نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

نوکری اور نماز

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ  علمائے کرام کی بارگاہ میں ایک سوال عرض ہے کہ
زید ایک پرائیوٹ کمپنی میں ملازم ھے اور اسے نماز ظھر،عصر،و مغرب وقت مقررہ پر ادا نھیں کر سکتا وجہ یہ ھے کہ اس کے پاس میں مسجد نھیں ھے کافی دور ھے اور وقت اور حالات اجازت نھیں دیتے پھر جب زید گھر واپس ھوتا ھے تو وہ اپنی اس قضاء نماز کو واپسی کے بعد عشاء سے قبل ادا کرتا ھے تو اس طرح اگر قضاء پڑھا تو اس کی نماز ھو جائیگی یا نہیں جواب دے کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں
سائل محمد واصل قادری بہار

الجواب باسمہ تعالی وبفضلہ 
ملازمت کی وجہ سے نماز قضا کرکے پڑھنے کی ہرگز اجازت نہیں بلکہ ایسی ملازمت کرنا  ہی حرام ہے
نماز چھوڑنے والوں کے بارے میں 
اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے :
فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَ(4)الَّذِیْنَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَ(5)
ترجمہ کنزالعرفان -تو ان نمازیوں کے لئے خرابی ہے۔جو اپنی نماز سے غافل ہیں(الماعون -٥-٦)
اس کے  تحت مفتی قاسم القادری دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں:
: جو اپنی نماز سے غافل ہیں ۔} نماز سے غفلت کی چند صورتیں ہیں ، جیسے پابندی سے نہ پڑھنا، صحیح وقت پر نہ پڑھنا، فرائض و واجبات کو صحیح طریقے سے ادا نہ کرنا، شرعی عذر کے بغیر با جماعت نہ پڑھنا، نماز کی پرواہ نہ کرنا، تنہائی میں قضا کر دینا اور لوگوں کے سامنے پڑھ لینا وغیرہ، یہ سب صورتیں وعید میں داخل ہیں جبکہ شوق سے نہ پڑھنا، سمجھ بوجھ کر ادا نہ کرنا، توجہ سے نہ پڑھنا بھی نماز سے غفلت میں داخل ہے البتہ یہ صورتیں اس وعید میں داخل نہیں جو ماقبل آیت میں بیان ہوئی ہے ۔

ایک اور مقام پر اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے
: ’’فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّبَعُوا الشَّهَوٰتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّا‘‘(مریم:۵۹)

ترجمۂ     کنزُالعِرفان: تو ان کے بعد وہ نالائق لو گ ان کی جگہ آئے جنہوں نے نمازوں کو ضائع کیا اور اپنی خواہشوں کی پیروی کی تو عنقریب وہ جہنم کی خوفناک وادی غی سے جاملیں گے۔
تفسیر صراط الجنان تحت سورہ ماعون آیت -٥-٦)

لہذا اللہ کے عذاب سے ڈر کر اور اپنی آخرت کی بہتری کے لیے ایسی ملازمت کو چھوڑ کر کوئی ایسی ملازمت اختیار کرے جس میں نماز کی پابندی ہو سکے ،اور جو اللہ سے ڑ
رتا ہے اللہ اسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں اسکا گمان بھی نہیں ہوتا 
قرآن پاک میں ارشادخداوندی ہے
 :)وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًاۙ(۲) وَّ یَرْزُقْهُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُؕ-وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗؕ-)ترجمہ کنزالایمان: اور جو اللہ سے ڈرے اللہ اس کے لیے نجات کی راہ نکال دے گا اور اسے وہاں سے روزی دے گا جہاں اس کا گمان نہ ہو اور جو اللہ پر بھروسہ کرے تو وہ اسے کافی ہے۔(سورۃ الطلاق،پ28،آیات2،3)

جب بندہ دنیا پر دین کو ترجیح دیتا ہے تو شیطان اسکو  سب سے پہلے غریبی سے ڈراتا ہے 
لہذا ایسے خیالات پر توجہ نہ دے اور دعا اور کوشش کریں انشاءاللہ ایسی ملازمت مل جائے گی جو نماز کی ادائیگی میں رکاوٹ نہ ہو
واللہ تعالیٰ اعلم

*مفتی ادارہ -ایم جے اکبری قادری حنفی*
*دارالافتاء فیضان مدینہ -گجرات*
بروز -اتوار ٢٤ دسمبر ٢٠٢٣


