عورتوں کا نوکری کرنا؟
- نومبر 18, 2021
……..عورت کا نوکری کرنا؟ ……. کیا عورت شوہر کے کمانے کے باوجود نوکری کر سکتی ہے کسی کمپنی میں؟ عارف عطاری سریندر نگر الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق عورت کے لیے ملازمت پانچ شرائط کے ساتھ کرنی جائز ہے ان شرطوں میں سے ایک بھی مفقود ہو تو ملازمت (نوکری کرنا ) حرام ہے 1 کپڑے بارک نہ ہوں جن سے سر کے بال یا کلائی وغیرہ ستر کا کوئی حصہ چمکے 2 کپڑے تنگ و چست نہ ہوں جو بدن کی ہیبت ظاہر کریں 3 بالوں یا گلے یا پیٹ یا کلائی یا پنڈلی کا کوئی حصہ ظاہر نہ ہوتا ہو 4 کبھی نامحرم کے ساتھ کسی مختصر وقت کے لیے بھی تنہائی نہ ہوتی ہو 5 اس کے وہاں رہنے یا باہر آنے جانے میں کوئی فتنہ نہ ہو ( فتاوی تربیت افتاء جلد دوم بحوالہ فتاوی رضویہ جلد 9 صفحہ 252 ) اس دور میں شرط اول تو مفقود ہی نظر آتی ہے! عورت کو بے پردہ باہر نکلنا اجنبی مردوں کے ساتھ خلط ملط، سر کے بال کھلے رکھنا، ایسا لباس پہننا جس سے بدن کا ابھار ظاہر ہو غیروں کے ساتھ خلوت و تنہائی حرام و گناہ ہے اللہ تَعَالٰی فرماتا ہے! وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِكُنَّ وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِیَّةِ الْاُوْلٰى اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور بے پردہ نہ ہو جیسے اگلی جاہلیت کی بے پردگی، ( سورتہ 33 آیت 33 ) حدیث شریف میں ہے ۔۔۔ وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْمَرْأَةُ عَوْرَةٌ فَإِذَا خَرَجَتِ اسْتَشْرَفَهَا الشَّيْطَانُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ حضرت ابن مسعود ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ عورت پردہ ہے ، جب وہ (بے پردہ) نکلتی ہے تو شیطان اسے مزین کر کے دکھاتا ہے ۔‘‘ ، رواہ الترمذی ۔ رقم الحدیث 3109 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فرمایا : بلاشبہ ( فتنے میں ڈالنے کے حوالے سے ) عورت شیطان کی صورت میں سامنے آتی ہے اور شیطان ہی کی صورت میں مڑکر واپس جاتی ہے ۔ تم میں سے کوئی جب کسی عورت کو دیکھے تو وہ اپنی بیوی کے پاس آ جائے ، بلاشبہ یہ چیز اس خواہش کو ہٹا دے گی جو اس کے دل میں ( پیدا ہوئی ) ہے ، ( صحیح مسلم رقم الحدیث 3407 ) اعلی حضرت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں عورت اگر کسی نامحرم کے سامنے اس طرح آئے کہ اس کے بال اور گلے اور گردن یا پیٹھ یا کلائی یا پنڈلی کا کوئی حصہ ظاہر ہو یا لباس ایسا بارک ہو کہ ان چیزوں سے کوئی حصہ اس میں سے چمکے تو یہ بالاجماع حرام ہے اور ایسی وضح و لباس کی عادی عورتیں فاسقات اور ان کے شوہر اگر اس پر راضی ہوں یا حسب مقدر بندوبست نہ کریں تو دیوث ہیں اب ہر مسلمان کو اس فتوے کی روشنی میں غوروفکر کرنے کی ضرورت ہو اور بالخصوص مسلمان عورتوں کو اس پر غور کریں اور اپنا حال دیکھے اس دور میں عورتوں کے لباس کا حال مخفی نہیں مسلمان عورتوں تم قیامت کے دن کے اللہ و رسول کو کیا جواب دوگی فیشن کے نام پر جو تم کرتی ہوں یہ حدیث بھی سن لیں نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ وسلم نے فرمایا اہل جہنم میں سے دو قسم کے لوگ ایسے ہیں جنھیں میں نے دیکھا ایک وہ لوگ جن کے ساتھ گائے کی دموں کی طرح کے کوڑے ہوں گے وہ اس ذریعے لوگوں کو مارتے ہوں گے اور وہ عورتیں جو لباس پہنے کے باوجود برہانہ (ننگی ) ہوگی وہ ماہل کرنے والی ہوں گی اور ماہل ہونے والی ہوگی اور وہ جنت میں داخل نہیں ہوگی اور وہ اس کی خوشبو کو بھی نہیں پائے گی دیوث بھی جنت میں نہیں جائے گا (دیوث یعنی بے غیرت مرد ) جو اپنی بہن بیٹیوں اور بیوی کو اس طرح کے لباس سے منع نہیں کرتا اور اس پر راضی رہتا ہوں خلاصہ خدا کے لیے مرد حضرات اپنے گھروالوں سے بے حیائی کو دور کرے اپنے گھر والوں کو عزت والا لباس پہننے کا حکم دے اور عورت کو نوکری پر بھیجنے کے بجائے خود کما کر گھر چلائے اور عورت کو بال بچوں کو حلال روزی کھلائے یہ بھی عبادت ہے واللہ

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com