نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

ایک پیغام ائمہ کے نام

*ایک پیغام ائمہ کرام کے نام*
الحمد للہ رب العالمین 
والصلوتہُ و السلام علی سید المرسرین اما بعد فاعوذُ باللہ من الشیطان الرجیم 
 بسم اللہ الرحمن الرحیم ؔ

ایک پیغام ائمہ مساجد کے نام 
امام کو چاہئے کہ بے خوف ہو کر اللہ عزوجل و رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم قوم کو بتائے اگچہ حق بات کسی کو بری لگے آپ حق بیان کرنے سے پیچھے نہ ہٹے اگرچہ آپ کو نوکری سے نکال دیا جائے رزق کا زمہ اللہ نے لیا ہے حدیث پاک ہے جو علم حاصل کرے گا اللہ اس کی مشکلات آسان فرما دے گا اور اسے وہاں سے رزق عطا فرمائے گا جہاں اس کا گمان بھی نہ ہوگا (جامع بیان ) یہ ہو سکتا ہے کچھ دن آپ کو تکلیف کا سامنا کرنا پڑے مگر آپ حوصلہ بلند رکھیں گے تو پہلے سے بہتر روزی ملے گی میں نے اس حدیث کا نور بارہا دیکھا ہے بہت سی جگہ میرے ساتھ یہ ہوا کہ حق بیان کرنے کی وجہ سے لوگ مخالف ہوئے مگر قسم خدا کی آج تک مجھے کسی ممبر کی حمت نہیں ہوئی کے مجھے کہہ سکے آپ  کو امامت سے ہم ہٹاتے ہے بلک میں نے خود اس جگہ کو چھوڑا ہے اور آج تک جس جگہ سے میں نکلا ہوں وہا کے مسلمان اب بھی مجھے واپس بلانا چاہتے ہیں اور پہلے سے زیادہ تنخواہ دینے کو تیار ہے یہ صرف حق بیانی کی برکت ہے بلکہ آج تک میں نے جتنی جگہ سے نکلا اس سے بہتر جگہ اللہ نے اپنے فضل سے مجھے عطا فرمائی اور ہر جگہ پر تنخواہ کا اضافہ ہوا ہے کچھ جگہ کی باتیں آپ سے عرض کرتا ہوں انشاء اللہ آپ کا حوصلہ بلند ہوگا آج سے ۱۵ سال پہلے میں کاٹھیاواڑ میں وہا رد دیوبندی کی وجہ سے ممبران مساجد مخالف ہوئے اس وقت تنخواہ تھی ۳۵ سو رپیے میں وہاں سے نکل گیا حالانکہ جب روانہ ہوآ تو وہاں مسلمان آشک بار تھے میں کچھ پہنچا تنخواہ ۵ ہزار ہوئی وہاں اختلاف ہوا میں خود نکل گیا تنخوا ۶ ہزار ہوئی وہا کچھ وقت کے بعد اختلاف ہوا میں نکل گیا تنخواہ ۷ ہزار ہوئی ساتھ آٹ سال رہا ان لوگوں نے تنخواہ بڑھانے سے انکار کیا میں نکل گیا تنخواہ ۹ ہزار ہوئی اب یہا شادیوں میں ناچ گانا کے خلاف بولا کچھ لوگوں کو برا لگا میں نے آج ۳۰جنوری ۲۰۲۴ کو نہ رہنے کا اعلان کر دیا اور چاہنے والے ہی نہیں بلک پوری جماعت روکنے کی کوشش کرتے ہے مگر میں نے اب دوسری جگہ تیہ کر دیا ہے اور تنخواۂ ۱۱ہزار ہوئی میرے محترم ائمہ کرام یہ تو کچھ باتیں لکھی ہے مگر جب سے امامت کرتا ہوں تب سے آج تک حق بولنے سے مجھے کوئی روک نہ سکا اور نہ کسی نے آج تک مجھے نوکری سے نکالا ہے میں جہاں سے بھی نکلا ہوں خود نکلا ہوں بس آپ کچھ حوصلہ کرے اور بے خوف ہو کر حق بولتے رہے اللہ آپ کے ساتھ ہے اتنا ضرور عرض کرتا ہوں جب بھی کسی جگہ آپ امامت کے لئے جائے تو پہلے کے امام نے کیوں جگھ چھوڑی ہے اس کی وجہ جان لے اور حق بولنے کی وجہ سے امام کو وہا سے جانا پڑا ہے تو آپ اس جگہ ہرگز نہ جائے اس طرح ہم سب ائمہ مل کر کرے گے تو ایک دن یہ قوم خود گھٹنوں پے آجائے گی اور ائمہ کی قدرو عزت بڑے گی آپ لوگ میرے لئے دعا فرمائے اللہ مجھے حق بیان کرنے کی ہمیشہ طاقت عطا فرمائے کل سے انشاء اللہ نئی جگہ پر جانا ہے 
فقیر *ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی* 
خادم دارالافتا فیضان مدینہ