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

نسبندی کا شرعی حکم

نسبندی کا شرعی حکم روشن تحقیق السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ نس بندی کرانا کیسا ہے جبکہ ڈاکٹر یہ کہے کہ اب یہ عورت مزید بچے پیدا کرے گی، جس سے اسے سخت بیماری پیدا ہونے یا جان کا خطرہ ہے، اور باقی ضبط تولید کے ذرائع سے بھی کبھی خطرہ رہتا ہے، وہ ذرائع فیل ہو جاتے ہیں، اور عورت حاملہ ہو جاتی ہے، اس صورت میں عورت کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔  *سائل: محمد علی باڑمیر*  . وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ  الجواب وباللہ توفیق  نسبندی کی جائز اور ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدی، شرح مسلم جلد سوم میں فرماتے ہیں  1۔ کوئی شخص تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی (نسبندی کرواتا ہے) اصلًا جائز نہیں ہے، یہ اس لیے کہ حرمت کی علت تنگی رزق کا ہونا قرآن مجید میں مذموم ہے: "لا تقتلوا اولادکم من املاق   (سورہ نمبر 6آیت 151" 2۔ اور کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے، کیونکہ ان کی پرورش میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین ...

حربی سے سود لینے کا حکم روشن تحقیق

حربی سے سود لینے کا حکم ؟ دارالافتاء گلزارِ طیبہ کی یہ علمی تحقیق نہایت دقیق، جامع اور بصیرت افروز ہے۔ اس میں جہاں امام ابو حنیفہؒ کے قول کا صحیح مفہوم واضح کیا گیا ہے، وہیں اس کے غلط استعمالات اور اس کے دینی، سماجی و بین الاقوامی مضمرات پر بھی مدلل کلام کیا گیا ہے۔ علمی و ادبی تاثرات: 1. محققانہ اسلوب: تحقیق کی بنیاد قرآنی آیات، صحیح احادیث اور فقہاء کی معتبر تشریحات پر رکھی گئی ہے۔ علامہ ابن قدامہ، علامہ سعیدی، امام ابن ہمام، امام شافعی، سرخسی وغیرہ جیسے جلیل القدر علماء کے اقوال سے مزین یہ رسالہ اسلوبِ تحقیق کا عمدہ نمونہ ہے۔ 2. فقہی توازن و اعتدال: تحقیق میں نہ صرف مختلف اقوال کا ذکر کیا گیا بلکہ ان کا تجزیہ بھی علمی انداز میں کیا گیا ہے، جو قاری کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا اصل مدعا کیا تھا، اور بعد کے علماء نے ان کے قول کو کس حد تک محدود کیا ہے۔ 3. دورِ حاضر کے تقاضے: یہ تحقیق صرف نصوص کی بحث نہیں، بلکہ موجودہ حالات کے تناظر میں ایک عملی رہنمائی بھی ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا کے دور میں فتاویٰ کے غلط استعمال، اسلام کے بارے میں پھیلنے والی بدگمانیوں اور ہندوست...

کیا حضور پر جادو کا اثر ہوا تھا

کیا حضور پر جادو کا اثر ہوا تھا حنفی دارالافتا۶ - 01/03/2025  کیا فرماتے ہے مفیان کرام کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کا اثر ہوا تھا اور ہوا تھا تو اس پر صحیح حدیث موجود ہے اور دوسرا سوال یہ ہے کہ صحیح بخاری کی اس حدیث کا کیا جواب ہے جس میں ہے کہ وحی رک گئی تو آپ نے اپنے آپ کو پہاڈ سے گرانا چاہا جواب عنائت فرمائے سائل محمد علی کچھ گجرات  الجواب و باللہ توفیق کسی بھی مسئلے میں قائدہ یہ ہے کہ اس کو قرآن کے سامنے پیش کریں گے اگر قرآن کے خلاف ہے تو اگرچہ حدیث صحیح ہو اس کو قبول نہیں کیا جائے گا آپ پر جادو کا اثر ہوا تھا اس پر جمہور مفسرین نے یہ ہی لکھا ہے تبیان القرآن جلد۔ اول صفہ ۱۰۴۸میں ہے  امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی 606  ھ لکھتے ہیں :- جمہور مفسرین نے یہ کہا ہے کہ لبیدبن اعصم یہودی نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر گایرہ گرہوں میں جادو کیا تھا اور اس دھاگے کو ذروان نامی کنوئیں کی تہہ میں ایک پتھر کے نیچے دبا دیا تھا، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیمار ہوگئے اور تین دن آپ پر سخت گزرے، پھر اس وجہ سے معوذتین نازل ہوئیں اور حضرت جبریل نے آ کر آپ کو ...