سیاہ خضاب کی شرعی حیثیت
کو دسمبر 11, 2021
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسلہ ذیل کے بارے میں ہمارے جامع مسجد کے امام صاحب کالا خضاب داڑی اور سر کےبال میں استعمال کرتےہیں اور کہتے ہیں کہ میں کالی مہندی استعمال کرتا ہوں کیا کالی مہندی بھی ہوتی ہے عرض یہ ہےکہ ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں کالا خضاب استعمال کرنا کیسا ہے قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔المستفتی مولانا جمیل اختر اشرفی گجرات انڈیا
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق
صورت مسئولہ میں سیاہ خضاب لگانا حرام ہے! حضرت بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آخر زمانے میں کچھ لوگ کبوتر کے سینے کی طرح سیاہ خضاب لگائیں گے وہ جنت کی خوشبو تک نہ پائیں گے (سنن ابی داؤد حدیث نمبر 4212 سنن ابن ماجہ
جابر ؓ کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن ابوقحافہ ؓ کو نبی اکرم ﷺ کے پاس لایا گیا، اس وقت ان کے بال سفید گھاس کی طرح تھے، چناچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: انہیں ان کی کسی عورت کے پاس لے جاؤ کہ وہ انہیں بدل دے (یعنی خضاب لگا دے) ، لیکن کالے خضاب سے انہیں بچاؤ
(سنن ابن ماجہ 3624 ) فتاوی علمیہ صفحہ 189 میں ہے سیاہ خضاب لگانا ناجائز و حرام ہے اس کو لگانے والا فاسق معلن مرتکب گناہ کبیرہ ہے مسلم شریف کی حدیث ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سفیدی کو بدل دو اور سیاہی کے قریب نہ جاؤں ایک دوسری حدیث میں ہے جو سیاہ خضاب کرے اللہ تَعَالٰی روز محشر اس کا منہ کالا کرے گا اس کے علاوہ بہت سی حدیثوں میں سیاہ خضاب لگانے پر وعید آئی ہے سیدی اعلی حضرت رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں مذہب صحیح میں سیاہ خضاب حالت جہاد کے سوا مطلقاً حرام ہے جس کی حرمت پر آحدیث صحیح معتبرہ ناطق (فتاوی رضویہ ) ایک جگہ فرماتے ہیں یہ حرام ہے جواز کا فتوی باطل و مردود ہے
حضرت مفتی شریف الحق امجدی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں کالی مہندی جس کے لگانے سے سفید بال سیاہ نظر آئیں اس کا لگانا حرام و گناہ ہے اور جو شخص لگاتا ہے وہ فاسق معلن ہے (فتاوی علمیہ بحوالہ ماہنامہ اشرفیہ ستمبر 2002 حضرت بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زرد رنگ مومن کا خضاب ہے اور سرخ رنگ مسلم کا خضاب ہے اور سیاہ رنگ کافر کا خضاب ہے (مسلم شریف جلد 6 صفحہ 414 ) مجاہد سیاہ خضاب کو میکرو قرار دیتے تھے اور کہتے تھے کہ سب سے پہلے فرعون نے سیاہ خضاب لگایا تھا (شرح صحیح مسلم جلد 6 صفحہ 415 ) علامہ غلام رسول سعیدی رحمت اللہ علیہ علامہ عینی کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ جمہور کا موقف یہ ہے کہ سیاہ رنگ کے سوا پیلے رنگ سے بالوں کو رنگا جائے کیونکہ سیاہ رنگ پر آحدیث میں وعید ہے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے سیاہ خضاب لگایا اللہ تَعَالٰی اس کی طرف نظر (رحمت ) نہیں فرمائے گا اور فرمایا کہ جس شخص نے سیاہ خضاب لگایا اللہ تَعَالٰی قیامت کے دن اس کہ چہرہ سیاہ کر دے گا خلاصہ سیاہ خضاب مکروہ تحریمی ہے چونکہ آحدیث میں سیاہ خضاب پر وعید آئی ہے اس لیے صحیح یہ ہی ہے کہ غیر حالت جنگ میں سیاہ خضاب لگانا مکروہ تحریمی ہے علامہ غلام رسول سعیدی رحمۃاللہ علیہ نے شرح صحیح مسلم میں لکھا ہے کہ بعض صحابہ اور تابعین سے سیاہ خضاب لگانا منقول ہے ہو سکتا ہے کہ ان کے پاس اس کی کوئی توجیہ اور تاویل ہو بہرحال ہمارے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات مقدم ہیں امام اعظم کا یہ ہی مذہب ہے جب آحدیث رسول اور آثار صحابہ میں تعارض ہو تو آحدیث کو آثار پر ترجیح دی جائے گی (شرح صحیح مسلم جلد 6 صفحہ 423 ) خلاصہ کلام آخری یہ ہے
سر یا ڈاڑھی کے کم یا زیادہ سفید بالوں میں کالی مہندی کرنا، جس سے دیکھنے میں بال کالے معلوم ہوں اور لوگوں کو دھوکہ ہو، مکروہ تحریمی وناجائز اور گناہ کبیرہ ہے، صحیح اور مفتی بہ قول یہی ہے، پس جو امام سیاہ خضاب کرتا ہو، اس کی امامت بھی مکروہ ہوگی۔ اور اگر کوئی مقتدی سیاہ خضاب کرے گا تو اس کی بھی نماز مکروہ ہوگی؛ البتہ فریضہ ذمہ سے ساقط ہوجائے گا۔ اور امام کی صورت میں ذمہ داران مسجد کو چاہیے کہ امام کو سیاہ خضاب سے منع کریں۔ اور اگر وہ سفید بالوں میں خضاب کرنا چاہتا ہے تو سرخ یا اس جیسے رنگ کا خضاب کرے، سیاہ خضاب ہرگز نہ کرے۔ اگر امام سیاہ خضاب کرنے سے باز نہیں آئے تو اس کو امامت سے فوراً علیحدہ کر دیا جائے نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا اگر تمھیں خوش آئے کہ خدا تمھاری نماز قبول کرے تو تمھارے اچھے تمھاری امامت کرے وہ تمھارے صفیر ہے (فتاوی رضویہ جلد 5 صحفہ 445 ) لہٰذا جو امام شرعی حکم کی خلاف ورزی کرتا ہے اور سیاہ خضاب لگائیں ایسا امام فاسق ہے اور فاسق کی اقتداء میں نماز مکروہ تحریمی ہے مسلمانوں کو چاہے کہ اپنی مسجد میں امام متقی اور پرہزگار رکھا کرے امام متقی اور پرہزگار ہو تو اس کی اقتداء کے بارے میں حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے پرہیزگار عالم دین کی اقتداء میں نماز پڑھی گویا اس نے نبی کی اقتداء میں نماز پڑھی (شرح صحیح مسلم جلد دوم صفحہ 306 ) واللہ اعلم و رسولہ
فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com