نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

حرم کے امام کی اقتدہ؟

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسیٔلے  میں کہ 
حج اور عمرہ کے درمیان مسجد حرام اور مسجد نبوی شریف کے امام کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ؟
اور یہ کہنا کیسا کہ اگر اللہ پاک کو وہ پسند نہ ہوتا تو اسکو وہاں امامت ہرگز نہ کرنے دیتا ؟
الجواب وباللہ توفیق
امام کعبہ اور امام مسجد نبوی یہ لوگ بدمذہب گمراہ ہے ان کے پیچھے نماز پڑھنا گناہ ہے 
بدمذہب لوگوں سے دور رہنے کا حکم ہے   قال اللہ تعالٰی، اور تم ان لوگوں سے میل جول نہ رکھو جنھوں نے ظلم کیا ہے ورنہ تمھیں بھی (دوزخ )کی آگ لگ جائے گی، الخ *قرآن مجید سورتہ 11 آیت 113* اور صحیح مسلم کی حدیث ہے، قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بدمذہب اگر بیمار پڑھ جائے تو اس کی عیادت نہ کرو اگر مر جائے تو جنازہ میں شرکت نہ کرو ان سے ملاقات ہو تو انھیں سلام نہ کرو ان کے پاس نہ بیٹھوں نہ کھانا کھاؤ نہ پانی پیوں نہ ان کے ساتھ شادی بیاہ کرو الخ 📙 *انوار الحدیث صفحہ 103* 📕* *مسند امام اعظم صفحہ 23*  
مفتی محمد نظام الدین صاحب فرماتے ہے 
پھر تو اس کا تقاضا یہ ہے کہ عرصہ دراز تک وہاں شیعوں کے ایک خاص فرقے قرامطہ کی حکومت تھی تو ان کا انتخاب بھی

منجانب اللہ ہوا لہذا ان کے پیچھے بھی نماز ہونی چاہیے بلکہ ایک زمانے تک مکہ شریف پر مشرکوں کا تسلط تھا اور کعبۃ اللہ

شریف میں سینکڑوں بتوں کی پرستش ہوتی تھی تو ان کی امامت کے بارے میں کیا ارشاد فرمائیں گے؟ پھر ہمارے قبلہ اول

بیت المقدس پر آج بھی یہودیوں کی حکومت ہے تو چاہیئے یہ انتخاب بھی من جانب اللہ ہو اور ان کے پیچھے بھی نماز صحیح

ہو ایسی بے تکی دلیل اور غلط موقف سے عقل والوں کو بچنا چاہیے ۔

یوں ہی یہ بات بھی بیجا ہے کہ وہابی امام کے پیچھے نماز صحیح نہ ہو تو مسجد حرام اور مسجد نبوی شریف کا نماز و عبادت

سے خالی رہنا لازم آئے گا کیوں کہ ان مساجد میں روزانہ بہت سے علما و قراء وحفاظ الگ سے نماز قائم کرتے اور نماز ادا

کرتے ہیں جو دیکھنا چاہے وہاں جاکر اوقات نماز میں اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر لیں اور انفرادی طور پر نماز پڑھنے والے تو

بے شمار ہوتے ہیں ۔

ہم اہل حق اہلسنت و جماعت انبیاء اور اولیاء کو بارگاہ الہی میں وسیلہ بناتے اور اسے قبولیت دعا کے لئے مستحسن جانتے

ہیں جب کہ وہابی وسیلہ بنانے کو شرک اور وسیلہ کے قائلین کو مشرک کہتے ہیں تو جو ہم مسلمانوں کو عقیدہ حقہ رکھنے

کی وجہ سے مشرک کہے اس کے پیچھے ہماری نمازیں ہرگز صحیح نہیں ہو سکتیں حدیث نبوی کا مضمون ہے کہ جو کسی

مسلمان کو کافر کہے وہ خود کافر ہو جاتا ہے، ایسے میں ان کی اقتدا میں اہل سنت و جماعت کی نماز کیسے درست ہوگی؟

نماز کے صحیح ہونے کی بنیاد عقیدے کی خرابی پر ہے نہ کہ حرمین شریفین کا حکمران ہونے نہ ہونے پر اللہ تعالی سب کو

دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے ۔(مسائل ورلڑ) 
جو مومن نہیں ہے،یعنی کلمہ خواں ہے،لیکن مرتد اور کافر کلامی ہے۔اس کی اقتدا میں نماز باطل محض ہے اور فرض کی ادائیگی نہیں ہوگی،بلکہ فرض مقتدی کے ذمہ باقی رہے گا،گر چہ لاعلمی میں اس کی اقتدا میں نماز ادا کرلی ہو۔(فتاوی رضویہ جلد سوم۔ص 235.236-رضااکیڈمی ممبئ)
حضرت مفتی شریف الحق رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہے
حرمین طیبین کی دونوں مساجد کے امام نجدی ہیں اور ابن عبدالوہاب نجدی کے عقیدے پر ہیں یہ تحقیق شدہ بات ہے اور اگر کسی کو شبہ ہوتو وہ ان اماموں سے ملاقات کرکے معلوم کرسکتا ہے علامہ محمد امین بن عابدین شامی قدس سرہ نے ردالمختار میں لکھا کہ نجدیوں کا عقیدہ یہ ہے کہ صرف وہی مسلمان ہیں ان کے علاوہ دنیا کے تمام مسلمان مشرک ہیں اور یہی بات مولوی حسین احمد ٹانڈوی صدرمدرسہ دیوبند جن کو دیوبندی شیخ الاسلام مولانامدنی کہتے ہیں نے بھی الشہاب الثاقب میں لکھی ہے نیز یہی بات مولانا محمد زیدصاحب نے مقامات خیر میں بھی لکھی ہے نیز مولوی حسین احمد ٹانڈوی نے لکھا کہ وہابیہ نجدیہ شان رسالت میں انتہائی گستاخانہ کلمات استعمال کرتے ہیں
سارے جہاں کے مسلمان تو بہت ہیں جو کسی ایک مسلمان کو کافر کہے وہ خود کافر ہے جیساکہ حدیث میں ہے 
اور امت کا اس پر اجماع ہے کہ کسی نبی کی معمولی گستاخی کرنے والا بھی کافر ہے
اسلئے نجدی اپنے کفری عقائد کی بنا پر کافر ومرتد ہیں اور جو کافر ومرتد ہو اسکی نماز نماز نہیں نہ اس کے پیچھے کسی کی نماز درست ہے،
اس وجہ سے نجدی اماموں کے پیچھے نماز پڑھنا جائزنہیں ان کے پیچھے نماز پڑھنا ایسا ہے گویا نماز قضاکردی
مکہ معظمہ کی شان یہ ہے کہ وہاں جہاں ایک نیکی پر لاکھ ثواب ملتا ہے
وہیں ایک گناہ پر لاکھ گناہ بھی لکھا جاتا ہے
تو جن لوگوں نے نجدی امام کے پیچھے نماز پڑھی جو حقیقت میں قضاء ہوئی ان کے گناہوں کا شمار کیا ہوگا 
رہ گیا جماعت کا معاملہ تو جماعت کا ثواب اس وقت ملے گا جب نماز صحیح ہوگی اور جب نماز صحیح نہیں تو جماعت کا ثواب کیسا
فرض کیجئے آپ کسی مسجد میں پہنچے اور اس کا امام قادیانی ہے تو کیا جماعت کے شوق میں اس کے پیچھے نماز پڑھیں گے؟
جولوگ نجدیوں کے عقائد کفریہ پر مطلع ہوں اور یہ جانتے ہوں کہ امام نجدی ہے پھر بھی اس کے پیچھے نماز پڑھ لیں وہ لوگ یقیناً سخت گنہگار ہیں اور نماز کے تارک ہیں 
لیکن جو لوگ نجدیوں کے عقیدے سے واقف نہیں جیسے عام حجاج اور وہ لوگ وہاں نماز پڑھ لیتے ہیں تو ان پر کوئی مواخذہ نہیں 

فتاوی شارح بخاری کتاب العقائد جلد سوم ص 73
و اللہ تعالی اعلم ورسولہ 
ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

