السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ علمائے کرام کی بارگاہ میں ایک سوال عرض ہے کہ زید سعودی عرب میں ہے اس نے اپنی بیوی کو میسج بھیجا جو ذیل میں درج ہے
کالج نہیں جاسکتی اگر کھبی بھی گئ۔ بناپوچھےہم سے تو سمجھ لینا تین طلاق نھیں جانا ہے اب بنا پوچھے وہ بھی ویڈیو کال کرکے پوچھنا نھیں تو نھیں جانا ہے آج سے
اور ہندہ دکان چلی گئی تو کیا طلاق واقع ہوجائے گی؟ پھر دوسرے دن میسج آیا کہ جا سکتی ہے اجازت دیتا ھوں اب شریعت کا کیا حکم ہے جواب دیکر عنداللہ ماجور ہوں
فقط والسلام واصل قادری
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب باسمہ تعالی وبفضلہ
صورت مسئولہ میں ہندہ پر طلاق واقع نہ ہوگی
بہار شریعت میں ہے : عورت سے کہا اگر تو فلاں کے گھر میں گئی یا تونے فلاں سے بات کی تو تجھ کو طلاق ہے عورت اسکے گھر میں گئی تو طلاق ہو گئ (بہار شریعت -جلد -٢ حصہ:٨ صفحہ:١٥٠)
اور یہاں ہندہ کالج نہیں گئی بلکہ دکان گئی ہے
اگر ہندہ دکان کی بجائے کالج جاتی تو بھی طلاق واقع نہ ہوتی کیونکہ زید کے الفاظ *تو سمجھ لینا تین طلاق* یہ ایک دھمکی ہے اس سے طلاق ثابت نہیں ہوگی
فقہ ملت حضرت علامہ جلال الدین احمد امجدی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں:-یہ تحریر کے اگر میں کسی قسم کی تکلیف دوں ----الی---تو یہ اقرار نامہ نہ سمجھا جاوے بلکہ طلاق نامہ سمجھا جائے گا بیکار ہے (فتاویٰ فیض الرسول -جلد -٢ صفحہ:١١٦)
لہذا سورت مسؤلہ میں طلاق واقع نہیں ہوئی
واللہ تعالیٰ اعلم
مفتی ادارہ -ایم جے اکبری قادری حنفی
دارالافتاء فیضان مدینہ -نیمک نگر گنجا گجرات
بروز ٢ جنوری ٢٠٢٤

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com