السلامُ علیکم
سوال: جِس کے پاس اپنا جاتی مکان نہی ہے وہ خود کرائیں کے مکان مے رہتا ہے کیا اُس پر حج فرض ہوگا جب کے اتنے پیسے اُسکے پاس موجود ہوں مگر یے مکاں خریدنے کے لیئے رکھے ہو
الجواب باسمہ تعالی وبفضلہ
سورت مسؤلہ میں جس کے پاس رقم ہے مگر وہ مکان خریدنے کے لیے ہے تو اس پر حج فرض نہیں
کیونکہ حج فرض ہونے کے اسباب میں سے ایک سبب ہے سفر خرچ کا مالک ہو اور سواری پر قادر ہو
اسکی وضاحت کرتے ہوئے
صدر الشریعہ حضرت مفتی امجد علی اعظمی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں:یہ چیزیں اس کی حاجت سے فاضل ہو یعنی مکان و لباس اور سواری کا جانور اور پیشہ کے اوزار اور خانہ داری کے سامان ،اور دین سے اتنا زاید ہو کہ سواری پر مکہ معظمہ جاۓ اور وہاں سے سواری پر واپس آ جائے اور واپسی تک عیال کا نفقہ اور*مکان کی مرمت کے لیے کافی مال چھوڑ جاۓ*
(بہار شریعت جلد -١ حصہ:٦صفحہ:١٠٤٠ -مکتبہ المدینہ
لہذا مزکور فی السوال شخص پر حج فرض نہیں
واللہ تعالیٰ اعلم
مفتی ادارہ ایم جے اکبری قادری حنفی
دارالافتاء فیضان مدینہ -گجرات ہند

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com