نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

میت ‏پر ‏چادر ‏ڈالنا ‏کیسا؟

..میت پر چادر اوڑھنا کیسا؟…

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ علماء کرام کی بارگاہ میں سوال عرض ہے کہ کیا میت پر جو چادریں چڑھائی جاتی ہیں میت کو دفنانے سے پہلےدوست رشتدار چادریں اوڑھتے ہیں کیا یہ جائز ہے شریعت مطہرہ میں دوسرا یہ کہ عورت جس کا شوہر مرجاتا ہے عدت میں تیجے میں عزیز رشتے دار عورت کو نئے کپڑے وغیرہ دیتے ہیں کیا یہ جائز ہے شریعت مطہرہ میں اس کا حکم کیا ہے قرآن وحدیث کی روشنی میں تفصیل سے جواب عنایت فرمائیں شکریہ جزاک اللہ خیرا کثیرا

نوید احمد رضا حیدر آباد پاکستان سندھ

وعلیکم السلام علیکم و رحمتاللہ و برکاتہ 

الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق صورت مسئولہ

رشتہ داروں کا میت پر چادر اوڑھنا فضول ہے اور یہ رسم ہنود ہے اس سے احتراز لازم ہاں اگر میت کے لیے ثواب کی نیت سے یہ چادریں کسی فقیر شرعی کو دے دیں تو اس میں کوئی حرج نہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالٰی جب بندے کے درجات بلند فرماتا ہے تو یہ بندہ کہتا ہے یہ درجہ مجھے کسطرح مل گیا ؟ تو رب العزت فرماتا ہے تجھے یہ منزل تیرے بیٹے کی استغفار کی وجہ سے ملی ہے (مشکوت رقم الحدیث 2245 ) جس طرح استغفار سے مردہ کو فائدہ پہنچتا ہے اسی طرح مالی صدقات سے بھی فائدہ پہنچتا ہے حدیث میں ہے مشکوٰۃ المصابیح

کتاب: صدقہ کی فضیلت کا بیان

باب: کنواں کھدوانا بہترین صدقہ ہے

حدیث نمبر: 1909



حضرت سعد بن عبادہ ؓ راوی ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ام سعد (یعنی میری ماں) کا انتقال ہوگیا ہے (ان کے ایصال ثواب کے لئے) کونسا صدقہ بہتر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا  پانی چناچہ حضرت سعد ؓ نے آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد سن کر کنواں کھودا اور کہا کہ یہ ام سعد یعنی میری ماں کے لئے صدقہ ہے۔ (ابو داؤد، نسائی)  


تشریح

  یوں تو اللہ نے جو بھی چیز پیدا کی ہے وہ بندہ کے حق میں اللہ کی نعمت ہے لیکن انسانی زندگی میں پانی کو جو اہمیت ہے اس کے پیش نظر بجا طور پر کہا جاسکتا ہے کہ یہ اللہ کی ان بڑی نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے جن کے بغیر انسانی زندگی کی بقاء ممکن نہیں پھر مخلوق اللہ کے لئے اس کی ضرورت اتنی ہی وسیع اور ہمہ گیر ہے کہ قدم قدم پر انسانی زندگی اس کے وجود اور اس کی فراہمی کی محتاج ہوتی ہے، چناچہ کیا دنیا اور کیا آخرت سب ہی امور کے لئے اس کی بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہے خاص طور پر ان شہروں اور علاقوں میں پانی کی اہمیت کی اہمیت کہیں زیادہ محسوس ہوتی ہے جو گرم ہوتے ہیں جہاں پانی کی فراہمی آسانی سے نہیں ہوتی، اسی لئے آنحضرت ﷺ نے پانی کو بہترین صدقہ ارشاد فرما کر اس طرف اشارہ فرمایا ہے کہ پانی کے حصول کا ہر ذریعہ خواہ کنواں ہو یا نل والا تالاب بہترین صدقہ جاریہ ہے کہ جب تک وہ ذریعہ موجود رہتا ہے اس کو قائم کرنے والا اللہ تعالیٰ کی رحمتوں سے نوازا جاتا ہے۔

جس طرح پانی کا صدقہ کیا جاسکتا ہے اسی طرح کوئی بھی مالی صدقہ کیا جاسکتا ہے مثلاً کسی فقیر شرعی کو کپڑے پہنا دینا یا کھانا کھلا دینا وغیرہ سب جائز ہے مگر یہ صدقات صرف فقیر شرعی کو ہی دیا جائے ان فقیروں کو ہرگز نہ دے جو بغیر عذر شرعی کے بھیک مانگنے کو اپنا دھندا بنا لیا ہو اور رشتہ داروں کا بیوا عورت کو کپڑے پہنانا اس میں کوئی حرج نہیں مگر اس ضروری نہ سمجھے کہ یہ بدعت ہے واللہ اعلم و رسولہ 

فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری واضح رہے دارالافتاء فیضان مدینہ دعوت اسلامی کے ماتحت نہیں ہے 

↔ دارالافتاء فیضان مدینہ 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

نسبندی کا شرعی حکم

نسبندی کا شرعی حکم روشن تحقیق السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ نس بندی کرانا کیسا ہے جبکہ ڈاکٹر یہ کہے کہ اب یہ عورت مزید بچے پیدا کرے گی، جس سے اسے سخت بیماری پیدا ہونے یا جان کا خطرہ ہے، اور باقی ضبط تولید کے ذرائع سے بھی کبھی خطرہ رہتا ہے، وہ ذرائع فیل ہو جاتے ہیں، اور عورت حاملہ ہو جاتی ہے، اس صورت میں عورت کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔  *سائل: محمد علی باڑمیر*  . وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ  الجواب وباللہ توفیق  نسبندی کی جائز اور ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدی، شرح مسلم جلد سوم میں فرماتے ہیں  1۔ کوئی شخص تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی (نسبندی کرواتا ہے) اصلًا جائز نہیں ہے، یہ اس لیے کہ حرمت کی علت تنگی رزق کا ہونا قرآن مجید میں مذموم ہے: "لا تقتلوا اولادکم من املاق   (سورہ نمبر 6آیت 151" 2۔ اور کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے، کیونکہ ان کی پرورش میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین ...

حربی سے سود لینے کا حکم روشن تحقیق

حربی سے سود لینے کا حکم ؟ دارالافتاء گلزارِ طیبہ کی یہ علمی تحقیق نہایت دقیق، جامع اور بصیرت افروز ہے۔ اس میں جہاں امام ابو حنیفہؒ کے قول کا صحیح مفہوم واضح کیا گیا ہے، وہیں اس کے غلط استعمالات اور اس کے دینی، سماجی و بین الاقوامی مضمرات پر بھی مدلل کلام کیا گیا ہے۔ علمی و ادبی تاثرات: 1. محققانہ اسلوب: تحقیق کی بنیاد قرآنی آیات، صحیح احادیث اور فقہاء کی معتبر تشریحات پر رکھی گئی ہے۔ علامہ ابن قدامہ، علامہ سعیدی، امام ابن ہمام، امام شافعی، سرخسی وغیرہ جیسے جلیل القدر علماء کے اقوال سے مزین یہ رسالہ اسلوبِ تحقیق کا عمدہ نمونہ ہے۔ 2. فقہی توازن و اعتدال: تحقیق میں نہ صرف مختلف اقوال کا ذکر کیا گیا بلکہ ان کا تجزیہ بھی علمی انداز میں کیا گیا ہے، جو قاری کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا اصل مدعا کیا تھا، اور بعد کے علماء نے ان کے قول کو کس حد تک محدود کیا ہے۔ 3. دورِ حاضر کے تقاضے: یہ تحقیق صرف نصوص کی بحث نہیں، بلکہ موجودہ حالات کے تناظر میں ایک عملی رہنمائی بھی ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا کے دور میں فتاویٰ کے غلط استعمال، اسلام کے بارے میں پھیلنے والی بدگمانیوں اور ہندوست...

مخلوط تعلیم گاہ؟

سوال 1: بالغ لڑکیاں اس طرح مخلوت  تعلیمگاہو میں تعلیم حاصل کرنا کیسہ؟  سوال 2: کیا راجکوٹ شہر میں کروڑوں روپے کی امدادی  رقم سے ان کے لیے ہاسٹل بنانا جائز ہے؟  سوال نمبر 3: کیا مذکورہ صورت حال عمومےبلویٰ کے زمرے میں آتی ہے؟  سوال 4 بعض لوگ کہتے ہیں کہ کچھ دنیوی علم فرض کفایہ کے زمرے میں آتے ہیں تو پھر وہ کون سا علم ہے جو فرض کفایہ کے زمرے میں آتا ہے؟  اور اس فرضکفایہ علم کو حاصل کرنے کے لیے کیا بالغ لڑکیوں کو مخلوت تعلیم گاہ بھیج کر بھی وہ علم حاصل کرنے کی اجازت ہوگی؟  سوال نمبر 5: بعض لوگ کہتے ہیں کہ مذکورہ حالات میں ہاسٹل بنانا جائز نہیں ہے اور ایسا کرنے والے اور چندہ دینے والے جرم کے مرتکب ہیں تو ایسا کہنے والو کہ لیۓ  کیا حکم ہے؟ الجواب وباللہ  توفیق  صورت موسئولہ میں۔ آپ کے سوالات کے جوابات یہ ہے نمر ۱  بالغ لڑکیوں کا مخلوط تعلیمگاہ میں تعلیم حاصل کرنا ناجائز و حرام ہے  اللہ تعالی فرماتا ہے وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِكُنَّ وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِیَّةِ الْاُوْلٰى  اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور بے پردہ نہ...