے مالا مال کرتا ہے۔جن اساتذہ نے اپنی اس ذمہ داری کو بہتر طریقے سے پورا کیا، ان کے شاگرد آخری سانس تک ان کے احسان مند رہتے ہیں۔ آج کے دور میں چند عناصر نے پیشہ تدریس کو بھی آلودہ کر دیا گیا ہے۔ ملک میں جگہ جگہ مختلف تعلیمی اداروں کی شاخیں نظر آتی ہیں۔لیکن ان کے اداروں میں میٹرک اور انٹر پاس استاد بچوں کو تعلیم دے رہے ہیں۔ ایسے افراد کی وجہ سے اس عظیم پیشہ کی قدر و قیمت کی کوئی اہمیت نہیں رہی ہے۔ہمارے تعلیمی نظام کو مختلف حصوں میں تقسیم کردیا ہے۔مسلمان کبھی جدید تعلیم سے دور نہیں رہے بلکہ جدید زمانے کے جتنے بھی علوم ہیں زیادہ تر کے بانی مسلمان ہی ہیں۔ موازنہ کیا جائے تو اندازہ ہوگا کہ آج یورپ تک کی جامعات میں مسلمانوں کی تصنیف کردہ کتابیں نصاب میں شامل ہیں۔
آج کل کے دور میں زیادہ ترچار یا پانچ سال کی عمر میں بچے علم کے سفر پر گامزن ہوتے ہیں۔ یہ سفر ان کے لیے نہایت خوشگوار ہوتا ہے اور کبھی کبھی کٹھن بھی۔ دل لگائے بغیر سیکھنا علم پر بوجھ ہوتا ہے پھر ایسے افسوناک حالات و واقعات جو آج ہمارے تعلیمی نظام میں پائے جانے لگے ہیں۔شایدبدلنے کی کوشش سے بھی نہ بدلے جا سکیں۔ ان ننھے دماغوں کو زنگ آلود ہونے سے بچانے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ اس وقت ہمارے مروجہ اور روائتی طریقہ تدریس میں بچوں کے لیے کوئی کشش باقی نہیں رہی ہے۔ بچے اسکولوں، کالجوں، جامعات میں جانے سے کتراتے ہیں۔لگ بھگ ستر فیصدمسلمان بچے اسکول جاتے ہیں مگر ان میں سے بھی کچھ فیصد بچے پرائمری سطح کی تعلیم مکمل کرنے سے پہلے ہی اسکول چھوڑ دیتے ہیں۔ اس کی کوئی ٹھوس وجہ سوائے اس کے کہ روائتی طریقہ تعلیم میں تبدیلی نہیں کی گئی اور دوسری وجہ مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہے جس کی وجہ سے والدین اپنے بچوں کو چائلڈ لیبر کے طور پر کام میں مشغول کروا دیتے ہیں۔
اس لیے ضروری ہے کہ تعلیمی اداروں میں پڑھانے کے ساتھ ساتھ بچوں کی دلچسپی کے لیے دیگر پروگراموں کو بھی ترتیب دیکر ان میں دلچسپی کا سامان پیدا کیا جائے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com