نسبندی کا شرعی حکم

نسبندی کا شرعی حکم روشن تحقیق السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ نس بندی کرانا کیسا ہے جبکہ ڈاکٹر یہ کہے کہ اب یہ عورت مزید بچے پیدا کرے گی، جس سے اسے سخت بیماری پیدا ہونے یا جان کا خطرہ ہے، اور باقی ضبط تولید کے ذرائع سے بھی کبھی خطرہ رہتا ہے، وہ ذرائع فیل ہو جاتے ہیں، اور عورت حاملہ ہو جاتی ہے، اس صورت میں عورت کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔  *سائل: محمد علی باڑمیر*  . وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ  الجواب وباللہ توفیق  نسبندی کی جائز اور ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدی، شرح مسلم جلد سوم میں فرماتے ہیں  1۔ کوئی شخص تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی (نسبندی کرواتا ہے) اصلًا جائز نہیں ہے، یہ اس لیے کہ حرمت کی علت تنگی رزق کا ہونا قرآن مجید میں مذموم ہے: "لا تقتلوا اولادکم من املاق   (سورہ نمبر 6آیت 151" 2۔ اور کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے، کیونکہ ان کی پرورش میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین ...

کمیشن لینا कमिशन लेना हिंदी अनुवाद आखिर में

हिंदी अनुवाद आखिर में है  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع کے ایک عالم صاحب جو کہ امامت کرتے ہیں ساتھ میں ان کا کاروبار گاڑیوں کے لین دین کا جس میں دو پارٹیوں سے سودا کرواتے ہیں جس میں ان کی ذمہ داری رہتی ہے گاڑیوں کے کاغذ وغیرہ کسی میں فولڈ ہوگا تو گارنٹی ان کی رہتی ہے جس کی وجہ سے کبھی نقصان بھی ہوتا ہے کبھی فائدہ مہینہ دو مہینہ کے بعد جب کاغذ وغیرہ نام پر ہو جاتے ہیں تب 5000/10000 جو کمیشن طے ہوتا ہے وہ ملتا ہے ابھی کوئی شخص بولتا ہے کے کمیشن کا دھندا کرنے والے کے پیچھے نماز نہیں ہوتی قرآن و حدیث کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں سائل قاری غلام رسول ضیائی   کوشل کوٹ ضلع بانسواڑہ راجستھان ُ الجواب و بللہ توفیق    شرعی ضابطے پورے کرتے ہوئے کمیشن کے  ذریعے روزی کمانے میں شرعاً کوئی ممانعت نہیں  ہے، کہ کمیشن یا بروکری وہ ذریعۂ آمدنی ہے جس میں اپنی محنت کے ذریعے ایک سروس دی جاتی ہے اور یہ طریقۂ آمدنی آج کا نہیں بلکہ  صدیوں سے رائج ہے جس کو ہر دور کے علماء نے جائز ہی کہا ۔  بروکر کی اجرت (کمیشن): بروکر کو "اجیر خاص" یا "وکیل" سمجھا جات...

حربی سے سود لینے کا حکم روشن تحقیق

حربی سے سود لینے کا حکم ؟ دارالافتاء گلزارِ طیبہ کی یہ علمی تحقیق نہایت دقیق، جامع اور بصیرت افروز ہے۔ اس میں جہاں امام ابو حنیفہؒ کے قول کا صحیح مفہوم واضح کیا گیا ہے، وہیں اس کے غلط استعمالات اور اس کے دینی، سماجی و بین الاقوامی مضمرات پر بھی مدلل کلام کیا گیا ہے۔ علمی و ادبی تاثرات: 1. محققانہ اسلوب: تحقیق کی بنیاد قرآنی آیات، صحیح احادیث اور فقہاء کی معتبر تشریحات پر رکھی گئی ہے۔ علامہ ابن قدامہ، علامہ سعیدی، امام ابن ہمام، امام شافعی، سرخسی وغیرہ جیسے جلیل القدر علماء کے اقوال سے مزین یہ رسالہ اسلوبِ تحقیق کا عمدہ نمونہ ہے۔ 2. فقہی توازن و اعتدال: تحقیق میں نہ صرف مختلف اقوال کا ذکر کیا گیا بلکہ ان کا تجزیہ بھی علمی انداز میں کیا گیا ہے، جو قاری کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا اصل مدعا کیا تھا، اور بعد کے علماء نے ان کے قول کو کس حد تک محدود کیا ہے۔ 3. دورِ حاضر کے تقاضے: یہ تحقیق صرف نصوص کی بحث نہیں، بلکہ موجودہ حالات کے تناظر میں ایک عملی رہنمائی بھی ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا کے دور میں فتاویٰ کے غلط استعمال، اسلام کے بارے میں پھیلنے والی بدگمانیوں اور ہندوست...