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

نسبندی کا شرعی حکم

نسبندی کا شرعی حکم روشن تحقیق السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ نس بندی کرانا کیسا ہے جبکہ ڈاکٹر یہ کہے کہ اب یہ عورت مزید بچے پیدا کرے گی، جس سے اسے سخت بیماری پیدا ہونے یا جان کا خطرہ ہے، اور باقی ضبط تولید کے ذرائع سے بھی کبھی خطرہ رہتا ہے، وہ ذرائع فیل ہو جاتے ہیں، اور عورت حاملہ ہو جاتی ہے، اس صورت میں عورت کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔  *سائل: محمد علی باڑمیر*  . وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ  الجواب وباللہ توفیق  نسبندی کی جائز اور ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدی، شرح مسلم جلد سوم میں فرماتے ہیں  1۔ کوئی شخص تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی (نسبندی کرواتا ہے) اصلًا جائز نہیں ہے، یہ اس لیے کہ حرمت کی علت تنگی رزق کا ہونا قرآن مجید میں مذموم ہے: "لا تقتلوا اولادکم من املاق   (سورہ نمبر 6آیت 151" 2۔ اور کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے، کیونکہ ان کی پرورش میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین ...

حربی سے سود لینے کا حکم روشن تحقیق

حربی سے سود لینے کا حکم ؟ دارالافتاء گلزارِ طیبہ کی یہ علمی تحقیق نہایت دقیق، جامع اور بصیرت افروز ہے۔ اس میں جہاں امام ابو حنیفہؒ کے قول کا صحیح مفہوم واضح کیا گیا ہے، وہیں اس کے غلط استعمالات اور اس کے دینی، سماجی و بین الاقوامی مضمرات پر بھی مدلل کلام کیا گیا ہے۔ علمی و ادبی تاثرات: 1. محققانہ اسلوب: تحقیق کی بنیاد قرآنی آیات، صحیح احادیث اور فقہاء کی معتبر تشریحات پر رکھی گئی ہے۔ علامہ ابن قدامہ، علامہ سعیدی، امام ابن ہمام، امام شافعی، سرخسی وغیرہ جیسے جلیل القدر علماء کے اقوال سے مزین یہ رسالہ اسلوبِ تحقیق کا عمدہ نمونہ ہے۔ 2. فقہی توازن و اعتدال: تحقیق میں نہ صرف مختلف اقوال کا ذکر کیا گیا بلکہ ان کا تجزیہ بھی علمی انداز میں کیا گیا ہے، جو قاری کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا اصل مدعا کیا تھا، اور بعد کے علماء نے ان کے قول کو کس حد تک محدود کیا ہے۔ 3. دورِ حاضر کے تقاضے: یہ تحقیق صرف نصوص کی بحث نہیں، بلکہ موجودہ حالات کے تناظر میں ایک عملی رہنمائی بھی ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا کے دور میں فتاویٰ کے غلط استعمال، اسلام کے بارے میں پھیلنے والی بدگمانیوں اور ہندوست...

کیا حضور پر جادو کا اثر ہوا تھا

کیا حضور پر جادو کا اثر ہوا تھا حنفی دارالافتا۶ - 01/03/2025  کیا فرماتے ہے مفیان کرام کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کا اثر ہوا تھا اور ہوا تھا تو اس پر صحیح حدیث موجود ہے اور دوسرا سوال یہ ہے کہ صحیح بخاری کی اس حدیث کا کیا جواب ہے جس میں ہے کہ وحی رک گئی تو آپ نے اپنے آپ کو پہاڈ سے گرانا چاہا جواب عنائت فرمائے سائل محمد علی کچھ گجرات  الجواب و باللہ توفیق کسی بھی مسئلے میں قائدہ یہ ہے کہ اس کو قرآن کے سامنے پیش کریں گے اگر قرآن کے خلاف ہے تو اگرچہ حدیث صحیح ہو اس کو قبول نہیں کیا جائے گا آپ پر جادو کا اثر ہوا تھا اس پر جمہور مفسرین نے یہ ہی لکھا ہے تبیان القرآن جلد۔ اول صفہ ۱۰۴۸میں ہے  امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی 606  ھ لکھتے ہیں :- جمہور مفسرین نے یہ کہا ہے کہ لبیدبن اعصم یہودی نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر گایرہ گرہوں میں جادو کیا تھا اور اس دھاگے کو ذروان نامی کنوئیں کی تہہ میں ایک پتھر کے نیچے دبا دیا تھا، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیمار ہوگئے اور تین دن آپ پر سخت گزرے، پھر اس وجہ سے معوذتین نازل ہوئیں اور حضرت جبریل نے آ کر آپ کو ...