نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

قبرستان میں جگہ خالی نہیں ؟

محمد توفیق ابن اسمعیل
    کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسلے میں  پورانا قبرستان پورا بھر گیا اب دوسری جگہ نہیں ہے تو کیا اس قبرستان کو برابر کر کے اس میں دفن کر سکتے ہیں ہے
                        جزاک اللہ خیرا
 *الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق* 
قبرستان میں جو قبریں ہے انھیں بلکل مٹانا ناجائز و حرام 
جیسا وقار الفتاوی جلد دوم صفحہ 370 میں ہے مسلمانوں کی قبریں قابل احترام ہیں ایک صحابی قبر سے ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قبر والے کو تکلیف نہ دو کیونکہ وہ تمھیں تکلیف نہیں دیتا یہ تو صرف ٹیک لگانے والے سے فرمایا پھر قبروں کو مسمار  (مٹانا )   کرنا زیادہ برا ہے ! لہٰذا قبرستان کو بلکل مسمار کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جا سکتی صورت مسئولہ میں واقعی قبرستان میں دفن کرنے کی جگہ نہیں ہے اور مسلمان دوسری زمین نہیں خرید سکتے یا زمین دستیاب نہیں ہو پاتی تو اب ضرورت کی وجہ سے حکم رخصتی ہے یعنی جو پرانی قبریں وہ وہاں دوسری قبر تیار کر کے مردہ دفن کیا جا سکتا ہے جیسا کہ حضرت مفتی وقار الیدین قادری رضوی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں قبر کھود کر دوسری میت کو اس میں دفن کرنا اس وقت تک جائز نہیں ہے جب تک پہلی میت کی ہڈیاں مٹی میں مل کر ختم نہ ہو جائیں  (وقار الفتاوی جلد دوم صفحہ 375 ) 
معلوم ہوا کہ جب قبرستان میں جگہ نہیں ہے اور نہ ہی دوسری جگہ دوسرا قبرستان ہے اور نہ ہی مسلمان دوسری زمین خرید سکے یا زمین نہیں ملتی تو اب ایسی حالت میں مجبوری ہے کہ پرانی قبروں میں مردے دفن کرے!  اگر کچھ ہڈیاں نکلے تو انھیں ایک طرف رکھ کر حائل کر دے  (یعنی درمیان میں کوئی چیز رکھ کر ) اس کو دفن کریں  (الملفوظ حصہ اول صفحہ 140 )      واللہ اعلم و رسولہ 
فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری 
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

نسبندی کا شرعی حکم

نسبندی کا شرعی حکم روشن تحقیق السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ نس بندی کرانا کیسا ہے جبکہ ڈاکٹر یہ کہے کہ اب یہ عورت مزید بچے پیدا کرے گی، جس سے اسے سخت بیماری پیدا ہونے یا جان کا خطرہ ہے، اور باقی ضبط تولید کے ذرائع سے بھی کبھی خطرہ رہتا ہے، وہ ذرائع فیل ہو جاتے ہیں، اور عورت حاملہ ہو جاتی ہے، اس صورت میں عورت کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔  *سائل: محمد علی باڑمیر*  . وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ  الجواب وباللہ توفیق  نسبندی کی جائز اور ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدی، شرح مسلم جلد سوم میں فرماتے ہیں  1۔ کوئی شخص تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی (نسبندی کرواتا ہے) اصلًا جائز نہیں ہے، یہ اس لیے کہ حرمت کی علت تنگی رزق کا ہونا قرآن مجید میں مذموم ہے: "لا تقتلوا اولادکم من املاق   (سورہ نمبر 6آیت 151" 2۔ اور کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے، کیونکہ ان کی پرورش میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین ...

حربی سے سود لینے کا حکم روشن تحقیق

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ  سوال کیا فرماتے ہیں مفتیان اعظم مسلہ ذیل میں ہندستان کے کفار سے سود لینا کیسا اور ہندوستان کی بینکوں سے ملنے والا سود کا کیا حکم ہے اور کیا ہندوستان کے کفار حربی ہے ان سوالات کا جواب عنایت فرمائیں سایل محمد علی سانوا باڑمیر راجستھان  وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ الجواب وباللہ توفیق  تحقیق یہ ہے کہ ہندوستان کے کفار سے بھی سودی معاملات جایز نہیں اور ہندوستان کی بینکوں سے ملنے والا سود بھی حرام ہے اس رقم کو بغیر نیت ثواب کے  کسی غریب کو دے دیں اب آے اس مسلے پر تفصیلی گفتگو کرتے ہیں  دارالحرب کے سود میں جمہور فقہا کا نظریہ علامہ ابن قدامہ حنمبلی فرماتےہے دارالحرب میں سود اسی طرح حرام ہے جس طرح دارال اسلام میں سود حرام ہے امام احمد امام مالک امام اوزاعی امام ابو یسف امام شافعی اور اسحاق کا بھی یہی مزہب ہے امام ابو حنیفہ نے کہا کہ مسلمان اور حربی کے درمیان دارالحرب میں ربا جاری نہیں ہوگا اور ان سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ دو شخص دارالحرب میں مسلمان ہو گئے توان کے درمیان ربا (سود) نہیں ہوگا اور ان کے اموال مباح ہیں علامہ غلام رسول س...

کیا حضور پر جادو کا اثر ہوا تھا

کیا حضور پر جادو کا اثر ہوا تھا حنفی دارالافتا۶ - 01/03/2025  کیا فرماتے ہے مفیان کرام کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کا اثر ہوا تھا اور ہوا تھا تو اس پر صحیح حدیث موجود ہے اور دوسرا سوال یہ ہے کہ صحیح بخاری کی اس حدیث کا کیا جواب ہے جس میں ہے کہ وحی رک گئی تو آپ نے اپنے آپ کو پہاڈ سے گرانا چاہا جواب عنائت فرمائے سائل محمد علی کچھ گجرات  الجواب و باللہ توفیق کسی بھی مسئلے میں قائدہ یہ ہے کہ اس کو قرآن کے سامنے پیش کریں گے اگر قرآن کے خلاف ہے تو اگرچہ حدیث صحیح ہو اس کو قبول نہیں کیا جائے گا آپ پر جادو کا اثر ہوا تھا اس پر جمہور مفسرین نے یہ ہی لکھا ہے تبیان القرآن جلد۔ اول صفہ ۱۰۴۸میں ہے  امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی 606  ھ لکھتے ہیں :- جمہور مفسرین نے یہ کہا ہے کہ لبیدبن اعصم یہودی نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر گایرہ گرہوں میں جادو کیا تھا اور اس دھاگے کو ذروان نامی کنوئیں کی تہہ میں ایک پتھر کے نیچے دبا دیا تھا، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیمار ہوگئے اور تین دن آپ پر سخت گزرے، پھر اس وجہ سے معوذتین نازل ہوئیں اور حضرت جبریل نے آ کر آپ کو ...