سنت غیر مؤکدہ کی جگہ قضائے عمری؟
۔السلام علیکم و رحمت اللہ وبرکاتہ
علماءے کرام کی بارگاہ میں عرض ہے کہ سنت غیر مؤکدہ کی جگہ عمری قضاء پڑھ سکتے ھے
ساءل محمد ذکی عطاری
دانتا بناس کانٹھا
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق
عصر اور عشاء کی سنت غیر موکدہ کے بجائے قضاء نماز پڑھنے سے بلا شبہ نماز ہوجائے گی؛ بلکہ سنن غیر موٴکدہ سے پہلے قضاء نماز یں پڑھنا اولی ہے ۔
لیکن بہتر یہ ہے کہ ہمیشہ سنت غیر مؤکدہ کو ترک نہ کرے کہ اس کی بہت فضیلت ہے قضائے عمری کا طریقہ
تو بہت اچھی طرح غور کرلیں کہ میرے ذمہ کس قدر نمازیں قضاء ہیں او رایک کاپی پر ان کو الگ الگ لکھ لیں اور عشاء کے ساتھ وتر کو بھی شامل کرلیں، مجموعی اعتبار سے جس قدر واجب الاداء نمازیں ہوں ان کو اداء کرنا شروع کریں، مثلاً اس طرح نیت کریں کہ میرے ذمہ قضاء نمازوں میں جو سب سے پہلی نماز فجر ہے اس کو اداء کرتا ہوں جب وہ اداء ہوگئی تو پھر اسی طرح نیت کریں چونکہ پہلے جو نماز فجر اداء کی تھی اب اس کے بعد والی پہلی ہوگئی اسی طرح ہرنماز کو اداء کرتے رہیں اور جتنی جتنی اداء کیا کریں ان کو کاپی پر بصراحت لکھ لیا کریں، چھوٹی ہوئی جب کل نمازوں کو پڑھ لیں گے تو ذمہ سے نمازیں ساقط ہوجائیں گی اور امید ہے کہ ان شاء اللہ آخرت میں بھی اللہ پاک کی طرف سے مواخذہ نہ ہوگا، نمازیں اداء کرنے کے ساتھ ساتھ توبہ استغفار کا بھی خاص اہتمام کرتے رہیں۔ایک طریقہ سب سے آسان ہے وہ یہ امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ علیہ فرماتے ہیں قضا ہر روز کی فقط 20 رکعتوں کی ہوتی ہے دو فرض فجر کی چار فرض ظہر کی چار فرض عصر کی تین فرض مغرب کی چار عیشا کے اور تین وتر اور قضا میں یوں نیت کرے نیت کی میں نے پہلی فجر جو مجھ سے قضا ہوئی یا ظہر (یعنی جو نمازیں قضا ہوئی ہے اس کا نام لے )اسی طرح ہمیشہ ہر نماز کیا کرے اور جس قضا نمازیں بہت زیادہ ہے وہ آسانی کے لئے اگر یوں بھی ادا کرے تو جائز ہے کہ ہر رکوع میں اور ہر سجدہ میں تین تین بار سبحان ربی العظیم، اور سبحان ربی الاعلی کی جگہ صرف ایک بار کہے مگر ہمیشہ ہر طرح کی نماز میں یاد رکھنا چاہے کہ جب آدمی رکوع میں پورا پہنچ جائے اس وقت سبحان سین شروع کرے اور جب عظیم کا میم ختم کرے اس وقت رکوع سے سر اٹھائے اسی طرح جب سجدوں میں پورا پہنچ لے اسے وقت تسبیح شروع کرے اور جب پوری تسبیح ختم کر لے اس وقت سجدہ سے سر اٹھائے اور ایک تخفیف یہ ہے کہ فرضوں کی تیسری اور چوتھی رکعت میں الحمدللہ کی جگہ فقط سبحان اللہ سبحان اللہ سبحان اللہ تین بار کہہ کر رکوع میں چلے جائیں اور وتر کی تینوں رکعتوں میں الحمد اور سورت دونوں ضروری ہے ایک تخفیف یہ ہو سکتی ہے کہ پچھلی التحیات کے بعد دونوں درودو اور دعا کی جگہ صرف اللھم صل علی محمد و آلہ کہہ کر سلام پھر دیں اور وتر کی تیسری رکعت میں دعائے قنوت کی جگہ اللہ اکبر کہہ کر فقط ایک یا تین بار رب اغفرلی کہے (فتاوی رضویہ جلد 8 صفحہ 157 ) واللہ اعلم و رسولہ، فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری واضح رہے دارالافتاء فیضان مدینہ دعوت اسلامی کے ماتحت نہیں ہے اگر کوئی غلطی ہو جائے تو ہماری طرف منسوب کرے
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com