الجواب باسمہ تعالی وبفضلہ
٧٨٦ یہ بسم اللہ الرحمن الرحیم ہی کا عدد ہے نہ کے ہری کرشنا کا کیونکہ بسم اللہ شریف عربی میں ہیں اور جمل کے حساب سے اسکے اعداد ٧٨٦ بنتے ہیں اور ہری کرشنا یہ سنسکرت لفظ ہی جیسا کہ
فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں:- (786 یہ)ہری کرشنا کا عدد ہے یہ (کہنا)یہ محض اس (کہنے والے)کی جہالت اور حماقت ہے وہ جمل کے حروف کے قاعدے سے بالکل ناواقف ہے
اس لیے کہ جمل کا حساب عربی کے ساتھ خاص ہے ،سنسکرت میں نہ یہ طریقہ رائج ہے اور نہ انکے حروف حروف تہجی کے مطابق ہیں
جمل کے حساب میں جو گنتیاں ہیں وہ ٢٨ ہیں اور حروف تہجی بھی ٢٨ ہیں جب کہ سنسکرت کے حروف تہجی ٣٦ ہیں جس میں الف سرے سے ہے ہی نہیں ،الف کو سنسکرت میں شبد و حروف نہیں مانتے بلکہ ماترا مانتے ہیں ،
جب کہ جمل میں پہلا حرف الف (ہمزہ)ہے جس کا عدد ایک ہے نیز جمل کے بہت سے حروف سنسکرت میں بالکل نہیں ہیں جیسے ثا-حا-خا،-ذال-ظا-ص-ض-طا-ع-غ-ف-ق اور بہت سے سنسکرت کے حروف تہجی جمل کے حساب میں نہیں مثلا بھ-پ-ٹ-ٹھ-جھ-دھ-ڈ-ڈھا-گ-کھا وغیرہ
اگر جمل کا حساب سنسکرت وغیرہ میں ہوتا تو انکے حروف تہجی کا کوئی عدد ضرور ہوتا
سنسکرت اور ہندی کے تمام حروف تہجی کا عدد نہ ہونا اور عرب کے ہر حروف تہجی کا عدد ہونا یہ اس بات پر واضح دلیل ہے کہ جمل کا حساب صرف عربی کلمات اور حروف میں معتبر ہے دیگر زبانوں کے کلمات اور حروف میں اسکا اعتبار نہیں(
فتاویٰ فقیہ ملت ٢/٢٨٣-٢٨٤)
اور اسکو گمراہ کن طریقہ کہنا خود کہنے والے کے گمراہ ہونے کی دلیل ہے
جیسا کہ
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’فَمَا رَأَي الْمُسْلِمُونَ حَسَنًا، فَهُوَ عِنْدَ اللّٰهِ حَسَن‘‘ ’’
مسلمان جس چیز کو اچھا سمجھیں وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی اچھا ہے(مسند احمد:)
اور ٧٨٦ کو لکھنے کا رواج پاک و ہند کے علماء و عوام میں طویل عرصے سے رائجب ہے اور اسے مسلمان اچھا بھی سمجھتے ہیں
لہذا ایسی غلط و بے بنیاد تحقیق کو اپنے پاس ہی رکھے اور بھولی عوام کو گمراہ نہ کرے
واللہ اعلم ورسولہ
دارالافتاء فیضان مدینہ ،نیمک نگر گنجا -گجرات

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com