السلام عکیکم
سوال کیا فرماتے ہے علماء کرام مسئلہ زیل میں کہ پہلے وضو فرض ہوا تھا یا نماز جواب عنائت فرمائے سائل محمد علی نویانال کچھ
الجواب باسمہ تعالی وبفضلہ
سیرت مصطفی ﷺ پر نظر کرنے سے بہی ظاہر ہے کہ وضو نماز سے پہلے فرض تھا اگرچہ اسکی فرضیت کی آیت بعد میں نازل ہوئی
چیسا کہ
حکیم الامت مفسر قرآن مفتی احمد یار خان نعیمی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں:
آیات نماز ہجرت سے پہلے آئی اور آیات وضو ہجرت کے بعد سورہ مائدہ میں آئی مگر اس دراز زمانے میں حضور ﷺ نے وضو کرکے نمازیں پڑھیں اور لوگوں کو پڑھائںں
(تفسیر نور العرفان تحت سورہ بقرہ آیت:١ -صفحہ:٣ (مطبوعہ فرید بک ڈپو -دہلی)
اور علامہ غلام رسول سعیدی عیلہ رحمت اللہ القوی فرماتے ہیں:-آیت وضو اجماعا مدنی ہے اور تمام اہل سیرت کا اس پر اجماع ہے کہ وضو اور غسل مکہ میں نماز کے ساتھ فرض ہو گیے تھے اور نبی ﷺنے کبھی بغیر وضو نماز نہیں پڑھی بلکہ ہم سے پہلی شریعت میں بھی وضو فرض تھا کیونکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: یہ میرا وضو ہے اور مجھ سے پہلے انبیاء کا وضو ہے
اور اصول فقہ میں یہ مقرر ہے کہ جب اللہ اور اسکا رسول بغیر انکار کے کوئی قصہ بیان کریں اور اسکا نسخ ظاہر نہ ہو تو وہ بھی ہماری شریعت ہے اور اس آیت (جس میں وضو کی فرضیت کا بیان ہے )کے نزول کا فائدہ یہ ہے کہ جو حکم پہلے ثابت ہو چکا تھا اسکو مقرر اور ثابت کیا جائے
(تفسیر تبیان القرآن -جلد-٣ صفحہ:٩٥ (مکتبہ ادبی دنیا)
معلوم ہوا کے وضو کی فرضیت کی آیت اگرچہ نماز کی فرضیت کے بعد نازل ہوئی لیکن سابقہ شریعتوں کی طرح ہماری شریعت میں بھی وضو فرض تھا ،لھاذا معلوم ہوا کہ وضو نماز سے پہلے فرض ہوا
واللہ اعلم ورسولہ
مفتی ادارہ:ایم جے اکبری قادری حنفی
دارالافتاء فیضان مدینہ -نیمک نگر گنجا گجرات

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com